تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - قیام امام حسین ؑ اور اصلاح امت قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

قیام امام حسین ؑ اور اصلاح امت قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی

یکشنبه 10 آبان 1394 10:59 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
th
تاریخ کے صفحات پر سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا وہ جملہ آج بھی اپنی پوری رعنائیو ں کے ساتھ رقم ہے جس میں آپ نے اپنے قیام کے اہداف و مقاصد واضح فرمائے تھے۔ اپنے بھائی محمد ابن حنفیہ کو ایک وصیت نامے میں مخاطب کرتے ہوئے امام عالی مقام نے وہ جملہ اس طرح ارشا د فرمایا : ’’میرے اس قیام‘ میری جدوجہد کا اصل مقصد اور میری اس تحریک اور اقدام کا اصل ہدف صرف امت کی اصلاح‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے‘‘

اس فصیح و بلیغ جملے میں آپ نے اپنے تمام اہداف و مقاصد‘ قیام کی وجوہات ‘ امت کی حالت زار‘ حکومت وقت کے کردار اور پالیسیوں‘ مستقبل میں پیش آنے والے حالات و واقعات ‘ اسلام کے تحفظ اور دین کی بقاء کے لئے اپنے خدا اور اپنے نانا سید الرسل ؐ کی طرف سے ودیعت کی گئی ذمہ داریوں کا مکمل احاطہ فرمادیا ہے۔اصلاح کا سوال بذات خود اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ فساد موجود ہے‘ انتشار و افتراق برپا ہے اور بگاڑ کی کیفیت ہے۔ لہذا ان برائیوں کے خاتمے کے لئے اصلاح کی ضرورت درپیش ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے خطبات میں اپنا موقف واضح کرنے کے لئے کئی مرتبہ اس دور کی صورت حال‘ کیفیت اور حالات کی نقشہ کشی اور منظر کشی فرمائی۔ مثلاً آپ نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا۔’’اے لوگو! یہ (حکمران) اطاعت خدا کو ترک کرچکے ہیں اور شیطان کی پیروی کو اپنا نصب العین بناچکے ہیں ۔ یہ ظلم و فساد کو اسلامی معاشرے میں رواج دے رہے ہیں۔خدا کے قوانین کو معطل کررہے ہیں اور ’’مال فے‘‘ کوانہوں نے اپنے لئے مختص کرلیا ہے ۔ خدا کے حلال و حرام اور اومر و نواہی کو بدل چکے ہیں‘‘۔اس خطبے میں کی گئی منظر کشی سے واضح ہوتا ہے کہ یذیدی دور میں حکمران احکام شریعت الہی اور سنت رسول ؐ میں دیئے گئے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو بھلا کر گمراہی اور گناہ کی زندگی اختیار کرچکے تھے۔ لوگوں کے ساتھ انصاف اور عدل سے کام نہیں لیا جارہا تھا۔ عدل اجتماعی سے گریز کرتے ہوئے مستقل طور پر بے عدلی اور ناانصافی کو اسلامی معاشرے کا حصہ بنایا جارہا تھا۔
خدا نے انسان اور معاشرے کی بھلائی کے لئے شریعت کی شکل میں جو قوانین اور پابندیاں عائد کیں ان سے عملاً برات کرکے اپنے خود ساختہ قوانین رائج کئے جارہے تھے۔ قومی خزانے کو لوٹا جارہا تھا۔ کرپشن اور حرام خوری حکمرانوں کی عادت بن چکی تھی جس سے معاشی ناہمواری‘ غربت‘ افلاس اور جہالت کو فروغ مل رہا تھا۔ حکمران خود بھی اور اپنی رعایا میں بھی حلال و حرام کی تمیز نہیں کررہے تھے۔ بلکہ حرام امور کو حلال تصور کرکے انجام دے رہے تھے۔ خدا کے احکامات کی تابعداری کرنے کی بجائے نافرمانی کررہے تھے۔ جن کاموں سے خدا تعالی نے منع فرمایا تھا ان سے باز نہیں آرہے تھے۔حالات کی تصویر کشی کرتے ہوئے مختلف مقامات پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اس وقت ہم ایسے حالات سے گزر رہے ہیں کہ سنت رسول ؐ ختم ہوچکی ہے اور اس کی جگہ بدعت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں‘‘ تم دیکھ نہیں رہے کہ حق پر عمل نہیں ہورہا اور باطل سے منع نہیں کیا جارہا۔۔۔تم کتنے بدبخت اور سرکش افراد ہوکہ جنہوں نے قرآن کو پس پشت کرلیا اور تم لوگوں نے شیطان کو دماغ میں بسالیا ہے۔ تم لوگ بڑے جنایت کار‘ کتاب خدا میں تحریف کرنے والے اور سنت خدا کو فراموش کرنے اور اسے ختم کرنے والے ہو جو پیغمبر اکرم ؐ کے فرزندوں کو مار ڈالتے ہو اور تم اوصیاء کو اذیت دینے والے اور تم ایسے پیشواؤں کے پیروکار ہو جو قرآن مجید کا تمسخر اڑاتے ہیں۔۔۔اسلام میں تحریف ہوجانے کا خطرہ ہی نہیں بلکہ اسلام کے نابود ہونے کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ پیغمبر اکرم ؐ کے قانو ن کو ختم کیا جارہا ہے اور اس کی جگہ بدعتیں زندہ کی جارہی ہیں۔

