تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب خرداد 1394
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

الیکشن گلگت بلتستان2015 (تجزیاتی رپوٹ)۔ تحریر حیدر عباس

یکشنبه 31 خرداد 1394 04:14 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
unnamed


نوٹ: تحریر میں لکھی گئی ووٹوں کی تعداد میں کمی بیشی ھو سکتی کیوں غیر سرکاری ذریعہ جی۔بی ٹی وی سے اعدادوشمار لیئے گئے ھیں لیکن امیدوارں کی پوزیشن بلکل صیح ھے۔

الیکشن گلگت بلتستان جو کہ 8جون کو ھوئے۔جس میں دو شیعہ جماعتوں نے بھی حصہ لیا اور دونوں جماعتوں نے2،2 سیٹیں حاصل کیں۔کہاں کہاں ھم جیت سکتے لیکن نا اتفاقی کی وجہ سے ھارے آئیے حلقہ وار تجزیہ کرتے ھیں۔

حلقہ گلگت1:
اس حلقہ میں نواز لیگ کے جعفر اللّلہ،پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ،اسلامی تحریک کے حسن شاہ کاظمی اور مجلس وحدت کے الیاس صدیقی الیکشن لڑ رھے تھے۔لیکن جب تکفیریوں نے نواز لیگ کے جعفر اللّلہ کی حمایت تو اس وقت صورتحال یہ بنی کی تکفیریوں کا ایک امیدوارجب کہ تین شیعہ امیدوار میدان میں تھے۔ اس حلقے میں شیعہ امیدواروں میں سے ،پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ سب سے مضبوط تھے اسلامی تحریک نے حالات کی نزاکت کو سمھجتے ھوئے آغا راحت کی اپیل پر اپنا امیدوار ،پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ کے حق میں دستبردار کروا دیا اور آغا راحت صاحب نے مجلس وحدت سے بھی اپنا امیدوار ،پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ کے حق میں دستبردار کروانے کی اپیل کی لیکن مجلس وحدت نے انکار کر دیا۔

الیکشن نتائج۔
نواز لیگ کے جعفر اللّلہ:6529
،پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ:5554
مجلس وحدت کے الیاس صدیقی :1100

اب اگر اس رزلٹ کو دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ ،نواز لیگ کے جعفر اللّلہ سے 975 سے ھارے،اگر مجلس وحدت کے الیاس صدیقی کے 1100 ووٹ بھی امجد کو ملتے تو پیپلز پارٹی کے شیعہ امیدوار امجد ایڈوکیٹ 150 ووٹ سے تکفیریوں کے حامی نواز لیگ کے جعفر اللّلہ کو ھارا دیتے۔
تو حلقہ 1 سے شیعہ کی نا کامی کی ذمہ داری مجلس وحدت پر جاتی ھے کیونکہ اگر وہ اپنی ضد چھوڑ دیتے تو آج اس حلقہ میں شیعہ امیدوار کامیاب ھوتا

۔
حلقہ گلگت 2:
اس حلقہ میں نواز لیگ کے حفیظ الرحمن (جو کہ شیعہ دشمن ھے)،پیپلز پارٹی کے جمیل احمد (معتدل سنی) ،،اسلامی تحریک کے سخی احمد جان اور مجلس وحدت کے معطر عباس امیدوار تھے۔ اس حلقہ میں بھی تکفریوں نے نواز لیگ کے حفیظ الرحمن کی سپورٹ کیا یہ تک بھی کہا گیا کہ سنی وزیر اعلی چاہتے ھو تو حفیظ الرحمن کو ووٹ دو اس صورتحال کو دیکھتے ھوئے حفیظ الرحمن کو ھارانے کے لئیے اسلامی تحریک نے آغا راحت صاحب کی اپیل پر اپنا امیدوار سخی احمد جان کو پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کے حق میں دستبردار کروا دیا۔ جب کہ آغا راحت صاحب کی اپیل پر مجلس وحدت نے بھی اپنا امیدوارمعطر عباس کو الیکشن سے ایک دن پہلے ،پیپلز پارٹی کے جمیل احمد د کے حق میں دستبردار کروا دیا۔

نتائج۔
نواز لیگ کے حفیظ الرحمن 3000 سے پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کو شکست دی۔
سکست کی ذمہ دار۔
میرے خیال میں ون ٹو ون مقابلہ کے باوجود نواز لیگ کے حفیظ الرحمن کی کامیابی ظاہر کرتی ھے کہ عوام کا اس حلقہ میں نواز لیگ کی طرف روجحان تھا۔ لیکن اگر اسلامی تحریک اور مجلس وحدت ٓاپنے اپنے امیدوار چار،پانچ دن پہلے پیپلز پارٹی کے جمیل احمد د کے حق میں دستبردار کروا لیتے اور جمیل احمد کی کمپئن میں حصہ لیتی تو شائد آج اس حلقہ کا نتیجہ مختلف ھوتا۔

حلقہ گلگت 3۔
اس حلقہ میں نواز لیگ کے ڈاکٹر اقبال، ،پیپلز پارٹی کے آفتاب احمد، اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع اور مجلس وحدت کے مولانا آغا نیئر امیدوار تھے۔یہاں تمام جماعتوں نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا باوجود اس کے کہ آغا راحت صاحب مجلس وحدت سے مولانا آغا نیئر کو اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع کے حق میں دستبردار کروانے کی اپیل کی کیونکہ کیپٹن محمد شفیع مضبوط امیدوار تھے لیکن مجلس وحدت نے آغا راحت صاحب کی بات نہ مانی۔

الیکشن نتائج۔
نواز لیگ کے ڈاکٹر اقبال: 7852
اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع: 4555
مجلس وحدت سے مولانا آغا نیئر:3656
،پیپلز پارٹی کے آفتاب احمد:2971
شکست کی ذمہ داری۔
اس حلقہ میں نواز لیگ کے ڈاکٹر اقبال نے اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع کو 3297 سے شکست دی اگر مجلس وحدت اپنا امیدوار اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع کے حق میں دستبردار کروا لیتی تو مجلس وحدت کے 3548 بھی اسلامی تحریک کو ملتے اس طرح اسلامی تحریک کے کیپٹن محمد شفیع 359ووٹ سے جیت جاتے۔اس حلقہ میں شکست کی ذمہ دار مجلس وحدت ھے۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 31 خرداد 1394 04:19 ب.ظ

