تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب حوزه علمیه قم
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

آٹھ شوال مسلمانوں کے لئے نہایت غم و اندوہ کا دن سانحہ انہدام جنت البقیع کی برسی پر حوزہ علمیہ قم کا بیان

شنبه 26 مرداد 1392 07:40 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: حوزه علمیه قم ،

آٹھ شوال مسلمانوں کے لئے نہایت غم و اندوہ کا دن

حوزہ علمیہ قم نے ایک بیان جاری کرکے گمراہ فرقے وہابیت کے ہاتھوں حرمین شریفین اور دنیا کے مختلف علاقوں میں تاریخی اسلامی عمارتوں، مدینے کے قبرستان بقیع میں اھل بیت علیھم السلام اور صحابہ کرام کے مزارات کے انہدام اور مقدس مقامات کے انہدام کی مذمت کی ہے۔

اس بیان میں آیا ہےکہ آٹھ شوال مسلمانوں کے لئے نہایت غم و اندوہ کا دن ہے کیونکہ اسی دن وہابیت کے ہاتھوں قبرستان بقیع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اھل بیت علیھم السلام کی قبور مطہرہ ڈھا دی گئی تھیں۔ اس بیان میں آیا ہےکہ وہابیت نے جو سامراج کا بنایا ہوا گمراہ فرقہ ہے اس کے اس اقدام سے عالم اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

حوزہ علمیہ قم نے اپے بیان میں اس المیے کی برسی کی مناسبت سے حضرت امام زمانہ علیہ اسلام، قائد انقلاب اسلامی مراجع کرام اور علماء عظام نیز مسلماناں عالم کو تعزیت وتسلیت پیش کی ہے اور تمام محبان اھل بیت علیھم السلام سے درخواست کی ہے کہ آٹھ شوال کو ائمہ بقیع علیھم السلام کی قبروں کے انہدام کی یاد تازیں رکھیں اور اس دن سوگ منائیں۔

 




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

قرآنی محفلوں کا کثرت سے انعقاد وہابیت کے منہ پر محکم طمانچہ/ اہلبیت(ع) صراط مستقیم ہیں آیت اللہ مکارم شیرازی

شنبه 22 تیر 1392 09:04 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: حوزه علمیه قم ،

مصری حکومت شیعہ قتل میں ملوث افراد کا فورا محاکمہ کرے/علمائے اسلام خاموش نہ رہیں

آیت اللہ مکارم شیرازی نے ماہ مبارک رمضان میں ایران کے متعدد مقامات پر منعقد ہونے والے قرآن محافل  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی محافل تو سعودی عرب میں بھی منعقد نہیں ہوتے، شیعوں کے درمیان قرآنی محفلوں  کا کثرت سے منعقد ہونا اور قرآن کو سب سے زیادہ اہمیت دینا وہابیت کے منہ پر محکم طمانچہ ہے۔
مرجع تقلید آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے قرآن اور اسلامی تعلیمات پر عمل کو عالم اسلام میں امن و سکون پر مبنی معاشرے کے قیام کی تنہا راہ قرار دیا ہے.
ایران کے ایک مرجع تقلید آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے ماہ رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر کل ایران کے مقدس شہر قم میں قرآن کریم کی تفسیر کے درس میں کہا کہ اگر اسلامی قومیں پائیدار امن و سلامتی کے درپے ہیں تو ان کو حتمی طور پر قرآن اور دینی احکامات پر عمل پیرا ہونا پڑے گا ۔
آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے آج کے دور میں عالم اسلام کی مشکلات اور بعض اسلامی ممالک میں جاری بد امنی اور جاری جھڑپوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا شرک، جہالت، اختلافات اور اخلاقی برائیاں، قرآنی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے ۔
 آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے تاکید کی کہ قرآن لوگوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے اور  فتنوں پر قابو پانے کی نشاندہی کرتا ہے ۔
مفسر قرآن کریم نے صراط مستقیم کے سلسلے میں امام صادق علیہ السلام کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جس میں امام علیہ السلام نے فرمایا: واللہ نحن صراط المستقیم‘‘ کہا: اس حدیث کا مفھوم یہ ہے یہ صراط مستقیم صرف اہلبیت(ع) ہیں۔ انہوں نے تفسیر نور الثقلین میں وارد حدیث کی طرف اشارہ کیا جس میں امام علیہ السلام نے فرمایا: صراط مستقیم علی بن ابی طالب ہیں۔
آیت اللہ مکارم شیرزای نے اس بات کی طرف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امیرالمومنین (ع) تمام انسانی صفات کے مجسمہ اور عالم اسلام کے لیے نمونہ عمل ہیں کہا: اگرآپ صراط مستقیم پر چلنا چاہتے ہیں تو امیر المومنین (ع) کو اپنا نمونہ عمل انتخاب کر لیں۔  




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

آیت الله مکارم شیرازی رسول اسلام نے فرمایا: ماہ مبارک رمضان کا روزہ انسان کے بدن کی زکات ہے

جمعه 21 تیر 1392 06:15 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: حوزه علمیه قم ،

 

رسول اسلام نے فرمایا: ماہ مبارک رمضان کا روزہ انسان کے بدن کی زکات ہے

مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله ناصر مکارم شیرازی نے ماہ مبارک رمضان کے پہلے دن اپنی سلسلہ وار تفسیر قران کریم کی نشست میں جو شبستان امام خمینی(ره) حرم کریمہ اهل بیت(ع) حضرت معصومہ(س) قم میں منعقد ہوئی ماہ مبارک رمضان کی مبارک باد پیش کی اور لوگوں سے اس ماہ کے روز و شب سے مکمل استفادہ کی تاکید کی  ۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے ماہ مبارک رمضان کے روزے کی اھمیت کا تذکرہ کیا اور کہا: اسلامی احکام کا تین حصہ ہے، اس کا پہلا حصہ عبادت ، دوسرا حصہ معاملات اور تیسرا حصہ اسلام کی سیاست سے متعلق ہے، پروگرام کی دنیا میں اسلام میں کسی قسم کی کمی موجود نہیں ہے ۔ 
انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلامی احکام کا خاص فلسفہ اور مصلحتیں موجود ہیں کہا: فلسفہ احکام کا ایک حصہ جیسے ظلم نہ کرنا، غبیت نہ کرنا، اور جھوٹ سے پرھیز  واضح و روشن ہے ، کچھ فلسفہ احکام قران کریم میں اور کچھ ائمہ طاھرین کے بیانات میں موجود ہیں اور کچھ اس طرح ہیں کہ اپنے ناچیز اور محدود علم کے باوجود اسے سمجھنے کی خود طاقت رکھتے ہیں ۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے مزید کہا: ھم جتنا زیادہ فلسفہ احکام کا ادراک کرسکیں گے ھم میں اتنا ہی زیادہ احکام الھی کی پیروی اور اطاعت خداوند متعال کا جزبہ بڑھے گا ۔
حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ کے اس استاد نے ایات قران اور روایات اھلبیت عصمت و طهارت(ع) کی نگاہ میں فلسفہ روز داری کی جانب اشارہ کیا اور ان کی تفسیر کی ۔
انہوں نے  قران کریم کی نگاہ میں تقوی الھی، نفس اور شیطانی وسوسہ پر غلبہ روزہ کا اصلی اور بنیادی فسلفہ جانا اور یاد دہانی کی : معنویتیں جس مقدار میں بھی انسان کے  مستحکم ہوں گی انسان کا درجہ بلند اور وہ ائمہ معصومین(ع) کے ھم رتبہ اور ھم درجہ قرار پائے گا ۔
اس مرجع تقلید نے روزہ اور تقوا الھی کے نزدیکی رابطہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا: روزہ میں بھوک و پیاس کا تحمل انسان کو اپنے اندر تقوی کو حیات عطا کرنے اور نفسانی اور شیطانی خواہشات کو کچلنے کا سبب بنتا ہے۔  
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے روزہ اور تقوے کے رابطہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا: قران کریم کی ایتوں کے مطابق انسان کا بہترین توشہ اخرت انسان کا تقوی ہے اور متقین سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہونچیں گے ۔
انہوں نے ایت شریفہ «ان اکرمکم عندالله اتقاکم» کی جانب اشارہ کیا اور کہا: روزہ جہاں بارگاہ خداوند متعال میں قربت کا سبب ہے وہیں جنت میں جانے کا وسیلہ بھی ہے  ۔ 
روزہ کے مادی فوائد
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ معنوی فائدہ کے علاوہ روزہ کے مادی فوائد بھی ہیں رسول اسلام سے منقول روایت کی جانب اشارہ کیا اور کہا: رسول اسلام سے منقول ہے کہ ماہ مبارک رمضان کا روزہ انسان کے بدن کی زکات ہے ۔ حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے روزہ کے سماجی فوائدہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا: امام جعفر صادق(ع) سے مقنول حدیث کے مطابق روزہ و حج انسان کی روح کے سکون کا سبب ہے ، خداوند متعال نے انسانوں پر روزہ واجب کیا تاکہ فقیروں اور امیروں کو برابر کردے ۔
اس مرجع تقلید نے روزہ داروں کو نصحیتیں کرتے ہوئے کہا: ماہ مبارک رمضان میں زیادہ سے زیادہ محروموں اور ناداروں کی مدد کی کوشش کریں ، ماہ مبارک رمضان، ماہ محبت، عطوفت اور احساسات ہے ، لوگ اس ماہ میں گذشتہ کہیں زیادہ نیاز مندوں اور مستضعفوں کی مدد کے درپہ رہیں ۔
مسلح افراد اپنے اسلحہ ایک گوشہ میں ڈال دیں
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے مختلف اسلامی ممالک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ماہ مبارک رمضان میں جنگ کے روکنے کی تجویز دی اور مشکلات میں گھرے ممالک اور مختلف گروپ کو نصیحتیں کی کہ اسلحہ کنارے رکھ کر گفتگو اور مذاکرہ کی میز پر حاضر ہوں ۔
انہوں نے بیان کیا: شیطانی وسوسوں کی بناء پر اسلامی ممالک ایک دوسرے کے لئے میدان جنگ بن چکے ہیں جبکہ سامراجی طاقتیں چین و سکون کے ساتھ ہیں ، دشمن نے شام، مصر، بحرین ، پاکستان، عراق اور دیگر ممالک میں اختلاف کی بیج بو کر جنگ کا سما بنا رکھا ہے لھذا ھرگز موقع نہ دیں کہ اسلامی ممالک ویرانہ میں بدل جائیں ۔

