تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب آذر 1394
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

شیخ ابراہیم زکزاکی کون ہیں۔؟

دوشنبه 30 آذر 1394 10:46 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،


 نائیجیریا ایک افریقی ملک ہے، جس کی کل آبادی 17 کروڑ ہے، جس میں 60 فیصد مسلمان اور ان میں سے 7 فیصد شیعہ ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں تشیع میں روز بروز اضافے کی وجہ سے اسرائیل اور وہابیت نائجیرین عوام کے جانی دشمن بن گئے ہیں، دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی بھرپور سعی کر رہا ہے۔ شیخ ابراہیم زکزاکی ملت جعفریہ نائیجیریا کے قائد، اسلامی تحریک نائجیریا کے سربراہ اور رہبرِ مسلمینِ جہاں آیت اللہ السید علی خامنہ ای کے نائجیریا کے لئے نمائندے بھی ہیں۔ جن کے اعلٰی اخلاق کی وجہ سے تمام مسلمان بشمول شیعہ و سنی حتیٰ کہ عیسائی بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ شیخ زکزاکی نے خود بھی امام خمینی کے افکار سے متاثر ہوکر شیعہ مذہب اختیار کیا اور اب تک لاکھوں لوگوں کو شیعہ کرچکے ہیں۔

شیخ ابراہیم زکزاکی کے بقول میں 1978ء میں یونیورسٹی میں انجمن اسلامی سورہ نائجیریا کا جنرل سیکرٹری تھا اور ہماری خواہش تھی کہ ملک میں اسلام کا بول بالا ہو اور اسلامی قوانین کا اجراء ہو کیونکہ ہماری حکومت کمونیسٹ تھی۔ 1980ء میں پہلی مرتبہ اسلامی انقلاب کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایران آیا تو میری زندگی اور میری فکر میں واضح تبدیلی آئی۔ 80ء کی دہائی میں، میں نے ایک نئی انجمن اسلامی کی بنیاد رکھی اور انجمن اسلامی سورہ سے الگ ہوگیا اور انہی سالوں سے مسلمانوں کے مابین اختلاف ڈالنے کی پالیسی پر عمل شروع ہوا اور ہم نے اسکی بڑی مزاحمت کی اور اتحاد بین المسلمین کیلئے بھی سرگرم ہوگئے۔




ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 30 آذر 1394 10:47 ق.ظ

ڈیموکریٹک پاکستان،گروہ بندی کی بنیاد پر بننے والے گروپ میں کیوں کر کیسے شامل ہوا ہے ؟ علامہ ساجد نقوی

یکشنبه 29 آذر 1394 07:54 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_6280

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے34مسلم ممالک کے اتحاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ریاست کو واضح کرنا چاہیے کہ ڈیموکریٹک پاکستان، گروہ بندی کی بنیاد پر بننے والے گروپ میں کیوں کر کیسے شامل ہوا ہے؟اگر اس اتحاد میں تمام مسلم ممالک کوشامل نہ کیا جائے تو یہ مسلم ممالک کے اتحاد کی بجائے گروہ بندی کہلائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ پوری قوم کی نمائندہ ہونے کی دعویدار ہے تو اس کو اعتماد میں لئے بغیر وزارت خارجہ کی جانب سے کئے جانے والے اقدام کو عوامی حمایت کیسے حاصل ہوسکتی ہے ؟انہوں نے کہا کہ جیسا کہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کی سرپرستی میں اتحاد بن رہا ہے تو مسلم ممالک کے ایسے ا تحا د کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے ۔بہتر ہو تا کہ دہشتگردی کے خلاف بننے والا اسلامی ممالک کا اتحاد آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن ( او آئی سی) کے پلیٹ فارم جن میں تمام اسلامی مماک موجود ہیں کی منظوری سے بنایا جاتا تو مسلم اُمہ کے اتحاد کو تقویت ملتی ۔علاوہ ازیں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستا ن کی مداخلت کسی صورت مناسب نہیں ہے اس لئے کہ ہمارا ملک پہلے ہی کئی عشروں سے خود دہشتگردی کا شکا ر ہے اور ہماری فوج ملک میں جاری دہشتگردی کیخلاف ضرب عضب آپریشن میں دہشتگردوں کے ساتھ نمبرد آزماہے اس لئے اس نازک مرحلے پر پاکستانی ریاست کو سوچ سمجھ کر قومی وقار اور ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے جذبات سے ہٹ کر دانشمندی کیساتھ فیصلے کرنے چاہیے ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