ان تمام جملوں میں سید الشہداء نے کھل کر اور دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ یذیدی حکومت کی طرف سے بدعتوں کو فروغ دینے اور سنت رسول ؐ کے خاتمے کا سلسلہ فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔ اسلام کے زندگی بخش قوانین کو نظر انداز کرنے اور باطل کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ قرآن اور قرآنی احکام کی رو سے انسان کا قتل‘ ظلم و ناانصافی‘ انسانی حقوق کی پامالی‘ شہری آزادیوں کا سلب کیا جانا‘ غربت‘ افلاس اور جہالت کا فروغ‘ کرپشن اور بدامنی کا راج‘ عدل اجتماعی کے تصور کا خاتمہ‘ استحصال اور اس طرح کے دیگر امور حرام ہیں لیکن یذید اور اس کے کارندے بلادریغ یہ حرام امور نہ فقط انجام دے رہے تھے بلکہ انہیں حلال ثابت کرنے کی بھرپور کوششیں جاری تھیں ان کے خلاف جہاد درپیش تھا۔ایسی صورت حال میں امت کی رہبری و رہنمائی فرمانا‘ امت کو ہدایت کا راستہ دکھانا‘ امت کو فساد اور شر سے بچانا‘ امت کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے سے آگاہ کرنا اور امت کو صحیح اور سچے نظام حکومت اور نظام حیات کی طرف متوجہ کرنا صرف اور صرف آپ ہی کی ذمہ داری تھی۔ جبھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ ’’اسلامی معاشرہ کی رہبری اور اس ظلم و فساد اور ان ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کرنے کے لئے میں (حسین ؑ ) دوسروں کی نسبت زیادہ سزا وار ہوں۔۔۔یہ ایسی حکومت ہے جس نے قرآنی احکام‘ سنت اور قوانین پیغمبر اکرم ؐ میں تغیر و تحریف کو اپنا شیوہ بنالیا ہے لہذا اس کے خلاف جدوجہد کرنا میرا دینی فریضہ ہے۔۔۔ میری ذمہ داری ہے کہ میں تمام برائیوں کو جڑ سے اکھاڑدوں اور قرآن اور اسلام کے فراموش شدہ حیات آفرین احکام کو دوبارہ اس معاشرے میں رواج دوں۔ ظلم و ستم اور اسلامی قوانین میں تبدیلی کو روکوں۔۔۔ان حالات میں ظلم و فساد کے خلاف جدوجہد ضروری ہے یعنی اگر اس جدوجہد میں امت کے پاک ترین افراد کا خون بھی بہہ جائے تو فقط یہ کہ دشمن اسلام سے نفع نہیں اٹھاسکے گا بلکہ اس کے بہترین نتائج ظاہر ہوں گے اور اسلام پھلے پھولے گا۔۔۔ اب مومن کو چاہیے کہ وہ ا۔۔۔تعالی سے ملاقات کی رغبت کرے اور میں تو موت کو اپنے لئے سعادت اور ظالموں کے ساتھ جینے کو بوجھ سمجھتا ہوں‘‘۔امام عالی مقام کے ان ارشادات نے واضح کردیا کہ آپ کی جدوجہد‘ آپ کا سفر‘ آپ کا قیام‘ آپ کی شہادت اور پھر آپ کے خانوادے کے پابہ زنجیر طویل سفر کا مقصد ذات‘ مفادات ‘ شہرت ‘ دولت ‘ فقط حکومت یا نمود و نمائش نہیں تھے۔ بلکہ صرف اور صرف اصلاح امت اور فلاح امت تھے۔ اس جدوجہد نے اس اصول کی بنیاد ڈال دی ہے کہ جب بھی ‘ جس دور میں بھی‘ جس خطے میں بھی اور جن حالات میں بھی اس قسم کی صورت حال درپیش ہو تو عظیم مقاصد اور اجتماعی مفادات کے لئے جان کا نذرانہ پیش کردینا چاہیے۔ تاریخ شاہد ہے کہ 10 محرم 61 ھ کے بعد جب بھی حریت کی تاریخ رقم ہوئی ‘ جب بھی ظلم کے خلاف قیام کا مرحلہ آیا‘ جب بھی فساد کے خاتمے کی ضرورت ہوئی اور جب بھی جبر سے مسلط رہنے والی حکومتوں کو مزاحمت دینے کی بات نکلی تو سب حریت پسندوں اور تمام تحریکوں کے حسین اور کربلا سے ضرور استفادہ کیا۔تعلیمات اور سیرت امام حسین ؑ کی روشنی میں اصلاح امت کا سلسلہ ماضی بھی جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔

اگر ہم اپنے دور میں امت کی حالت زار کا جائزہ لیں‘ عالم اسلام کے حالات کا مشاہدہ کریں اور اپنے ذاتی و اجتماعی کردار کا احتساب کریں تو ہمیں احساس ہوگا کہ آج بھی عملاً دین سے انحراف کیا جارہا ہے۔ آج بھی اسلام کی نمائندگی اور اسلام کی حفاظت کرنے والوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کی جارہی ہے۔ آج بھی ظالم اور جابر حکومتیں مظلوم اور نہتے عوام کو تہہ تیغ کررہی ہیں۔ آج بھی ظلم و جبر اور بے عدلی و فساد کا زور ہے۔ آج بھی طاقتور عناصر اپنی ذاتی خواہشات اور منفی ایجنڈوں کو دین کا حصہ بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔آج بھی خدا کے قوانین کو معطل اور تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ خدا کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔عدل اجتماعی سے گریز کرکے بے عدلی اور ناانصافی کو اسلامی معاشروں کا حصہ بنایاجارہا ہے۔ کرپشن اور حرام خوری سرایت کرچکی ہے۔ قومی خزانہ آج بھی بے دریغ لوٹا جارہا ہے۔ معاشی ناہمواری ‘ غربت‘ افلاس اور جہالت کو آج بھی معاشروں میں فروغ دیا جارہا ہے۔ حرام و حلال کی تمیز ختم ہوچکی ہے۔ خدا کے احکامات پر توجہ نہیں دی جارہی ہیں۔ بدعتوں کو ترویج مل رہی ہے۔ اخلاص عمل اور تقوی نام کی چیز خال خال نظر آتی ہے۔ خدا کے قوانین‘ قرآن کے احکامات‘ سنت رسول ؐ اور فرامین آئمہ کو نافذ اور رائج کرنے سے روکا جارہا ہے۔ انسانی‘ مذہبی‘ شہری اور آئینی حقوق سلب کئے جارہے ہیں۔ آزادیوں پر قدغن لگائی جارہی ہے۔ سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ مختلف لشکروں‘ سپاہوں اور گروہوں نے دہشت گردی کا بازار گرم کررکھا ہے۔ اور دنیا کے مختلف حصے بالخصوص مسلمان ممالک اس کی زد میں ہیں۔ کہیں شیعہ سنی تفریق پیدا کرکے‘ کہیں غلیظ اور زہریلی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے کفر کے فتوے لگاکر‘ کہیں لسانی اور علاقائی عصبیتوں کی آڑ میں اور کہیں خود کش حملوں اور بم دھماکوں کی صورت میں مسلمانوں کے اندر انتشار و افتراق پیدا کیا جارہا ہے۔ان تمام انفرادی‘ اجتماعی‘ سماجی‘ معاشرتی‘ سیاسی اور ثقافتی برائیوں کو دور کرنے اور دنیا کو ایک ہمہ گیر نظام فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اصلاح امت کا بنیادی فریضہ انجام دیا جائے۔ یہ فریضہ انجام دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ امام حسین ؑ کے فرامین‘ کردار‘ سیرت‘ انداز عمل اور جدوجہد سے ضروری استفادہ کریں۔ اصلاح امت کی اس جدوجہد میں اگر انہیں اپنی جان کی قربانی بھی پیش کرنا پڑے تو وہ دریغ نہ کریں۔ ہم نے عملی طور پر اتحاد و وحدت کے ذریعے ایک حد تک اصلاح امت کا فریضہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس راہ میں جان کی قربانیاں بھی دے رہے ہیں۔ دہشت گردی اور پابندیوں کا شکار بھی ہورہے ہیں لیکن وحدت امت اور اصلاح امت کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے اپنے مسلکی، فروعی، ذاتی اور جماعتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد امت، وحدت امت اور اصلاح امت کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

*****



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 10 آبان 1394 11:01 ق.ظ