تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب تیر 1395
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

ملک میں قوانین موجود، عملدرآمدکا فقدان ہے، ذمہ دار ان درستگی حالات پر غور کریں، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

سه شنبه 29 تیر 1395 07:37 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
11126929_434209856704086_548447915070397880_n

عارضی یا ایکسٹرا ایکٹ و پالیسیاں مسئلے کا حل نہیں، قوانین کے راستے سے رکاوٹیں ہٹائی جائیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان

اسلام آباد15 جولائی 2016ء (جعفریہ پریس )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ ملک میں قوانین موجود ہیں لیکن کہیں عملدرآمد کا فقدان ہے تو کہیں اس کے عملدرآمد میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں، تحفظ پاکستان جیسے قوانین کی بجائے اگر پہلے سے موجود قوانین پر من و عن عملدرآمد کیاجائے ، ان کے نفاذ میں رکاوٹوں کو دور کیا جائے، آئین و قانون کی صحیح معنوں میں عملداری قائم کی جائے تو پھر کبھی عارضی قوانین کی ضرورت نہیں پڑے گی ، سٹرٹیجک گہرائی پالیسی کی طرح اب قومی مفا د کا نام استعمال کرنے اور ظالمانہ توازن کی پالیسی کا بھی اختتام کیا جائے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک کی مجموعی سیاسی و امن وامان کی صورتحال پر تبصرہ اور تحفظ پاکستان ایکٹ کی مدت ختم ہونے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کی حمایت ملک سے دہشت گردی ، انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کی لعنت کا چھٹکارا پانے کیلئے کی لیکن افسوس اس پر عملدرآمد اس کی روح کے مطابق کیا ہی نہیں کیاگیا۔ اس وقت بھی ہم نے کہاتھا کہ پہلے سے موجود قوانین پر اگر عملدرآمد کرایا جائے تو پھر کسی صورت کسی نئے قانون کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی لیکن ہم نے ملک کے تحفظ ، امن و استحکام کی خاطر اس کی حمایت کی ۔

علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو مناسب ہوگا کہ ذمہ دار حضرات اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے درستگی حالات پر توجہ دیں اور اس کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ، انہیں چاہئیے کہ عارضی قوانین بنانے یا انہیں توسیع دینے کے بجائے حالات کو معمول پر لایا جائے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو سنجیدگی سے یقینی بنایا جائے، پہلے سے موجود قوانین پر صحیح معنوں میں عملدرآمد کرایا جائے ، ان قوانین کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دورکیا جائے اور ہر رکاوٹ کوقانون کی عملداری کیلئے راستے سے ہٹایا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل منتخب پارلیمان میں سٹرٹیجک (ڈیپتھ)گہرائی پالیسی کے خاتمے کا اعلان کیاگیا اور کہاگیا کہ ماضی میں غلط پالیسی اپنائی گئی ، اسی طرح ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قومی مفاد کا نام استعمال کرنے اور ظالمانہ توازن کی پالیسی کا بھی خاتمہ کیا جائے جس کے تحت نہ صرف ملک کے ہر شعبے وطبقے جن میں آئین و قانون، سسٹم، سیاست، معیشت، معاشرت ، ایڈمنسٹریشن اور کلچر کو ٹارگٹ کرکے تباہ کردیاگیا وہیں ملت تشیع کو بھی بے پناہ نقصان پہنچایاگیا ، اسی پالیسی کے تحت محب وطن قوتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ، امن و امان کے نام پر شہری آزادیاں تک سلب کرلی گئیں ، اب اس سلسلے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے زدور دیتے ہوئے کہاکہ اب ایسی حکمت عملی مرتب کی جائے تاکہ تمام طبقات کے تحفظات بھی دور ہوں ، ان کے مفادات کا پاس بھی رکھا جائے اور ملک کو سیکورٹی سٹیٹ کے بجائے فلاحی اسلامی جمہوری ریاست کی جانب لوٹایا جائے جس کے حصول کیلئے طویل جدوجہد اور لاکھوں قربانیاں دی گئیں ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 29 تیر 1395 07:39 ب.ظ

ڈیرہ اسماعیل خان و بھکر کے مدارس دینیہ کے پرنسپلز و مدرسین اور آئمہ جمعہ و جماعت کا اہم مذمتی اجلاس

سه شنبه 29 تیر 1395 07:36 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: پاکستان ،
13689621_1221363487907742_333166783_n
مدرسہ جامعہ علمیہ باب النجف جاڑا ڈیرہ اسماعیل خان میں استاد العلماء علامہ غلام حسن نجفی پرنسپل مدرسہ ہذا کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جسمیں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان و بھکر کے مدارس دینیہ کے پرنسپلز و مدرسین اور آئمہ جمعہ و جماعت نے بھر پور شرکت کی۔

جسمیں شہید شاہد عباس شیرازی کی المناک شہادت کی بھر پور مذمت کی گئی ۔ اور حکومت سے مطالبہ کیا گیاہے۔ کہ فوراً قاتلوں کو گرفتارکرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور شہید کے جنازے پر رونما ہونے والے نا گوار سانحے میں حجۃ الاسلام علامہ محمد رمضان توقیر کی اہانت کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا گیا اور اسکی مذمت کی گئی۔ اور قرارداد میں کہا گیا کہ ہم پورے ملک کے علماء کرام و عمائدین ملت اور دیگر ذمہ داران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان شرپسند عناصر کے اصل چہرے سے عوام کو آشنا کریں ۔ انکو بے نقاب کر کے ملک کو کمزور کرنے کے ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں۔

یہ اجلاس پاکستان کے بزرگ علماء کرام سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان شرپسند عناصر کے آئے روز اقدامات سے ملت میں انتشار بڑھ رہا ہے۔ اس لئے پورے پاکستان کے علماء کرام کی ایک کانفرنس بلا کر ان کو بے نقاب کریں۔ تاکہ ملت کو کمزور کرنے کی ہر سازش ناکام ہو۔ اور اس انداز میں علماء کرام کی آئے روز توہین نہ ہو۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 29 تیر 1395 07:37 ب.ظ

قائد ملت جعفریہ پاکستان کا ڈیرہ غازی خان میں سالانہ اجتماع سے خطاب

سه شنبه 29 تیر 1395 07:35 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
405020_154620854667243_1513068990_n

تشیع میں دو گروہ دو فرقے بن جائیں میں پاکستان میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا یہ فرقہ بندی میری زندگی میں نہیں ہوگی۔موجود ہیں میں کوشش کروں گا سمجاوٗں گا بجھاوٗں گا میرے پاس اور طریقے بھی ہیں میرے پاس ولایت فقیہ کی جانب سے بھی اختیارات ہیں ان کو بھی میں استعمال کرسکتا ہوں مجھے قومی اختیار بھی حاصل ہے کہ میں قومی مفادات و نظریات و عقائد کی حفاظت کروں اور میں کروں گا ایک بار پھر ہم ایسے مرحلے مین پہنچے ہیں جہاں ہمیں بحرانوں کا سامنا ہے مگر جس طرح پہلے ہم بفضلِ خدا بحرانوں سے نکلے اور ہم نے تشیع کی عظمت و کامیابی کا منظر دیکھا اسی طرح اس بار بھی ہم ان بحرانوں سے مشکلات سے سرخ روح نکلیں گے اور تشیع ایک بار پھر توانا دکھائی دی گی کچھ داخلی بحران ہیں کچھ خارجی بحران ہیں بہت آسانی سے ہم نے ان بحرانوں کا مقابلہ کیا قوم کو کسی مشکل مین ڈالے بغیر ہم نے کامیابی کی منازل طے کی ہیں تشیع کا ایک رعب ہے ایک دبدبہ ہے دشمن کا کوئی مکر کامیاب نہیں ہوا اور تشیع کامیابی کی معراج پر موجود ہے زینب علیا کا وہ خطبہ یاد آتا ہے چالیں چل لو اپنا پورا زور لگالو تم نہ تو ہماری وحی مٹا سکتے ہو نہ ہی ہمارے ذکر کو ختم کرسکتے ہو ان کے کردار سے الہام لیتے ہوئے ہم نے اپنا رخ متعین کیا ہے اور جو رخ ہم اختیار کریں گے وہ قوم کے مفاد میں ہوگا جو رخ ہم اختیار کریں گے وہ ہی قوم کی کامیابی کے لئے ہوگا تشیع کے معیار کو خراب کیا جارہا ہے تشیع کے عقائد پر حملہ کیا جارہا ہے تشیع کا معیار ہے کہ امامت کی طرف رجوع کرے امامت کی جانب جو راستہ دکھایا گیا اس کی جانب رجوع کرے اگر امامت نہیں تو امامت نے جو راستہ دیا اس کی طرف رجوع کرو جو کچھ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا وہ بدترین مظاہرہ ہے بداخلاقی کا تشیع ایک ملت ہے ایک نظام ہے دنیا مانتی ہے اس بات کو کہ اسلامی تۃذیب اک منبع و سرچشمہ آل محمدؑ کا گھرانہ ہے یہ جو اختلافات ہیں انجمنوں میں محلوں میں خاندانوں مین یہ اخلاقایات کی کمی کی وجہ سے ہے ہم نے نسل کی تربیت کا اہتمام نہیں کیا سب سے مضبوط سسٹم تشیع کے پاس موجود ہے مگر پاکستان میں سب سے کمزور حیثیت اگر ہے تو وہ تشیع کی ہے اس سسٹم کے ماننےوالوں کے عادات و اطوار اور چال چلن اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کمزور عادات رکھنے والے قوم کت افراد قو کی سرفرازی کے لئے کردار ادا نہیں کرسکتے.کوئٹہ کے راستے زیارات پر جانے کا راستہ نہیں چھوڑسکتے حکومت سن لےقوم کو ایسا راستہ دکھانا چاہئے جس سے قوم کے کردار میں بھی مضبوطی آئے تشیع کی عظمت و سربلندی بھی موجود ہو اور قوم آمادہ وتیار اور ہوشیار بھی بھی رہے میں اپکو آمادہ و ہوشیار کرتا ہوں کوئٹہ کے راستے سینکڑوں قافلے مین گزروا چکا ہوں میں جانتا ہوں میرے مزدور ساتھی جو پائی پائی جمع کرکے سال بھر میں پیسے جمع کرتے ہیں اور اس راستے سے جاتے ہیں اس امام / کے پاس جو ہماری سرحد سے سب سے نزدیک ہے امام رضا غریب الغرباءؑ میں حکومت کو کہ کر آیا ہوں کہ ہوائی جہاز چلاوٗ بحری جہاز چلاوٗ یہ راستہ ہم نہیں چھوڑ سکتے صدیوں سے ہم اس راستے سے زیارات پر جارہے ہیں تذلیل ہورہی ہے تشیع کی وہاں آج ایک زائر نے اپنے گلے پر چھری چلائی میں روزانہ ان کے لئے کر رہا ہوں ہمارا ایک انداز ہے میں نے کہا ہے کہ یہ ایف آئی آرز واپس لے لو کہین ایسا نہ ہو کہ یہ تمہارے گلے کا پھندا بن جائیں زائرین کے لئے یہ مسائل ختم کرو قوم کے اندر تشویش ہے ورنہ پھر ہم قربانی دنے والے لوگ ہیں ہماری پالیسی قربانی ہے تصادم کے قائل نہیں




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 29 تیر 1395 07:36 ب.ظ

اسلامی تحریک کے نائب صدر شیخ مرزا علی کی صدارت میں پیام شہداء کانفرنس نگر میں منعقد ہوئی

سه شنبه 29 تیر 1395 07:34 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
13734615_1042994422451942_1449999411_n

پیام شہداء کانفرنس نگر گگلت شہدائے ملت جعفریہ پاکستان بالخصوص سرزمین پاکستان کے دفاع کے دوران پاک آرمی کے شہداء جن کا تعلق وادی شہدائے نگر سے تھا ان تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے (ساس) وارثانِ شہداء کی جانب سے عظیم الشان پیام شہداء کانفرنس ویلی اسقرداس میں منعقد کی گئی قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کو اس کانفرنس میں خصوصی شرکت کرنی تھی مگر فلائٹ کی عدم دستیابی کے باعث تشریف نہ لاسکے جس کی وجہ سے کانفرنس کی صدرات مرکزی نائب صدر اسلامی تحریک پاکستان ،شیعہ علماء کونسل شیخ مرزا علی نے کی

جبکہ دیگر مقررین نے میں شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن کے صدر علامہ شیخ منیر حسین منوری،علامہ شیخ اعجاز حسین،شیعہ علماء کونسل گلگت کے رہنما شیخ اںصار حسین ،شیخ عبد الحسین،شیخ محمد عباس وزیری،رہنما مجلس وحدت مسلمین شیخ موسی کریمی اور علامہ شیخ عابدین نائب خطیب جامعہ امامیہ کھارادر کراچی اسلامی تحریک کے منتخب رکن اسمبلی محمد علی شیخ، اسلامی تحریک بلتستان کے منتخب رکن اسمبلی و چیرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کیپٹین ریٹائرڈ اسکندر علی، مجلس وحدت المسلمین کے منتخب رکن اسمبلی حاجی رضوان علیعلامہ شیخ محمد اقبال توسلی علامہ شیخ شبیر حسین حکیمی نے بھی خطاب کیا