نائجیریا ، شیعہ عوام کو فائرنگ کرکے شہید کرنے پر عالمی طاقتوں کی خاموشی افسوس ناک ہے ،علامہ ساجد نقوی

یکشنبه 29 آذر 1394 07:53 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_0553

بین الاقوامی ادارے نائجیرمیں ظلم روکنے سمیت شیعہ رہنما شیخ زکزاکی کی رہائی کیلئے کر دار اداکریں، قائد ملت جعفریہ پاکستان
نائجیریا میں فوج کی جانب سے بے گناہ عوام کے قتل و غارت و تشددکو رکوانے کیلئے پاکستانی صدر اور وزیر اعظم اپنا سفارتی کردار ادا کریں ۔
سقوط ڈھاکہ پاکستان قومی تاریخ کا المیہ ہے لیکن اب تک اس کے حقائق منظر عام نہیں لائے جاسکے اور نہ ہی ذمہ داروں کو سزاؤں سے دو چا رکیاگیا
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے نائجیریا فوج کا شیعہ رہنما شیخ زکزاکی پرآمرانہ و ظالمانہ تشدد کرکے انتہائی زخمی حالت میں بلاجواز گرفتارکرنے اور سینکڑوں شیعہ عوام کے قتل عام پروگہرے دکھ و افسوس کا اظہار اور واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نائجیریا میں انسانیت کے بے رحمانہ قتل و آمرانہ تشدد پر بین الاقوامی اداروں، یو این او، او آئی سی سمیت تمام عالمی طاقتوں کی خاموشی کو افسو س ناک ہے۔ بین الاقوامی ادارے فی الفور شیعہ رہنما شیخ زکزاکی کو نائجیریا فوج سے رہا کرانے میں اپنا مثبت کر دار ادا کریں۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ نائجیریا فوج کی جانب سے شیعہ رہنما شیخ زکزاکی کے گھرکومارٹر گولوں سے نشانہ بنانے اور مسمار کرنے سمیت سینکڑوں لوگوں کو شہید کرکے انکی لاشیں ٹرکوں میں ڈال کر جائے وقوعہ سے کہیں اور منتقل کردینا انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے پاکستانی صدر اور وزیر اعظم سے کہا ہے کہ نائجیریا میں فوج کے ہاتھوں بے گناہ عوام کے قتل و غارت و تشددکو رکوانے سمیت شیعہ رہنما شیخ زکزاکی کی رہائی کیلئے کیلئے وہ اپنا مثبت سفارتی کردار ادا کریں ۔علاوہ ازیں علامہ ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ سقوط ڈھاکہ پاکستان کی قومی تاریخ کا المیہ ہے لیکن یہ ستم ظریفی ہے کہ اب تک اس کے حقائق منظر عام نہیں لائے جاسکے اور نہ ہی اس کے ذمہ داروں کو کڑی سزاؤں سے دوچار کیا گیا۔ اس وقت بھی وطن عزیز تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور تمام محب وطن حلقوں کے لئے ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں 1971 کی غلطیوں کو دہرانے سے سختی سے اجتناب کیا جائے اور باہم متحدہوکر پاکستان دشمن قوتوں کا داخلی اور خارجی محاذ پر مقابلہ کیا جائے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 29 آذر 1394 07:54 ب.ظ

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا یورپی جوانوں کے نام خط

دوشنبه 9 آذر 1394 05:00 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

 رہبر انقلاب اسلامی کے خط کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یورپی جوانوں کے نام

