تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

یکشنبه 18 بهمن 1394 11:30 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
DSC00287
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے موقف کی ترجمانی پاکستانی قوم کا فریضہ اور عدل و انصاف کا تقاضا ہے لہذا اس فریضے کی ادائیگی کے لئے ہم 5 فروری کو اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے ’’ یوم یکجہتی کشمیر‘‘ منارہے ہیں۔مظلوم کشمیری مسلمان نصف صدی سے زائد بھارتی ظلم و بربریت کا شکار ہیں ۔ ان حالات میں عالمی امن کے دعویدار اداروں‘ انسانی حقوق کی تنظیموں‘ اقوام متحدہ اور اسلامی سربراہی کانفرنس تنظیم کو بھی چاہیے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے ر امت مسلمہ سمیت عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے حقائق اور حل کی طرف متوجہ کریں گے۔

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لئے ماضی میں بھی مختلف حل سامنے لائے جاتے رہے ہیں کبھی پاک بھارت مذاکرات، کبھی بیک ڈور ڈپلومیسی، کبھی بیرونی اور عالمی طاقتوں کی مداخلت یا ثالثی، کبھی تقسیم کشمیر ، کبھی چار نکاتی فارمولے ، کبھی عوامی، ثقافتی اور سپورٹس دوستی اور دیگر انداز میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے راستے تلاش کئے جاتے رہے لیکن اس وقت تک کوئی حل قابل قبول اور قابل نفاذنہیں ہوگا جب تک پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے تیسرے فریق یعنی کشمیری عوام کو اس عمل میں شامل کرکے کلیدی کردار نہیں دیا جاتا کیونکہ کشمیری عوام کی رائے ہی اہمیت کی حامل ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ بھارت کو یک طرفہ اور جانبدارانہ پالیسیاں اور جارحانہ طرز عمل اختیار کرنے سے گریز کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور مذاکرات سے پہلے کشمیر میں امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنا کر مذاکرات کے لئے ماحول کو سازگار بنانا چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں اپنی افواج میں کمی کرنی چاہیے، تشدد کا راستہ ترک کرنا چاہیے تاکہ دینا پر واضح ہوجائے کہ بھارت مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہے۔ اس ماحول کے بعد مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور کوئی قابل عمل حل نکل سکے گا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستانی عوام کے موقف اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دیں، قومی موقف سے روگردانی اور یو ٹرن پالیسیوں سے کشمیری عوام کی قربانیوں کو رائیگاں نہ ہونے دیں، کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام سے کرائیں اور مذاکرات کے عمل میں تمام کشمیری جماعتوں اور طبقات کو نمائندگی دیں، کسی ایک گروہ یا طبقے کی حمایت کرکے کشمیر کی تحریک آزادی کو منتشر اور کمزور نہ کریں اور عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ پیش کرکے عالمی اداروں کو قائل کریں کہ وہ بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کریں۔
com



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 18 بهمن 1394 11:32 ق.ظ