تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - قائد ملت جعفریہ پاکستان کا ڈیرہ غازی خان میں سالانہ اجتماع سے خطاب
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

قائد ملت جعفریہ پاکستان کا ڈیرہ غازی خان میں سالانہ اجتماع سے خطاب

سه شنبه 29 تیر 1395 08:35 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
405020_154620854667243_1513068990_n

تشیع میں دو گروہ دو فرقے بن جائیں میں پاکستان میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا یہ فرقہ بندی میری زندگی میں نہیں ہوگی۔موجود ہیں میں کوشش کروں گا سمجاوٗں گا بجھاوٗں گا میرے پاس اور طریقے بھی ہیں میرے پاس ولایت فقیہ کی جانب سے بھی اختیارات ہیں ان کو بھی میں استعمال کرسکتا ہوں مجھے قومی اختیار بھی حاصل ہے کہ میں قومی مفادات و نظریات و عقائد کی حفاظت کروں اور میں کروں گا ایک بار پھر ہم ایسے مرحلے مین پہنچے ہیں جہاں ہمیں بحرانوں کا سامنا ہے مگر جس طرح پہلے ہم بفضلِ خدا بحرانوں سے نکلے اور ہم نے تشیع کی عظمت و کامیابی کا منظر دیکھا اسی طرح اس بار بھی ہم ان بحرانوں سے مشکلات سے سرخ روح نکلیں گے اور تشیع ایک بار پھر توانا دکھائی دی گی کچھ داخلی بحران ہیں کچھ خارجی بحران ہیں بہت آسانی سے ہم نے ان بحرانوں کا مقابلہ کیا قوم کو کسی مشکل مین ڈالے بغیر ہم نے کامیابی کی منازل طے کی ہیں تشیع کا ایک رعب ہے ایک دبدبہ ہے دشمن کا کوئی مکر کامیاب نہیں ہوا اور تشیع کامیابی کی معراج پر موجود ہے زینب علیا کا وہ خطبہ یاد آتا ہے چالیں چل لو اپنا پورا زور لگالو تم نہ تو ہماری وحی مٹا سکتے ہو نہ ہی ہمارے ذکر کو ختم کرسکتے ہو ان کے کردار سے الہام لیتے ہوئے ہم نے اپنا رخ متعین کیا ہے اور جو رخ ہم اختیار کریں گے وہ قوم کے مفاد میں ہوگا جو رخ ہم اختیار کریں گے وہ ہی قوم کی کامیابی کے لئے ہوگا تشیع کے معیار کو خراب کیا جارہا ہے تشیع کے عقائد پر حملہ کیا جارہا ہے تشیع کا معیار ہے کہ امامت کی طرف رجوع کرے امامت کی جانب جو راستہ دکھایا گیا اس کی جانب رجوع کرے اگر امامت نہیں تو امامت نے جو راستہ دیا اس کی طرف رجوع کرو جو کچھ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا وہ بدترین مظاہرہ ہے بداخلاقی کا تشیع ایک ملت ہے ایک نظام ہے دنیا مانتی ہے اس بات کو کہ اسلامی تۃذیب اک منبع و سرچشمہ آل محمدؑ کا گھرانہ ہے یہ جو اختلافات ہیں انجمنوں میں محلوں میں خاندانوں مین یہ اخلاقایات کی کمی کی وجہ سے ہے ہم نے نسل کی تربیت کا اہتمام نہیں کیا سب سے مضبوط سسٹم تشیع کے پاس موجود ہے مگر پاکستان میں سب سے کمزور حیثیت اگر ہے تو وہ تشیع کی ہے اس سسٹم کے ماننےوالوں کے عادات و اطوار اور چال چلن اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کمزور عادات رکھنے والے قوم کت افراد قو کی سرفرازی کے لئے کردار ادا نہیں کرسکتے.کوئٹہ کے راستے زیارات پر جانے کا راستہ نہیں چھوڑسکتے حکومت سن لےقوم کو ایسا راستہ دکھانا چاہئے جس سے قوم کے کردار میں بھی مضبوطی آئے تشیع کی عظمت و سربلندی بھی موجود ہو اور قوم آمادہ وتیار اور ہوشیار بھی بھی رہے میں اپکو آمادہ و ہوشیار کرتا ہوں کوئٹہ کے راستے سینکڑوں قافلے مین گزروا چکا ہوں میں جانتا ہوں میرے مزدور ساتھی جو پائی پائی جمع کرکے سال بھر میں پیسے جمع کرتے ہیں اور اس راستے سے جاتے ہیں اس امام / کے پاس جو ہماری سرحد سے سب سے نزدیک ہے امام رضا غریب الغرباءؑ میں حکومت کو کہ کر آیا ہوں کہ ہوائی جہاز چلاوٗ بحری جہاز چلاوٗ یہ راستہ ہم نہیں چھوڑ سکتے صدیوں سے ہم اس راستے سے زیارات پر جارہے ہیں تذلیل ہورہی ہے تشیع کی وہاں آج ایک زائر نے اپنے گلے پر چھری چلائی میں روزانہ ان کے لئے کر رہا ہوں ہمارا ایک انداز ہے میں نے کہا ہے کہ یہ ایف آئی آرز واپس لے لو کہین ایسا نہ ہو کہ یہ تمہارے گلے کا پھندا بن جائیں زائرین کے لئے یہ مسائل ختم کرو قوم کے اندر تشویش ہے ورنہ پھر ہم قربانی دنے والے لوگ ہیں ہماری پالیسی قربانی ہے تصادم کے قائل نہیں




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 29 تیر 1395 08:36 ب.ظ