ہم جیت گئے

شنبه 23 خرداد 1394 12:20 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
sucflag - Copy (2)
طویل غور و خوض کے نتیجے میں اسلامی تحریک پاکستان نے 13 سال کے سیاسی فاصلہ بعد گلگت بلتستان الیکشن 2015 میں بھرپور حصہ لینے کا فیصلہ کیا اورالیکشن میدان میں 11 نامزد امیداروں کا اعلان کیا – اسلامی تحریک کی پارلیمانی بورڈ ابھی الیکشن حلقہ بندی کے جائزہ لینے سے فارغ نہ ہو پائی تھی کہ گلگت بلتستان وزارت داخلہ کی جانب سے اسلامی تحریک پر ناجائز پابندی کا اعلان کر دیا گیا جس کی وجہ سے اسلامی تحریک کے پارلیمانی بورڈ اور سیاسی سیل کو کیمپن چلانے کے بجائے اس قانونی جنگ میں مصروف کردیا گیا – چوںکہ غیر قانونی اور ناجائز پابندی تھی اس میں اسلامی تحریک کو کامیابی نصیب ہوئی، تاہم متعصب وزارت داخلہ نے میڈیا کو اسلامی تحریک کی تشہیر سے باز رکھا-

اسلامی تحریک کے با ہمت پارلیمانی بورڈ اور سیاسی سیل نے صبر و حوصلہ سے اپنی انتخاباتی مہم کا آغاز کیا جبکہ دوسری طرف اسلامی تحریک کے خلاف میڈیائی جنگ اپنے آب تاب کے ساتھ عروج پر تھی جو اسلامی تحریک کی با ہمت پالیمانی بورڈ اور سیاسی سیل ٹیم کے حوصلے پست نہ کر سکی تاہم ووٹرز کو شدید پریشانی لاحق تھی کہ نہ جانے اسلامی تحریک کا کیا بنے گا الیکشن میں حصہ لے پائے گی بھی یا نہیں، ابھی اسلامی تحریک کی سیاسی ٹیم اپنے ووٹرز کو حوصلہ دینے میں مصروف تھی کہ انہیں داخلی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور اتحاد بین المومنین کا نام نہاد شوشہ کھڑا کر دیا گیا جس کا اسلامی تحریک نے کھلے دل سے استقبال کیا اور ان امور کو سلجھانے میں مصروف ہو گئے -

ادهر قائد ملت جعفریہ کے دوره گلگت بلتستان میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی جسے اسلامی تحریک کی پارلیمانی بورڈ نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ سلجھانے میں کامیاب ہوئی اور قائد ملت کے گلگت بلتستان طوفانی دورے نے توقع سے بڑھ کر سیاسی صورتحال بدل دی- قائد ملت کے دورے سے قبل تمام مذہبی و سیاسی تنظیموں کے پلیٹ فارمز سے نفرت،تعصب اور فرقہ واریت کو بڑھ کایا جا رہا تھا جبکہ قائد ملت نے امن و محبت کا پیغام دیتے ہوئے اتحادبین المومنین و اتحادبین المسلمین پر زوز دیا اور اپنے تمام تر خطابات میں کسی بھی جماعت پر تنقید اور الزام تراشی کی سیاست سے گریز کیا،جس کی وجہ سے تمام حلقوں میں مثبت اثرات مرتب ہوئے، قائد ملت کی اس مثبت پالیسی کو عوام و خواص سمیت تمام سیاسی مذہبی جماعتوں کے قائدین نے سراہا، قائد ملت کے دورے دوران جو دلچسپ بات نظر آئی اور تمام تجزیہ نگار انگشت بہ داندان ہوکر رہ گئے وہ یہ تھی کہ مختلف پارٹیز کے کارکنان و عہدیداران نے نہ صرف بڑھ چڑھ کر استقبال میں حصلہ لیا بلکہ بعض حلقوں میں استقبالیہ ریلیز اور اجتماعات دوران مختلف پارٹیز کے عہدیداران نے کھل کر اظہار کیا کہ ہمارا کسی بھی جماعت سے تعلق کیوں نہ ہو مگر ہمارے قائد علامہ ساجد نقوی ہیں، پہلے بھی ان کی ہدایات پر عمل کرتے تھے اور آئنده بهی ان کے احکامات پر عمل کریں گے-

انتخابی مہم دوران سیاسی جوڑ توڑ الیکشن کا حصہ ہے اسی کے پیش نظر اسلامی تحریک نے اس خطہ کے علاقائی سیاسی مفادات اور اتحاد بین المومنین کے پیش نظر بعض حلقوں میں کچھ سیاسی جوڑ توڑ کی- جس کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں:

گلگت حلقہ 1 اور 2 کے مکمل اختیارات آغا راحت کے حوالے کرکے اپنے نامزد امیدواروں کو دستبردار ہو نے کا حکم دے دیا جبکہ گلگت حلقہ 3 میں آغا راحت کا فیصلہ اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار کیپٹن (ر) محمد شفیع کے حق میں تھا اس لئے وہ میدان میں رہے ، کیپٹن (ر) محمد شفیع اپنی انتخابی مہم چلانے کے بجائے اتحاد بین المومنین کی خاطر متعدد بار آغا راحت کے سامنےحاضر ہوتے رہے تاہم دوسری طرف کی لجاجت اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اتحاد بین المومنین کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور داخلی مسائل کا فائدہ مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر اقبال کو پہنچا-واضح رہے کہ حلقہ 1 گلگت میں بھی آغا راحت کے فصیلے کی مخالفت اور دوسری جانب کی لجاجت اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے نامزد امید وار جعفراللہ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 23 خرداد 1394 12:22 ب.ظ

اسلامی تحریک کے سرابراہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی حمایت سے 5 امیدوار کامیاب

شنبه 23 خرداد 1394 12:18 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
11013238_461709580655117_3475053495317063332_n
 الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ نتائج کے مطابق اسلامی تحریک کے سرابراہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی حمایت سے گلگت حلقہ 4: میں اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار محمد علی شیخ  اور سکردو حلقہ4 : میں اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار کیپٹن (ر) سکندر علی جبکہ  سکردو حلقہ 3 : میں مسلم لیگ ن کے فدا محمد ناشاد،سکردو حلقہ 5 : میں مسلم لیگ ن کے اقبال حسن اور سکردو حلقہ 6: میں پیپلزپارٹی کے عمران ندیم کامیاب ہوئے ہیں-

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان الیکشن 2015 میں اسلامی تحریک کے سرابراہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے گلگت حلقہ 1: میں پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار امجد حسین ایڈوکیٹ، گلگت حلقہ 2 : میں پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار جمیل احمد، گلگت حلقہ 3: میں اسلامی تحریک کے نامزد امیدوارکیپٹن(ر) محمد شفیع ، گلگت حلقہ 4: میں اسلامی تحریک کے  نامزد امیدوار محمد علی شیخ ، گلگت حلقہ 5: میں آزاد امیدوار میر قاسم ، سکردو حلقہ1 : میں اسلامی تحریک کے  نامزد امیدوار شہزاد آغا،سکردو حلقہ2 : میں اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار آغا سید محمد عباس رضوی ، سکردو حلقہ3 : میں مسلم لیگ ن کے فدا محمد ناشاد ، سکردو حلقہ4 : میں اسلامی تحریک کے  نامزد امیدوار کیپٹن (ر) سکندر علی، سکردو حلقہ 5 : میں مسلم لیگ ن کے اقبال حسن اور سکردو حلقہ 6: میں پیپلز پارٹی کے عمران ندیم کی حمایت کا اعلان کیا تھا – جن میں سے محمد علی شیخ ، کیپٹن (ر) سکندرعلی ، فدا محمد ناشاد، اقبال حسن اور عمران ندیم 5 امیدوار کامیاب قرار پائے -

اسلامی تحریک پاکستان نے الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ نتائج پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے-




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 23 خرداد 1394 12:19 ب.ظ

علامہ شبیرحسن میثمی کا وائٹ ساپ پرگلگت بلتستان الیکشن 2015 کے حوالے سے اہم وضاحتی پیغام

یکشنبه 17 خرداد 1394 03:11 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
n00365435-t
 گلگت بلتستان الیکشن 2015 کے حوالے سے سوشل میڈیا پربعض افراد کی جانب سےغلیظ مہم کا جواب دیتے ہوئے اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی رہنما اورچئیرمین منشور کمیٹی و ممبر مرکزی سیاسی سیل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے وائٹ ساپ پر ایک اہم وضاحتی بیان جاری کیا ہے ، جعفریہ پریس نے اس پیغام کی اہمیت کے پیش نظراسے نشرکرنے کا اہتمام کیا ہے جو قارئین کے پیش نظر ہے۔

علامہ شبیرمیثمی کے وائٹ ساپ پرآڈیو پیغام کا مکمل تحریری متن:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمام مومنین و مومنات کوسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

شبیرمیثمی آپ سے مخاطب ہے،آج جمعہ کے دن ،ایک بج کر پینتیس منٹ پرمیں آپ سے مخاطب ہوں ،اسکردومیں بیٹھ کرچند نکات آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں، اگرصلاح سمجھیں تو دوسروں تک بھی پہنچا دیں۔

پہلا نکتہ یہ ہے کہ جناب آغاراحت صاحب کے فارمولازسے متعلق باتیں بہت دوردورتک پہچائی گئیں، بہرحال اب اس کے بارے میں ، میں زیادہ بات نہیں کروں گا۔ لیکن یہ بات واضح کردوں کہ اسلامی تحریک پاکستان نے (گلگت میں) اپنے حلقہ 2 کے کینڈیڈ کوفوری طورپرآغا راحت صاحب کے پاس بھجوایا اوران سے اپنے تشخیص وظیفہ کے بارے میں دریافت فرمایا اورانشاء اللہ تاریخ میں یہ بات ثبت ہوگی کہ آغا راحت کے حکم پر ہمارے کینڈیڈ نے اپنے کاغذات نامزدگی کل یعنی 4/ جون بروزجمعرات واپس لے لئے ہیں۔ آغا راحت نے فرمایا کہ مزید کینڈیڈ ٹس بھی آہستہ آہستہ فارمولے کے مطابق اپنے کاغذات واپس لے لیں گے اورانشاء اللہ قوم کو پتہ چلے گا کہ کون آغا راحت کے فارمولہ کے بارے میں مخلص ہے، فوریت کے ساتھ، تیزی کے ساتھ جواب دے رہا ہے اورکون ہے جواس مسئلہ میں تعلل کا شکار ہے۔

دوسرا الزام لگایاجا رہا ہے کہ ہم نے صرف پی ایم ایل(ن) کے کینڈیڈٹس کا ساتھ دیا ہے۔آج جمعہ ایک بج کرچالیس منٹ کی جانب بڑھ رہا ہوں ،یہ بات واضح کردوں کہ پارٹی(basis)پر ہمارا کسی سے کوئی الائنس، کوئی اتحاد، کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوا ہے،افراد کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے پارلیمانی بورڈ فیصلہ کررہی ہے اورقائد محترم سے اجازت لے کر اقدام کررہی ہے۔
فدا ناشاد کے بارے میں پوری بلتستان کی قوم جانتی ہے ، یہاں کے بزرگ علماء نے ان کی تائید کی ہوئی ہے، یہ نوازلیگ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ عمران ندیم صاحب پیپلزپارٹی میں گئے، یہ بھی مومنین میں سے ہیں اور پہلے بھی خدمت کرتے رہے ہیں ۔اتفاقا یہ دونوں کینڈیڈٹس وہ ہیں جواسلامی تحریک پاکستان کے پلیٹ فارم سے تحریک جعفریہ کے نام سے ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں۔

اگلا اعلان جو کیا گیا ہے وہ اکبرشاہ صاحب کو اقبال حسن کے لئے بٹھایا گیا ہے، بیشک وہ نوازلیگ سے ہیں لیکن اقبال حسن کی ذات کومد نظررکھتے ہوئے جو شیعیان حیدرکرارمیں سے  ہیں آگے بڑھایا گیا ہے،اوران تینوں مومنین کونظرمیں رکھا گیا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ کسی پارٹی کوالائنس کی بنیاد پریا الیکشن اتحاد کی بنیاد پر آگے بڑھایا گیا ہو۔

حاشیہ کے طورپر عرض کرتا چلوں کہ بعض خبریں آ رہی ہیں کہ پیچھے سے بعض لوگوں کے ساتھ کچھ پارٹیاں کچھ انڈرسٹینڈنگ کررہی ہیں، آٹھ تاریخ انشاء اللہ یہ چیزیں خود بخود واضح ہوجائیں گی۔ مزید اس پرگفتگونہیں کرنی ہے۔

لیکن جس نکتے کی طرف مجھے توجھ دلانی ہے وہ یہ ہے کہ اگر گلگت اور بلتستان کے لئے نواز لیگ یزیدی پارٹی ہے ، ہم نہیں کہتے بلکہ ایسا کہاجا رہا ہے،توکیا بلوچستان وہ یزیدی پارٹی نہیں ہے؟ اگر وہ بلوچستان میں یزیدی پارٹی ہے تو پھرہمارے دوستوں کے پردونشل اسمبلی کا جو نمائندہ ہے وہ ان کے ساتھ الائنس کرکے حکومت میں کیسے بیٹھے ہوئے ہیں اورکیا وہ بلوچستان کی حکومت نوازلیگ کی حکومت نہیں ہے؟ نیٹ پر بھی باقاعدہ، بلوچستان گورمنٹ کی آفیشنل ویب سائٹ پر چیزیں پڑی ہوئی ہیں ، دیکھ لیں تاکہ ہمیں چیزیں پتاچل جائیں ، اوراگرہمارے علم میں کچھ کمی ہے تو ہمیں بتا دیا جائے۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 17 خرداد 1394 03:14 ب.ظ

گلگت بلتستان میں تعمیراتی و فلاحی منصوبوں کا آغاز سب سے پہلے ہم نے کیا اوراسے پانچواں صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی تحریک کا ہی تھا،قائد ملت جعفریہ پاکستان

شنبه 16 خرداد 1394 02:55 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
11391447_690275331104564_8754570394753501578_n
قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے پولو گرائونڈ اسکردو میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ گلگت بلتستان الیکشن اس خطہ کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی جانب ایک نئے موڑ کا آغاز ہیں’ اسلامی تحریک پاکستان درحقیقت آپ عوام ہیںاور 8 جون کو عوام کی ہی جیت ہوگی۔اقتدار میں آکر عوامی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کوآئینی و قانونی حقوق دلانے کی جدوجہد کو تیز تر کریں گے۔تحریک کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ سرزمین بے آئین کو آئینی و قانونی حقوق دلوانے کے لئے پہلی آواز بھی ہم نے بلند کی اور گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی تحریک کا ہی تھا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے فقید المثال استقبال کیلئے اسکردو کی عوام ہزاروں کی تعداد میں سکردو پل پہنچ گئے اور اپنے قائد محبوب کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے بہت بڑی تاریخی ریلی کی صورت شہرکے مختلف راستوں سے ہوکرپولو گرائونڈپہنچے جہاں ریلی نے تاریخی جلسے کی صورت اختیار کرلی۔ جلسہ عام سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ اس علاقے کی تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ مثالی امن ووحدت کے فروغ کے لئے اسلامی تحریک نے بھرپور جدوجہد کی اور یہ جدوجہد اس وقت بھی جاری ہے کیونکہ ملک کے دیگر صوبوں کے طرح اس علاقہ میں بھی ہمارا دستور و منشور علاقائی تعمیر و ترقی’ عوامی خوشحالی اور وحدت و اتحاد کا فروغ ہے اور ان اہداف کے حصول کے لئے مشکلات اور مصائب کے باوجود کوششیں کی گئیں۔مکتب اہل تشیع کے خلاف جو سازشیں کی گئیں ہم نے حکمت و دانائی کا انداز اپناکر پاکستان میں ان سازشوں کا خاتمہ کیا کیونکہ پاکستان بنانے میں ہمارا بنیادی کردار تھا اور اسے بچانے میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرہے ہیں۔اسلامی تحریک پاکستان نے عوام کی خوشحالی وترقی کے لئے کردار ادا کیا اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ اسلامی تحریک کے نامزد امیدواروں کو کامیاب کرائیں تاکہ وہ اس خطے کی ترقی و خوشحالی میں کردار ادا کرسکیں۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اسلامی تحریک ایک ویژن کے تحت جن جن حلقوں کے امیدواروں کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ ہمارے پارلیمانی بورڈ کی مشاورت سے ہوا البتہ اس کی منظوری ہم نے دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سیاست میں پہلی بار حصہ نہیں لے رہے بلکہ ہم شروع سے ہی میدان سیاست میں موجود ہیں اورماضی میں گلگت و بلتستان مخلوط حکومت بھی بنائی تاکہ ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکا۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 16 خرداد 1394 02:56 ب.ظ

اسلامی تحریک پاکستان درحقیقت آپ عوام ہیں اور 8 جون کو عوام کی ہی جیت ہوگی،قائد ملت جعفریہ پاکستان

جمعه 15 خرداد 1394 09:37 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
11357311_689976524467778_6715456861226108590_o
قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے دمبوداس اسکردو میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ گلگت بلتستان الیکشن اس خطہ کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی جانب ایک نئے موڑ کا آغاز ہیں’ اسلامی تحریک پاکستان درحقیقت آپ عوام ہیں اور 8 جون کو عوام کی ہی جیت ہوگی۔ اقتدار میں آکر عوامی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کوآئینی و قانونی حقوق دلانے کی جدوجہد کو تیز تر کریں گے۔ تحریک کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ سرزمین بے آئین کو آئینی و قانونی حقوق دلوانے کے لئے پہلی آواز بھی ہم نے بلند کی اور گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی تحریک کا ہی تھا۔

دمبوداس کے تاریخی جلسہ عام میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے حضرت آیت اللہ علامہ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ اس علاقے کی تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ مثالی امن ووحدت کے فروغ کے لئے اسلامی تحریک نے بھرپور جدوجہد کی اور یہ جدوجہد اس وقت بھی جاری ہے کیونکہ ملک کے دیگر صوبوں کے طرح اس علاقہ میں بھی ہمارا دستور و منشور علاقائی تعمیر و ترقی’ عوامی خوشحالی اور وحدت و اتحاد کا فروغ ہے اور ان اہداف کے حصول کے لئے مشکلات اور مصائب کے باوجود کوششیں کی گئیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ اسلامی تحریک ایک ویژن کے تحت جن جن حلقوں کے امیدواروں کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ ہمارے  پارلیمانی بورڈ کی مشاورت سے ہوا البتہ اس کی منظوری ہم نے دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سیاست میں پہلی بار حصہ نہیں لے رہے بلکہ ہم شروع سے ہی میدان سیاست میں موجود ہیں اورماضی میں گلگت و بلتستان مخلوط حکومت بھی بنائی تاکہ ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکاجائے-

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ہم آنے والی نسلوں کو مضبوط اور مستحکم پاکستان دیں گے جس میں قانون و دستور کی حکمرانی ہو ۔ یہاں کے عوام کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ باہمی میل جول اور تعلقات کے حوالے سے ایک دوسرے کا احترام کریں اور الزام تراشی سے گریز کرتے ہوئے عزت و احترام کے کلچر کو فروغ دیں’ معمولی اختلافات کو اس حد تک نہ لے جائیں جس سے کشیدگی پیدا ہو۔

اس موقع پر اسلامی تحریک کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف واحدی، علامہ ناظر عباس تقوی ،علامہ فیاض مطہری،علامہ اسد اقبال زیدی اور اسلامی تحریک پاکستان کے نامزد امیدوار کیپٹن ﴿ر﴾ سکندر کے علاوہ متعدد علاقائی و صوبائی رہنماوٴں نے خطاب کیا-




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : جمعه 15 خرداد 1394 09:38 ب.ظ

گلگت بلتستان کی عوام 8 جون کو اپنے ملی پلیٹ فارم اسلامی تحریک پاکستان کے تمام نامزد اُمیدواروں کو کامیاب کرنے کیلئے انتخابی نشان تالا چابی پرمہر لگا کر اپنے ملی بیداری کا ثبوت دیں، قائد ملت جعفریہ

جمعه 15 خرداد 1394 09:33 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
08


قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی زیر صدارت عظیم الشان شہدائے گلگت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مرکزی خطیب ا مام جمعہ سید راحت حسین الحسینی ،علامہ شبیر حسن میثمی سمیت دیگر علماء کرام اورہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ شہدائے گلگت کانفرنس سے قبل مرکزی امام جمعہ گلگت کے خطیب آغا سید راحت حسین الحسین کی دعوت پرقائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی اقتداء میں مرکزی جامعہ مسجد گلگت میں نماز ظہرین ادا کی گئی جس میں ہزاروں نمازیوں نے شرکت کی ۔ شہدائے گلگت کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے قا ئد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ شروع دن سے ہی پاکستان کو اس کے آئین و قانون کے مطابق نہیں چلایا گیا جس کے باعث پاکستان افراتفری اور دیگر مسائل کا شکار ہے ۔فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے قانون موجود ہے لیکن قانون کو استعمال نہیں کیا گیا جس کے باعث مئی 1988ء میں سانحہ گلگت پیش آیا ۔ہم نے اس سازش کو بھانپتے ہو ئے پاکستان میں اس کا بھر پو ر مقابلہ کیا ۔ایک سازش کے تحت فرقہ واریت کو اس ملک میں پھیلایا گیا اور ملت تشیع کو اُمت کے دائرے سے نکالنے کے لئے ایک بہت بڑی سازش کئی گئی ہم نے اس سازش کو اپنی حکمت عملی سے ناکام بنایا اور وہ حکمت عملی اختیار کی ہمیں اُمت سے نکالنے والے آج گندگی کے ڈھیر پر ہیں اور ہم اُمت واحدہ میں ہیں ۔ہم تو اتحاد و اُمت کے قائل ہیں اس کے لئے ہماری کوششیں روز اول کی طرح عیاں ہیں ،ہرشخص مجھ سے مل سکتا ہے ،جو کاوشیں اتحاد اُمت کی ہونگی ہم اتحاد  وحدت کی سنجیدہ کوششوں میں بھر پور ساتھ دیں گے ۔اختلاف رائے تو ہو سکتا ہے لیکن ملت تشیع کی خاطر اتحاد وحدت اور اتفاق میں کوئی قباحت نہیں ۔ فرقہ ورایت کے خاتمہ میں ہمارا کردار واضح ہے ۔ موجودہ حکومت کے پاس اختیار نہیں کہ وہ عملاً پاکستان میں قانون پر عمل کرا سکیں ۔ دشمن اسلام و دشمن پاکستان کو موقع ملا انہوں نے اس ملک میں فرقہ واریت پھیلائی ہم نے آئینی راستہ اختیا ر کرتے ہوئے اپنے اتحاد وحدت اور صبرکے ساتھ ان کے عزائم کو ناکام بنایا ۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : جمعه 15 خرداد 1394 09:40 ب.ظ

اسلامی تحریک کے سربراہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں نہایت اہم دورہ پرگلگت پہنچ گئے

شنبه 9 خرداد 1394 03:45 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
11357020_449780935146978_7585372766561871796_o
 اسلامی تحریک کے سربراہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں نہایت اہم دورہ پرگلگت پہنچ گئے،گلگت پہنچنے پرعلما کرام ، شہید ضیاء الدین رضوی کے فرزند ، اسلامی تحریک کے نامزد امیدواران، تنظئیمی سینئرز اور کارکنان نے بڑی تعداد میں اپنے محبوب قائد کا شاندار استقبال کیا- رپورٹ کے مطابق آج ہفتہ کی صبح قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی گلگت پہنچ گئے،گلگت پہنچنے پرعلما کرام ، اسلامی تحریک کے نامزد امیدواران، تنظئیمی سینئرز اورعلاقائی عمائدین اور معززین نے اپنے محبوب قائد کو گلگت آمد پرخوش آمدید کہا –

اس موقع پرکارکنان نے بڑی تعداد میں اپنے محبوب قائد کا شاندار استقبال کیا اورایئرپورٹ سے ریلی کی شکل مزار اقدس شہید علامہ سید ضیاالدین رضوی پر حاضری دی۔ شہید ضیاء الدین رضوی کے فرزند بھی قائد ملت جعفریہ کے ہمراہ موجود تھے-اپنے دورہ کے دوران قائد ملت جعفریہ ضلع گلگت، ضلع ہنزہ نگر کے انتخابی حلقوں کا تفصیلی دورہ کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں بلتستان کا دورہ کریں گے, جہاں پر وہ ضلع اسکردو، کھرمنگ، روندو اور مضافات میں انتخابی تیاریوں کا جائزہ لینے کے علاوہ اہم عوامی اجتماع سے بھی خطاب کریں گے۔ اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ  علامہ سید ساجد علی نقوی کا دورہ گلگت بلتستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور انکے دورے سے گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آسکتی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اسلامی تحریک کے سربراہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ  علامہ سید ساجد علی نقوی آج ہفتہ کے روز 2  بجے پونیال روڈ چوک پرعظیم الشان جلسہ عام سے خطاب فرمائیں گے ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 9 خرداد 1394 03:46 ب.ظ

گلگت بلتستان کی محرومیاں ختم کرینگے، سانحہ مستونگ اور سعودیہ میں ہونیوالی دہشت گردی تشویشناک ہے، قائد ملت جعفریہ کی ائرپورٹ پرگفتگو

شنبه 9 خرداد 1394 03:41 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
11289359_449780398480365_7436733601698915944_o

 

قائد ملت جعفریہ پاکستان  حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی گلگت پہنچ گئے، آمد پر کارکنوں نے شاندار استقبال کیا- علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ سانحہ مستونگ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، واقعہ میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، سعودی عرب میں ہونیوالے دہشت گردی کے حملے بھی تشویشناک، سعودی حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے ،گلگت بلتستان انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیںگے، خطے کی محرومیاں ختم کرینگے-


قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اہم دورے پر ہفتہ کے روز گلگت ائرپورٹ پہنچے تو کارکنوں نے ان کا شاندار استقبال کیا ۔ اس موقع پرحضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ مستونگ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ، لوگو ں کو چن چن کر اور شناخت کرکے قتل کرنا انتہائی لرزہ خیز واردات ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کیخلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹایا جائے ۔ انہوں نے گزشتہ روز سعودی عرب میں ہونیوالے دہشت گردی کے حملے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس  واقعہ کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ سعودی عرب میں پے درپے دہشت گردی کے واقعات بھی تشویشناک ہیں ، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سعودی حکومت حقائق کی روشنی میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اقدامات یقینی بنائے۔

اس موقع پر مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے اسلامی تحریک کے سربراہ قائد ملت جعفریہ پاکستان  حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی محرومیوں کا ایک دن ضرور خاتمہ ہوگا اور اس کیلئے ہم اپنی کاوشیں بروئے کار لائینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور عوام کی محرومیوں کا خاتمہ کرکے انہیں آئینی حقوق دلوانے کیلئے اپنی بھرپورکوششیں کرینگے۔

ایک اور سوال پرعلامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ عالم اسلام کے خلاف سازشوں کے جال بنے جا رہے ہیں ان سازشوں کو اتحاد و باہمی احترام کے ساتھ ناکام بنانا ہوگا اور معاشرے میں برداشت اور رواداری کو فروغ دینا ہوگا ۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 9 خرداد 1394 03:43 ب.ظ

گلگت بلتستان کے عوام کے نام قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

پنجشنبه 7 خرداد 1394 02:26 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
11074444_1575686326048306_4126591920299460592_n - Copy


پیش لفظ

ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد گلگت بلتستان کے غیور اور بہادر عوام نے خود سے پاکستان سے الحاق کیا۔اس وقت سے علاقہ محرومیت ،پسماندگی،غربت اور ناخواندگی جیسے مسائل کا شکار چلا آ رہا ہے۔ اس سرزمین بے آئین کے آئینی و قانونی حقوق کی جدوجہد میں بنیادی اور اساسی کردار ہمارے حصے میں آیا جسے نبھاتے ہوئے اس وقت کم و بیش دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے اور اس وقت بھی یہ جدوجہد پوری قوت سے جاری و ساری ہے جس کے نتائج 1994  میں اس وقت سامنے آنے شروع ہوئے جب یہاں کی قانون ساز کونسل کے پہلے انتخابات ہوئے۔

الیکشن1994ئ:1994 کے انتخابات میں تحریک جعفریہ پاکستان نے بھرپور حصہ لیتے ہوئے بعض سیاسی جماعتوں کو یہ پیشکش کی کہ وہ اس سیاسی عمل میں اس خطے کے وسیع تر مفاد میں ہمارا ساتھ دیں لیکن مثبت جواب نہ ملنے کی صورت میں تمام نشستوں پر انتخاب لڑتے ہوئے 10  نشستیں حاصل کیں اور یوں ہمارے کوٹے میں نامزد اراکین کو ساتھ ملا کل 12 نشستیں حاصل ہوئیں۔مگر بدترین ہارس ٹریڈنگ کی وجہ سے ہماری حکومت نہ بن سکی اور ان لوگوں نے حکومت بنائی جنہوں نے ہارس ٹریڈنگ کی ۔ البتہ علاقے کے عوام کی ترقی و خوشحالی کی خاطر اس کولیشن گورنمنٹ میں شمولیت اختیار کی گئی چنانچہ ہمارے  2  مشیر لئے گئے۔

الیکشن1999ئ:1999 ء کے انتخابات میں بھی ہماری جانب سے بھرپور حصہ لیا گیا اور تاریخی کامیابی ہوئی۔ نامزد اور منتخب اراکین ملاکر اکثریتی جماعت کی حیثیت سے تحریک نے حکومت بنائی جس کا سربراہ ڈپٹی چیف ایگزیکٹو  قرار پایا (جسے موجودہ سیاسی پیکیج میں وزیر اعلی کہا گیا ہے اس وقت چیف ایگزیکٹو وفاقی وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات تھا)۔ اس حکومتی ڈھانچے  میں ہمارے مشیران کی تعداد دو تھی۔اس دوران تحریک نے نہ صرف  گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی جدوجہد کو زیادہ موثر اور بہتر انداز میں اجاگر کیا بلکہ اس علاقے کے طول و عرض میں ترقی و خوشحالی کے بے شمار منصوبے شروع کرکے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

