تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب مختلف ممالک کی خبریں
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

شیخ ابراہیم زکزاکی کون ہیں۔؟

دوشنبه 30 آذر 1394 10:46 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،


 نائیجیریا ایک افریقی ملک ہے، جس کی کل آبادی 17 کروڑ ہے، جس میں 60 فیصد مسلمان اور ان میں سے 7 فیصد شیعہ ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں تشیع میں روز بروز اضافے کی وجہ سے اسرائیل اور وہابیت نائجیرین عوام کے جانی دشمن بن گئے ہیں، دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی بھرپور سعی کر رہا ہے۔ شیخ ابراہیم زکزاکی ملت جعفریہ نائیجیریا کے قائد، اسلامی تحریک نائجیریا کے سربراہ اور رہبرِ مسلمینِ جہاں آیت اللہ السید علی خامنہ ای کے نائجیریا کے لئے نمائندے بھی ہیں۔ جن کے اعلٰی اخلاق کی وجہ سے تمام مسلمان بشمول شیعہ و سنی حتیٰ کہ عیسائی بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ شیخ زکزاکی نے خود بھی امام خمینی کے افکار سے متاثر ہوکر شیعہ مذہب اختیار کیا اور اب تک لاکھوں لوگوں کو شیعہ کرچکے ہیں۔

شیخ ابراہیم زکزاکی کے بقول میں 1978ء میں یونیورسٹی میں انجمن اسلامی سورہ نائجیریا کا جنرل سیکرٹری تھا اور ہماری خواہش تھی کہ ملک میں اسلام کا بول بالا ہو اور اسلامی قوانین کا اجراء ہو کیونکہ ہماری حکومت کمونیسٹ تھی۔ 1980ء میں پہلی مرتبہ اسلامی انقلاب کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایران آیا تو میری زندگی اور میری فکر میں واضح تبدیلی آئی۔ 80ء کی دہائی میں، میں نے ایک نئی انجمن اسلامی کی بنیاد رکھی اور انجمن اسلامی سورہ سے الگ ہوگیا اور انہی سالوں سے مسلمانوں کے مابین اختلاف ڈالنے کی پالیسی پر عمل شروع ہوا اور ہم نے اسکی بڑی مزاحمت کی اور اتحاد بین المسلمین کیلئے بھی سرگرم ہوگئے۔




ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 30 آذر 1394 10:47 ق.ظ

سعودی عدالت نے ’’نمر‘‘ خاندان کے ایک نوجوان کو سزائے موت دینے کا حکم جاری کر دیا

دوشنبه 23 شهریور 1394 10:00 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،


جرائم پیشہ سعودی حکومت نے اس ملک میں بسنے والے شیعہ مسلمانوں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایک اور شیعہ نوجوان کو سزائے موت دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے شیعہ نشین علاقے العوامیہ کے رہنے والے نوجوان علی بن محمد النمر کو تین سال پہلے اس وقت سعودی حکومت نے گرفتار کیا تھا جب وہ ابھی سن بلوغ کو بھی نہیں پہنچا تھا۔

علی بن محمد النمر، شیخ نمر باقر النمر کے بھتیجے ہیں جنہیں کئی سالوں سے سعودی جیل میں بند کر رکھا ہے اور سعودی عدالت کی جانب سے انہیں سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نوجوان کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے شہر عوامیہ میں ہوئے ایک مظاہرے میں پیشقدمی دکھائی تھی۔ نوجوان کے باپ نے سعودی عدالت کی طرف سے جاری جارحانہ حکم کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت کا یہ دعویٰ بالکل چھوٹا ہے کہ میرا لڑکا حکومت کے خلاف کسی مظاہرے میں پیش قدم رہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ میرے پیٹے پر یہ الزام اس وقت لگایا گیا جب وہ ابھی سن بلوغ کو بھی نہیں پہنچا تھا۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 23 شهریور 1394 10:02 ق.ظ

مکہ مکرمہ میں شدید بارشی طوفان کی وجہ سے کرین حادثہ ؛ ایک سو سات زائر جاں بحق اور دوسو اڑتیس زخمی

دوشنبه 23 شهریور 1394 09:44 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،

رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز سعودی حکام نے اعلان کیا ہے کہ بیت الحرام میں ایک کرین کے گرنے کے نتیجے میں ایک سو سات زائر جاں بحق اور دوسو اڑتیس زخمی ہوئے ہیں ۔

اس سے قبل جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ستاسی اور زخمیوں کی تعداد ایک سواسی بتائی گئی تھی- یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی شام پانچ بج کر دس منٹ پر پیش آیا اور حادثے کی جگہ پر بیس سے تیس ہزار کے قریب عازمین حج موجود تھے۔ اس حادثے کے وقت مکہ مکرمہ میں تیز آندھی اور طوفانی بارش ہو رہی تھی۔ سعودی میڈیہ نے اس حادثہ کی علت طوفان بتایا ہے ۔

ایران کے محکمہ حج و اوقاف نے بتایا ہے کہ مکہ مکرمہ میں پیش آنے والے حادثے میں ایک ایرانی جاں بحق اور کم سے کم پچیس زخمی ہوئے ہیں ۔

قابل بیان ہے : مکہ مکرمہ کرین حادثے میں زخمی چھ پاکستانیوں کی حالت تشویشناک ہے، باون زخمی شہر کے مخلتف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔

عازمین کے اہلخانہ کی سہولت کیلئے وزارت مذہبی امور میں کال سینٹر قائم کر دیا گیا، مسجد الحرام میں پیش آنے والے دلخراش واقعے میں باون پاکستانی بھی زخمی ہوئے، جن میں سے چھ کی حالت نازک ہے ۔

تاہم اب تک کسی پاکستانی کے شہید ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی، حادثے میں زخمی مزید درجنوں پاکستانی بھی مکہ کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔

دوسری جانب عازمین حج کے اہلخانہ کی سہولت کیلئے وزارت مذہبی امور میں ہنگامی کال سینٹرقائم کردیا گیا ہے، معلومات کیلئے042111725425 پررابطہ کیا جاسکتا ہے ۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 23 شهریور 1394 09:46 ق.ظ

سعودی عرب ، دہشت گردوں کی حمایت بند اور شیعوں کا قتل عام روک دے ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے حزب اللہ عراق کی وارننگ

شنبه 2 آذر 1392 11:49 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،

عراق کی حزب اللہ تنظیم کے سکریٹری جنرل واثق البطاط نے سعودی عرب کے غیر آبادی والے سرحدی علاقہ میں 6 راکٹ داغنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سعودی عرب کو متنبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت ترک اور شیعوں کا قتل عام بند کردے ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔اس نے کہا کہ یہ اقدام سعودی عرب کو متنبہ کرنے کے لئے کیا گیا ہے ورنہ ہم سعودی عرب کے اندر آل سعود پر مہلک اور کاری ضرب وارد کرسکتے ہیں۔ حزب اللہ عراق نے سعودی عرب کو دھمکی دیتے ہوئےکہا ہے کہ دہشت گردوں کی حمایت بند کردے ورنہ ہم سعودی عرب کو قتل گاہ میں تبدیل کردیں گے سعودی عرب کے تیل کی تنصیبات ، پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ حزب اللہ عراق کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ عراقی عوام ، سعودی تکفیریوں کی گھناؤنی سازشوں کا بہت عرصہ سے شکار ہیں اور اب ہمارا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا ہے اور ہم سعودی عرب کو دہشت گردوں کی حمایت کرنے کی عبرتناک سزا دے سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک طرف امریکہ کی حمایت کررہا ہے اور دوسری طرف دہشت گردوں کے ذریعہ اسلامی ممالک کو کمزور بنا کر امریکی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا رہا ہے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

عراق، آیت اللہ سیستانی سے اقوام متحدہ کے نمائندے کی ملاقات

جمعه 17 آبان 1392 05:58 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،
عراق، آیت اللہ سیستانی سے اقوام متحدہ کے نمائندے کی ملاقات

عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کرنے نجف پہنچے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نیکولائی ملادینف، آج نجف پہنچنے کے بعد بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کرنے گئے۔ اس ملاقات کا ہدف عراق کے حالات، بالخصوص سکیورٹی کی صورتحال ، انتخابات کے قانون اور قومی اتحاد کے تحفظ کی راہوں کاجائزہ لینا، بتایا گیا ہے۔ عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندے کا یہ پہلا دورۂ نجف اشرف ہے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : جمعه 17 آبان 1392 05:59 ب.ظ

عراق میں سعودی عرب کے تین سو خود کش بمبار دہشتگرد

پنجشنبه 16 آبان 1392 01:48 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،


عراق میں سعودی عرب کے دہشتگرد

سعودی عرب کے ایک اخبار نے اعتراف کیا ہےکہ سعودی عرب کے سیکڑوں خود کش بمبار دہشتگرد عراق میں موجودہ ہیں۔   سعودی عرب کے تکفیری دہشتگرد عناصر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب نے عراق میں بدامنی پھیلانے کےلئے تین سو خود کش بمبار دہشتگرد بھیجے ہیں۔ اس اخبار نے عراق میں سعودی عرب کے تکفیری عناصر کی تخریبی کاروائیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہابی مفتی اپنے جاہلانہ فتووں کے سہارے سعودی جوانوں کو موت کے منہ میں ڈھکیل رہے ہیں۔ ادھر عراق کے ایک محقق اور دانشور عبدالجبار موسوی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی منفی پالیسیاں اور تکفیری فکر کی ترویج میں تیزی آئی ہے جس کے نتیجے میں عراق میں دہشتگردی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لبنان کے دانشور شیخ عادل الترکی نے بھی شام عراق اور لبنان میں جاری فتنوں کی طرف اشارہ کرتے  ہوئے کہا ہے کہ دشمنوں کا ہدف تکفیری طرز فکر کو رواج دے کر مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نہ صرف شام بلکہ متعدد ممالک میں دہشتگردوں کی حمایت کررہا ہے۔ 




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : پنجشنبه 16 آبان 1392 01:48 ب.ظ

شمالی لبنان میں یہودی و تکفیریوں کے بھیانک 42 شہید 500 زخمی بم دھماکے

شنبه 2 شهریور 1392 09:15 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،

لبنان کے شمال میں واقع شہر طرابلس میں دو مساجد ’’ السلامہ‘‘ اور ’’التقویٰ‘‘ کے باہر نماز جمعہ کے فورا بعد بھیانک دھماکے ہوئے ہیں جن میں 42 افراد جانبحق اور زخمی ہوئے ہیں۔

شمالی لبنان کے شہر طرابلس میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد 42 ہوگئی ہے جبکہ 500 سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

 سیکورٹی ذرا‏ئع نے بتایا کہ طرابلس شہر میں نماز جمعہ کےبعد ہونے والے دو طاقتور بم دھماکوں میں 42 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔  پہلا دھماکہ شہر کی مسجد تقوی کے قریب ہو ا جبکہ دوسرا دھماکہ المینا کے علاقے میں مسجد سلام کے باہر ہوا۔ ذرا‏ئع کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا طاقتور تھا کہ آس پاس کھڑی 60 گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ 

حزب اللہ لبنان نے دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکوں کا مقصد ملک کو خانہ جنگ کی آگ میں جھوکنا ہے۔ حزب اللہ کے بیان میں آیا ہے کہ اس دھماکے میں بھی انہیں کا ہاتھ ہے جنہوں نے کچھ دن قبل بیروت کے الضاحیہ علاقے کو خاک و خون میں غرق کر دیا تھا۔  اسی طرح لبنان کی مذہبی اور سیاسی شخصیات نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

 




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

آل سعود صیہونی حکومت کے محافظ

شنبه 26 مرداد 1392 07:41 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،

سعودی حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سعودی عرب کے بادشاہ نے دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کے سلسلے میں گفتگو کی ہے۔

 شاہ عبداللہ اور بان کی مون نے ٹیلیفون پر اپنی گفتگو کےدوران اقوام متحدہ کی سرپرستی میں دہشتگردی کے مقابلے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ سعودی عرب نے دہشتگردی کے مقابلے کا پروگرام آگے بڑھانے کے لئے اقوام متحدہ کو سو ملین ڈالر دیئے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے اس اقدام پر عالمی مبصرین کو شدید حیرت ہے کیونکہ سعودی عرب مختلف ملکوں منجملہ شام، بحرین، یمن، لبنان،پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردوں کی کھلے عام حمایت کررہا ہے۔ بہت سے عالمی حلقے سعودی عرب کو دہشتگردی کا سب سےبڑا حامی سمجھتے ہیں جو مشرق وسطی میں مغرب اور صیہونی حکومت کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں بھر پور کردار ادا کررہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ساری دنیا میں انتھا پسند وہابی دہشتگردوں کو سعودی عرب کی مالی حمایت حاصل ہے۔ بغداد میں امریکہ کے سابق سفیر کرسٹو فر ہیل نے بھی وائٹ ہاوس کو اپنی رپورٹوں میں کہا تھا کہ سعودی عرب عراق میں دہشتگردی کی حمایت کرکے بغداد کی عوامی حکومت کے لئے سب سےبڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ کرسٹو ہل نے وائٹ ہاوس کو آگاہ کیا تھا کہ سعودی عرب اپنے درباری ملاؤں کو قتل کے فتوے جاری کرنے پر مجبور کرکے دیگر قوموں کے خلاف دہشتگردی پھیلا رہا ہے۔

پاکستان میں بھی خونخوار دہشتگرد گروہ جیسے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ سیاس مبصرین کا خیال ہےکہ جب تک ارض حجاز پر آل سعود کی حکومت قائم ہے صیہونی حکومت کو بھی تحفظ حاصل ہے۔

ساری دنیا میں انتھا پسند وہابی دہشتگردوں کو سعودی عرب کی مالی حمایت حاصل ہے۔ بغداد میں امریکہ کے سابق سفیر کرسٹو فر ہیل نے بھی وائٹ ہاوس کو اپنی رپورٹوں میں کہا تھا کہ سعودی عرب عراق میں دہشتگردی کی حمایت کرکے بغداد کی عوامی حکومت کے لئے سب سےبڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ کرسٹو ہل نے وائٹ ہاوس کو آگاہ کیا تھا کہ سعودی عرب اپنے درباری ملاؤں کو قتل کے فتوے جاری کرنے پر مجبور کرکے دیگر قوموں کے خلاف دہشتگردی پھیلا رہا ہے۔

آج سعودی اور قطری سرمائے کے بل بوتے پر دنیا بھر کے سلفی اور القاعدہ کے جنگجوؤں کی مدد ہورہی ہے اور اس حوالے سے نہ صرف سعودی اور قطری پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے بلکہ سعودی عرب کے نام نہاد علماء نے اپنے فتووں کی کتابیں بھی کھول دی ہیں۔ سعودی علماء جو بحرین میں حکومت مخالف مظاہرون کو خلاف اسلام اور حرام سمجھتے تھے، آج عراق اور شام میں مسلمانوں کے قتل عام اور حکومت کو نیست و نابود کرنے کو جائز قرار دے رہے ہیں اور انکی دامے درمے سخنے مدد بھی کر رہے ہیں۔

افغانستان، پاکستان، عراق، یمن، بحرین اور اب شام میں امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے ملک کی حثیت سے سعودی عرب کا کردار اتنا عیاں ہو گیا ہے کہ کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی ۔ عرب ممالک کی انقلابی تحریکوں اور خطے کے ممالک سے متعلق سعودی عرب کے اقدامات اور موقف سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس وقت سعودی عرب ان تمام ممالک پر دباؤ ڈالنے کے سلسلے میں امریکہ کا آلۂ کار بن چکا ہے جن کو واشنگٹن اپنا دشمن جانتا ہے، یا جن ممالک میں امریکہ کے مفادات خطرے میں ہیں۔ سعودی عرب نے خطے کے عرب ممالک میں جاری انقلابی تحریکوں کو کچلنے کے لئے ان ممالک کے حکام کو بے تحاشا دولت سے نوازا ہے،

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں تکفیری دیوبندی اور تکفیری سلفیوں کے ملوث ہونے اور ان کو سعودی عرب سے برا راست حمایت اور فنڈنگ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور تنظیموں کو چاہے کے وہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو اس بات پر مجبور کریں وو سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی فنڈنگ جس سے پوری دنیا میں دہشت گردی کی جاتی ہے اس پر اور تکفیری اور سلفی دہشتگردوں کے خلاف کڑے سے کڑے اقدامات کریں۔

سعودی شہزادی اور انسانی حقوق کی کارکن حلا الدوساری نے کہا ہےکہ آل سعود کی حکومت وسیع پیمانے پر انسانی حقوق پامال کررہی ہے۔

حلا الدوساری نے رشیا ٹوڈے سے گفتگو میں سعودی عرب میں مخالفین کی شدید سرکوبی کےبارے میں کہا کہ آل سعود کی حکومت نے عوام کے شہری، سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور انسانی حقوق سلب کررکھے ہیں جس کی وجہ سے ارض وحی پر بسنے والوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

ادھرایک اور سعودی شہزادہ خالد بن فرحان آل سعود نےجو اس وقت جرمنی میں پناہ گزین ہیں رشیا ٹوڈے سے گفتگو میں کہا کہ آل سعود، جزیرہ نمائے عرب میں عوامی انقلاب روکنے کےلئے ہرجتن کررہی ہے جس میں ظالمانہ قوانین کی منظوری اور ہزاروں لوگوں کی گرفتاریاں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آل سعود کےحکام ان لوگوں کو جو آزادئی بیان کی بات کرتے ہیں گرفتار کرلیتےہیں اور جھوٹی عدالتوں میں ان پر جھوٹے ثبوتوں کی مدد سے مقدمہ چلا کر جیلوں میں ڈال دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں عوام سیاسی شراکت کے خواہاں ہیں اور اپنے ملک اور اپنے بارے میں فیصلے کرنے کی آرزو رکھتے ہیں۔

 




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

آج عرب اپنے اصلی دشمن اسرائیل کے بجاے شیعوں کے مد مقابل کھڑے ہیں. حسن نصراللہ

یکشنبه 13 مرداد 1392 04:45 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،

سید حسن نصراللہ نے عالمی یوم قدس کی مناسبت سے جنوبی بیروت میں واقع سیدالشھداء کمپلکس میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے چند مہینوں بعد سات اگست 1979 کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے ایک بیان میں مستضعف قوموں خاص طور پر مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعے کو عالمی یوم قدس منائیں ۔
انہوں نے کہا: رھبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی امام خمینی(رح) کی رحلت کے بعد اس مشن کو اپنی پوری توجہات کے ساتھ جاری رکھا ہے ۔
 انہوں نے کہا: امام خمینی(رہ) نے اسرائیل کی حقیقی ماہیت کوآشکارہ کیا اور اس حکومت کو کینسر کے پھوڑے سے تعبیر کیا اس لئے اسرائیل کا وجود ایک ناسور ہے اور اس ناسور کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل نہ صرف فلسطین کے لئے خطرہ ہے  بلکہ علاقے کے ملکوں کے لئے ایک عظیم خطرہ ہے ۔ بعض لوگ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل صرف فلسطین کے لئےخطرہ ہے اور اس سے لبنان ، شام ، اردن ، مصر ، عراق اور خلیج فارس اور شمالی افریقہ کے اسلامی ملکوں کو خطرہ نہیں ہے جبکہ یہ لوگوں کے ذہنوں کو منحرف کرنے کی ایک چال ہے ۔
حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل نے کہا: قدس کی حمایت کرنا ہم سب کا اولین فریضہ ہے مسلمان عیسائی بلکہ تمام انسانوں کا فریضہ ہے۔ لیکن زیادہ ذمہ داری ہم عربوں پر عائد ہوتی ہے کہ ہم اسرائیل کے مقابلے میں مقاومت کریں۔
حسن نصراللہ نے کہا: افسوس سے جہان عرب بجائے اس کے کہ اپنے اصلی دشمن اسرائیل کے مد مقابل صف آرا ہوں امریکہ اور مغرب کے پیروں پر پیر رکھتے ہوئے شیعوں کے مد مقابل کھڑے ہیں اور شیعوں کے خلاف پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد عرب ممالک نے جتنا سرمایہ ایران کے خلاف سازشوں پر خرچ کیا ہے اتنا اگر اسرائیل کے خلاف کیا جاتا تو فلسطین آزاد ہو گیا ہوتا۔ دنیا ساری کی فوجیں ایران کے خلاف ہم صدا ہو گئیں اور اسرائیل کے بجائے ایران کو نشانہ بنا لیا۔
حسن نصر اللہ نے کہا: کیا مصر میں اس وقت سیاسی جنگ ہے یا مذہبی؟ یمن، لیبیا اور دوسرے ممالک میں سیاسی جنگیں چل رہیں ہیں نہ مذہبی۔ عراق، شام بحرین ان تمام ممالک سیاسی جنگیں ہیں۔ لیکن دشمن ان جنگوں کو مذہبی جنگوں کا روپ دینا چاہتا ہے۔ دشمن ان جنگوں کو شیعہ سنی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت تمام مذہبی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی ضرورت ہے، تمام مسلمانوں کو متحد ہو کر مسئلہ فلسطین کے بارے میں چارہ جوئی کرنے کی ضرورت ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا: سب کو مل کر اسرائیل ناسور کو نابود کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اور ہمارے پاس اسے نابود کرنے کی طاقت بھی موجود ہے۔
حسن نصر اللہ نے کہا: ہم شیعیان علی (ع) ہمیشہ فلسطین اور فلسطینی عوام کے ساتھ رہیں گے ہمارا محور قدس ہے ہم تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صرف مسئلہ فلسطین پر اپنی توجہات مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

آل سعود کے خلاف مظاہرے جاری

جمعه 21 تیر 1392 06:17 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،
 
آل سعود کے خلاف مظاہرے جاری
 موصولہ خبروں کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں خواتین  بدھ کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی سڑکوں پرآئیں اور انہوں نے سیاسی قیدیوں کے ساتھ یکہجتی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے لگائے-
مظاہرے میں شریک خواتین نے سیاس قیدیوں کی صورتحال کے بارے میں جاری سینسر شپ کی مذمت کرتے ہوئے قیدیوں پر ڈھائے جانے والے تشدد کی بابت حکومت کو سخت منتبہ کیا-  مظاہرہ کرنےو الی خواتین نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور تنظیموں سے بھی مطالبہ کیاکہ وہ سعودی عرب کی جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی رہائے کے لئے شاہی حکومت پر دباؤ ڈالیں- ان کہنا تھا کہ بیشتر سیاسی قیدیوں کو پندرہ بیس سال سے بغیر مقدمہ چلائے بند رکھا گیا ہے-
احتجاج کرنے والی خواتین نے وزیر داخلہ محمد بن نائف کے خلاف بھی نعرے لگائے اور انہیں تمام سیاسی قیدیوں کی جان کا ذمہ دار قرار دیا- سعودی عرب کے مشرقی شہروں قطیف اور العوامیہ بھی   ایسے ہی مظاہرے کئے گئے جس میں شریک لوگوں نے عام شہریوں کے گھروں پر سیکورٹی اہلکاروں کے بلا جواز حملوں کی مذمت کی-
مظاہرین کا کہنا ہے کہ شاہی حکومت اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے کسی بھی جرم کے ارتکاب سے گریز نہیں کر رہی.

 




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

ساری دنیا میں حضرت امام حسین (ع) کے یوم ولادت پر جشن

چهارشنبه 22 خرداد 1392 10:37 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،

پر جشن

 

ساری دنیا میں حضرت امام حسین (ع) کے یوم ولادت پر جشن

آج  ساری دنیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن اور خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ ابی الاحرار حضرت سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے روز ولادت باسعادت کی مناسبت سے عراق ، ایران  میں تمام مقدس مقامات بالخصوص کربلا ، نجف اشرف، کاظمین اور سامرا اور مشہد مقدس میں اس وقت کروڑوں  زائرین کا مجمع ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند حضرت امام رضا علیہ السلام اور قم میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے روضہ ہائے اقدس کو نہایت ہی خصوبصورتی سے سجایا گیا ہے اور روضوں کے اطراف نہایت ہی دیدہ زیب چراغان کیا گیاہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے چھوٹے بڑے شہروں اور قریوں میں ہر طرف سجاوت دکھائی دے رہی ہے اورنجی اور سرکاری عمارتوں پر لائٹنگ کی گئی ہے۔ ہرتہران سمیت دیگر شہروں میں جگہ جگہ پر شربت کی سبیلیں لگائی گئی ہیں جہاں راہگیروں کو چاے، شربت اور مٹھائیاں پیش کی جارہی ہیں۔ سارے ایران میں شہروں اور قریوں کی مساجد، امام بارگاہوں اور مراجع کرام و علماء عظام کے گھروں میں محفلوں اور جشن کا سلسلہ جاری ہے جو گذشتہ روز ہی سے شروع ہوچکا تھا۔ ان محافل قصیدہ خوانی میں شعرا اور خطباء نیز علماء اھل بیت عصمت و طہارت اور نبوت و امامت کے گھرانے کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔ واضح رہے آج اسلامی جمہوریہ ایران میں تین شعبان کو یوم پاسدار بھی منایا جاتا ہے۔ ادھر عراق سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کربلائے معلی میں اس وقت لاکھوں زائرین کا مجمع ہے جو اپنے امام کے روضہ میں حاضر ہوکر ان سے عقیدت و محبت کا اظہار کررہا ہے۔ کربلا کے ساتھ ساتھ نجف اشرف، کاظمین اور سامراکے مقدس روضوں میں بھی لاکھوں زائرین موجود ہیں جو اھل بیت نبوت و امامت کی خوشیوں میں خوشیاں منارہے ہیں۔ قابل ذکرہے۔ لبنان میں بھی آج ابی الاحرار حضرت سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے زیر اہتمام ہونے والے عظیم جشن میں ابنائے ملت لبنان نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کرکے آپ کے راستے پرقائم رہنے کا عھدکیا۔ شام میں بھی شریکۃ الحسین حضرت زینب بنت علی علھیم السلام کے مزار میں دسیوں ہزار افراد نے جشن منایا اور ثانی زہرا کو ان کے بھائی کی ولادت باسعادت کی مبارک باد پیش کی۔ ادھر ہندوستان وپاکستان میں کل تین شعبان ہے۔ ادھر بحرین اور سعودی عرب میں لوگوں نے اپنے گھروں کی چار دیواری میں تین شعبان کی مناسبت سے محفلیں اور جشن منائے ، ان ملکوں میں اھل بیت نبوت کے پیرووں کے مذہبی آداب پر پابندی ہے




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

شامی فوج کی دہشت گردوں کے خلاف فتح کا سلسلہ جاری

چهارشنبه 22 خرداد 1392 10:36 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،

صوبہ حلب میں شامی فوج کی پیشرفت

شامی فوج نے حمص میں امریکہ نواز سلفی وہابی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اہم علاقہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد دہشت گردوں کو محاصرے میں لے لیا ہے۔ شام میں سرگرم امریکہ نواز سلفی وہابی دہشت گردوں کے خلاف شامی فوجی کی فتح کا سلسلہ جاری ہےشامی فوج نے حمص میں سلفی وہابی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اہم علاقہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد دہشت گردوں کو محاصرے میں لے لیا ہے۔ شامی فوج کے مطابق دہشت گرد اس علاقہ سے حمص کے قدیم علاقہ بابا عمرو اور جورہ الشباح میں وارد ہوتےتھے روسیا الیوم کے نامہ نگار کے مطابق شامی فوج نے حمص کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کردیا ہے۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق شام کی فوج نے آج صوبہ حلب میں پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے نبل اور الزھرا علاقوں کامحاصرہ توڑنے کی کوشش میں لگی ہے تاکہ ان راستوں کو کھول کر شہریوں کو امداد پہنچا سکے۔ شام کی فوج نے کفر حمرا اور کفر داعل میں پیش قدمی کی ہے۔ حلب میں شام کی فوج کے آپریشن میں سیکڑوں دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ صیہونیت کے آلہ کار ان دہشتگردوں کےپاس سے بھاری مقدارمیں ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔

 




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

شامی فوج کی القصیر شہر پرفتح کے بعد شام اور لبنان میں عوامی جشن و سرور

شنبه 18 خرداد 1392 02:54 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،

شامی اور لبنانی عوام نے شام کے شہر القصیر پر شامی فوج کی فتح اور دہشت گردوں کی شکست پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائی تقسیم کی ہے شامی فوج نے القصیر پر امریکہ و اسرائیل سے وابستہ القاعدہ دہشت گردوں پر کاری ضرب وارد کرتے ہوئے شہر کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

اجتماعی و سماجی نیٹ روکس پر جاری تصویروں سے پتہ چلتا ہے القصیر شہر پر شامی فوج کی کامیابی پر شام اور لبنان کے عوام جشن اور خوشی منارہے ہیں ۔ القصیر شہر پر گذشتہ دو برسوں سے سعودی عرب ، قطر ، ترکی ،امریکہ اور اسرائیل نواز سلفی وہابی دہشت گردوں کا قبضہ تھا جسے شامی فوج نے تین ہفتوں کی مرحلہ وار کارروائی کے دوران آج مکمل طور پر آزاد کرالیا ہے شامی فوج نے اس علاقہ میں سلفی وہابیوں کی کمر توڑتے ہوئے انھیں عبرتناک سبق سکھایا ہے۔ شام اور لبنان میں  لوگ القصیر کی فتح پر آپس میں مٹھائیاں تقسیم کررہے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق شام کے سرحدی شہر القصیر پر شامی فوج نے مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے اور القاعدہ سے وابستہ سلفی وہابی دہشت گرد کچھ ہلاک اور بعض فرار ہوگئے ہیں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

 

 القصیر آزاد/ لبنان اور شام میں جشن مسرت/ ایران کی شام کو مبارک باد
شام کے سرحدی شہر القصیر پر شامی فوج نے مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے اور القاعدہ سے وابستہ سلفی وہابی دہشت گرد کچھ ہلاک اور بعض فرار ہوگئے ہیں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں غیر ملکی دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ القصیر شام کے صوبہ حمص کا شہر ہے جس پر گذشتہ دوسال سے القاعدہ سے وابستہ ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کا قبضہ تھا شامی فوج نے تین ہفتوں کی کارروائی کے دوران القصیر پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اس کارروائی درجنوں سلفی وہابی دہشت گرد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں بہت سے دہشت گرد شام کے اس سرحدی شہر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ شام کے اہلسنت اور دیگر شامی اقوام نے ملکر شام کو سلفی وہابیوں کے قبرستان میں تبدیل کردیا ہےاور سعودی عرب اور قطر کے سلفی وہابی ملاؤں کے فتوے بھی سلفی وہابی دہشت گردوں کے کچھ کام نہ آئے اہلسنت علماء ، سلفی وہابیوں کو بے دین سمجھتے ہیں۔

شامی فوج کی مسلسل تین ہفتہ جد و جہد کے بعد دو سال سے مقبوضہ شہر القصیر کو تفکیری دھشتگردوں کے ناپاک وجود سے پاک کروا لیا ہے۔

 القصیر میں پرچم شام لہرا دیا گیا

شام کے سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا ہے کہ شام کے سرحدی شہر القصیر پر شامی فوج کے مکمل کنٹرول حاصل ہونے کے بعد اس شہر کے بلندیوں پر دوبارہ پرچم شام لہرا دیا گیا ہے۔
القاعدہ سے وابستہ سلفی وہابی دہشت گردوں کی کثیر تعداد اس شہر میں ہلاک اور مابقی فرار ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں غیر ملکی دہشت گرد بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ القصیر شام کے صوبہ حمص کا شہر ہے جس پر گذشتہ دوسال سے القاعدہ سے وابستہ ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کا قبضہ تھا شامی فوج نے تین ہفتوں کی کارروائی کے دوران القصیر پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اس کارروائی درجنوں سلفی وہابی دہشت گرد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں بہت سے دہشت گرد شام کے اس سرحدی شہر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ شام کے اہلسنت اور دیگر شامی اقوام نے ملکر شام کو سلفی وہابیوں کے قبرستان میں تبدیل کردیا ہےاور سعودی عرب اور قطر کے سلفی وہابی ملاؤں کے فتوے بھی سلفی وہابی دہشت گردوں کے کچھ کام نہ آئے اہلسنت علماء ، سلفی وہابیوں کو بے دین سمجھتے ہیں۔

القصیر کی آزادی پر شام اور لبنان میں جشن مسرت
شامی اور لبنانی عوام نے شام کے شہر القصیر پر شامی فوج کی فتح اور دہشت گردوں کی شکست پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائی تقسیم کی ہے۔ شامی فوج نے القصیر پر امریکہ و اسرائیل سے وابستہ القاعدہ دہشت گردوں پر کاری ضرب وارد کرتے ہوئے شہر کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
 ذرائع کے مطابق اجتماعی و سماجی نیٹ روکس پر جاری تصویروں سے پتہ چلتا ہے القصیر شہر پر شامی فوج کی کامیابی پر شام اور لبنان کے عوام جشن اور خوشی منارہے ہیں۔ القصیر شہر پر گذشتہ دو برسوں سے سعودی عرب، قطر، ترکی، امریکہ اور اسرائیل نواز سلفی وہابی دہشت گردوں کا قبضہ تھا جسے شامی فوج نے تین ہفتوں کی مرحلہ وار کارروائی کے دوران آج مکمل طور پر آزاد کرلیا ہے شامی فوج نے اس علاقہ میں سلفی وہابیوں کی کمر توڑتے ہوئے انھیں عبرتناک سبق سکھایا ہے۔

 صدر مملک احمدی نژاد کی بشار الاسد کو مبارک باد
 شام کی نیوز ایجنسی دام پرس کے مطابق شام کے شہر القصیر کے تکفیری دھشتگردوں کے ناپاک وجود سے پاک ہونے کے پر مسرت موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے براہ راست شام کے صدر بشار الاسد کو مبارک باد پیش کی ہے۔

القصیر کے آزادی پر ایران کے وزارت خارجہ کی طرف سے کی شام کو مبارک باد
اسلامی جمہوری ایران کے عرب اور افریقائی ممالک کے لئے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے شامی فوج کی طرف سے لبنان کے بارڈر کے نزدیک واقع اہم اور اسٹریٹجک شہر القصیر کو تکفیری دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کروانے اور مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لینے پر شام کی حکومت، عوام اور مسلح افواج کو مبارکباد دی ہے۔
 ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بعض ممالک ابھی تک شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کو اسلحہ ارسال کر رہے ہیں، اور شامی حکومت اور عوام کے خلاف ان کے دہشتگردانہ اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ممالک شام میں قتل و غارت اور وہاں ہونے والی تباہی کے براہ راست ذمہ دار ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان پر جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے پر مقدمہ چلایا جائے۔ شام کی مسلح افواج نے تقریباً دو ہفتے کی شدید لڑائی کے بعد آج القصیر شہر کو تکفیری دہشتگردوں سے مکمل طور پر آزاد کروا لیا ہے، اور وہاں پر شام کے پرچم نصب کر دیئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب شامی فوج القصیر شہر کے شمالی حصے سے دہشتگردوں کے فرار کے بعد اس کی پاکسازی کر رہی ہیں اور تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے اس علاقے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ شہر القصیر شام کے صوبہ حمص کا مرکزی شہر ہے۔

 

 




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

عراق کے وزیر اعظم ’’نوری مالکی‘‘ کا بھتیجا شام میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے روضے کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ۔

یکشنبه 12 خرداد 1392 10:57 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،

عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی امریکی سازش

امریکہ کے نائب صدر جو بایڈن نے عراق کے امور میں مداخلت کرتے ہوئے عراق کو کرد، شیعہ اور سنی تین حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ 

 کویت کے اخبار القبس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر جو بایڈن نے عراق کے امور میں مداخلت کرتے ہوئے عراق کو کرد، شیعہ اور سنی  تین حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

اخبار کے مطابق امریکہ کے نائب صدر جو بایڈن نے حال ہی میں ایک عراق وفد کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ عراق کے بحران کو حل کرنے کے لئے عراق کو شیعہ، سنی اور کرد تین حصوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔ عراق کے دارالحکومت بغداد سمیت کئی شہروں میں حالیہ دنوں میں زبردست بم دھماکے کئے گئے ہیں ان بم دھماکوں میں القاعدہ دہشت گرد تنظیم ملوث ہے جو خطے میں امریکی منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے اسلامی ممالک کو کمزور کررہی ہے القاعدہ دہشت گرد تنظیم سعودی عرب کے سلفی وہابی دہشت گردوں پر مشتمل تنظیم ہے۔

عراق کے وزیر اعظم ’’نوری مالکی‘‘ کا بھتیجا شام میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے روضے کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو گیا ہے۔

 عراق کے وزیر اعظم ’’نوری مالکی‘‘ کا بھتیجا شام میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے روضے کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو گیا ہے۔
السفیر نیوز ایجنسی نے اس خبر کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’علی حسین مالکی‘‘ عراق کے ایک گروپ کے ساتھ دمشق میں حضرت زینب (س) کے روضے کی حفاظت کے لیے شام گیا ہوا تھا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے روضے کے قریب دھشتگردوں کے ساتھ ہونے والی ایک جھڑپ میں شہید ہو گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دھشتگردوں کی طرف سے شام میں تمام اسلامی مقدسات مخصوصا روضہ حضرت زینب (س) کو منہدم کرنے کی دی گئی دھمکی کے بعد عراق اور لبنان سے کچھ عاشقان اہلبیت(ع) اس روضے کی حفاظت کے لیے شام پہنچ گئے تھے اور اب تک روضے کی حفاظت کر رہے ہیں۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

سعودی قیدیوں کے اہل خانہ کو بھی گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع

یکشنبه 12 خرداد 1392 10:55 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مختلف ممالک کی خبریں ،
 سعودی قیدیوں کے اہل خانہ کو بھی گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع
  العالم کی رپورٹ کے مطابق محمد فہد الرشودی ابوماجد کے رشتہ داروں کو آل سعود کے کارندوں نے گرفتار کرلیا۔ ابو ماجد کے رشتہ دار ان کی رہائی کی امید لئے الرصافہ جیل کے باہر تھے جہاں انہیں آل سعود کے کارندوں نے گرفتار کرلیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ابوماجد کے استقبال کے لئے آئی ہوئی گاڑیوں کو سعودی کارندوں نے گھیر لیا جس کے بعد ان کے گھرانے کے افراد نے پولیس سے انہیں رہا کرنے کی درخواست کی جس کےبعد سعودی پولیس نے سارے قبیلے کو گرفتار کرلیا۔ سعودی پولیس نے ابو ماجد کے خاندان کی خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا اور انہیں الشرقیہ صوبے کی پولیس کے حوالے کردیا۔ ابوماجد کے دیگر رشتہ دار اب بھی الشرقیہ صوبے میں ان کی رہائی کے لئے احتجاج کررہے ہیں۔ واضح رہے انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہاکہا ہے کہ آل سعود کی کال کوٹھریوں میں تیس ہزار افراد قید وبند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -



کی تعداد صفحات: 2 1 2