 




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

قیادت اور تنظیمی اداروں کے فیصلے پرلبیک کہتے ہوئے انتخابات میں بھرپور کردار ادا کرنا ہم سب کی اہم ذمہ داری ہے

دوشنبه 26 فروردین 1392 01:59 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: حوزه علمیه قم ،


 رپوٹ کے مطابق 13 اپریل 2013 کو مدرسہ حجتیہ قم المقدسہ میں جامعہ روحانیت سندھ کے زیر اہتتام ایک علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان سے زیارات کے لئے تشریف لائی ہوئی دو معزز شخصیات جناب ڈاکٹر ثاقب اکبر صاحب اور شیعہ علماء کونسل سندھ کے صوبائی جنرل سیکٹریٹری جناب حجة الاسلام والمسلمین علامہ ناظر تقوی (دام عزہ) نے پاکستان کے حالیہ انتخابات کے حوالے سے خطاب کیا۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جناب ثاقب اکبر نے کہا کہ مکتب اہل بیت، تہذیب و منطق کا مکتب ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی میں اہل سنت برادران بھی عزاداری امام حسین میں نہ صرف شرکت کرتے تھے بلکہ اس میں سہیم و شریک بھی ہوتے تھے اس تہذیب کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا مکتب تبلیغی مکتب ہے اور تہذیب و تبلیغ دروازے کھلے رکھنے چاہئیں اور کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے کوئی ہم سے دور ہو، عام انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے اس پیچیدہ دور کا تقاضا ہے کہ بلاتفریق مذہب ومسلک پاکستان کے خدمت گذار امیدواروں کو کامیاب کرایا جائے اور ہمارے مکتب کا یہ نعره ہونا چاہئے کہ ہم پاکستان کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، ہم پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم پاکستان میں امن و امان قائم کرنا چاہتے ہیں اور ہم پاکستان کی ناگفتہ بہ معیشت کی بہتری کے لئے کام کرناچاہتے ہیں جو اس میدان ہمارا ہم خیال ہے ہم اس کا بھرپور ساتھ دیںگے اور ہماری نظر میں مذہبی بنیاد پر ایوانوں میں پہچنا مقصود نہیں بلکہ قوم و ملت کی خدمت کے ساتھ وطن عزیز کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اسی نظرئے کی تحت قوم کی رہنمائی کی جائے ۔ البصیره کے سربراه نے کہا کہ سیاست میں حکمت، دانائی اور دور اندیشی کی ضرورت ہے اور ہم انتخاباتی اہداف میں اسی صورت کامیاب ہو سکتے ہیں جب سوچ سمجھ کر قدم رکهیں گے کیونکہ ہمارا ووٹ پاکستان بهر میں بکهرا ہوا ہوئے اس سلسلے میں علامہ سید ساجد علی نقوی کا پروگرام سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کا ہے ۔ حالیہ حالات کے تناظر میں ایک سوال کے جواب میں جناب ڈاکٹر ثاقب اکبر نے کہا کہ مجھے تشویش ان سے ہے جو جذباتی ہیں اور سیاست کی ابجد سے نابلد ہیں ۔ اس موقع پر آخر میں علامہ ناظر عباس تقوی (دام عزہ)  نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پاکستان کی  امنیت افسوسناک صورتحال سے گذر رہی ہے اور آپ سب جانتے ہیں کہ بدقسمتی سے پاکستان کے اندر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عرصہ دراز سے مذہب کے نام پر دہشتگردی کرائی جا رہی ہے اور ملک میں جاری اس دہشتگردی میں اب تک زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے اور ہر مکتب فکر کے لوگ شکار ہو چکے ہیں اور حالات کاجائزہ اس پر شاہد ہے کہ پاکستان کے حکومتی ادارے اس دہشتگردی کو رکوانے کے حوالے سے بلکل بے بس اور ناکام دکھائی دے رہے ہیں ۔جبکہ ملکی آئین اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں ا پنے ملک کے شہریوں کی جان ،مال اورناموس کا تحفظ حکومتی اداروں کی اولین ذمہ داریوں میں سے شمار ہوتا ہے ۔ لہٰذا اس حوالے سے ملک کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے ۔  پاکستان میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ناظر تقوی (دام عزہ) نے مزید کہا کہ  1986 میں مینار پاکستان کے جلسہ عام میں قائد شہید علامہ عارف حسین حسینی (رضوان اللّٰہ علیہ)  نے ملت جعفریہ پاکستان کا ملکی سیاسی عمل میں حصہ لینے کا جو اعلان فرمایا تھا اس وقت سے لے کر آج تک ہمارے قومی ملی پلیٹ فارم نے قیادت اور تنظیمی اداروں کے فیصلوں کے مطابق ملک میں ہونے والے تمام تر انتخابات میں اپنا اہم رول ادا کیا ہے اور اس وقت بھی قائد محترم کی ہدایت پر مرکزی کونسل کے اجلاس میں تشکیل پانے والے سیاسی سیل اور پارلیمانی بورڈ جیسے تنظیمی اداروں کے فیصلے کے مطابق ہم موجودہ انتخابات کے حوالے سے ملکی سیاسی میدان میں کھڑے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر مختلف سیاسی مذہبی پارٹیوں سے ملاقاتوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے امید ہے عنقریب ہی کسی اہم فیصلے کا اعلان ہونے والا ہے ۔ اس وقت قومی ملی مفادات کے پیش نظر قیادت اور تنظیمی اداروں کے فیصلے پر لبیک کہتے ہوئے انتخابات کے متعلق اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہم سب کی اہم ذمہ داری ہے اور انشاء اللہ ہم سب اس کے لئے مکمل طور پر آمادہ و تیار ہیں۔ اس لئے کہ عقلی منطقی اعتبار سے صرف قیادت ہی اپنی صوابدید پر قومی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتی ہے پوری قوم اور ملت کی ذمہ داری قیادت اورقومی پلیٹ فارم کے فیصلوں تائید کرنا ہوتی ہے اور ہمارا یہی عمل قومی ملی وقار کو ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

