تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب تیر 1394
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا ہمہ جہت نظام حکومت علامہ سید ساجد علی نقوی قائد ملت جعفریہ پاکستان

چهارشنبه 31 تیر 1394 07:08 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا ہمہ جہت نظام حکومت ،
news_44256
جب ہم امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی شہادت کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو امیر المومنینؑ کی ذات اور جسم سے دشمنی نہیں تھی بلکہ ان کی فکر اور اصلاحات سے عدوات تھی جو کہ علی ابن ابی طالبؑ نے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی میدانوں میں کی تھیں۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ امیر المومنینؑ کی شہادت ایک شخص یا فرد کی نہیں ایک سوچ‘ فکر اور نظریے کی شہادت ہے۔

پیغمبر گرامی قدرؐ نے اپنی رسالت اور اسلام کے پیغام کی ترویج کے لئے جہاں بہت سے افراد کو تیار کیا اور ان کی تربیت کی وہاں اسلام کی نشرواشاعت ، اسلام کے تحفظ اور اسلام کے نفاذ کے لئے امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کو خصوصی طور پر تیار کیا اور اعلی نہج پران کی تربیت کی۔ بچپن سے لے کر زندگی کے تمام مراحل تک حضرت امیر ؑ خلوت وجلوت میں پیغمبر خداؐ کیساتھ رہے اس قرابت کا ذکر احادیث پیغمبر ؐ اور اقوال علی ؑ میں واضح انداز میں ملتا ہے کہ امیرا لمومنین ؑ نے زندگی کے تمام مراحل رسول خدا ؐ کی نگرانی و سرپرستی میں طے کئے۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : چهارشنبه 31 تیر 1394 07:11 ب.ظ

چوکیدار شہید طالب حسین کی جرات و بہادری پرزبر دست خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان

دوشنبه 29 تیر 1394 11:13 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_3316
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ کو ئٹہ میں بروری روڈ سرداربہادر خان وویمن یونیورسٹی کے سامنے سے ہزارہ ٹاون میں داخل ہونے والے داخلی راستے پر موجود جرات مند بہادر چوکیدار طالب حسین نے خواتین کے لباس میں ملبوس برقعہ پوش خود کش حملہ آور کو ہزارہ ٹاون میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی اور اسے دبوچاتو حملہ آور نے خود کو دھماکہ سے اڑالیا ۔جس کے نتیجہ میں بہادر چوکیدار طالب حسین نے جام شہادت نوش کرتے ہوئے اپنی قیمتی جان کا نذرانہ دے کرخود کش حملہ آور کو ہزارہ ٹاون میں جانے سے روک کر سینکڑوں قیمتی جانوں کو بچایا۔ جس پر پوری قوم اس نڈر و بہادر سپوت اورشجاعت کا پیکر فرض شناس چوکیدار شہید طالب حسین کی اس جرات و بہادری پرزبر دست خراج عقیدت پیش کرتی ہے ۔

علامہ سیدساجد علی نقوی نے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہو ئے کہا کہ عوام عد تحفظ کا شکا رہے ۔پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ،آئے روز کے دہشت گردی کے واقعات کا رونما ہونا حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں؟کوئٹہ میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات فرقہ وارنہ نہیں ۔لیکن ملک میں امن امان کی صورتحال انتہائی افسوس ناک ہے اس لئے کہ دہشت گرد جب اور جہاں چاہتے ہیں بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیل دیتے ہیں۔ دہشتگردی کے مسئلے کا واحد حل ایسے ٹھوس نوعیت کے اقدامات سے ہی ممکن ہے جس سے ملک میں قانون کی حکمرانی ہو اور قانون کی روشنی میں ایسا آپریشن ہو جس سے خود کش حملہ آوروں اور ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کا قلع قمع ہو سکے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کوئٹہ میں بروری روڈ پر ہونے والے واقعہ میں بہادر ،فرض شناس چوکیدار شہید طالب حسین کی بلندی درجات اور لواحقین و پسماندگان کو تعزیت و تسلیت و صبر جمیل عطا فرمانے کے لئے دعا فرمائی.



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 29 تیر 1394 11:16 ق.ظ

اتحاد بین المسلمین اسلامی دنیا کے لئے نسخۂ کیمیا ہے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

دوشنبه 29 تیر 1394 11:09 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ہفتے کے دن نماز عید فطر کے خطبوں میں خطے کے بحران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ رمضان المبارک کے دوران اور اس سے پہلے علاقائی حالات کی وجہ سے ناخوشگوار واقعات پیش آئے اور دشمنوں کے کالے کرتوتوں کی بنا پر مسلمانوں اور مومنین کو کٹھن دن گزارنا پڑے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ایٹمی مذاکرات کے بارے میں ایرانی ایٹمی مذاکرات کاروں کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ ایٹمی معاہدے کا مجوزہ متن چاہے منظور کیا جائے یا نہ کیا جائے دونوں صورتوں میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران کبھی بھی دشمن کی توسیع پسندی کو قبول نہیں کرے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ کسی کو بھی اسلامی نظام کے بنیادی اصولوں میں خلل اور رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دفاعی صلاحیتوں اور ملک کی سیکورٹی حدود کا تحفظ کیا جائے گا ہر چند دشنوں نے اس سلسلے میں بہت سی سازشیں تیار کر رکھی ہیں۔