علامہ شیخ مرزا علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہی پاکستان بنایا، ہم نے ہی پاکستان پر اپنا سرمایہ لگایا ہم نے ہی پاک آرمی کے جھنڈے تلے کئی جنگوں میں پاکستان کی سرزمین کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں،وہ ہم ہی ہیں جنہوں نے گلگت بلتستان کو ڈوگرہ سے آزاد کروا کر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، ہم نے ہی ریاست پاکستان کے اندر مختلف مسالک اور فرقوں کے درمیان اتحاد و وحدت کا نعرہ لگایا اور دنیا بھر کے لیئے وحدت امت کی مثال قائم کی۔ مگر افسوس کہ ہم پر ہی کفر کے فتوے لگ رہے ہیں، ہمیں ہی بسوں سے اتار کر اور شناخت کر کے قتل کیا جاتا ہے، ہم پر ہی عذاداری کے حوالے سے دباو ڈالا جاتا ہے۔ ہمارے ہی بے گناہ شیعہ جوانوں کو توازن کی ظالمانا پالیسی کے تحت نانگا پربت جیسے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کے ساتھ موازنہ کروا کر مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں سوال کرتا ہوں کہ کہا ں ہے ریاست پاکستان، کہاں ہے ریاست کے وہ مقتدر ادارے جو عدل و انصاف کے ذمہ دار ہیں۔ ہم آج میں پر امید ہیں کہ انصاف کرنے والے ادارے اور افراد اس ریاست میں موجود ہیں اور وہ انصاف کرینگے، اور اگر ایسا نا ہوا تو یہ عدل و انصاف کا قتل ہوگا۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 29 تیر 1395 07:35 ب.ظ

عالمی اداروں کو کشمیر میں بھارتی سفاکیت کیوں نظر نہیں آتی،علامہ عارف واحدی

سه شنبه 29 تیر 1395 07:31 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: شیعہ علماء کونسل/ اسلامی تحریک پاکستان ،
IMG_5184
کشمیریوں کی اخلاقی وسیاسی حمایت جاری رکھیں گے، شیعہ علماء کونسل
عالمی اداروں کو کشمیر میں بھارتی سفاکیت کیوں نظر نہیں آتی،علامہ عارف واحدی

مقبوضہ کشمیر میں40 سے زائد افراد شہید کردیئے گئے، کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی،مرکزی سیکرٹری جنرل
راولپنڈی / اسلام آباد19 جولائی 2016ء ( )شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی سفاکیت اور عوام کی مظلومیت عالمی اداروں کو کیوں نظر نہیں آتی، حقوق بشیریت کی تنظیمیں، اقوام متحدہ کیوں خاموش ہیں، او آئی سی کیا اپنا وجود بھی رکھتی ہے، چالیس سے زائد افراد شہید کردیئے گئے لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ، حکومت مسئلہ کشمیر کو مزید موثر انداز میں اٹھائے، کشمیریوں کی اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم الحاق پاکستان کے موقع پر اپنے بیان اور مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھا کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے حکم کی مکمل تائید کرتے ہیں جس میں انہوں نے مطالبہ کیاکہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے اور تمام فریقوں کو ان کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ چند دنوں میں چالیس سے زائد نہتے کشمیریوں کو شہید کردیاگیا، کئی دہائیوں سے مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے لیکن افسوس حقوق بشیریت کی عالمی تنظیمیں، اقوام متحدہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں جبکہ عالم اسلام کی نمائندہ تنظیم او آئی سی معلوم نہیں اپنا وجود بھی رکھتی ہے یا نہیں، اس معاملے پر اس نمائندہ پلیٹ فارم کی خاموشی بھی انتہائی افسوسناک ہے ۔

علامہ عارف حسین واحدی کا مزید کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے، ان کی امنگوں کے مطابق فیصلہ کیا جائے، مسئلہ فلسطین و کشمیر عالم اسلام کے سلگتے مسائل ہیں، جنوبی ایشیاکا پائیدار امن بھی مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے ۔ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کو مزید موثر انداز میں اٹھائے ، اقوام متحدہ کو بھی چاہیے کہ اس سلسلے میں موثر اقدامات اٹھائے



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 29 تیر 1395 07:34 ب.ظ