آیت الله نوری همدانی کی پاکستانی شیعوں کے قتل عام کی شدید مذمت

چهارشنبه 27 دی 1391 11:54 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: حوزه علمیه قم ،

آیت الله نوری همدانی


رپورٹ کے مطابق حضرت آیت الله حسین نوری همدانی نے اپنے ایک بیانیہ میں پاکستان کے شیعوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔ بیانیہ کا متن بہ شرح ذیل ہے۔

               بسم الله الرحمن الرحیم
انا لله و انا الیه راجعون

افسوس کے ساتھ کافی عرصہ سے پاکستانی عوام تکفیری مجرم گروہوں کے دہشت گردانہ حملوں اور قتل و غارت گری کا نشانہ بنے ہوئے ہیں (وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن یُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ) سوره بروج آیه 8 اور اس دفعہ بھی تقریبا ۴۰۰ لوگ خودکش دھماکے میں شہید اور زخمی ہوئے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ مجرمانہ دہشت گردی، قتل و غارت، اور ناامنی کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ منظم دہشت گردی امریکا اور عالمی صہیونیست کی منصوبہ شدہ پروگرام کے تحت ہے اور ان کی حمایت کے ساتھ تکفیری مجرم کے ذریعہ انجام ہو رہا ہے۔
اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا ہدف فنتہ کو ایجاد کرنا، شیعہ اور سنی میں داخلی جنگ اور امت اسلامی کی تضعیف ہے اور یہ اس خطے میں استکبار مذموم مقاصد کے حصول میں ممد و معاون ہے۔ میں واضح طور پر اعلان کرتا ہوں کہ دہشت گرد تکفیری گروہ، خدا، رسول خدا (ص)، اسلام اور مسلمین کے ساتھ محارب کا حکم رکھتے ہیں اور اس قسم کے مجرمانہ کام اسلامی فقہ، مسلمانوں کے اجماع اور تمام مذاہب اسلامی میں، قرآن مجید، سنت پیغمبر(ص) اور اہل بیت (ع) کے مطابق عنوان (محارب،مفسد فی الارض اور اسی طرح بغی اور فتنہ) کے واضح مصداق ہیں۔
یہ بے رحم مجرموں نے شیعہ اور اھل سنت کو قتل عام کرنے کے علاوہ تمام اسلامی امت اور اسلامی معاشرہ پر ظلم کیا ہے۔
آیا رسول خدا (ص) نے نہیں فرمایا: سواب المسلم فسوق و قتاله کفر (صحیح مسلم کتاب ایمان)، ہم بین الاقوامی برادری، او آئی سی، اسلامی ممالک کے سربراہوں اور خصوصا پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی انسانی، بین الاقوامی اور اسلامی ذمہ داری کو انجام دے اور فی الفور امن و امان کے مسئلہ کو قائم کرے اور ٹھوس انداز میں دہشت گرد تکفیری گروہوں کے خلاف کاروائی کرے۔ امت اسلامی کے تمام طبقات میں وحدت اسلامی کی حفاظت اور اس کی تقویت اور فنتہ اور اختلاف سے پرہیز اور صبر کے دامن کو تھامے رکھنا بصیرت کی علامت اور دینی فریضہ ہے۔
ایسی صورت حال میں پوری دنیا میں موجود علمائے اسلام خصوصا مفتیان دین پر وحدت کو مضبوط کرنے اور اختلاف سے پچنے اور امت کو آگاہ کرنے کے سلسلے میں خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم سب کو چاہیئے کہ ظالم تکفیریوں اور ان کے حامی عالمی استکبار امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں متحد ہو جائیں اور واضح موقف اپنائیں۔
آخر میں حضرت ولی اللہ اعظم (عج)، پوری امت اسلامی اور خصوصا پاکستانی عوام کو اس غمناک واقعہ کے سلسلے میں تعزیت عرض کرتا ہوں اور خداوند سے دعا گو ہوں کہ وہ اس عظیم واقعہ کے مظلوم شہدا کو اپنی رحمت میں جگہ عنایت کرے اور ان کے تمام ورثاء کو صبر جزیل عنایت فرمائے اور زخمیوں کو جلد از جلد شفائ کاملہ عطا فرمائے۔
 