الیکشن2004ء :2004 ء کے تیسرے انتخابات میں بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر جماعتی بنیادوں پرنہ لیا جاسکا تاہم ہماری جانب سے بعض امیدواروں کی کامیابی کے لئے مثبت کوششوں کے نتیجے میں چھ امیدوار کامیاب ہوئے۔ اور ہماری کوششوں اور سیاسی حکمت عملی کے نتیجے میں ڈپٹی سپیکر اورکابینہ میں دو مشیر منتخب لئے گئے۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : پنجشنبه 7 خرداد 1394 02:28 ب.ظ

قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی بلتستان آمد کے موقع پر شاندار اورتاریخی استقبال کرینگے، علامہ شیخ فدا حسن عبادی

پنجشنبه 7 خرداد 1394 02:24 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
10628332_897416333629981_3426616991324563531_n
اسلامی تحریک پاکستان حلقہ نمبر 1 سکردو کے الیکشن آفس عید گاہ  کالونی کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ افتتاحی تقریب میں اسلامی تحریک پاکستان  بلتستان کے علمائے کرام کے علاوہ علاقے کے معززین ، اور کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔تقریب کے شرکاء ایک عظیم ریلی کی شکل میں علاقائی صدر کیمپ آفس سکردو سے عید گاہ پہنچی ۔

عیدگاہ کالونی میں الیکشن کمپین آفس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تحریک پاکستان حلقہ نمبر1 سکردو کے امیدوار غلام شہزاد آغا نے کہا کہ 8 جون اسلامی تحریک پاکستان کی فتح کا دن ہے۔ اسلامی تحریک پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے اور الزامات لگانے والے سازشی عناصر سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ پھراسلامی تحریک پاکستان حکومت سنبھالنے آ رہی ہے۔ بہت جلد قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی گلگت بلتستان میں آرہے ہیں اور ان کا شایان شان استقبال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عیدگاہ اور برولمو کالونی میں بہت سارے مہاجرین بھی مقیم ہیں ان کی مشکلات کا واحد حل اسلامی تحریک کے  پاس ہے انشاء اللہ کامیابی کے بعد ان مہاجرین کے تمام مسائل اور مستقل آبادکاری کیلئے خصوصی بندوبست کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جھوٹی سیاست نہیں کرتے بلکہ سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں یہی پیغام میری جماعت کے قائد علامہ سید ساجد علی نقوی کا بھی ہے ہم ان کے اس پیغام کو گھر گھر پہنچائیں گے اورغریبوں کی گھر کی دہلیز پرتمام تر بنیادی سہولیات پہنچانے کی بھرپورکوشش کی جائے گی ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب امام جمعہ والجماعت مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو و ڈویژنل صدر اسلامی تحریک علامہ شیخ فدا حسن عبادی نے کہا ہے کہ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی بلتستان آمد کے موقع پر شاندار اور تاریخی استقبال کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کےعوام سید ساجدعلی نقوی کے شیدائی ہے اور ان کے ہرحکم پر لبیک کہنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام اسلامی تحریک پاکستان کے قائد سید ساجد علی نقوی کے نامزد نمائندوں کو ووٹ دینا اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں جس کی مثال 1994 ء کے انتخابات ہیں۔ انشاء اللہ 94 ء کی طرح حالیہ انتخابات میں بھی سید ساجد علی نقوی کے نامزد امیدوار ہی کامیاب ہونگے۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : پنجشنبه 7 خرداد 1394 02:26 ب.ظ

شیعہ علماء کونسل پاکستان پنجاب کی صوبائی کونسل کے تنظیمی اجلاس میں علامہ سبطین حیدر سبزواری بھاریی اکثریت سے صوبائی صدرمنتخب

سه شنبه 5 خرداد 1394 07:17 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
11111627_10153332342741228_5160089274480936453_n

شیعہ علماء کونسل پاکستان پنجاب کی صوبائی کونسل کا تنظیمی اجلاس علی مسجد فیصل آباد میں منعقد ہوا، اجلاس کی صدارت قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کی بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ اجلاس میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی  سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے خصوصی شرکت کی۔

 اجلاس میں صوبے بھر کے اراکین، عہدیداران اور ذمہ داران نے  بھر پور شرکت کی۔ پنجاب اجلاس سے قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے خصوصی کیا – صوبائی کونسل کے تنظیمی اجلاس میں شیعہ علما کونسل پنجاب کے نئے صدر کا انتخاب عمل میں لایا گیا – شیعہ علما کونسل پنجاب کی صدارت  کے لئے علامہ مظہر عباس علوی، علامہ سبطین حیدر سبزواری اور علامہ فخر عباس سبزواری کے درمیان ووٹنگ ہوئی جس میں علامہ سبطین حیدر سبزواری بھاری اکثریت سے شیعہ علماء کونسل پاکستان پنجاب کے نئے صوبائی صدر منتخب ہوئے۔

اجلاس کے اختتام پرشیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے نومنتخب صوبائی صدر سے حلف لیا۔ علامہ سبطین حیدر سبزواری کو نئے صوبائی صدر منتخب ہونے پر جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر وفا عباس نے مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 5 خرداد 1394 07:18 ب.ظ

اسلامی تحریک ایک نظریئے کا نام ہے اورتحریک نے نظریئے کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں،علامہ ڈاکٹر شبیر حسین میثمی

سه شنبه 5 خرداد 1394 07:15 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
11334027_483900435093732_1049223627504466436_o

 

اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی رہنما اورچئیرمین منشور کمیٹی و ممبر مرکزی سیاسی سیل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی زیر صدارت اسلامی تحریک پاکستان گلگت حلقہ 1 اور حلقہ نمبر2  کے سینئرز ، کارکنان کا ایک اہم اجلاس صوبائی آفس گلگت میں منعقد ہوا جس میں حلقہ 1 اور 2 کی صورتحال پر غورو خوص کیا گیا اور کمپین کو مزید تیز کرنے کے حوالے سے اقدامات کرنے پرزور دیا گیا ۔

اس موقع پر اراکین نے اپنی اپنی تجاویز سے ممبر مرکزی سیاسی سیل اسلامی تحریک پاکستان علامہ شبیر حسن میثمی کو آگاہ کیا ۔ علامہ ڈاکٹر شبیر حسین میثمی نے اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے مرکزی دفتر میں خطاب کرتے ہوئے امیدواروں اور پارٹی ورکرز سے کہا ہے کہ الیکشن کی بھرپور تیاری جاری رکھیں، اسلامی تحریک پاکستان صوبہ سندھ  کے صدرعلامہ ناظر عباس تقوی دیگر علماء سمیت گلگت پہنچ چکے ہیں اور انشاء اللہ بہت جلد اسلامی تحریک کے سربراہ نمائندہ ولی فقیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تحریک ایک نظریئے کا نام ہے اور تحریک نے نظریئے کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ممبر مرکزی سیاسی اسلامی تحریک پاکستان  نے کہا کہ آج چھ بڑی پارٹیاں اسلامی تحریک پاکستان کی طلب گار ہیں۔ الیکشن میں حرف آخرنہیں قومی مفاد میں کسی کے ساتھ بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا انتخابی اتحاد ہوسکتا ہے-


  اسلامی تحریک پاکستان گلگت حلقہ3  کی کمپن کے دوران علما کرام ہراموش پہنچ گئے۔ اس موقع پر پالیمارنی بورڈ کے سربراہ علامہ شبیر حسن میثمی، اسلامی تحریک پاکستان سندہ کے صدر علامہ ناظر عباس تقوی، علامہ جعفر سبحانی، علامہ اسد اقبال زیدی ،علامہ فیاض وعلامہ شیخ سجاد حسین قاسمی نے عمائدین حراموش سے ملاقات کی اور اسلامی تحریک پاکستان گلگت حلقہ 3 سے انتخابی مہم کا با قاعدہ آغاز کیا-




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 5 خرداد 1394 07:16 ب.ظ

گلگت بلتستان الیکشن 2015

سه شنبه 5 خرداد 1394 07:10 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
گلگت بلتستان 2015 کی انتخابی مہم جہاں اپنے عروج پر ہے وہاں سیاسی جوڑ توڑ کا بھی بازار گرم ہے،گلگت بلتستان عوام سمیت پورا پاکستان 8 جون 2015 کے لئے لحظہ شماری کر رہا ہے ، پاکستان پپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) ،پاکستان تحریک انصاف ،اسلامی تحریک پاکستان ، مجلس وحدت المسلمین ،جمیعت علماء اسلام (ف) ، جماعت اسلامی، آل پاکستان مسلم لیگ (جنرل پرویز مشرف)، پیپلزپارٹی (شیرپاو) اورمتحدہ دینی محاذ(سپاہ صحابہ +سمیع الحق) سمیت دیگر آزاد امیدوار الیکشن میدان میں سرگرم ہیں،اب دیکھنا یہ ہے کہ وہاں کے مقامی لوگ اپنی سیاسی تقدیر کی باگ ڈور کس کے سپرد کرتے ہیں۔

دیکھا جائے تو گلگت بلستان کی عوام خاندانی مراسمات، رشتہ داری تعلقات ، پارٹی میلانات سمیت اپنے مسلک و مذہب کو بھی خاص اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ مذہبی تدین اور سیاسی سابقہ کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے اسی وجہ سے نوربخشی،اسماعیلی،اہل سنت اور شیعہ حضرات کی سب سے پہلی ترجیح اپنا مسلک ومذہب ہوا کرتی ہے پھر پارٹی میلانات اور مذہبی تدین ، شرافت اور سابقہ سیاست کو بھی سامنے رکھ کر اپنی راے دہی کا استعمال کرتے ہیں لیکن اکثرحلقوں میں ایک ہی مسلک کے متعدد امیدوار ہونے کی وجہ سے ان کے ووٹ تقسیم ہو جاتے ہیں اس طرح اس مسلک کی جیت کے امکانات بڑھ جاتے جس کے امیدوار کم ہوں ۔

گلگت بلستان بالخصوص بلستان کے شیعہ ووٹس کا رخ موڑنے میں دو شیعہ شخصیات علامہ شیخ محسن علی نجفی اور علامہ شیخ حسن جعفری اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، شیخ محسن علی نجفی کا شمار اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے نہایت قریبی دوستوں میں ہوتا ہے، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر چند سالوں سے گلگت بلتستان انتخابات میں کھل کر حمایت کرنے سے گریزاں ہیں، اسی طرح علامہ شیخ حسن جعفری بھی اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ ساجد علی نقوی کا بحیثیت نمائندہ ولی فقیہ و قائد ملت جعفریہ دل و جان سے بے پناہ احترام کرتے ہیں جس کی واضح مثال قائد ملت جعفریہ کا گذشتہ دورہ بلتستان ہے جس میں شیخ جعفری نے میزبان کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف ایئرپورٹ سے ایئر پورٹ تک پورے دورے میں ہمسفر رہے بلکہ نماز جمعہ کے خطبہ میں عوام سے بھی بھرپور استقبال اور میزبانی کی ان الفاظ سے تاکید کی کہ نمائندہ ولی فقیہ ہمارے مہمان بن کر آ رہے جن کی میزبانی اور استقبال ہر شخص پر واجب ہے اور اسی طرح ماضی قریب تک تحریک جعفریہ کے رہنما سمجھے جاتے رہے ہیں ،لیکن بعض مقامی اجتماعی مجبوریوں کے تحت انتخابات کے حوالے سے کسی بھی سیاسی ،مذہبی شخص کی کھل کرحمایت یا مخالفت نہیں کرتے تاہم ان کے قریبی افراد منجملہ ان کے داماد اور مذہبی امور میں ان کے معاون و مددگار علامہ شیخ محمد رضا بھشتی شیعہ علماء کونسل کے سرگرم کارکن اور سکردو کے ضلعی صدر ہیں، اس طرح کہا جا سکتا ہے شیخ حسن جعفری کی دلی ہمدردی اور خاموش حمایت اسلامی تحریک کے ساتھ ہے تاہم وہ بلتستان کی شیعہ سیاسی شخصیات میں سے کسی خاص شخصیت کی حمایت سے اجتناب کر رہے ہیں ۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 5 خرداد 1394 07:14 ب.ظ