آپ نے مزید فرمایا کہ ایٹمی معاہدے کا متن چاہے منظور کیا جائے یا نہ کیا جائے ایران خطے میں اپنے دوستوں کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو گا اور ہم ہمیشہ فلسطین، بحرین ، عراق، شام اور لبنان کی اقوام کی حمایت کرتے رہیں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ ایٹمی مذاکرات کے مجوزہ متن کی تدوین کی وجہ سے امریکا کی سامراجی حکومت سے متعلق ایران کی پالیسی تبدیل نہیں ہو گی اور جیسا کہ بارہا کہا گیا ہے ایران بین الاقوامی مسائل کے سلسلے میں امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا اور ایٹمی معاملے کے بارے میں اس نے مصلحت کی بنیاد پر مذاکرات انجام دیئے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے خطے سے متعلق ایران اور امریکا کی پالیسیوں کے درمیان پائے جانے والے بہت سے اختلافات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکا لبنان کی استقامت کو دہشت گردی قرار دیتا ہے لیکن بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کی حمایت کرتا ہے اور ایسی پالیسی کے ہوتے ہوئے کس طرح مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے حالیہ ایٹمی مذاکرات کے بعد امریکی حکام کی رجز خوانی کے بارے میں فرمایا کہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ امریکی حکام اپنی قوم کو سچ نہیں بتا رہے ہیں۔ اگر وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے تو وہ اپنی یہ آرزو خواب میں ہی پوری ہوتی دیکھ سکتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لے کر اب تک پانچ امریکی صدر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی آرزو اپنے دل میں لئے مر گئے- رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ دنیا کی چھ بڑی اقتصادی طاقتوں نے بارہ برس تک اسلامی جمہوریہ ایران کو ایٹمی صنعت سے محروم رکھنے کی پوری کوشش کی لیکن آج یہی طاقتیں ایران کی کئی ہزار سینٹری فیوج مشینوں اور ایران کی ایٹمی ترقی کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایرانی قوم ایک طاقتور قوم بن چکی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایرانی فوج کو تباہ کر دینے پر مبنی امریکی صدر کے حالیہ بیانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران کوئی بھی جنگ شروع نہیں کرے گا لیکن اگر امریکی حکام ٹھیک طرح سے سمجھنا چاہتے اور اپنے تجربات سے صحیح فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ان کو جان لینا چاہئے کہ ظالم امریکا کو ہی جنگ میں ذلت آمیز شکست اٹھانی پڑے گی۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 29 تیر 1394 11:17 ق.ظ

صدر مملکت اور ایٹمی مذاکرات کار وفد کی کوششوں کی قدردانی / گروپ پانچ جمع ایک میں شامل بعض ممالک ناقابل اعتماد ہیں

یکشنبه 28 تیر 1394 12:40 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

 رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایٹمی مذاکرات سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے خط کے جواب میں صدر مملکت کی زحمات کا شکریہ ادا کیا اور ایٹمی مذاکرات کار وفد کی کوششوں کی قدردانی کی نیز ان مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کو اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی و پیشرفت میں اہم قدم قرار دیا ۔


رہبر انقلاب اسلامی نے ایٹمی مذاکرات میں گروپ پانچ جمع ایک میں شامل بعض ملکوں کی حکومتوں کے ناقابل اعتماد ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : سمجھوتے کے تیار شدہ متن کا مکمل گہرائی کے ساتھ قانونی طریقوں سے جائزہ لئے جانے کی ضرورت ہے اور پھر اس کی منظوری کی صورت میں مقابل فریق کی جانب سے ممکنہ خلاف ورزی پر توجہ رکھے جانے اور اس خلاف ورزی کا راستہ بند کئے جانے کی بھی ضرورت ہے ۔


واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے رہبر انقلاب اسلامی کے نام اپنے خط میں تحریر کیا تھا کہ ایران کی عظیم قوم کی استقامت اور رہبر انقلاب اسلامی کی ہدایت و رہنمائی کی بدولت گذشتہ کئی مہینوں سے جاری کوششیں رنگ لے آئیں اور ایران اپنے ایٹمی حقوق کو مستحکم کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوگیا اور ساتھ ہی ترقی و پیشرفت کی راہ میں ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے اور معاشی استقامت کی تمام پالیسیوں پر عملدر آمد کے لئے حالات سازگار ہو گئے ۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 28 تیر 1394 12:42 ب.ظ

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی مدظلہ العالی کا پیغام عید الفطر 1436 ھ

یکشنبه 28 تیر 1394 12:36 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_3132
اگرچہ اسلامی معاشروں میں عید کا رائج فلسفہ یہی ہے کہ رمضان المبارک کے متبرک ایام اور روزوں کے اختتام پر اعمال کی قبولیت اور تزکیہ نفس میں کامیابی پر عید کا دن منایا جاتا ہے اور خوشی کا اظہار عید نماز کی ادائیگی اور دیگر مختلف انداز سے کیا جاتا ہے۔ عید کے موقع پر خداتعالی کی عبودیت اور اس کی نعمات کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ خدا کی اطاعت اور عبادات کے بعد سرخروئی کا اظہار کیا جاتا ہے اور ایسے امور سے مکمل پرہیز کیا جاتا ہے جنہیں شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔عید کا دن ہمیں اپنے ارد گرد موجود معاشرتی مسائل کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ جس طرح ہم رمضان المبارک میں عبادت اور تزکیہ نفس کے ذریعے اپنی ذاتی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس کوشش کی کامیابی کا اظہار عید کی صورت میں کرتے ہیں اسی طرح اجتماعی اصلاح کی کوششوں اور معاشرے کو تمام مسائل سے نجات دلانے کا عہد بھی عید کے دن کیا جانا چاہیے۔

ہم صحیح معنوں میں تب ہی عید منانے کے حقدار اور سزاوارہوں گے جب ہمارے معاشروں میں معاشرتی جرائم‘ گناہوں‘ برائیوں اور مشکلات کا خاتمہ ہوجائے گا‘ مظلومین‘ محرومین اورپسے ہوئے طبقات کو ان کے حقوق مل جائیں گے اور معاشرے میں عادلانہ نظام‘ اسلامی روایات اور امن و امان قائم ہوجائے گا۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 28 تیر 1394 12:37 ب.ظ

قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی عہدیداران کا اعلان کردیا۔

یکشنبه 28 تیر 1394 12:34 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
11074444_1575686326048306_4126591920299460592_n - Copy

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی عہدیداران کی نامزدگی کا اعلان کردیا ہے۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ترجمان کے مطابق شیعہ علماء کونسل پاکستان کے تین سالہ 2015-18ء کے تنظیمی دورانیہ کے لیے مرکزی عہدیداران کو نامزدکیا ہے۔

جس میں مرکزی سینئر نائب صدر سید وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ ،مرکزی نائب صدر علامہ سید محمد تقی نقوی،مرکزی نائب صدر علامہ محمد باقر نجفی، مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر،مرکزی نائب صدرعلامہ شیخ محمد صادق نجفی،مرکزی اعزازی نائب صدر علامہ سید ارشاد حسین نقوی،مرکزی اعزازی نائب صدر علامہ خورشید انور جوادی،مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی،مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل معظم علی بلوچ ایڈووکیٹ،مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آخونزادہ زاہد علی عسکر ،مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید حسنین مہدی رضو ی ،مسؤل شعبہ تبلیغات پروفیسر خادم حسین لغاری شامل ہیں۔

جبکہ مرکزی سیکرٹری اطلاعات،سیکرٹری مالیات اور دیگرعہدیداروں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔امید ہے کہ مرکزی عہدیداران اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لا کر قومی و ملی خدمات احسن طور پر سرانجام دیں گے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 28 تیر 1394 12:35 ب.ظ

تحفظ حقوق تشیع میں قومی قیادت کا کردار (دوسرا حصه)

چهارشنبه 24 تیر 1394 10:01 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: تحفظ حقوق تشیع میں قومی قیادت کا کردار ،
حکومتی اداروں کی غیر مہذبانہ شرائط

عرصہ دراز سے جہاں سپاہ یزید سے مذاکرات کیلئے دباؤ ڈالے جارہے تھے وہاں اسی کے ساتھ دیگر مطالبات کو بھی منوانے کی کوشش کی جارہی تھی ظاہراً یہ مطالبات سپاہ یزید کررہی تھی مگر اندرونی طور پر یہ مطالبات بعض ادارے اپنے دام میں لئے ہوئے تھے۔

مطالبات :

١۔ اذان میں علی ولی اللہ سے آگے خلیفة بلافصل نہ پڑھا جائے جس سے دوسرے مکاتب فکر کی دل آزاری ہوتی ہے۔

٢۔عزاداری سید الشہداء کو محدود کیا جائے جس سے ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

٣۔ شیعوں کے قتل میں ملوث سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کو عام معافی دی جائے۔

٤۔مُلا کے مرتب کردہ شریعت بل کی حمایت کی جائے۔

٥۔ سپا ہ صحابہ سے مذاکرات

ان تمام مطالبات کو قائد ملت پہلے ہی رد کرچکے تھے اس پرکسی قسم کے سمجھوتے کیلئے تیار نہ تھے اسلئے حکومت نے اپنے ان مفادات کی آڑ میں ایک مبہم قتل کیس میں قائد ملت کو رات و رات گرفتار کرلیا اور اسلامی تحریک پاکستان پر پابندی عائد کردی۔

حکومتی اداروں نے گرفتاری کے بعد اس قتل کیس پر بات کرنے کے بجائے اپنے انہی مطالبات کو دہرانہ شروع کیا اور قائد ملت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے تاکہ وہ کسی نہ کسی ڈیل پر آمادہ ہوجائیں۔

مگر قائد ملت نے ان پر واضح کردیا کہ : میں مسند شہادت پر قدم رکھ سکتا ہوں ، اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرسکتا ہوں مگر مکتب آل محمد علیہماالسلام کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندی کو برداشت نہیں کرسکتا۔

قائد محترم نے اس موقف کے بعد ایک خط علامہ شیخ محسن علی نجفی صاحب قبلہ کے نام عربی میں تحریرکیا جس میں تمام حقائق ، حالات اور مطالبات کو درج کردیااور واضح کردیا کہ کس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے ، علامہ محسن نجفی اس خط کو پڑھ کر رونے لگے اور افسوس کا اظہار کرنے لگے کہ میں اپنی مذہبی و مدارس کی مصروفیات میں مشغول تھا ہمیں معلوم ہی نہ تھا آقائی ساجد نقوی یک و تنہاء خاموش جہاد کررہے تھے ۔

جب یہ تمام حقائق قائد ملت کے خط کے توسط سے عوام میں پہنچے تو حکومتی اداروں پر لرزہ طاری ہوگیا اور ان کے چہروں پر سے نقابیں اترگئیں ، اب جب یہ ادارے اندروں طور پر ناکام ہوگئے تو انہوں نے باہر کام کرنے والے علماء سے رابط کیا اور انہیں سے یہ مطالبات دہرانا شروع کیا اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کی کہ اگر یہ مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو قائد ملت کی گرفتاری طویل بھی ہوسکتی ہے ۔

علمائے امامیہ اداروں کی پالیسی سے آگاہ تھے اسلئے انہوں نے دام میں پھنسے کی بجائے اسی روش کو اختیار کیا جس کی طرف قائد ملت نے اپنے خط میں تذکرہ کیا تھاکہ میری گرفتاری سے زیادہ ملت جعفریہ کے عقائد، نظریات اور عزاداری کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی قانون سازی کو قبول نہ کریں بلکہ اس کی شدید مزاحمت کریں ،بالاخر ادارے گرفتاری کے ذریعے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے اسے حاصل نہ کرسکے پابند سلاسل ہونے کے باوجود قائد ملت نے ان کے ہر مطالبے کو رد کیا اور علماء و قوم نے قائد کی پیر وی میں کسی دباؤ کو خاطر میں لانے کی بجائے مسترد کردیا۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : چهارشنبه 24 تیر 1394 10:08 ق.ظ

تحفظ حقوق تشیع میں قومی قیادت کا کردار (پهلا حصه)

چهارشنبه 24 تیر 1394 10:01 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: تحفظ حقوق تشیع میں قومی قیادت کا کردار ،
عزاداری سید الشہداء

آئمہ معصومین علیہم السلام نے اسلام کی بقاء ، نشرواشاعت اور احیاء کیلئے عزاداری سید الشہداء علیہم السلام کی بنیاد رکھی تاکہ اسلام دشمن قوتوں کی اسلام کے خلاف یلغار کو روکا جاسکے اور ایک ایسا مستقل، منفرد اور محکم نظام قائم کردیا جائے جو ازل تا ابد اسلامی عقائد، نظریات اور معارف کا تحفظ کرسکے اسی لئے عزاداری سید الشہداء ملت تشیع کیلئے جہاں ایک عبادی پہلو کی حیثیت رکھتا ہے وہاں اس کے اجتماعی اور سیاسی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اسی لئے ہر معصوم نے اپنے دور میں عزاداری سید الشہداء کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا ۔اسکے علاوہ آئمہ معصومین علیہم السلام نے نہ صرف اس کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا بلکہ اس سلسلے میں ایسے آثار چھوڑے جس سے عزاداری سید الشہداء کو بہت زیادہ تقویت حاصل ہوتی ہے۔

اسی لئے عزاداری سید الشہداء ایک ایسا سرمایہ ہے جو مظلوم کو طاقتور اور ظالم کو سرنگوں کرتا ہے مظلوم کو باعزت اور ظالم کے چہروں سے نقابیں اتارتا ہے یعنی کہ مظلوم کیلئے کامیابی کی نوید اور ظالم کیلئے ہلاکت ، نابودی اور شکست کا سبب۔

اسی لئے رہبر کبیرانقلاب حضرت امام خمینی قدس سرہ نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کا راز، عزاداری سید الشہداء کو قرار دیا بلکہ واضح کیا کہ اگرعزاداری سید الشہداء کا عنصر شامل حال نہ ہوتا تو انقلاب اسلامی کا برپا ہونا محال تھا اسی لئے اسلامی انقلاب کی بنیادوں میں عزاداری سیدالشہداء کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور جب عزاداری سید الشہداء برپا ہوتی رہے گی انقلاب اسلامی کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکے گا۔

اسی لئے دنیاکے مختلف خطوں کی طرح مملکت خداداد پاکستان میں بھی استعماری قوتوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے عزاداری سید الشہداء کے اثرات کو کم کرنے اور آئمہ اطہار علیہم السلام کے نظریات ، افکار او ر معارف سے عوام کو روشناس ہونے سے روکنے کیلئے عزاداری پر مختلف عنوانات ، حوالوں اور مناسبتوں سے پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تھی امن و امان ، کبھی فرقہ واریت کے ظاہری روک تھام اور کبھی دہشت گردی کا بہانہ بناکر اس پر قدغن لگانے کی کوشش کی جاتی رہی۔

جب کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عزاداری سید الشہداء کے انعقاد سے نہ امن و امان میں خلل ہوتا ہے نہ فرقہ واریت جنم لیتی ہے اور نہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے بلکہ مراسم عزاداری میں دیگر مکاتب فکر و مسالک کے افراد بھی شرکت کرتے ہیں ۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : چهارشنبه 24 تیر 1394 10:09 ق.ظ

ایران کے ایٹمی مذاکرات کامیاب

چهارشنبه 24 تیر 1394 09:53 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ایران ،

  ویانا میں اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ 1+5  کے درمیان ایٹمی مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔

ویانا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے آج ۱۴ جولائی ۲۰۱۵ بروز منگل کو ایٹمی مذاکرات پر اتفاق کے بعد ایک شترکہ بیانیہ جاری کیا ہے جس میں اس معاہدے کے اتفاق پر تصریح کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سمجھوتے میں ایران کی تمام ریڈ لائنوں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران کو اقوامِ متحدہ کے نگرانوں کی درخواست چیلنج کرنے کا حق حاصل ہوگا اور اس صورت میں فیصلہ ایران اور 6 عالمی طاقتوں کا ثالثی بورڈ کرے گا۔

ایران کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری سخت محنت کام آگئی اور ایران کا عالمی طاقتوں سے ایٹمی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور عالمی طاقتوں کے وزرائے خارجہ آج ہی ایک مرتبہ پھر ملاقات کریں گے جس کے بعد پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں معاہدے کا باقاعدہ اعلان ایران کے وریز خارجہ جواد ظریف اور یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ فیڈریکا موگرینی مشترکہ بیان پڑھ کر سنائیں گے۔ گروپ 1+5 میں امریکہ،  روس،چین،برطانیہ،فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔ ایران اور گروپ 1+5 کے وزراء خارجہ کا اجلاس شروع ہوگیا ہے اور 700 خبرنگار اس معاہدے کو نشر کرنے کے لئے آمادہ ہیں ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : چهارشنبه 24 تیر 1394 09:56 ق.ظ

ملی پلیٹ فارم کا سیاسی عمل

سه شنبه 23 تیر 1394 11:38 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ملی پلیٹ فارم کا سیاسی عمل ،
لامہ مفتی جعفر حسین کے دور میں سیاسی عمل کا آغاز۔

مکتب تشیع کے قومی و ملی پلیٹ فارم تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی تشکیل و تاسیس کو اگر مذہبی کے ساتھ سیاسی بھی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ جن معاملات کی وجہ سے ملی پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی گئی ان میں اکثریت کا تعلق سیاسی اور حکومتی اقدامات یا فیصلہ جات کے ساتھ بالواسطہ یا بلا واسطہ ضرور ہے۔ البتہ اگر تحریک کے باقاعدہ سیاسی سفر کا جائزہ لیا جائے تو یہ ۱۹۸۳ء میں اُس وقت شروع ہوا جب قائد مرحوم مرد مجاہد علامہ مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ نے ایک اپنے وقت میں موجود تنظیمی و قومی اداروں اور معاونین کی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ اُس دورِ آمریت کے خلاف چلنے والی ’’تحریک بحالی جمہوریت ‘‘ایم آر ڈی کی حمایت کی جائے گی۔ اس فیصلہ کا اعلان جناب مفتی صاحب نے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس میں فرمایا ۔ یہ فقط پریس کانفرنس نہ تھی بلکہ قومی و سیاسی معاملات میں پہلا پالیسی بیان تھا۔مفتی صاحب کے دور میں اسی سیاسی پالیسی کے تحت سیاسی میدان میں تشیع کا وجود ظاہر رہا اور ایم آر ڈی کے توسط سے پاکستان کی سیاسی و دینی جماعتوں میں تحریک کی شناخت ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے بھی ہوئی۔

علامہ سید عارف حسین الحسینی کے دور میں سیاسی پیش رفت۔

اسی تسلسل میں قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی نے اپنے دورکے حالات و واقعات اور تشیع کو سیاسی میدان میں مزید متعارف اور مستحکم کرنے کے لیے ۱۹۸۶ء میں قرآن و سنت کانفرنس لاہور میں انتخابی سیاست میں آنے کا اعلان کیا اور تمام سیاسی معاملات کو منظم کرنے ‘سیاسی جماعتوں سے مسلسل رابطے کرنے ‘ قوم اور جماعت کو اپنی سیاسی حیثیت و ذمہ داری سے آگاہ کرنے اورسیاسی کام کو باقاعدہ آگے بڑھانے کے لیے مرکزی سیاسی سیل تشکیل دیا گیا جس کی سربراہی شہید قائد کی سیاسی بالغ نظری نے موجودہ قائد اور شہید کے مرکزی سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی کے سپرد کی جنہوں نے ۱۹۸۶ء سے لے کر شہید کی شہادت تک اپنی ذمہ داری کو بخوبی انجام دیا اور ۱۹۸۸ء میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو ملک کی ایسی جماعت بنادیا گیا جس سے اتحاد کرنے کے لیے اس وقت کی بڑی سیاسی و دینی قوتیں آمادہ ہوئیں۔اس عرصہ میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے ایم آر ڈی کے اجلاسوں کے علاوہ ملک میں ہونے والے تمام بڑے سیاسی اجتماعات اور کانفرنسوں میں تشیع اور قومی پلیٹ فارم کی نمائندگی کی۔جس سے مستقبل میں تحریک کے سیاسی وزن اور حیثیت میں بے حد اضافہ ہوا اور تحریک کا مقام ملک کی سیاسی قوتوں کے درمیان نمایاں انداز سے سامنے آیا۔

علامہ سید ساجد علی نقوی کے دور میں سیاسی کامیابیاں۔

۱۹۸۸ء کے انتخابات۔
شہید قائد کی شہادت کے بعد شہید کی دی ہوئی لائن اور قومی و تنظیمی اداروں کی پالیسی و فیصلہ جات کے مطابق موجودہ قائد ملت جعفریہ اور ملکی و عالمی سیاسی منظر نامے پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت علامہ سید ساجد علی نقوی نے سیاسی سفر جاری رکھا۔ جب ملک میں جمہوریت کی بحالی اور جماعتی انتخابات کا اعلان کیا گیا تحریک کی سیاسی فعالیت کو دیکھ کر پاکستان مسلم لیگ (سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے سربراہی میں) ‘ جمعیت علمائے پاکستان (علامہ شاہ احمد نورانی کی سربراہی میں) نے تحریک سے سیاسی و انتخابی اتحادکیا اور تحریک نے انتخابات میں عملی طورپر حصہ لینے کا اعلان کیا۔ بد قسمتی سے بالکل آخری مراحل میں یہ اتحاد مشکلات کا شکار ہوگیا بعض جماعتوں کی سیاسی پوزیشن کمزور پڑ گئی اور اتحاد مزید آگے نہ بڑھ سکا۔ ایسے مرحلے پر جب اتحاد ختم ہوا تو وقت کی کمی کے باعث مجبوراً اپنے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینا پڑا۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 23 تیر 1394 11:39 ق.ظ

استحکام پاکستان میں شیعوں کی قربانیاں

سه شنبه 23 تیر 1394 11:36 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: استحکام پاکستان میں شیعوں کی قربانیاں ،
بلاشبہ 23 مارچ 1940کومینارپاکستان پرمنعقدہونے والاعظیم الشان جلسہ قیام پاکستان کی تحریک میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔اوریوں برصغیرکے مسلمانوں کوعلیحدہ مملکت کے حصول کی جدوجہدکرنے کاموثرپلیٹ فارم فراہم ہوا اورتحریک پاکستان کی لہرمیں ایک نئی تازگی پیداہوئی،بالآخرمسلم لیگ کے اکابرین اورعوام الناس کی مسلسل کوششوں اورقربانیوں کی بدولت اگست ۱۹۴۷کووطن عزیز پاکستان کاقیام عمل میں آگیا۔یہ دنیاکے نقشہ پرقائم ہونے والی پہلی اسلامی ریاست تھی جوکہ خالصتاًاسلام کے نام اورنظرے پرمعرض وجودمیں آئی۔لیکن افسوس سے کہناپڑتاہے کہ تشیع کے حوالے سے جن نامورشخصیات نے اس مملکت کے قیام میں گراں قدرخدمات سر انجام دی تھیں آج ان کی نسلوں کے لیے پاکستان کی سرزمین تنگ کردی گئی ہے۔ وطن عزیزپاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی بنیادپرشیعان حیدرکرارسے زندہ رہنے کاحق چھین لیاگیا ہے۔ جن شیعہ شخصیات نے تمام ترمذہبی تعصبات سے بالاترہوکر قیام پاکستان کی جدوجہدمیں موثراورجاندار کرداراداکیاتھاآج انہی کے بچوں کو شیعہ ہونے کے جرم میں زبردستی موت کی وادی میں دھکیلاجارہاہے۔ تاریخی حقائق سےثابت ہے کہ قیام پاکستان کی تحریک میں سب سے زیادہ اہم کرداراہل تشیع کاتھااوراکابرین اہل تشیع سے لے کرایک عام سے کارکن تک کسی نے بھی قیام پاکستان کی مخالفت نہیں کی۔ تاریخ کے ان سنہرے اوراق سے چند اقتباسات پیش کیے جاتےہیں۔

جسٹس سید امیرعلی
۱۸۸۴میں جسٹس سیدامیر علی کی کوششوں سے کراچی میں بھی ایک مدرسہ قائم کیا گیا جوعلی گڑھ کی طرزپرتھا اوراس کا نام ’’سندھ مدرسۃ الاسلام‘‘ رکھا گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح بھی اسی مدرسہ کے طالب علم رہے ہیں۔اسی طرح کاایک مدرسہ بنگال میں ہگلی کے مقام پر قائم ہوا۔ جس کا ایک حصہ امام باڑہ کے لئے مختص تھا۔


سرسیداحمد خان
مسلمانوں کی انتہائی کسمپرسی، ابتری اور زوال و انتشارکی حالت سے متاثر ہوکر سرسید احمد خان نے 1890 میں ’’کمیٹی خواستگارانِ ترقی تعلیم مسلمانانِ‘‘ قائم کی۔ اس کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے ایک کالج کھولا جائے۔ یہی وہ فیصلہ تھا کہ جس نے مسلمانانِ ہند کے سوچنے کے انداز بدل ڈالے۔ چنانچہ ’’محمڈن کالج فنڈ کمیٹی‘‘ قائم کی گئی۔ اس فنڈ میں سرمایہ کی فراہمی اورپھر یونیورسٹی کے قیام عمل میں جن شیعیانِ علیٴ نے نمایاں خدمات انجام دیں، ان میں سالارِ جنگ حیدرآباد خلیفہ محمد حسن، وزیرِ اعظم پیٹالہ نواب صاحب رام پور،سرفتح علی قزلباش، مہاراجہ سر محمد علی خان محمود آباد، مولوی سید حسین علی بلگرامی، بہادر حسین بخش، میر تراب علی آگرہ اورجسٹس سید امیرعلی شامل تھے۔



ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 23 تیر 1394 11:40 ق.ظ

علامہ محمد حسن ترابی

سه شنبه 23 تیر 1394 11:07 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: علامہ محمد حسن ترابی ،
1004463_346347215497379_2028818960_n
کسی شہر میں جب کوئی بڑا آدمی اس دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو شہر کے اکثر پڑھے لکھے احباب کہتے ہیں کہ مرحوم اپنی ذات میں خود ایک انجمن تھا ، مگر ایک شخصیت اس پاکستان میں ایسی بھی گزری ہے کہ جو بظاہر تو ایک خاص الخاص کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی ، مگر ملک کے کونے کونے میں اس کی گونج تھی ، وہ تھا ہی ایسا متحرک و بےباک کہ رہتا تو و ملک کے ایک کونے میں تھا مگر اس نے کمندیں ملک کے آخری کونہ تک ڈالی ہوئی تھیں، اپنی ذات میں انجمن ہونا جیسے الفاظ و جملے تو حسن ترابی شہید کے ہاتھ کی صرف انگشت شہادت تک ہی رہ جاتے ہیں اس سے آگے ان کے ان کی قوت پرواز ختم ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اپنی ذات میں پوری ایک کمیونٹی کو سموے ہوے تھا ، جی ہاں وہ جہاں جاتا ، پوری قوم اس کے ساتھ چلتی وہ جہاں ہوتا ، پوری قوم اس کے ساتھ موجود ہوتی وہ جہاں بیٹھتا ، پوری قوم وہاں ٹانگیں پسار کر بیھٹ جاتی وہ جہاں بولتا ، پوری قوم کی آواز ہوتا وہ سندھ میں ہر شہید کے لاشہ پر اس کے عزیزوں سے پہلے موجود ہوتا تھا وہ اتنا متحرک تھا کہ کوئی بھی قومی ذمداری اس سے ہٹ کر گزر ہی نہیں پاتی تھی ، وہ شہر کراچی کا جنرل سیکریٹری تھا ، جب پورے صوبہ کا سیکریٹری تھا تب پورے صوبہ سندھ کا صدر تھا تب ، متحدہ مجلس عمل کا عہدہدار تھا جب وہ ہر عہدہ و ذمداری کو چار چاند لگا دیتا تھا ، ذمداریاں اس کے تعاقب میں رہتی تھیں ،وہ ان سے آگے آگے چلتا تھا ، وہ امام علی کا سچا پیروکار و اسلام محمدی کا حقیقی فرزند تھا.

آج کوئی لکھاری و مؤرخ اس کے متحرک ہونے کی منظر کشی نہیں کرسکتا آج کوئی عام ذھن یا قلم اس کی فعالیت کا اندازہ نہیں کرسکتا ہے آج واقعا حسن ترابی شہید پر لکھنے والا ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے سکتا ہے آج ملت کے قاید و نمائندہ ولی امر المسلمین کے علاوہ بلا مبالغہ پورے ملک میں حسن ترابی جیسا متحرک و جانباز ملت کا محافظ ڈھونڈے سے نہیں ملے گا آج شہادتوں کا سفر اتنا تیز تر ہوچکا ہے کہ حسن ترابی جیسے شہید سالار کی یاد راہ حق کے ہر مسافر کو بے چین کیے دے رہی ہے کراچی کی ایک بستی ( نیو کراچی ) کی مسجد سکینہ سے1982 میں اٹھنے والی ملی سیاست و مصائب کی لہر آج پاکستان میں شعیہ شہادتوں کے ساتوں سمندروں کا سب سے قدیم پانی بن چکی ہے مسجد سکینہ کا واقیہ ، پھر بنر روڈ کا تین روزہ دھرنا ، مرکزی امام بارگاہ لیاقت آباد کا سانحہ و ، لیاقت آباد میں شعیوں کے گھروں کا جلایا جانا اور وہاں سے شعیہ آبادی کی ہجرت اور پھر کراچی ہی میں ایک جلوس عاشورہ کا امام بارگاہ علی رضا پر دن بھر رکا رہنا ، یہ سب واقیات حسن ترابی جیسے لیڈر کی متحرک زندگی کا نقطہء آغاز تھے ، مگر آج شہید حسن ترابی کی 10 برسی کے موقع پر راقم الحروف یہ سوچ رہا ہے کہ وہ حسن ترابی شہید کی کس کس فعالیت کا ذکر کرے

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 23 تیر 1394 11:09 ق.ظ

با فرمان امام خمینی قائد ملت جعفریہ کی اپیل پر کراچی میں عظیم و شان القدس ریلی

دوشنبه 22 تیر 1394 12:20 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
کراچی :ملک بھر کی طرح مرکزی القدس ریلی کراچی میں ریگل چوک سے پریس کلب تک نکالی گی ریلی میں شیعہ علما کونسل کے مرکزی رہنماں علامہ شیخ شبیر حسن میثمی سندھ کے صدر علامہ ناظر عبّاس تقوی کراچی کے صدر علامہ کرم الدین وایزی جماعت اسلامی کے رہنمان جناب اسد الله بھٹھو جمیت علما اسلام کے جناب قاضی احمد نورانی سمیت بری تعداد میں علما ور عوام نے شرکت کی.

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پرمرکزی یوم القد س کمیٹی کی جانب سے ملک کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں اورقصبوں میں جمعتہ المبارک کے موقع پر القدس ریلیاں ،اجتماعات اور سیمنار منعقد کئے گئے۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 22 تیر 1394 12:23 ب.ظ

با فرمان امام خمینی قائد ملت جعفریہ کی اپیل پر گلگت دنیور میں عظیم و شان القدس ریلی

دوشنبه 22 تیر 1394 12:18 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
11742829_463896330402105_2503880687821588243_n

جعفریہ پریس گلگت ملک بھر کی طرح مرکزی القدس ریلی دنیور مسجد سے چوک تک نکالی گی ریلی میں شیعہ علما کونسل کے رہنماں علامہ شیخ مرزا الی نگری علامہ شیخ جعفر سبحانی سمیت بڑی تعداد میں علما ور عوام نے شرکت کی .

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پرمرکزی یوم القد س کمیٹی کی جانب سے ملک کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں اورقصبوں میں جمعتہ المبارک کے موقع پر القدس ریلیاں ،اجتماعات اور سیمنار منعقد کئے گئے۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یوم القدس کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ او آئی سی ، اسلامی ممالک اور عالمی طاقتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی اجتماعی قوت اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کو روکیں ۔ قبلہ اول اُمت مسلمہ کی مشترکہ میراث ہے، جو نصف صدی سے زائدعرصہ سے صہیونی طاقتوں کے زیر تسلط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس پر غاصبانہ قبضے کے ساتھ ساتھ مظلوم فلسطینی عوام پر اسرائیل کے وحشیانہ مظالم انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہیں ۔

علاہ ازیں ہمیں یوم القدس کورسمی حد تک منانے کیلئے محدود نہیں کرنا چاہیئے بلکہ مسلسل عوامی پرامن جدوجہد کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کر کے اس مسئلے کو زندہ رکھیں تاکہ اسرائیلی جارحیت کا راستہ روکا جاسکے ۔امت مسلمہ کے ممالک اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ہر حوالے سے فلسطینیوں کی امداد کریں اور جو ممالک امداد کررہے ہیں ہم انہیں سراہتے ہیں۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 22 تیر 1394 12:20 ب.ظ

حافظ حفیظ الرحمن کو وزیر اعلی کس نے بنایا۔۔۔؟؟؟رضا احسن 03338793020جواب Whatsapp

شنبه 20 تیر 1394 11:06 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: پاکستان ،
images (1)
حافظ حفیظ الرحمن کو وزیر اعلی کس نے بنایا۔۔۔؟؟؟
رضا احسن 03338793020 Whatsapp کے نام سے درج بالا عنوان کے تحت ایک تحریر نیٹ پر ڈالی گئی جو اگرچہ سنی سنائی‘ رٹی رٹائی‘ کمزور اور کچی باتوں پر مشتمل ہے لیکن عوام کے ذہنوں کو کثافت سے پاک رکھنے کے لئے کئی باتوں کے بارے میں وضاحت ضروری ہے۔

(1) لکھتے ہیں: ۔ الیکشن کے نتائج فطری تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں جیسے کہ ایک رائے یہ پائی جاتی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جس پارٹی کی وفاق میں حکومت ہو اس خطے میں بھی وہی حکومت ہو۔
وضاحت: ۔ اس اعتراف کے ساتھ اپنے سوال کا جواب خود دے دیا اور واضح کردیا کہ فلاں کو وزیر اعلی کس نے بنایا؟

(2) لکھتے ہیں: ۔ وزیر اعلی کی شیعہ دشمنی تب ثابت ہوگئی جب انہوں نے اسلامی تحریک کو اپنی حکومت کا حصہ بنانے سے انکار کردیا۔
وضاحت: ۔ انکار تو تب ہوتا ہے جب خواہش کا اظہار کیا جائے جبکہ اسلامی تحریک پاکستان نے حکومت کا حصہ بننے کی خواہش کا کبھی بھی اظہار نہیں کیا یہ کھلی الزام تراشی ہے۔ مذہب کا حوالہ رکھنے والوں کو جھوٹ سے گریز کرنا چاہیے۔

(3) لکھتے ہیں : ۔ حالیہ الیکشن کے اندر فقط ایم ڈبلیو ایم کی مخالفت میں ن لیگی امیدواروں کو سپورٹ کیوں کیا؟
وضاحت:۔ ن لیگ سے شیعہ امیدوار اور ایم ڈبلیو ایم سے شیعہ امیدوار میں ایک کو ترجیح دینے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ آپ کے پاس؟ کس نے دیا؟

(4) لکھتے ہیں: ۔ اگر اسلامی تحریک پاکستان ن لیگی امیدوار کی بجائے اپنے امیدواروں کو سپورٹ کرتی۔۔۔
وضاحت: ۔ یہ انتہائی بے تکی بات ہے۔ دونوں شیعہ دونوں اپنے ہیں۔

(5) لکھتے ہیں: ۔ کیا اسلامی تحریک پاکستان نے آغا راحت الحسینی کے مائنس ن لیگی فارمولے کو مسترد نہیں کیا؟
وضاحت : موصوف کو فارمولے کا مفہوم بھی معلوم نہیں ایسا کوئی فارمولہ نہیں تھا۔ البتہ ان کے فارمولے کو تسلیم کرکے ہی اسلامی تحریک پاکستان نے اپنے امیدوار دستبردار کرادیئے تھے پھر خرابی کہاں سے آئی؟ فلاں وزیر اعلی کیسے بنا؟ اس کی تحقیق کریں ۔ بے پر کی نہ اڑائیں۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 20 تیر 1394 11:08 ق.ظ



کی تعداد صفحات: 2 1 2