 

و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون
       حسین نوری همدانی




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی شدید مذمت

پنجشنبه 24 فروردین 1391 10:16 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: حوزه علمیه قم ،

آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے جرائم پیشہ وہابیوں کی جانب سے پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام جرائم کی جڑیں وہابیت میں پیوست ہیں، وہابیت دنیا بھر میں اسلام کی بدنامی کا موجب بنی ہوئی ہے اور عالم اسلام کے علماء کو وہابیت سے چھٹکارا پانے کے لئے چارہ جوئی کرنی چاہئے۔
انھوں نے فقہ کے درس خارج کے آغاز پر حالیہ ایام میں پاکستان میں رونما ہونے والے تلخ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پاکستان سے ایسی خبریں مل رہی ہیں کہ قابل نفرت ٹولے سپاہ صحابہ کے ایک گروہ نے شیعیان اہل بیت (ع) کی ایک بس کو روکا اور مسافروں پر اندھادھند فائرنگ کردی اور متعدد مردوں، خواتین اور بچوں کا قتل عام کردیا۔
مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: یہ واقعات اس سے پہلے بھی رونما ہوتے رہے ہیں اور پھر بھی دہرائے جارہے ہیں اور ہمارا سوال یہ ہے کہ یہ کس دین اور مذہب کے قائل ہیں کہ اس طرح بے گناہوں کو قتل کررہے ہیں؟


حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے وہابیت کو اس قسم کے جرائم اور درندگیوں کی جڑ قرار دیتے ہوئے کہا: ان تمام مسائل کی جڑ وہابیت میں پیوست ہے وہی وہابیت جو عالم اسلام کے لئے ایک بلا اور مصیبت میں بدل گئی ہے اور اس نے عالم اسلام کا چہرہ بگاڑ دیا ہے۔ چنانچہ دنیا کے مسلم علماء کا فرض بنتا ہے کہ وہ امت کو مہابیت سے چھٹکارا دینے کے لئے چارہ جوئی کریں۔
انھوں نے کہا: ہمارے احتجاج و اعتراض کا رخ حکومت پاکستان کی جانب ہے کہ وہ کیوں اپنے شہریوں کی سلامتی کی ضمانت کیوں نہیں دے سکتی؟ اور دہشت گرد حکومت کی عملداری کے اندر لوگوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان واقعات میں اگر ایک طرف سے حکومت پاکستان قصور وار ہے تو دوسری طرف سے بین الاقوامی فورمز بھی بے گناہ نہیں ہیں اور ہمارا ان سے سوال یہی ہے کہ وہ پاکستان میں بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر خاموش کیوں ہیں؛ وہ اعتراض و احتجاج کیوں نہیں کرتے ہور دباؤ کیوں نے ڈالتے،
انھوں نے کہا:  اگر ان کا اپنا ایک آدمی مارا جائے تو پوری دنیا میں ان کی آوازیں پوری دنیا میں سنائے دینے لگتی ہیں اور تمام ذرائع ابلاغ کو اس ایک قتل کے اوپر مرکوز کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں بسوں کو روکا جاتا ہے اور شیعیان آل محمد (ص) کو اتارا جاتا ہے اور ان پر گولیاں برسائی جاتی ہیں لیکن کسی ایجنسی اور کسی بین الاقوامی تنظیم یا فورم کے کان پر حتی جوں تک نہیں رینگتی۔ یہ کیسا بین الاقوامی پروگرام ہے؟
انھوں نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے خلاف دہشت گرد وہابیوں کے غیر انسانی اور وحشیانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا، پاکستان کے شیعہ اور مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور حکومت پاکستان نیز بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ان جرائم کا سد باب کریں جن کی پوری دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور اس گروہ کی پوری دنیا سے بیخ کنی کریں جو اس طرح کے عجیب اور نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کررہا ہے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -