تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - اسلامی تحریک کے نائب صدر شیخ مرزا علی کی صدارت میں پیام شہداء کانفرنس نگر میں منعقد ہوئی
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

اسلامی تحریک کے نائب صدر شیخ مرزا علی کی صدارت میں پیام شہداء کانفرنس نگر میں منعقد ہوئی

سه شنبه 29 تیر 1395 07:34 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
13734615_1042994422451942_1449999411_n

پیام شہداء کانفرنس نگر گگلت شہدائے ملت جعفریہ پاکستان بالخصوص سرزمین پاکستان کے دفاع کے دوران پاک آرمی کے شہداء جن کا تعلق وادی شہدائے نگر سے تھا ان تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے (ساس) وارثانِ شہداء کی جانب سے عظیم الشان پیام شہداء کانفرنس ویلی اسقرداس میں منعقد کی گئی قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کو اس کانفرنس میں خصوصی شرکت کرنی تھی مگر فلائٹ کی عدم دستیابی کے باعث تشریف نہ لاسکے جس کی وجہ سے کانفرنس کی صدرات مرکزی نائب صدر اسلامی تحریک پاکستان ،شیعہ علماء کونسل شیخ مرزا علی نے کی

جبکہ دیگر مقررین نے میں شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن کے صدر علامہ شیخ منیر حسین منوری،علامہ شیخ اعجاز حسین،شیعہ علماء کونسل گلگت کے رہنما شیخ اںصار حسین ،شیخ عبد الحسین،شیخ محمد عباس وزیری،رہنما مجلس وحدت مسلمین شیخ موسی کریمی اور علامہ شیخ عابدین نائب خطیب جامعہ امامیہ کھارادر کراچی اسلامی تحریک کے منتخب رکن اسمبلی محمد علی شیخ، اسلامی تحریک بلتستان کے منتخب رکن اسمبلی و چیرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کیپٹین ریٹائرڈ اسکندر علی، مجلس وحدت المسلمین کے منتخب رکن اسمبلی حاجی رضوان علیعلامہ شیخ محمد اقبال توسلی علامہ شیخ شبیر حسین حکیمی نے بھی خطاب کیا

علامہ شیخ مرزا علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہی پاکستان بنایا، ہم نے ہی پاکستان پر اپنا سرمایہ لگایا ہم نے ہی پاک آرمی کے جھنڈے تلے کئی جنگوں میں پاکستان کی سرزمین کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں،وہ ہم ہی ہیں جنہوں نے گلگت بلتستان کو ڈوگرہ سے آزاد کروا کر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، ہم نے ہی ریاست پاکستان کے اندر مختلف مسالک اور فرقوں کے درمیان اتحاد و وحدت کا نعرہ لگایا اور دنیا بھر کے لیئے وحدت امت کی مثال قائم کی۔ مگر افسوس کہ ہم پر ہی کفر کے فتوے لگ رہے ہیں، ہمیں ہی بسوں سے اتار کر اور شناخت کر کے قتل کیا جاتا ہے، ہم پر ہی عذاداری کے حوالے سے دباو ڈالا جاتا ہے۔ ہمارے ہی بے گناہ شیعہ جوانوں کو توازن کی ظالمانا پالیسی کے تحت نانگا پربت جیسے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کے ساتھ موازنہ کروا کر مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں سوال کرتا ہوں کہ کہا ں ہے ریاست پاکستان، کہاں ہے ریاست کے وہ مقتدر ادارے جو عدل و انصاف کے ذمہ دار ہیں۔ ہم آج میں پر امید ہیں کہ انصاف کرنے والے ادارے اور افراد اس ریاست میں موجود ہیں اور وہ انصاف کرینگے، اور اگر ایسا نا ہوا تو یہ عدل و انصاف کا قتل ہوگا۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 29 تیر 1395 07:35 ب.ظ