فرانس میں اندھی دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر مجھے آپ جوانوں سے مخاطب ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ میرے لئے یہ بہت ہی افسوس کی  بات ہے کہ اس طرح کے واقعات آپ جوانوں کے ساتھ گفتگو کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ دردناک واقعات باہمی مشاورت اور چارہ جوئی کا راستہ ہموار نہ کریں تو بہت زیادہ نقصان ہو جائے گا۔ دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے انسان کا غم  بجائے خود بنی نوع انسان کے لئے رنج و اندوہ کا باعث ہے۔

ایسے مناظر کہ جن میں بچہ اپنے اعزاء و اقرباء کے سامنے موت کو گلے لگا رہا ہو، ماں کہ جس کی وجہ سے اس کے اہل خانہ کی خوشیاں غم میں تبدیل ہوجائیں، شوہر جو اپنی بیوی کے بے جان جسم کو تیزی کے ساتھ کسی سمت لے جا رہا ہو، یا وہ تماشائی کہ جسے یہ نہیں معلوم وہ چند لمحوں کے بعد خود اپنی زندگی کا آخری سین دیکھنے والا ہے،  یہ وہ  مناظر نہیں ہیں کہ جو انسان کے جذبات و احساسات کو نہ ابھارتے ہوں۔ ہر وہ شخص کہ جس میں محبت اور انسانیت پائی جاتی ہو۔ ان مناظر کو دیکھ کر متاثر  اور رنج و الم کا شکار ہوجاتا ہے۔ چاہے اس طرح کے واقعات فرانس میں رونما ہوئے ہوں، فلسطین یا عراق، لبنان اور شام میں۔ یقینا ڈیڑھ ارب مسلمان اسی احساس کے حامل ہیں اور وہ اس طرح کے گھناؤنے واقعات میں ملوث افراد سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے بے زار ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر آج کے رنج و الم ایک اچھے اور زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر کا سبب نہ بنیں تو وہ  صرف تلخ اور بے ثمر یادوں کی صورت میں باقی رہ جائیں گے ۔ میرا اس بات پر ایمان  ہے کہ صرف آپ جوان ہی ہیں جو آج کی مشکلات سے سبق حاصل کر کے اس بات پر قادر ہو جائیں کہ مستقبل کی تعمیر کے لئے نئی راہیں تلاش کر سکیں اور ان غلط راستوں پر رکاوٹ بن جائیں کہ جو یورپ کو موجودہ مقام تک پہنچانے کا باعث بنے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ آج دہشت گردی ہمارا اور آپ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ لیکن آپ لوگوں کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ جس بدامنی اور اضطراب کا حالیہ واقعات کے دوران آپ لوگوں کو سامنا کرنا  پڑا ہے ان مشکلات میں اور برسہا برس سے عراق، یمن، شام اور افغانستان کے لوگوں نے جو مشکلات برداشت کی ہیں ان میں دو اہم فرق پائے جاتے ہیں۔ پہلا فرق یہ ہے کہ اسلامی دنیا مختلف زاویوں سے نہایت ویسع اور بڑے پیمانے پر اور ایک بہت لمبے عرصے تک تشدد کی بھینٹ چڑھی ہے۔ دوسرے یہ کہ افسوس کہ اس تشدد کی ہمیشہ بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے  مختلف اور موثر انداز میں حمایت کی جاتی رہی ہے۔ آج شاید ہی کوئی ایسا فرد ہوگا جو القاعدہ، طالبان اور ان سے وابستہ منحوس گروہوں کو وجود میں لانے، ان کی تقویت اور ان کو مسلح کرنے کے سلسلے میں امریکہ کے کردار سے آگاہ نہ ہو۔ اس براہ راست حمایت کے علاوہ تکفیری دہشت گردی کے جانے پہچانے حامی پسماندہ ترین سیاسی نظام کے حامل ہونے کے باوجود ہمیشہ یورپ کے اتحادیوں کی صف میں کھڑے ہوتے ہیں اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب خطے میں آگے کی جانب گامزن جمہوریت سے جنم لینے والے ترقی یافتہ اور روشن ترین نظریات کو بڑی بے رحمی کے ساتھ کچلا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا میں بیداری کی تحریک  کے ساتھ یورپ کا دوہرا رویہ یورپی پالیسیوں میں  پائےجانے والے تضادات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 9 آذر 1394 05:03 ب.ظ