تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - ترنڈہ ساوے والا کا پان فروش
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

ترنڈہ ساوے والا کا پان فروش

یکشنبه 11 مرداد 1394 11:20 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
malik

کہنے کو تو رحیم یارخان کی تحصیل ترنڈہ ساوے والا میں اس کی چھوٹی سی پان کی دکان تھی مگر اس پان فروش نے 20برس تک 20کروڑ کی آبادی والے ملک کی ایک بڑی کمیونٹی کو اپنی دہشت سے یرغمال بنائے رکھا.

اس سے سب ڈرتے تھے۔۔ججز اس سے خوف زدہ تھے ، 1997میں گرفتارہوا اور چودہ برس جیل میں رہنے کے بعد اسے رہا کیا گیا۔
دوران قید اس پر مقدمہ چلا اور کوئی جرم ثابت نہ ہوسکا، جرم ثابت بھی کیسے ہوتا، 72ججوں نے اس کے کیس کی سماعت سے یا تو انکار کردیا تھا یا پھر تبادلے کی درخواست کی تھی۔ انوسٹی گیشن کرنےو الے پولیس اہل کار اس سے خوف زدہ تھے ، وہ جس کو چاہے مروادے، وہ جیل میں بھی بااختیار تھا.... یہ ملک اسحاق تھا . ترنڈہ ساوے والا کا وہ پان فروش ریاست کے جبڑوں میں دبا تیزپتی کا ایک ایسا پان تھا، جس کی سرخ پچکاری نے ملک کو لہولہان کیا اور اب وہ پان منہ سے نکال کرپھینک دیا گیا ہے۔
معتبر خبرنگاروں کے مطابق جی ایچ کیو پر حملہ کرنےوالوں کے جہاں دیگرمطالبات تھے، وہیں ان میں ایک مطالبہ ملک اسحاق کی رہائی کا بھی تھا، ملک اسحاق کو جی ایچ کیولے جایا گیاتو اس نے مذاکرات کرنے والے حملہ آور سے کہا کہ فوج سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں۔ وہ ہتھیار ڈال دے

اس واقعے کے تین برس بعد ملک اسحا ق رہا ہوگیا۔۔ ملک اسحاق نے ریاض بسرااور اکرم لاہوری کے ساتھ مل کر 1996میں لشکر جھنگوی کی بنیاد اسی مینار لاہور پر رکھی جہاں پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی ملک اسحاق کی رہائی کے بعد لشکر جھنگوی نے 2013ءکے جنوری اور فروری میں کوئٹہ میں ہونے والے ہزارہ کمیونٹی پر ہونے والے دوحملوں کی ذمہ داری قبول کی جن میں 160سے زائد افراد مارے گئے۔
کہاجاتا ہے کہ ملک اسحاق پر براوقت اس وقت آیا ، جب کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ احمد لدھیانوی سے اس کے اختلافات سنگین رخ اختیار کر گئے۔ ان اختلافات کے فوری بعد یہ گرفتار ہوا اور پھر بیٹوں سمیت مارا گیا۔ ماورائے عدالت قتل کسی دہشت گرد کا بھی ہو تو وہ قابل مذمت ہے مگر ایک ایسا ملک جہاں کی ریاست انصاف فراہم کرنےوالے ججوں کو تحفظ نہ دے سکے اور وہ ڈر ڈر کر یا تو ملزمان کو رہاکرتے  یا پھر خود مارے جائیں تو پھر ملک اسحاق کی مشکوک حالات میں موت کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ پولیس ملک اسحاق سے ڈرکر تفتیش نہیں کرپاتی تھی، وہ عدالت میں کھل کرکہتا تھا کہ ہاں میں نے قتل کیے۔ وہ اپنی تقریروں میں کھل کر قتل وغارت گری کا اعتراف کرتاتھامگر سب ترنڈہ ساوے والے کے اس پان فروش کا منہ تکتے تھے۔

آرمی چیف کی قیام امن کے لیے ترجیحات واضح ہوچکی ہیں۔ وہ کسی کو نہیں بخشیں گے ، پاکستان کو ایسا مسیحا درکار تھا۔ مگر آرمی چیف ریاست کے ان عناصرکا بھی کچھ کریں ، جو ملک اسحاق جیسوں کو پالتے ہیں



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -