تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب مرداد 1394
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

جھوٹی خبر کی تردید

پنجشنبه 22 مرداد 1394 10:24 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،


دو دن پہلے شیعہ نیوز نامی ویب سائٹ پر ایک نیوز چلائی گئی کہ علامہ راجہ ناصر صاحب نے وزیر داخلہ سے ملاقات کر کے قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب اور علامہ عارف واحدی صاحب کا نام شیڈول فور سے نکلوایا ہے،اس نیوز کی تردید علامہ عارف واحدی صاحب نے اپنی فیس بک آئی۔ڈی اور جعفریہ پریس کے پیج سے تردید کر دی کہ یہ نیوز بلکل جھوٹی ہے۔

اب شیعہ علماء کونسل اور مجلس وحدت کے درمیان ہونے والے معاہدہ کے مطابق کسی کے خلاف منفی بات نہیں کی جائے گی۔
اب شیعہ علماء کونسل کی جانب سے اس خبر کی تردید کے بعد علامہ راجہ ناصر جعفری صاحب کو اپنا فرض ادا کرتے ہوئے سچ پولنا چاہیے،کیونکہ اس میں خبر ان سے منسوب ہے۔

اگر علامہ ناصر صاحب اس خبر کی تردید نہیں کرتے تو پھر یہ بات واضع ہو جائے گی کہ وہ اس طرح کی خبریں خود دیتے ہیں،اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے علامہ صاحب کو اپنے افیشل فیس بک پیج اور مجلس وحدت کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی تردید کریں اور شیعہ نیوز ویب سائٹ سے لاتعلقی کا اعلان کریں ملی مفاد کے لیے۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : پنجشنبه 22 مرداد 1394 10:28 ق.ظ

ناقص اور غلط تفتیش ہی انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان

پنجشنبه 22 مرداد 1394 10:07 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،


قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ علامہ ضیاالدین شہید کیس کے حوالے سے عدالتی فیصلہ اپنی جگہ لیکن خرابی کی اصل جڑ غیر منصفانہ تفتیشی عمل ہے ، جس طرح ایک سازش کے تحت ضیا الدین رضوی کو شہیدکرایاگیا اور بعد ازاں ناقص اور غلط اندا ز میں تفتیشی عمل کرایاگیا اس سے واضح ہوگیا کہ یہی ناقص اور غلط تفتیش ہی انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ فاضل جج نے جن نقائص کی نشاندہی کی ہے ان کو بھی دور کرکے ازسرنو شفاف اور منصفانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہید علامہ ضیا الدین کیس کے طویل عرصہ بعد فیصلہ آنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ عدالتی فیصلہ اپنی جگہ اس پر رائے نہیں دیتے البتہ جس طریقے سے ان کو شہید کرایاگیا اور اس کے بعد نام نہاد تفتیشی عمل کرایاگیا اس کو دیکھتے ہوئے فاضل جج نے بعض نقائص کی نشاندہی کی ہے ان کو بھی مدنظر رکھا جائے اور اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی پیش نظر رہے کہ اس اس کیس کی غلط انداز میں تفتیش ہوئی اور 10سال کے طویل عرصہ بعد اس کیس کا فیصلہ سامنے آیاہے لہٰذا اس واقعے کی دوبارہ غیرجانبدارانہ تفتیش کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ جن ملزمان کو فائدہ پہنچایاگیا یا پہلے گرفتار نہیں کیاگیا اور اگر گرفتار کیاگیا تو جیل میں سہولیات پہنچائی گئیں اور بعد ازاں حالات کا بہانہ بنا کر انہیں جیل سے فرارکرادیاگیا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کے بارے میں بعض باتیں زبان زد عام ہیں انہیں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ،یہ تمام باتیں عوام کیلئے تکلیف دہ ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس لئے ان کا ازالہ کیا جاناضروری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس کیس کے حوالے سے یہ عوامی مطالبہ جائز ہے کہ نقائص کو دور کرکے ازسرنو تحقیقات کی جائیں تاکہ عوام میں بے چینی کا خاتمہ ہوسکے جبکہ اس انتہائی اہمیت کے حامل اور حساس علاقے کی صورتحال کو بہتر بنانے میں بھی مدد مل سکے ۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : پنجشنبه 22 مرداد 1394 10:10 ق.ظ

بیان رئیس الحركة الإسلامیة ومجلس العلماء الشیعة فی باكستان السید ساجد علی النقوی بمناسبة یوم هدم جنة البقیع 8 شوال

پنجشنبه 22 مرداد 1394 09:53 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،


قال سماحة العلامة السید ساجد علی النقوی فی أن وجود جنة البقیع البقعة الشریفة الطاهرة فی المدینة المنوّرة قرب المسجد النبوی الشریف ومرقد الرسول الأعظم(صلى الله علیه وآله)، فیها مراقد الأئمّة الأربعة المعصومین من أهل بیت النبوّة والرسالة (علیهم السلام)، وهم: الإمام الحسن المجتبى، والإمام علی زین العابدین، والإمام محمّد الباقر، والإمام جعفر الصادق (علیهم السلام) .

وهذه الذكرى مؤلمة لقلوب المؤمنین، هی ذكرى هدم قبور أئمة أهل البیت علیهم السلام وعدد من الأصحاب الإجلاء وعمات النبی الأكرم صلى الله علیه واله وسلم وزوجاته وإزالة العشرات من آثار النبوة فی البقیع الغرقد ، وهو یوم جرح مشاعر الملایین من محبی أهل بیت النبوة ومعدن الرسالة،

وطالب سماحة السید بالسعی الدؤوب من خلال عقد الندوات والمؤتمرات الدولیة للمطالبة بإعادة إعمار جنة البقیع على أكمل وجه مما له الأثر فی تعزیز وحدة المسملین ولحفظ التراث الإسلامی .

وان الدین الإسلامی یرتكز على مجموعة مبادئ من أهمها حریة العقیدة والرأی حیث (لا إكراه فی الدین)، كما ان أسس الحضارة فی عالم الیوم قائمة على مبادئ حقوق الإنسان التی تعتبر حریة العقیدة من الحقوق الأساسیة، وهذا یؤید حق المسلمین فی ممارسة الشعائر الدینیة وأن تكون لأئمتهم قبور وأضرحة یسمح لهم بزیارتها وقتما شاءوا، خاصة وإنه قد ورد عن النبی الأكرم صلى الله علیه واله وسلم قوله المعروف: (( زوروهم وسلمّوا علیهم )).


وأشار سماحة السید الى قول الشاعر
تبّاً لأحفاد الیهود بما جَنـوا ** لم یكسـبوا من ذاك إلّا العارا
هتكوا حریـم محمّد فـی آله ** یا ویلهم قد خالفـوا الجبّارا
هَدَموا قبور الصالحین بحقدهم ** بُعداً لهم قد أغضبوا المختارا




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : پنجشنبه 22 مرداد 1394 09:55 ق.ظ

فلسطین وكشمیر فی خندق واحد

پنجشنبه 22 مرداد 1394 09:45 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،


قال العلامة السید ساجد علی نقوی أن كشمیر وفلسطین هما القضایا الساخنة فی العالم الإسلامی ولا یمكن للسلام الدائم فی العالم دون حل القضیتین، وكان مؤسس باكستان محمد علی جناح جعل كشمیر حبل الورید لباكستان وإذا كان ورید البلد فی حوزة بلد آخر فلا یمكن للناس العیش فی راحة واطمئنان .وجاء هذا التصریح بینما كان یتحدث سماحته مع وفد من منطقة كشمیر جاء لزیارته ، وأضاف سماحة السید بأنه منذ عام 1947 لم تجری أی محاولة جادة لحل هاتین القضیتین الرئیسیتین، وإذا تحرك أحد نحو إیجاد الحلول قامت الأیادی الخفیة بزعزعتها و افشالها.

وقال سماحته بأنه مؤسس باكستان محمد علی جناح كان واضحا ولدیه موقف قاطع من قضیة كشمیر عندما قال بأنها حبل الورید لنا ولا یمكن التنازل عنها. وتسلط الهند على كشمیر غیر قانونی حسب قرار الأمم المتحدة وكما یشكل انتهاكا خطیرا لحقوق الأرض والإنسان.

وقال سماحته بأن أرض فلسطین مقدسة لوجود القبلة الأولى للمسلمین ، فتحریرها من الاحتلال الصهیونی الغاصب مسؤولیتنا ، وواجبنا الدینی تحریر هذه البقعة المقدسة لإحلال السلام ، ولكن للأسف الشدید إن من یرفع صوته الآن بالعدالة والحریة وحقوق البشریة إنما یرفعون أصواتهم لحمایة مصالح القوة الاستعماریة ولیس لحقوق البشریة ، وختم سماحة السید قوله: بأننا لن نسكت وسنرفع أصواتنا عالیاً لدعم القضیة الفلسطینیة وقضیة كشمیر ولجمیع المظلومین فی العالم فی السراء والضراء



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : پنجشنبه 22 مرداد 1394 09:48 ق.ظ

تہران، پاکستانی وفد کا ایرانی حکام سے گیس پائپ لائن کی تعمیر پر تبادلہ خیال

دوشنبه 19 مرداد 1394 06:45 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: پاکستان ،
تہران، پاکستانی وفد کا ایرانی حکام سے گیس پائپ لائن کی تعمیر پر تبادلہ خیال
 

 
 ایرانی نائب وزیر تیل کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے پاکستانی وفد تہران پہنچا ہے۔ پاکستانی حکام پائپ لائن کی تعمیر شروع کرنا چاہتے ہیں، تاہم مذاکرات کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ دونوں فریق ابھی ابتدائی بات چیت میں مصروف ہیں۔ پاکستان نے اپنے حصے کی تکمیل اپنی سرمایہ کاری سے کرنی ہے۔ ایرانی نشریاتی ادارے "پریس ٹی وی" کے مطابق بین الاقوامی امور اور تجارت کے لئے ایران کے نائب وزیر تیل امیر حسین زمانیہ نے کہا کہ پاکستانی مندوبین ایرانی حکام کے ساتھ اپنی سرزمین پر پائپ لائن کی تعمیر کی بحالی پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایران میں موجود ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن جسے امن پائپ لائن بھی کہا جاتا ہے، اسے ایران کی جنوبی پارس گیس فیلڈ سے بڑی مقدار میں پاکستان کو گیس کی فراہمی کے لئے تعمیر کیا جانا ہے۔

ایران پہلے سے ہی پائپ لائن کا اپنا حصہ 900 کلومیٹر مکمل کرچکا ہے اور پاکستان پر اس کے حصہ کی تعمیر کے لئے زور دیا ہے، تاہم پاکستانی حکام نے فنڈز کی کمی کی وجہ سے منصوبے کے اپنے حصے کی تکمیل نہیں کی۔ 2008ء میں تہران اور اسلام آباد کے درمیان دستخط کئے گئے معاہدے کے مطابق پاکستان میں ایران سے گیس کی منتقلی دسمبر 2014ء میں مکمل ہونا تھی، منصوبے کے آپریشنل میں تاخیر کی صورت میں اسلام آباد کو جرمانہ ادا کرنا تھا۔ اپریل میں چینی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر کہا گیا کہ بیجنگ ایران سے گیس لانے کے لئے پائپ لائن کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرے گا۔ 700 کلومیٹر پائپ لائن چینی سرمایہ کاروں اور 80 کلومیٹر اسلام آباد نے تعمیر کرنی تھی۔ پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے پاکستانی وزیر شاہد خاقان عباسی نے ایران کے جوہری مذاکرات کے حتمی شکل کے بعد کہا تھا کہ وہ رکے منصوبے کو بحال کرنے کے لئے پرامید ہیں۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 19 مرداد 1394 06:46 ب.ظ

