تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب آبان 1394
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

ملک میں کوئی شہری دہشتگردوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں، علامہ ساجد نقوی

یکشنبه 10 آبان 1394 10:04 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
DSC_0082
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے پروفیسرمولانا نذیر حسین عمرانی خطیب مسجد و امام بارگاہ قصر سجاد اقبال ٹاؤن راولپنڈی اور ان کے گن مین سیدہلال حیدرپر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاملک میں کوئی شہری دہشتگردوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں،دہشت گرد جب اور جہا ں چاہیں واردات کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں

 انہوں نے کہا کہ پروفیسر مولانا نذیر حسین عمرانی پر دوسری مرتبہ کئے جانے والے قاتلانہ حملہ قابل مذمت و افسوس ناک اور انتظامیہ وقانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے پروفیسر مولانا نذیر حسین عمرانی پر پہلے قاتلانہ حملے میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار کر لیتی توآج یہ سانحہ دوبارہ رونما نہ ہوتا ۔ دہشتگردی کا یہ واقعہ راولپنڈی کی پُر امن فضا کوخراب کرنے کی مذموم سازش ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا ۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 10 آبان 1394 10:05 ق.ظ

قائد ملت جعفریہ پاکستان کا شدید زلزلہ کے باعث جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار حکومت متاثرین کی فی الفور امداد کرے

یکشنبه 10 آبان 1394 10:03 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_3589
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پاکستان ، افغانستان،بھارت ،کشمیر ،تاجکستان اور کرغستان مےںشدےد زلزلہ میں جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ملک مےں زلزلہ کے بعدحاصل ہونے والی اطلاعات افسوس ناک ہےں۔ ملک میں آنے والے بدترین زلزلے کے نقصانات کا جلد از جلد تخمینہ لگایا جائے اور متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی جائیںناگہانی آفت میں عوام بھی متاثرہ بھائیوں کی داد رسی کےلئے آگے آئےں۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے ملک آنے والے شدےد زلزلہ کے جھٹکوں کے باعث ہونیوالی اموات، عمارتوں کے منہدم ہونے پرمالی نقصان پر افسوس کا اظہا رکرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو فی الفور طور پر خصوصاً متاثرہ علاقوں کے متاثرین کی امداد کےلئے ہنگامی طور پر ا قدامات کرنے چاہیے۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 10 آبان 1394 10:04 ق.ظ

خود کش حملوں اور دہشتگردی کے واقعات سے عزاداری کو کمزور نہیں کیا جاسکتا،علامہ ساجد نقوی

یکشنبه 10 آبان 1394 10:02 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
unnamed

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے جیکب آباد محلہ لاشاری میں دوران جلوس بم د ھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ عزاداری فرزند رسولؐ خُدا حضرت امام حسین ؑ ہماراوجود اور ہماری شناخت ہے ، خود کش حملوں،بم دھماکوں اور دہشتگردی کے واقعات سے عزاداری کو کمزور نہیں کیا جاسکتا ۔ عزاداری کی بقاء اور فروغ کیلئے ہرقسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں۔ عزادارن مظلوم کربلاؑ پہلے سے بھی زیادہ عقیدت و احترام و جوش جذبے سے بھر پور انداز میں عزاداری حضرت امام حسین ؑ منائیں۔ سیکورٹی کے نام پرعزاداری کو محدود کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی ۔دہشتگردی کے واقعہ میں ملوث قاتلوں اور اُن کے سہولت کاروں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ حکومت دہشت گردی کے واقعات کو روکنے میں سنجیدگی دکھائے اورعزداران کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 10 آبان 1394 10:03 ق.ظ

قیام امام حسین ؑ اور اصلاح امت قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی

یکشنبه 10 آبان 1394 09:59 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
th
تاریخ کے صفحات پر سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا وہ جملہ آج بھی اپنی پوری رعنائیو ں کے ساتھ رقم ہے جس میں آپ نے اپنے قیام کے اہداف و مقاصد واضح فرمائے تھے۔ اپنے بھائی محمد ابن حنفیہ کو ایک وصیت نامے میں مخاطب کرتے ہوئے امام عالی مقام نے وہ جملہ اس طرح ارشا د فرمایا : ’’میرے اس قیام‘ میری جدوجہد کا اصل مقصد اور میری اس تحریک اور اقدام کا اصل ہدف صرف امت کی اصلاح‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے‘‘

اس فصیح و بلیغ جملے میں آپ نے اپنے تمام اہداف و مقاصد‘ قیام کی وجوہات ‘ امت کی حالت زار‘ حکومت وقت کے کردار اور پالیسیوں‘ مستقبل میں پیش آنے والے حالات و واقعات ‘ اسلام کے تحفظ اور دین کی بقاء کے لئے اپنے خدا اور اپنے نانا سید الرسل ؐ کی طرف سے ودیعت کی گئی ذمہ داریوں کا مکمل احاطہ فرمادیا ہے۔اصلاح کا سوال بذات خود اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ فساد موجود ہے‘ انتشار و افتراق برپا ہے اور بگاڑ کی کیفیت ہے۔ لہذا ان برائیوں کے خاتمے کے لئے اصلاح کی ضرورت درپیش ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے خطبات میں اپنا موقف واضح کرنے کے لئے کئی مرتبہ اس دور کی صورت حال‘ کیفیت اور حالات کی نقشہ کشی اور منظر کشی فرمائی۔ مثلاً آپ نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا۔’’اے لوگو! یہ (حکمران) اطاعت خدا کو ترک کرچکے ہیں اور شیطان کی پیروی کو اپنا نصب العین بناچکے ہیں ۔ یہ ظلم و فساد کو اسلامی معاشرے میں رواج دے رہے ہیں۔خدا کے قوانین کو معطل کررہے ہیں اور ’’مال فے‘‘ کوانہوں نے اپنے لئے مختص کرلیا ہے ۔ خدا کے حلال و حرام اور اومر و نواہی کو بدل چکے ہیں‘‘۔اس خطبے میں کی گئی منظر کشی سے واضح ہوتا ہے کہ یذیدی دور میں حکمران احکام شریعت الہی اور سنت رسول ؐ میں دیئے گئے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو بھلا کر گمراہی اور گناہ کی زندگی اختیار کرچکے تھے۔ لوگوں کے ساتھ انصاف اور عدل سے کام نہیں لیا جارہا تھا۔ عدل اجتماعی سے گریز کرتے ہوئے مستقل طور پر بے عدلی اور ناانصافی کو اسلامی معاشرے کا حصہ بنایا جارہا تھا۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 10 آبان 1394 10:01 ق.ظ