تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کے لیے سیاسی قوت کا ہوناضروری ہے۔ قائد ملت جعفریہ آیت اللہ سید ساجد نقوی
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کے لیے سیاسی قوت کا ہوناضروری ہے۔ قائد ملت جعفریہ آیت اللہ سید ساجد نقوی

شنبه 14 فروردین 1395 10:12 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
5bfbf07b-1095-42e8-8393-b8f894591740

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے زیر اہتمام جامعۃ الکوثر اسلام آباد کے المصطفیٰ آڈیٹوریم میں علمائے اسلام کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے شرکت کی جس میں علامہ شیخ محسن علی نجفی، پیر اعجاز احمد ہاشمی صدر جمعیت علماء پاکستان، پروفیسر محمد ابراہیم صدر ملی یکجہتی کونسل کے پی کے، آصف لقمان قاضی مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل، خالد محمود عباسی مرکزی رہنما تنظیم اسلامی، علامہ شیخ صالح کربلائی از کربلائے معلی عراق، علامہ عارف حسین واحدی مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان،سید ثاقب اکبر، حافظ رفیق طاہر رہنما جماعت اہلحدیث، فرحت حسین شاہ نائب ناظم تحریک منہاج القرآن، ڈاکٹر عبد الحفیظ فاروقی چرمین نظریہ پاکستان مومنٹ سمیت تمام مکاتب فکر کے دیگر علمائے کرام کی کثیرتعداد میں شرکت کی

اس موقع پر علمائے کرام نے پاکستان میں اسلامی معاشرے کی خدو حال کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم مسلمانوں کو ان سازشوں سے بچائیں جو ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہی ہیں۔ اس موقع پر علمائے کرام نے اتحاد و وحدت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر کو ایک دوسرے کے قریب آ کر اور ایک دوسرے کو پہچان کر ہی فروعی اختلافات کو ختم کرنے میں سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

علمائے اسلام کانفرنس سے صدارتی خطاب فرماتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی فرقہ واریت نہیں اور نہ ہی کوئی شیعہ سنی مسئلہ ہے۔ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید بزرگ علمائے کرام عملی طور پر متحدہ مجلس عمل اور ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پرمتحد ہیں۔

علامہ سید ساجد نقوی نے مزید کہاکہمیں سمجھتا ہوں کہ سیاسی قوت کے بغیر ہم اپنے اہداف و مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتے، دینی قوت کو ایٹمی قوت سے بڑھ کر قوت سمجھتا ہوں۔ تمام مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے ملک میں ایسا انقلاب آ سکتا ہے جیسے پڑوسی ملک میں ہےآخر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں مذہبی لحاظ سے اپنے آپ کو مضبوط کرنا چاہیے ہمیں ہر چیز کو اپنی جگہ پراکھٹا کرنا چاہیے۔ بعض افراد کہہ رہے ہیں کہ کچھ گروہ کے بارے میں ، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملی یکجہتی کونسل تو بنی ہی فرقہ واریت کی نفی کے لیے جو لوگ فرقہ واریت کی نفی کرتے ہیں وہ اس میں شریک ہو سکتے ہیں فرقہ واریت سے بڑھ کر ہے تکفیری ہونا وہ کیسے اس میں آ سکتے ہیں وہ خود سوچی لیں کہ ان کو کیا کرنا چاہیےکہ وہ ملی یکجہتی کے اندر شامل ہو سکیں۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 14 فروردین 1395 10:18 ق.ظ