شہید حسینی ایک شخصیت کا نہیں، ایک فکر کا نام ہے، علامہ رمضان توقیر

دوشنبه 19 مرداد 1394 06:42 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
شہید حسینی ایک شخصیت کا نہیں، ایک فکر کا نام ہے، علامہ رمضان توقیر
 
 شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا ہے کہ شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کی عوام کی بے لوث خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے امت مسلمہ اور تشیع کے حقوق کی ہر پلیٹ فارم پہ آواز اٹھائی۔ شہید حسینی ایک سچے پاکستانی مسلمان تھے اور ان کو پاکستان اور پاکستانی عوام کی خدمت کرنے کے جرم میں شہید کیا گیا۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں فکر شہید حسینی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان تحصیل پہاڑ پور سید علیاں میں جعفریہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ڈیرہ ڈویژن کے زیر اہتمام شہید فکر حسینی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ سیمینار میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

 سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے شہید قائد کی حیات، فکر، اور خدمات کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے شہید فکر حسینی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی امت مسلمہ میں بیداری اور پاکستان میں اتحاد بین المسلمین میں اہم کردار ادا کرنے کو سراتے ہوئے کہا کہ شہید حسینی ایک شخصیت کے ساتھ ساتھ ایک فکر کا نام ہے۔

 انہوں نے امت مسلمہ اور تشیع کے حقوق کی ہر پلیٹ فارم پہ آواز اٹھائی۔ شہید حسینی نے فرزند امام خمینی کی حیثیت سے پاکستان کے علاوہ دوسرے اسلامی ممالک میں بھی اسلامی پرچم کی سر بلندی کیلئے اپنے مشن کو جاری رکھا، اور ان کی خدمات کو تاحیات یاد رکھا جائے گا۔ شہید ہر قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور زندہ قومیں اپنے شہداء کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ شہید حسینی آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ ہم انشاءاللہ ان کے اس مشن کو جاری رکھیں گے، اور ملت اسلامیہ کی خدمات کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر میں اتحاد بین المسلمین کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 19 مرداد 1394 06:44 ب.ظ

برگزاری نشست مجمع جهانی اهل بیت با 700 مهمان داخلی و خارجی از 130 کشور جهان

دوشنبه 19 مرداد 1394 06:35 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ایران ،




 ششمین اجلاس عمومی مجمع جهانی اهل بیت و همایش بین‌المللی امام سجاد(ع)، با حضور حجت الاسلام و‌المسلمین اختری، دبیر کل مجمع جهانی اهل بیت و اعضای این مجمع، ظهر دو‌شنبه 19 مرداد در محل مجمع جهانی اهل بیت برگزار شد.


در ابتدای این نشست حجت الاسلام و‌المسلمین اختری با تبریک روز خبرنگار، گفت: خبرنگاران وظیفه بسیار مهمی بر دوش دارند، ضمن این‌که بسیار یاز خبرنگاران در راه تهیه و ارسال خبر به شهادت می‌
رسند که باید راه و یاد آن‌ها همیشه زنده نگاه داشته شود.


وی افزود: بنا بر رسم سنوات گذشته، امسال نیز بنا داریم تا بر اساس برگزاری اجلاس عمومی مجمع جهانی اهل بیت که هر 4 سال یک‌‍‌بار برگزار می‌شود، ششمین اجلاس عمومی این مجمع را برگزار کنیم.


دبیر کل مجمع جهانی اهل بیت با بیان این مطلب که در اجلاس عمومی امسال 700 عضو شرکت می‌کنند، ادامه داد: از این تعد اد 500 عضو خارجی و 200 عضو داخلی در اجلاس عمومی شرکت خواهند داشت.


حجت الاسلام و‌المسلمین اختری با اشاره به برگزار ی همزمان اجلاس با همایش امام سجاد(ع)، تاکید کرد: تفاوت اجلاس امسال این است که همزمان با مجمع عمومی، همایشی با محموریت حضرت زین‌العابدین برگزار خواهد شد که مقدمات آن با اعلام فراخوان از سال گذشته فراهم شده بود.



ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 19 مرداد 1394 06:38 ب.ظ

سیلاب زدگان کی امداد

دوشنبه 12 مرداد 1394 09:33 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،



اسلامی تحریک کا اعلی سطحی وفد سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچا مولانا فدا عبادی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی فدا محمد ناشاد ریحانہ عبادی موجود.



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 12 مرداد 1394 09:39 ق.ظ

ترنڈہ ساوے والا کا پان فروش

یکشنبه 11 مرداد 1394 11:20 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
malik

کہنے کو تو رحیم یارخان کی تحصیل ترنڈہ ساوے والا میں اس کی چھوٹی سی پان کی دکان تھی مگر اس پان فروش نے 20برس تک 20کروڑ کی آبادی والے ملک کی ایک بڑی کمیونٹی کو اپنی دہشت سے یرغمال بنائے رکھا.

اس سے سب ڈرتے تھے۔۔ججز اس سے خوف زدہ تھے ، 1997میں گرفتارہوا اور چودہ برس جیل میں رہنے کے بعد اسے رہا کیا گیا۔
دوران قید اس پر مقدمہ چلا اور کوئی جرم ثابت نہ ہوسکا، جرم ثابت بھی کیسے ہوتا، 72ججوں نے اس کے کیس کی سماعت سے یا تو انکار کردیا تھا یا پھر تبادلے کی درخواست کی تھی۔ انوسٹی گیشن کرنےو الے پولیس اہل کار اس سے خوف زدہ تھے ، وہ جس کو چاہے مروادے، وہ جیل میں بھی بااختیار تھا.... یہ ملک اسحاق تھا . ترنڈہ ساوے والا کا وہ پان فروش ریاست کے جبڑوں میں دبا تیزپتی کا ایک ایسا پان تھا، جس کی سرخ پچکاری نے ملک کو لہولہان کیا اور اب وہ پان منہ سے نکال کرپھینک دیا گیا ہے۔
معتبر خبرنگاروں کے مطابق جی ایچ کیو پر حملہ کرنےوالوں کے جہاں دیگرمطالبات تھے، وہیں ان میں ایک مطالبہ ملک اسحاق کی رہائی کا بھی تھا، ملک اسحاق کو جی ایچ کیولے جایا گیاتو اس نے مذاکرات کرنے والے حملہ آور سے کہا کہ فوج سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں۔ وہ ہتھیار ڈال دے

اس واقعے کے تین برس بعد ملک اسحا ق رہا ہوگیا۔۔ ملک اسحاق نے ریاض بسرااور اکرم لاہوری کے ساتھ مل کر 1996میں لشکر جھنگوی کی بنیاد اسی مینار لاہور پر رکھی جہاں پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی ملک اسحاق کی رہائی کے بعد لشکر جھنگوی نے 2013ءکے جنوری اور فروری میں کوئٹہ میں ہونے والے ہزارہ کمیونٹی پر ہونے والے دوحملوں کی ذمہ داری قبول کی جن میں 160سے زائد افراد مارے گئے۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

دہشتگردوں کے پاس سرنڈر اور مرنے کے علاوہ کوئی تیسرا آپشن نہیں۔ انسپکٹر جنرل ایف سی میجر جنرل شیر افگن

یکشنبه 11 مرداد 1394 11:11 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: پاکستان ،
میجر جنرل شیرافگن کیجانب سے تفتان میں زائرین کیلئے ہوٹل کا باقاعدہ افتتاح

انسپکٹر جنرل ایف سی میجر جنرل شیر افگن نے کہا ہے کہ بھارت بلوچستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کررہا ہے۔ بی ایل اے، بی آر اے اور بی ایل ایف کو اسلحہ، کمیونیکیشن اور پیسے انہی سرحدی علاقوں سے دیئے جارہے ہیں۔ دہشتگردوں کے پاس سرنڈر اور مرنے کیلئے علاوہ کوئی تیسرا آپشن نہیں۔ بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ایف سی کے جوانوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ اس موقع پر ایم پی اے نوشکی حاجی میر غلام دستگیربادینی، میر کریم نوشیروانی، سابق وفاقی وزیر سردار عمر گورگیج، نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء سردار آصف شیر جمالدینی، کمانڈنٹ نوشکی ملیشیاء مظہرالحسن، ڈپٹی کمشنر حمید اﷲ ناصر، ڈی پی او نذر جان بلوچ ودیگر بھی موجود تھے۔ اس سے قبل آئی جی ایف سی بذریعہ ہیلی کاپٹر نوشکی پہنچے تو ایف سی کے چاک وچوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ قبائلی عمائدین، عوامی نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی ایف سی نے کہا کہ پاکستان کی اہمیت اور حیثیت صرف بلوچستان کی وجہ سے ہے۔ پاکستان کا مستقبل بلوچستان سے وابستہ ہے۔ اﷲ پاک نے اس خطہ کو مالا مال بنا دیا ہے۔ مگر چند عناصر نہیں چاہتے کہ بلوچستان ترقی کریں۔ کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کے اپنے بچے اور رشتہ دار بیرون ملک پڑھتے ہیں۔ مگر یہاں وہ عام عوام کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں اور یہاں کے لوگوں کو ابھی تک خانہ بدوش کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔ فوج اور ایف سی اپنی عوام کے محافظ ہیں اور عوام کے تحفظ کیلئے ہی جوان اپنی جانوں پر کھیل رہی ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ صرف فوج اور ایف سی کی نہیں بلکہ ہم سب کی ہے۔ ہم سب کی مشترکہ زمہ داری ہے کہ ہم دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز کے ساتھ مربوط تعاون کریں اور انہیں اپنے درمیان جگہ نہ دیں۔ ریاست کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے لئے صرف مرنے کے کوئی دوسری چوائس نہیں ہے۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 11 مرداد 1394 11:15 ق.ظ

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم شہادت پر علامہ ساجد نقوی کا پیغام

یکشنبه 11 مرداد 1394 11:01 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_3316
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام علوم دینی اور علوم عصری کے بیک وقت حامل، مروج، بانی اور منبع ومرکز تھے آپ ؑ کے وضع کئے ہوئے قواعد اور اصول آج بھی تمام مسالک اور مکاتب فکر کے لیے رہنماء کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ آپ کے علوم سے کسی خاص مکتب ، مسلک ، گروہ یا طبقے نے نہیں بلکہ ہر علم دوست اور شعور کے حامل انسان نے استفادہ کیا۔سلسلہ امامت کے چھٹے تاجدار حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم شہادت کے موقع پر اپنے پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ آپ ؑ نے اپنے والد گرامی قدر حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے براہ راست حصول علم اور کسب فیض کیا اور اپنے جد امجد امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اور پیغمبر گرامی قدر ﷺ کے عطا کردہ علوم سے آگاہی و آشنائی حاصل کی یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دور میں علم کا دعوی کرنے والا ہر شخص کو لاجواب کیا اور اسلام کے حوالے سے پھیلائی گئی تمام غلط فہمیوں کو اپنے علم کی بنیاد پر دور کیا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ حضرت امام جعفر صادق ؑ کے علم و فضل اور کمال و مرتبے کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ آپ نے علوم قرآنی، حدیث رسول ؐ، فرامین آئمہ ؑ اور سیرت سے استفادہ کرکے مسلمانوں کو ابدی اور دائمی رہنمائی اورنجات حاصل کرنے کے لیے ایک ایسی فقہ ترتیب فرمائی جس میں صرف مسلمان نہیں بلکہ پوری انسا نیت کی فلاح و بہبود مضمر ہے اس کے علاوہ آپ نے عصری علوم کا جو بے بہا خزانہ صاحبان فکر و نظر کے استفادہ کے لیے چھوڑا وہ آج بھی بلا تفریق مذہب ہر انسان کو رہنمائی فراہم کر رہا ہے آپ ؑ کے شاگردوں میں حضرت امام ابو حنیفہ ، جابر بن حیان جیسے لوگ شامل تھے جنہوں نے اپنے اپنے ادوار میں اپنے شعبے کے حوالے سے عوام کی رہنمائی کی۔ دور حاضر کی سائنسی تحقیقات اور عصری علوم کا ارتقاء امام جعفر صادق ؑ کا مرہون منت ہے جبکہ عام ٹیکنالوجی سے لے کر ایٹمی ٹیکنالوجی تک تمام کی بنیاد حضرت امام جعفر صادق کے دئیے ہوئے علمی ترکے سے ملتی ہے۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 11 مرداد 1394 11:04 ق.ظ

حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی مدظلہ العالی کا اجمالی تعارف

سه شنبه 6 مرداد 1394 04:54 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی مدظلہ العالی کا اجمالی تعارف ،

11074444_1575686326048306_4126591920299460592_n - Copy


قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی مدظلہ العالی نے١٩٤٠ء کوایک ایسے پاک وپاکیزہ علمی گھرانہ میں آنکھ کھولی جو تدین ، پاکدامنی اورنیک سیرتی میں شہرت رکھتا ہے ،آپکاآبائی تعلق موضع ملہووالی ،پنڈی گھیپ ضلع اٹک کے نقوی سادات سے ہے آپ کے والد گرامی کانام سیدمحمدعلی شاہ تھاجوکہ اگست ١٩٨٦ء میں اس دنیائے فانی سے دنیائے ابدکی طرف رحلت فرماگئے خداوندعالم انہیں اپنی جواررحمت میں مدارج عالیہ سے سرفرازفرمائے جنہوں نے اپنے نیک کردار سے علامہ صاحب جیسا فرزندقوم کوعطاکیااورآپکے جدمحترم کا نام سیدصفت علی شاہ المعروف صفت شاہ تھاآپکے جدگرامی کاسلسلہ نسب ٢٥پشتوں سے امام علی نقی علیہ السلام جاملتاہے ۔
 

قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی نے اپنی ابتدائی دنیوی تعلیم مکمل کرنے بعددینی تعلیم کے حصول کے لئے مدرسہ مخزن العلوم جعفریہ ملتان میں تشریف لے گئے اوراپنے چچاگرامی استادالعلماء حضرت آیةاللہ سید گلاب علی شاہ اورعالیجناب محترم مولانا محمدحسین سابقہ پرنسپال مدرسہ جامعہ المعصومین فیصل آبادجیسی شخصیات سے کسب فیض کیا، ١٩٥٨ ء میں عربی فاضل کاامتحان دیااور١٩٥٨ء تا١٩٧٠ء تک اسی مدسہ میں بعنوان مدرس مشغول بہ تدریس علوم آل محمد(ص) ہوئے جہان علم کلام ، اصول اورفقہ جیسے اہم علوم سے تشنگان علوم آل محمد ( ص ) کو فیض یاب کرتے رہے اوراسی کے ساتھ ساتھ وائس پرنسپال کی حیثیت سے بھی اسی دینی درسگاہ کی خدمت انجام دیتے رہے اس کے علاوہ مسجدامام علی رضا شیعہ میانی ملتان میں عوامی واجتماعی ضرورت کے پیش نظرامامت جماعت کے علاوہ تفسیر،احکام اورعقائدکے درسوںکاسلسلہ بھی جاری رکھا اسطرح سے معاشرے اورمدارس دینیہ کی ضروریات کے پیش نظرمذیدعلمی پیاس کااحساس ہوا جس کے نتیجہ میں مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے ١٩٧٠ء میں حوزہ علمیہ نجف اشرف عراق تشریف لے گئے جہاںدرج ذیل ناموراورمایہ نازاساتذہ سے کسب فیض کیا۔

١۔  حضرت آیة اللہ العظمیٰ ابوالقاسم خوئی اعلیٰ اللہ مقامہ                                     
٢۔  مجاہدکبیر حضرت آیة اللہ العظمیٰ روح اللہ الموسوی الخمینی اعلیٰ اللہ مقامہ                                              
٣۔ حضرت آیة اللہ العظمیٰ شہیدمحمدباقرصدراعلیٰ اللہ مقامہ
٤۔  حضرت آیة اللہ العظمیٰ شیخ جوادتبریزی اعلیٰ اللہ مقامہ                                   
٥۔  حضرت آیة اللہ محمدعلی مدرس افغانی اعلیٰ اللہ مقامہ

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 6 مرداد 1394 04:58 ب.ظ

جعفریہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن طالبات پاکستان شھید سید عارف حسین الحسینی کی برسی کی مناسبت سے تین روزہ “فکر حسینی” تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کرے گی

سه شنبه 6 مرداد 1394 04:46 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: جعفریہ اسٹو ڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ،
unnamed

فیصل آباد- جعفریہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن طالبات پاکستان کی مرکزی آرگنائزر سیدہ سدرہ نقوی نے کہا ہے کہ روز اول سے ہم نے طالبات کے لئے ایسے پروگرام منعقد کئے جو انکی صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ نکھار کے ملت تشیع کے لئے کار آمد بنائیں کیونکہ ہمارا نصب العین ہے: طالبات کی زندگیوں کو تعلیمات اسلام کی روشنی میں سنوارنا اور اب جعفریہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن طالبات پاکستان شھید عارف الحسینی کی شھادت کی مناسبت سے بعنوان” فکر حسینی” تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کرنے جا رہی ہے ۔

جس میں قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی مدظلہ العالی ، علامہ سبطین سبزواری ، مولانا مشتاق ہمدانی ، ڈاکٹر عون ساجد نقوی اور سنئیر تنظیمی عہدیداران شرکت فرمائیں گے ۔اور شھید رح کی فکر پہ روشنی ڈالیں گے۔یہ ورکشاپ جی نائن ٹو اسلام آباد میں منعقد کی جا رہی ہے اور اس میں کراچی ، لاڑکانہ ، سانگھڑ، اسلام آباد ، اٹک ،ملتان ، بھکر ، فیصل آباد ، ساہیوال ، سرگودھا اور گلگت سے طالبات شرکت کریں گی۔سیدہ سدرہ نقوی نے کہا کہ جے ایس او طالبات پاکستان ملک بھر مین طالبات کی رہنمائی کے لئے ایسی ورکشاپس کا انعقاد کرتی رہے گی ۔ 




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 6 مرداد 1394 04:48 ب.ظ

مصیبت میں گھرے پاکستانی بھائیوں ، بہنوں کیلئے اپنی مدد آپ اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت امداد اور داد رسی کریں،علامہ ساجد نقوی

جمعه 2 مرداد 1394 02:50 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_3589
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے حالیہ بارشو ں کے نتیجے میں آنیوالے سیلاب کی تباہ کاریوں اور جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں عوام کی ہر ممکن امداد کو یقینی بنائیں جبکہ زیادہ تباہ شدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر ان دکھی ہم وطنوں کی داد رسی کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ گوکہ سیلاب کے بعد وفاقی و صوبائی حکومتیں اور پاک فو ج کے جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں مگر اس میں مزید بہتری اور تیزی لائی جائے کیونکہ سیلاب کے باعث متاثرین بہت زیادہ پریشان ہیں ۔ اس موقع پرقائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اپنے دکھی اور مصیبت میں گھرے پاکستانی بھائیوں ، بہنوں کیلئے اپنی مدد آپ اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت امداد اور داد رسی کریں۔ اس موقع پر انہوں نے سیلاب کے نتیجے میں متاثرین سیلاب سے ان کے ہونے والے نقصانات پر اظہار ہمدردی کیا اور کہاکہ مصیبت کی اس مشکل گھڑی میں پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ 

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : جمعه 2 مرداد 1394 02:51 ب.ظ