تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب بهمن 1394
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا مقصدپاکستان کودہشت گردی، تعصب اور فرقہ ورایت جیسی لعنت سے پاک رکھنا ہے ۔علامہ حمید حسین امامی

جمعه 30 بهمن 1394 02:05 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
0aba1f82-9c37-4a18-9524-d2470c735b7d

پشاور()شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر علامہ حمیدحسین امامی نے ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کها کہ آج پوری دنیا میں اسلام کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔جس طرح یہود نصریٰ سازش کے تحت اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کادشمن بنا رہے ہیں ۔وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہورہے ہیں اوران کی اسلام کو کمزور کرنے کی مذموم کوششیں کی جاری ہیں ۔پاکستان نے جس طرح ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوشش کی ہے ہم نے اس کی پہلے بھی تائید کی اور اب بھی اس کی تائید کرتے ہیں ۔پاکستان اسی طرح امت مسلمہ کے اتحاد قائم کرانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔

علامہ حمیدحسین امامی نے مزید کہا کہ پاکستان میں بھی دہشت گردی و فرقہ ورایت عروج پر ہے اس کو ختم کرنے میں حکومتیں بے بس نظر آتی ہیں اس سے پہلے کہ پاکستان میں یمن، نائجیریا،بحرین شام، عراق، فلسطین،افغانستان جیسے حالات پیدا کیئے جائیں ۔جن میں انسانیت سوز اورمسلمانوں کا بے دریغ قتل عام جاری ہے۔ جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ۔پا کستان میں فرقہ ورایت اور دہشت گردی جیسی لعنت کو ختم کرنے کا واحد حل یہ ہے کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کو مزید فعال بنایا جائے اورتمام مذہبی جماعتوں کے قائدین کا اتحاد وقت کی اشد ضرورت ہے ۔ہم اگر علماء کرام ایک دوسرے کے مراکز میں جائیں اور عوام کے سامنے جذبات اور نفرت انگیز تقاریر سے پرہیز کریں تو کامیاب اور کامران رہیں گے ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : جمعه 30 بهمن 1394 02:06 ب.ظ

انقلاب اسلامی ایران۔۔۔۔۔۱۹۷۹ء سے ۲۰۱۶ء تک (۱۱فروری انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے) سید اظہار مہدی بخاری

شنبه 24 بهمن 1394 10:09 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انقلاب اسلامی ایران۔۔۔۔۔۱۹۷۹ء سے ۲۰۱۶ء تک (۱۱فروری انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے) سید اظہار مہدی بخاری ،
dcc9f306-2a90-4977-817c-065b38440a22


ایران کے اسلامی انقلاب کو اگر ایک ملک میں تبدیل ہونے والے نظام کی حد تک دیکھا جائے تو شاید اس میں معمولی خاصیتیں نظر آئیں یا صرف خطے اور ملک کے حوالے سے تبدیلیاں نظر آئیں لیکن انقلاب اسلامی ایران کو اس کی فکر، اس کی قیادت، اس کے نظریے، اس کے انداز اور اس کے استقلال و استحکام کے حوالے سے دیکھا جائے تو ہمیں یہ انقلاب ایک خطے اور ملک کا انقلاب نہیں بلکہ پوری دنیا پر محیط انقلاب نظر آتا ہے جس کا تعلق کسی ایک ملک کے باشندوں سے نہیں بلکہ دنیا میں رہنے والے تمام انسانوں کے قلوب کی تبدیلی سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی ایران سے دنیا بھر کے انسان متاثر ہوئے اور اس انقلاب کے عالم اسلام میں بالخصوص اور دیگر اقوام و مذاہب میں بالعموم مثبت اور حریت پر مبنی اثرات مرتب ہوئے اور ہمارے موجودہ ادوار میں موجود انقلابیوں، حریت پسندوں اور خودداروں کو اس انقلاب سے بہت رہنمائی اور حوصلہ ملا۔

انقلاب اسلامی ایران کے قیام کے آغازکے دنوں میں بعض قوتوں نے کہا کہ یہ جذباتی انقلاب ہے جو چاردنوں کے بعد ختم ہوجائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ ایک فرقے اور مسلک کا انقلاب ہے جو صرف اس مسلک کے پیروکاروں تک محدود ہوکر رہ جائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ انقلاب فقط ایک خطے کے ساتھ متعلق ہے لہذا جلد ختم ہوجائے گا۔ بعض قوتوں نے کہاکہ یہ انقلاب فقط امریکی مخالفت پر مبنی ہے لہذا اس کو پائندگی حاصل نہیں ہوسکے گی۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ انقلاب چند مولویوں کا برپا کیا ہوا ہے جو چند دنوں بعد باہم دست وگریباں ہوجائیں گے۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ انقلاب فقط ’’ امام خمینی شو‘‘ ہے جو ان کی وفات کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ ایک نسل تک محدود ہے نئی آنے والی نسل کے ساتھ ہی یہ انقلاب اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ جبری اور ڈنڈے کے زور پر آنے والا انقلاب ہے جسے جلد ہی عوام مسترد کردیں گے۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ بادشاہت کے خلاف نفرت کی بنیاد پر آنے والا انقلاب ہے جس کو عوام جلد ہی خود ختم کردیں گے۔ بعض قوتوں نے کہا کہ ملک چلانا اور عالمی سطح پر شناخت قائم رکھنا مذہبی طبقے کے بس کا روگ نہیں ہے لہذا عوام جلد ہی مذہبی طبقے سے تنگ آکر انہیں اقتدار سے علیحدہ کردیں گے۔ بعض قوتوں نے انقلاب کے ختم ہونے کی تاریخیں بھی طے کردیں اور پیشین گوئیا ں بھی کردی گئیں۔ لیکن وقت اور تاریخ نے ثابت کردیا کہ ۳۷ سال گذرجانے کے باوجود انقلاب اسلامی ایران نہ صرف پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے بلکہ پہلے سے زیادہ طاقتور اور وسیع ہوتا جارہا ہے ۔ فقط ایران نہیں بلکہ دنیا کے کونے کونے سے اس انقلاب کی حمایت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ استعمار اور استکبار کے مظالم خودبخود انقلاب کو مضبوط کرتے چلے جارہے ہیں اور ماضی میں انقلاب اسلامی کی شدید مخالفت کرنے والے مسلمان و غیر اسلامی ممالک اور طبقات آج انقلاب اسلامی ایران کے شانہ بشانہ ہیں۔ وقت نے ثابت کردیا ہے کہ یہ انقلاب جذباتی نہیں بلکہ شعوری اور فکری انقلاب ہے۔ یہ ایک فرقے یا مسلک کا انقلاب نہیں بلکہ عالم اسلام اور انسانیت کا ترجمان انقلاب ہے۔ کسی ایک خطے یا ملک کا انقلاب نہیں بلکہ دنیا کے ہرخطے میں رہنے والے مظلوموں اور محروموں کا انقلاب ہے۔ یہ انقلاب کسی ایک ملک یا طاقت کے خلاف نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر ہر اس ظالم اور جابر و غاصب قوت کے خلاف ہے جو دنیا پر ناجائز قبضے کرنے اور دہشت گردی کے ذریعے دوسری اقوام کو دبانے کے لیے اقدام کررہی ہے۔ یہ انقلاب چند مولویوں اور شدت پسندوں وفرقہ پرستوں کا انقلاب نہیں بلکہ روشن فکر، وسیع النظر، اعلی سیاسی شعور کے حامل اور دین و دنیا کے تمام معاملات پر گہری نظر رکھنے والے جید علماء ، مجتہدین اور اسلامی اسکالرز کا انقلاب ہے۔یہ انقلاب کسی ایک شخصیت کی نمائش کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیا کو ایک صحیح، سچی، مخلص، دیانت دار، علمی، عملی، پاکیزہ ، معتدل اور اتحاد واخوت کی داعی شخصیت (امام خمینیؒ ) کی شکل میں قیادت فراہم کرنے والا انقلاب ہے۔ یہ کسی ایک نسل کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے برپا ہونے والا انقلاب ہے۔ یہ جبری اور ظالمانہ انقلاب نہیں بلکہ عوامی خواہشات اور انسانی ضروریات کے تحت آنے والا عوامی اور جمہوری انقلاب ہے جو انسانوں کو ایک مستقل اور اعلی نظام حیات فراہم کرتا ہے۔ یہ انقلاب بادشاہت کی آڑ میں خاندان پرستی اور عوام کو غلام بنانے کے نظام اور اپنے وطن کو غاصب طاقتوں کے رحم وکرم پر چھوڑنے کے خلاف ہے۔ اس انقلاب نے ثابت کردیا کہ اگر مذہبی طبقے میں اتحاد، جذبہ، ہم آہنگی، خلوص اور لگن ہوتو صرف ایک ملک پرنہیں بلکہ پوری دنیاپر مذہبی طبقہ حکومت کرسکتا ہے۔ اس انقلاب کے استحکام اور استقلال نے ان پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کردیا جو انقلاب کے ختم ہونے کے حوالے سے کی گئیں تھیں۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 24 بهمن 1394 10:10 ق.ظ

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی ۳ روزہ دورے پر کراچی پہنچے جہاں سے اندرون سندھ روانہ ہوۓ

شنبه 24 بهمن 1394 10:08 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
1909886_798046560327440_1373236999473765514_n

جعفریہ پریس سندھ نمائندہ ولی فقہی پاکستان قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی اپنے ۳ روزہ دورے پر کراچی پہنچے جہاں سے اندرون سندھ روانہ ہوۓ

11فروی2016
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی ۳ روزہ دورے پر سندھ پہنچ گئے سکرنڈ بائی پاس پر رات گئے عوام کا استقبال٧
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی سے سیاسی شخصیت جام فیروز انڑ کی قاضی احمد میں ملاقات کی مختلف سیاسی امور پر گفتگو
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی سے جعفریہ یوتھ صوبائی معاون ممتاز سیال،ڈویژن ناظممشتاق احمد ضلعی آرگنائزرمشاہد رضا کی ملاقات مختلف تنظیمی امور میں رہنمائی لی

12فروری2016
نمائندہ ولی فقیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی قاضی احمد میں مجلس ترحیم سے خطاب علامہ باقر نجفی و دیگر علاقائی عمائدین ہمراہ

12فروری2016
نمائندہ ولی فقیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی شہید الطاف حسین الحسینی کی پانچویں برسی میں شرکت کے لئے کوٹری آمد اہل علاقہ کا شاندار استقبال شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ ناظر عباس تقوی جے ایس او کے مرکزی صدر وفا عباس جنرل سیکریٹری علی عظمت بھی ہمراہ

جامشورو
12فروری2016
المصطفی آرگنائزیشن کے چیئرمین مہران یونیورسٹی کے پروفیسر سید فرمان علی رضوی کی قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی سے ملاقات موقع پر یونیورسٹی کے دیگر پروفیسرز اور دیگر فیکلٹیز سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز بھی موجود تھے
جامشورو کراچی موری ملاح گوٹھ

12فروری2016
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی23 برس بعد کراچی موری ملاح گوٹھ آمد مومنین کا پرتپاک استقبال

جامشورو کراچی موری ملاح گوٹھ

12فروری2016
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی23 برس بعد کراچی موری ملاح گوٹھ آمد مومنین سے خطاب
دورہ جاری




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 24 بهمن 1394 10:10 ق.ظ

انقلاب اسلامی ایران کی سیتیسویں سالگرہ میں قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی اور علامہ عارف حسین واحدی کی شرکت و ملاقاتیں

شنبه 24 بهمن 1394 10:07 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
12729290_990678247671304_4261000540529308201_n

قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی اور علامہ عارف حسین واحدی نے سرینا ھوٹل اسلام آباد میں انقلاب اسلامی ایران کی سیتیسویں سالگرہ کے جشن میں شرکت کی،سفیر محترم جمھوری اسلامی ایران جناب مہدی ھنر دوست اور سفارت کی ٹیم نے قائد محترم کا استقبال کیا،مختلف سیاسی مذھبی شخصیات نے قائد محترم اور علامہ عارف واحدی سے ملاقاتیں کیں،پروگرام میں قائد محترم سب کی توجہ کا مرکز رھے۔ملاقات کرنے والوں میں سفیر محترم کے علاوہ علامہ شیخ محسن نجفی،علامہ سید افتخار نقوی،وزیر اطلاعات پرویز رشید،صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب،امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق ،محمود خان اچکزئی،رحمان ملک،پیر نقیب الرحمان،پیر چراغ الدین،سابقہ وفاقی وزیر واجد بخاری،مسلم لیگ کے مرکزی سیکٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا،ڈائریکٹر خانہ فرھنگ و ڈائیریکٹر رائزنی جمھوری اسلامی،اسپیکر صوبائی اسمبلی حاجی فدا ناشاد اورسینیئر وزیر گلگت بلتستان حاجی اکبرتابان و دیگر شامل تھے




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 24 بهمن 1394 10:08 ق.ظ

ہم سیاسیے میدان میں ہیں اور عرصے سے آئینی حقوق کے بارے میں جدوجہد کر رہے ہیں یہ جہدوجہد مقصد کے حصول تک جاری رہے گی

شنبه 24 بهمن 1394 10:05 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
10486194_830827063596173_5316275569461080725_n

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے زیر صدارت شیعہ علماء کونسل کے مرکزی اور گلگت بلتستان کے علاقائی عہدیداران کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔جسمیں مرکزی نائب صدر علامہ مرزا علی ،مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی ،ممبر مرکزی سیاسی سیل ڈاکٹر علامہ شبیر حسن میثمی،صوبائی صدر گلگت بلتستان علامہ سید محمد عباس رضوی ،صوبائی جنرل سیکرٹری و ممبر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی محمد علی حیدر ،سابق وزیر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی وصوبائی سینئر نائب صدر گلت بلتستان دیدار علی ،ڈویژنل صدر سکردو علامہ فدا حسین عبادی نے شرکت کی


اجلاس میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت ،اقتصادی راہداری ،گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور عوامی حالت زار بہتر بنانے کی تجاویز، امن اوامان،ترقی اور گلگت سکرود روڈ کی تعمیر میں تاخیر سمیت دیگر اہم اُمور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔جسمیں طے پایاکہ ان مسائل کے حوالے سے اپنا موقف اور جدوجہد کا روڈ میپ ا گلے چنددنوں میں قائد ملت جعفریہ پریس کانفرنس میں اعلان کریں گے ۔قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کی عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے اور اقتصادی راہداری میں اس اہم خطہ کونظر انداز کرنا کسی صور ت بھی بہتر نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی عوام کو ہی اس کے ثمرات ملنے چاہیں۔خطے کی آئینی حیثیت کے بارے میں انہوں نے فرمایاکہ ہم گلگت بلتستان میں سیاسیے میدان میں ہیں اور عرصے سے خطے کی عوام کے فلاح وبہبود اور آئینی حقوق کے بارے میں جدوجہد کر رہے ہیں یہ جہدوجہد مقصد کے حصول تک جاری رہے گی ،حکمران عوام کی اُمنگوں کے مطابق فیصلے کریں ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 24 بهمن 1394 10:07 ق.ظ

اقتصادی راہداری ، گلگت بلتستان کے معاشی مفادات کو مدّنظر رکھا جائے ،علامہ عارف واحدی

شنبه 24 بهمن 1394 10:03 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
12705352_990269564378839_1254118315840661943_n

حکومتی سطح پرگلگت بلتستان کی تقسیم کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی اسلامی تحریک کے وفد کو یقین دہانی اعلی سطحی وفد میں ڈاکٹر علامہ شبیر حسن میثمی ،علامہ سید محمد عباس رضوی صوبائی صدر جی بی اور محمد علی شیخ ممبرگلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی بھی شامل تھے

اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی وفد نے گذشتہ روز وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن سے گلگت بلتستان ہاوس اسلام آباد میں ملاقات کی ۔وفد میں ڈاکٹر علامہ شبیر حسن میثمی ممبر مرکزی سیاسی سیل اسلامی تحریک پاکستان ،علامہ سید محمد عباس رضوی صوبائی صدر اسلامی تحریک پاکستان جی بی اور محمد علی شیخ صوبائی جنرل سیکرٹری اسلامی تحریک پاکستان ( ممبرگلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی)شامل تھے ۔اس موقع پرملاقات میں گلگت بلتستان کے آئینی حقوق ،اقتصادی راہداری ،علاقہ کی امن اوامان،ترقی اور تقسیم گلگت بلتستان،گلگت سکرود روڈ کی تعمیر میں تاخیر سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے اُمور پر تفصیلی گفتگو ہوئی ۔

اوروفد کے سربراہ علامہ عارف حسین واحدی مرکزی سیکرٹری جنرل نے گلگت بلتستان کے تقسیم کی افواہ پر عوامی تشویش ، گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور عوامی حالت زار بہتر بنانے کی تجاویز سے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کو تفصیلاً آگاہ کیا جس پر وزیر اعلیٰ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ گلگت بلتستان کے تقسیم ایک افواہ کے سواء کچھ نہیں جسکی میں سختی سے تردید کرتا ہوں اورحکومتی سطح پر گلگت بلتستان کی تقیسم کا کو کائی منصوبہ زیر غور نہیں بعض لوگ بے جا افواہیں پھیلا رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن نے حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے مل کر جدوجہد کرنے پر اتفاق کیا اور اقتصادی راہداری کے حوالے سے گلگت بلتستان کے معاشی مفادات کو مدّنظر رکھے جانے اور خطہ کے استحکام اور فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے باہمی تعاون سمیت گلگت سکردو روڈ پر جلد کام شروع کئے جانے کی بھی یقین دہانی کرائی ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 24 بهمن 1394 10:05 ق.ظ

انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کے موقع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجدعلی نقوی کا خصوصی پیغام

شنبه 24 بهمن 1394 10:03 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_3132

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ انقلاب اسلامی جن اہداف کے لئے برپا کیا گیا وہ ایسے ہیں کہ جو پوری امت مسلمہ کو متحد و متفق کرتے ہیںانقلاب کے لئے جو طریقہ کار اختیارکیا گیا اس سے استفادہ کرکے دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی اسی قسم کی کوششیں کی جا سکتی ہیں کیونکہ انقلاب کے لئے جو بنیادی شرط مدنظر رکھی گئی وہ اتحاد امت اور وحدت ملی ہے امت مسلمہ کے اندر ملی یکجہتی کو مضبوط بنانے جیسے مقصد کو سامنے رکھ کر جس ملک میں بھی کوشش کی جائے اور عوام کو اس مقصد سے آگاہ کیا جائے تو عوام کی طرف سے مثبت تعاون سامنے آئے گا۔ انقلاب اسلامی ایران کا بھی سب سے بڑا درس یہی ہے کہ قرآن کی تعلیمات کا نفاذ ہو، شریعت کی بالا دستی ہو، تفرقے اور انتشار کا خاتمہ ہو، اتحاد کی فضا ءقائم ہولہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد قائم کریں، تفرقہ بازی اور انتشار اور اس کے اسباب و عوامل کے خاتمے کی کوشش کریں۔

برادر ہمسایہ ملک ایران میں انقلاب اسلامی کی 37 ویں سالگرہ کی مناسبت سے اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کے قائد اور رہبر حضرت امام خمینی ؒ نے انقلاب برپا کرتے وقت اسلام کے زریں اصولوں اور پیغمبر اکرم کی سیرت و سنت کے درخشاں پہلوﺅںسے ہر مرحلے پر رہنمائی حاصل کی۔ جس طرح رحمت اللعالمین کے انقلاب کا سرچشمہ صرف غریب عوام تھے اسی طرح امام خمینی ؒ کے انقلاب کا سرچشمہ بھی عوام ہی تھے۔یہی وجہ ہے کہ تمام سازشوں ، مظالم، زیادتیوں، محاصروں، پابندیوں اور دیگر ہتھکنڈوں کے باوجود انقلاب اسلامی ایران کرئہ ارض پر ایک طاقتور انقلاب کے طور پر جرات واستقامت کی بنیادیں فراہم کررہا ہے۔



ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 24 بهمن 1394 10:03 ق.ظ

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

یکشنبه 18 بهمن 1394 11:30 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
DSC00287
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے موقف کی ترجمانی پاکستانی قوم کا فریضہ اور عدل و انصاف کا تقاضا ہے لہذا اس فریضے کی ادائیگی کے لئے ہم 5 فروری کو اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے ’’ یوم یکجہتی کشمیر‘‘ منارہے ہیں۔مظلوم کشمیری مسلمان نصف صدی سے زائد بھارتی ظلم و بربریت کا شکار ہیں ۔ ان حالات میں عالمی امن کے دعویدار اداروں‘ انسانی حقوق کی تنظیموں‘ اقوام متحدہ اور اسلامی سربراہی کانفرنس تنظیم کو بھی چاہیے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے ر امت مسلمہ سمیت عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے حقائق اور حل کی طرف متوجہ کریں گے۔

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لئے ماضی میں بھی مختلف حل سامنے لائے جاتے رہے ہیں کبھی پاک بھارت مذاکرات، کبھی بیک ڈور ڈپلومیسی، کبھی بیرونی اور عالمی طاقتوں کی مداخلت یا ثالثی، کبھی تقسیم کشمیر ، کبھی چار نکاتی فارمولے ، کبھی عوامی، ثقافتی اور سپورٹس دوستی اور دیگر انداز میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے راستے تلاش کئے جاتے رہے لیکن اس وقت تک کوئی حل قابل قبول اور قابل نفاذنہیں ہوگا جب تک پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے تیسرے فریق یعنی کشمیری عوام کو اس عمل میں شامل کرکے کلیدی کردار نہیں دیا جاتا کیونکہ کشمیری عوام کی رائے ہی اہمیت کی حامل ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ بھارت کو یک طرفہ اور جانبدارانہ پالیسیاں اور جارحانہ طرز عمل اختیار کرنے سے گریز کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور مذاکرات سے پہلے کشمیر میں امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنا کر مذاکرات کے لئے ماحول کو سازگار بنانا چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں اپنی افواج میں کمی کرنی چاہیے، تشدد کا راستہ ترک کرنا چاہیے تاکہ دینا پر واضح ہوجائے کہ بھارت مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہے۔ اس ماحول کے بعد مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور کوئی قابل عمل حل نکل سکے گا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستانی عوام کے موقف اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دیں، قومی موقف سے روگردانی اور یو ٹرن پالیسیوں سے کشمیری عوام کی قربانیوں کو رائیگاں نہ ہونے دیں، کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام سے کرائیں اور مذاکرات کے عمل میں تمام کشمیری جماعتوں اور طبقات کو نمائندگی دیں، کسی ایک گروہ یا طبقے کی حمایت کرکے کشمیر کی تحریک آزادی کو منتشر اور کمزور نہ کریں اور عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ پیش کرکے عالمی اداروں کو قائل کریں کہ وہ بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کریں۔
com



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 18 بهمن 1394 11:32 ق.ظ

شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ گلگت کی اہم پریس کانفرنس

یکشنبه 18 بهمن 1394 11:27 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
12697440_937845226300196_3472554375484157695_o
تمام معززصحافی حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے جنہوں نے آج کی پریس کانفرنس کیلئے اپنا قیمتی وقت دیا .
دمشق میں سیدہ حضرت زینب ؑ کے مزار مقدس کو نشانہ بنانے کیلئے کئے جانے والے بزدلانہ حملہ کو مذہبی مقامات مقدسہ کی توہین اور مذہبی عقیدہ کی آزادی پر حملہ سمجھا جاتا ہے اور شدید مذمت کی جاتی ہے .اور قومی ائیر لائن کے ملازمین کی نجکاری کے خلاف احتجاج پر حملہ کو حکومتی جبر و تشدد قرار دیا جاتا ہے ۔

محترم صحافی حضرات

گلگت بلتستان کے عوام کی حمایت اور جزوی مسائل پر آوازاٹھانے پر عوامی ایکشن کمیٹی ، اینٹی ٹیکس موومنٹ اور یوتھ موومنٹ جی بی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے جی بی کے موجودہ مخصوص معروضی حالات پر گفتگو کرنا چاہتے جو نہ جماعتی مسئلہ ہے نہ کسی زندگی کے مختلف شعبوں میں سے کسی ایک شعبہ کا مسئلہ ہے یہ خالصتا جی بی کے ۲۰ لاکھ عوام کا بنیادی انسانی حقوق کامسئلہ ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ جی بی میں موجود تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر شعبہ اپنے جزوی و فروعی اختلافات کو بھلا کرتاریخ کے اس نازک موڑ میں جی بی کے بنیادی اور حقیقی مسائل اور اس کا منطقی حل تلاش کر کے اپنا بھر پور ادا کریں گے ۔

قابل قدر صحافی حضرات

گلگت بلتستان کے مخلص ،باوفااور محب وطن عوام جیسے لوگ کسی ملک اور ریاست کو نہیں مل سکتے جو ۶۸ سال کے ایک طویل عرصہ سے آئین پاکستان میں شامل ہونے کے انتظار میں ہوں اگر بین الاقوامی عدالتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں جی بی کے عوام کا صبر و تحمل ، برداشت اور انتظار کی حالت میں لازوال اور جرات و بہادری سے بھری بے مثال قربانیوں کا جائزہ لیں تو عالمی اعزازات سے نوازنے جانے کے اہل قرار پائنگے ۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 18 بهمن 1394 11:30 ق.ظ

حکومت کی طرف سے پیٹرول مصنوعات پر پانچ روپے کی کمی کرنا عوام کے ساتھ مزاق ہے (علامہ سید ناظر عباس تقوی)

یکشنبه 18 بهمن 1394 11:26 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
IMG_6609

کرا چی(اسٹاف رپورٹر)شیعہ علماء کو نسل صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے پیٹرول مصنوعات پر پانچ روپے کی کمی کرنا عوام کے ساتھ مزاق ہے عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں کے گر نے سے پوری دنیا میں پیٹرول کی مصنوعات پر خاطر خواہ کمی نظر آئی ہے لیکن لگتا ہے حکو مت پا کستان نے عوام کو اس ہی صورت حال سے دو چار رکھنا ہے جو عوام کے سا تھ نہ انصافی ہے حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کیلیے کو ئی جامع پالیسی موجود نہیں ہے پیٹرول کی مصنوعات میں اگر اضافہ کیا جا تا ہے تو بسوں کے کرایوں سے لیکر خرد نوش کی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جا تا ہے لیکن جب پیٹرول پر حکومت پیسے کم کر تی ہے تو نہ بسو کے کر ایوں میں اور نہ خردنوش کی اشیاء میں بھی کمی واقع نہیں ہو تی اس کی بنیادی وجہ حکومت کے پاس پالیسی کا نہ ہونا ہے عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خاطر خواہ کمی ہونی چائیے تھی جو نہ ہو سکی جو عوام کے ساتھ مزاق ہے




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 18 بهمن 1394 11:27 ق.ظ

جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان لاہور ڈویژن کے زیراہتمام عظیم الشان سیرت النبی کانفرنس منعقد ہوئی

یکشنبه 18 بهمن 1394 11:24 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: جعفریہ اسٹو ڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ،
12594043_792106144254815_6745402864965533078_o

جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان لاہور ڈویژن کے زیراہتمام عظیم الشان سیرت النبی کانفرنس منعقد ہوئی جس میںشیعہ علماء کونسل سیاسی سیل کے انچارج ڈاکٹر علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل  پنجاب کے صدر علامہ سبطین سبزواری، مرکزی صدر جے ایس او وفا عباس، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر پیر اعجاز ہاشمی، مرکزی نائب صدر شیعہ علماء کونسل علامہ رمضان توقیر، مسئول امور حج و زیارات علامہ مظہر عباس علوی، قاضی غلام مرتضٰی، علامہ نیاز حسین نقوی پرنسپل جامعتہ المنتظر،  سیکریتری جنرل وفاق المدارس شیعہ علامہ محمد افضل حیدری، مولانا عبدالخبیر آزاد، مولانا مشتاق جعفری، اجمل نقوی، نوبہار شاہ، امامیہ آرگنائزیشن کے چیئرمین لعل مہدی خان نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔   جمعیت طلباء اسلام کے نمائندوں نے بھی سیرت النبی کانفرنس میں شرکت کی۔اس کانفرسن سے صدارتی خطاب نمائندہ ولی فقیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کیا اور سیرت النبی کے ھوالے سے اہم امور پر روشنی ڈالی




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 18 بهمن 1394 11:26 ق.ظ

عالم اسلام اس اسلام دشمن ،انسان دشمن اور ظالمانہ سوچ کو روکنے کیلئے متحد و متفق ہو کر اقدامات کرےقائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی

یکشنبه 18 بهمن 1394 11:22 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_2844
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے گذشتہ روز شام کے دارالحکومت دمشق میں روضہ مبارکہ نواسی رسول اکرم ؐ حضرت سیدہ زینب ؑ ؑ بنت حضرت امام علی علیہ السلام پر خود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے خاندانوں سے اظہار تعزیت و تسلیت کی اور شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اس دلخراش سانحہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ روضہ مقدسہ نواسی رسول اکرمؐحضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیھا پر حملہ شکست خوردہ، تنگ نظر، ڈرپوک اور تمام اخلاقیات و سماجیات سے عاری دشمن کی کارستانی ہے۔ اس سے قبل بھی شام اور عراق میں انبیاء کرام ؑ ، اصحاب عظامؓ اور دیگر مقدس ہستیوں کے مزار ات پر حملہ آور ہو کر دشمن اپنے مذموم عزائم اور اسلام دشمنی کا اظہار کرچکا ہے۔جس سے اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ لہذا عالم اسلام اس اسلام دشمن ،انسان دشمن اور ظالمانہ سوچ کو روکنے کیلئے متحد و متفق ہو کر اقدامات کرے۔

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ آستان نواسی پیغمبر اکرمؐ حضرت سیدہ زینب ؑ تمام مسلمانوں کی مشترکہ میراث، آمریت و ملوکیت اور ظلم و جبروت کے خلاف ایک چمکتا ہوا مینارہے جو دنیا کو اپنی روشنی سے ہمیشہ منور کرتا رہے گا ۔دشمن کی یہ مذموم کارروائی کسی بھی مکتب یا مسلک کی طرف سے نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش ہے لہذامسلمان آپس میں باہمی رواداری، اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کو فروغ دیکر اسلام دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیں۔ اور حکومت پاکستان مقدس مقامات کے تحفظ کیلئے اپنا اخلاقی اور سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پاکستان بھرکے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرے تاکہ عوام میں پھیلی ہوئی تشویش کا ازالہ ہوسکے



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 18 بهمن 1394 11:24 ق.ظ