تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب انٹرویوز
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

حادثے کے بعد علامہ سید شہنشاہ حسین کا پہلا خصوصی انٹرویو ،حصہ اول

چهارشنبه 2 مرداد 1392 12:58 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

 

جعفریہ پریس کے نمائندہ سے بات کرتا ہووے:علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی  نے کہا: سب سے پہلے میں جعفریہ پریس کے ذمہ داران اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ حضرات نے ایک مرتبہ پھر ملاقات کا موقع دیا، جعفریہ پریس کی خدمات قابل قدر ہیں ،لوگوں کو سالم، پختہ اور مضبوط خبروں سے آشنا کرنا یہ جعفریہ پریس کا ایک امتیاز ہے، جعفریہ پریس اپنی قیادت سے رہنمائی لیتے ہوئے ایک بہترین انداز سے اپنی خبر کو آگے بڑھا رہے ہیں، لہذا امید کرتے ہیں یہ ادارہ اس کی ادائیگی میں بہتر صورت اختیار کرے گا۔
علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی : قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیة اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی (مدظلہ العالی)  کے اقدامات ہمیشہ واضح اور روشن ہوتے ہیں انکے اقدامات میں ابھام نہیں ہے ماضی میں بھی انکی طرف سے واضح اور روشن اقدامات ہوئے۔ یہ جو اعلان قائد ملت جعفریہ نے کیا ہے کہ دفاعی پالیسی کے لئے اعلیٰ سطح کوئی اقدام اٹھایا جائے جس میں ان افراد سے مدد لینے کا پیغام ہے کہ جو افراد دفاعی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں جن کا تجربہ ہے جو دہشتگردوں کی چالوں کو اور سازشوں کو جانتے ہیں ۔ 
قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لئے کوئی موقف اختیار کرے ، جیسا کہ یہ موقف اختیار کیا گیا ہے۔
http://www.jafariapress.com/index.php?option=com_content&view=article&id=3736:1392-05-01-09-33-59&catid=23:1390-07-07-15-43-15&Itemid=12

بر صغیر کے معروف خطیب ونامور عالم دین اور اسلامی تحریک پاکستان/شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما علامہ  شہنشاہ حسین نقوینے گزشتہ دنوں ایک انتہائی جان لیوا ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے کے اپنی صحتیابی  بعد جعفریہ پریس کو اپنے ایک انٹرویو میں اپنے حادثہ کے متعلق کہا کہ , جہاں تک بات ہے ہمارے حادثہ کی، تو یہ بہت بڑا سانحہ تھا ہمارے دو دوست، عزیز ترین دوست سید افتخار حسین کاظمی اور سید یوسف عباس جعفری اور عمران اس میں رحلت کر گئے اور ایک میرے ساتھی دوست جو حکومت کی طرف سے ہمیں دیئے گئے تھے جناب ارشد عباس صاحب پولیس اہلکار ہیں وہ زخمی ہیں، اللہ انہیں شفاء عطاء کرے۔ میرے ساتھ بھی اللہ کا جو خصوصی کرم ہوا وہ آپ کے پیش نظر ہے اتنے بڑے حادثے سے نکل کر پھر بھی آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں، انشاء اللہ دشمن ناکام ہوگا، دشمن شرمندہ ہوگا، دشمن مایوس ہوگا، جن لوگوں نے اپنے فیس بک پر (میری مراد غیر شیعہ ادارے ہیں، غیر شیعہ بھی وہ جو فرقہ وارانہ ادارے ہیں، فرقہ پرست ادارے ہیں) انہوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا وہ ناکام ہونگے، نامراد ہونگے انشاء اللہ تعالیٰ۔


جہاں تک بات اس حادثے کے طبیعی ہونے یا غیر طبیعی ہونے کی ہے ،تعمد یا تساہل ہونے کی ہے تو جو چیز میں ثابت نہیں کرسکتا اس کے لئے میں اس پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا اگرچہ میرے پاس کچھ شواہد و قرائن اور کچھ اشارے موجود ہیں کہ بعض لوگ ہمارے جینے کو اپنے مرنے سے تعبیر کرتے ہیں، بعض لوگ اپنی موت یا اپنی ناکامی تصور کرتے ہیں، میں اس حادثہ کو حقیقی معنی میں حملہ تصور نہیں کرسکوں گا، میرے حساب سے یہ ایک معمول کا ایک حادثہ تھا جو ہمارے ساتھ پیش آیا، اگرچہ اس حادثہ پر دشمن خوش ہوا تھا اور مومنین ناراحت ہوئے تھے میں تمام مومنین کی دعاؤں کا شکر گذار ہوں۔


آپ نے اپنے ادارہ جے ڈی سی کے متعلق کہا کہ,
پاکستان ایک مسلم ملک ہے، اس میں اکثریت مسلمانوں کی بستی ہے اور پاکستان حکومت مقروض ہونے کی وجہ سے ، قرض دار ہونے کی وجہ سے مفلوج الحال اور مفلوج الاحوال ہے، لہذا وہ عوام کو جو بنیادی حقوق ہیں ان کی فراہمی میں ناکام چلی آرہی ہے، عوام کے بنیادی حقوق ان کی تعلیم، ان کی صحت، امن وامان، شعور، زندگی کا اچھا رخ، پاکستانی حکومت، پاکستانی ادارے، پاکستانی عوام کو بنیادی حقوق فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ لہذا پاکستان کے اندر مختلف ٹرسٹ، این جی اووز اور فلاحی ادارے وجود میں آتے ہیں اور انہوں نے اپنے حصے کا کردار ادا کیا اور کرتے ہیں، ہم نے بھی اپنے آپ کوکسی سے پیچھے نہیں رہنے دیا اور الحمدللہ jdc نے بھرپور انداز سے اپنی خدمات کو انجام دے رہی ہے، ہماری اگرچہ جو سابقہ تاریخ ہے بہت طویل نہیں ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ جو طویل تاریخ رکھنے والے پاکستان میں فلاحی ادارے ہیں وہ ہمارے ادارے کو اپنے برابر تصور کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ جیسے وہ فلاں ادارہ جو ٢٥سال سے چل رہا ہے ایسے jdcہے , تو یہ ہمارا ایک اعزاز ہے، ہمارے کام کو لوگ پسند کرتے ہیں، اس وقت ہمارے پاس تقریباً ٢٥ گاڑیاں ہیں، ایمبولنس اور میت بسیں جو مختلف شہروں میں خیرپور، پاراچنار، گلگت بلتستان، لاہور، کراچی اور انشاء اللہ حیدرآباد میں بہت جلدی اس کی برانچ کھولنے جارہے ہیں، اسی طرح نوابشاہ میں برانچ کھولنے جارہے ہیں، ہر جگہ ہم ایمبولینس سروس کے ساتھ ایک میڈیکل سینٹر اور ایک ریسکیو ٹیم کو تشکیل دیتے ہیں تاکہ اس علاقے کے اندر انسانی خدمت میں جعفریہ مکتب سے تعلق رکھنے والے کسی طور پیچھے نہ رہیں یعنی یہ صرف شیعوں کی خدمت کے لئے نہیں ہے بلکہ شیعوں کی طرف سے سب کی خدمت کے لئے، غیر شیعوں کی خدمت کے لئے حتیٰ غیر مسلموں کی خدمت ، جیسا کہ ہم نے جوزف کالونی لاہور میں، جب کالونی کو جلایا گیا تو الحمدللہ توفیق ہوئی وہاں گئے میں خود بھی گیا، ہماری ٹیم دو مرتبہ گئی اور ہم نے وہاں مومنین کی طرف سے، شیعوں کی طرف سے مسیحی برادری کو جو خدمت ہوسکتی تھی کی ،لہذا یہ ادارہ سب کو احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے ، سب کی خدمت کرنا چاہتا ہے اور الحمدللہ ایسا ہی ہے۔

 حادثاتی خدمات کے علاوہ 


علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی: جی ہاں الحمدللہ  jdc نے ایمبولینس سروس، میت بسوں کی فراہمی، میڈیکل سینٹرز کے قیام اور ریسکیو ٹیم کی تشکیل کے بعد ایک اور حسین و نیک کام شروع کیا ہے اور وہ ہے دسترخوان امام حسن مجتبی(ع) کراچی میں اس وقت سیکڑوں کی تعداد میں لوگ ڈیلی امام حسن (ع) کے دسترخوان پر بیٹھتے ہیں، بلا تفریق یہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہے کہ کھانے کون آیا، اس لئے کہ جب امام حسن مجتبیٰ(ع) کانام ہے تو جیسے امام حسن (ع) کریم تھے اور کریم نانا کے فرزند تھے تو ایسے ہی امام حسن (ع) کے دسترخوان پر سب کو ایک نگاہ سے دیکھنا ہوگا، دونوں فرقے اور دونوں مسلکوں کے لوگ امام حسن (ع) کے دسترخوان سے مستفید ہورہے ہیں اور فقہ جعفریہ کے وقت کے مطابق افطاری دی جارہی ہے اور انشاء اللہ ارادہ ہے کہ ہر شہر میں امام حسن(ع) کے دسترخوان لگیں اور ہر شہر کے غریب و مسکین، نہ غریب و مسکین بلکہ وہ افراد جو مسافر ہیں وہ افراد جو تبرکاً چکھنا چاہتے ہیں، جو امام حسن مجتبیٰ(ع) کے دسترخوان پر بیٹھ کر امام حسن (ع) سے توسل کرنا چاہتے ہیں وہ بڑی گاڑیوں ، بنگلوں اور اچھی حیثیت کے لوگ ہوں سب اس دسترخوان سے مستفید ہوں تو ایک وقت آئیگا کہ ہر شہر میں امام حسن مجتبیٰ (ع) کا دسترخوان لگے گا۔

 

بلوچستان  کے حالات کے متعلق آپ نے کہا کہ , بلوچستان کا قصہ بلکل مختلف ہے ۔ پیپلز پارٹی کا دور ہو یا مسلم لیگ (ن) کا دور یا کوئی اور حکومت وہاں بنی ہے یا آئندہ میں بنے گی ، بلوچستان میں امنیت بحال نہیں ہوسکتی جب تک کہ مسنگ پرسن کا مسئلہ حل نہ ہو ، سینکڑوں کی تعداد میں شخصیات اور افراد جو گم ہیں ، جنہیں غائب کر دیا گیا ہے ، ایک تو یہ مسئلہ جب تک حل نہیں ہوگا بلوچستان میں امن و امان بحال نہیں ہو گا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بلوچستان کے اندر جو ناراض بلوچ گروہ ہیں انکو جب تک اعتماد میں نہیں لیا جائیگا، بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا ، تیسرا مسئلہ عالمی سازش کا ہے، بلوچستان اس کی زد میں ہے ۔ بلوچستان ملک کا واحد صوبہ ہے جس سے دو اہم ترین بارڈر لگتے ہیں ، پنجاب میں صرف ہندوستان لگتا ہے ، سندھ میں بھی صرف ہندوستان لگتا ہے ،لیکن دو ملک (ایران وافغانستان) جو جغرافیائی اعتبار سے حساس اور اہمیت کے حامل ہیں وہ بلوچستان میں لگتے ہیں، لہذا جب بلوچستان کو بد امن کیا جائے اور بلوچستان کو بد امن رکھا جائیگا تاکہ ادارے چاہیں گے، عالمی طاقتیں چاہیں گی، شیطانی طاقتیں چاہیں گی، اور بلوچستان کو بد امن رکھا جائے تاکہ ایران سے جو ان کو دشمنی ہے اس کو اپنے نتیجہ تک لے جانے کی وہ کوشش کریں، فارسی زبان میں ایک ضرب المثل ہے (ازآب گل آلود ماہی گرفتن) یعنی گدلا پانی کر کے مچھلی پکڑنا، پانی کو جب گدلہ کر دیا جائے تو مچھلی پکڑی جائیگی، اس کو اگر آپ سیاسی اصطلاح میں لے کر جائیں تو اگر کسی ملک کے اندر بد امنی ہو تو لوگوں کی پوری توجہ ہوتی ہے بد امنی کی طرف ، ایک طرف توجہ ہو جاتی ہے اور دوسری طرف سے ہٹ جاتی ہیں، اس دوسری بے تو جہوں کی وجہ سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے، بلوچستان کا جو مسئلہ ہے جب تک پاکستان کی ریاست نہیں چاہے گی ، بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ میں دو ٹوک، واضح اور شگاف اور  روشن جملہ کہہ دوں کہ بلوچستان میں بد امنی کی ذمہ دار پاکستان کی ریاست ہے اور پاکستان کی بد امنی کاذمہ دار پاکستان کے ریاستی ادارے ہیں ، ذمہ دار ادارے ہیں، وہ ادارے ہیں جن پر بجٹ خرچ ہوتے ہیں، وہ ادارے ہیں جو پاکستان کی بقا اور تحفظ کے ذمہ دار ہیں، جب تک پاکستان کی ریاستی ادارے بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنا چاہیں گے یہ مسئلے حل نہیں ہونگے۔ 


 قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیة اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی (مدظلہ العالی) نے ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کے سدباب اور قومی دفاعی پالیسی کی تشکیل کے لئے وسیع سطح پر کمیٹی قائم کی ہے ،
اس کے متعلق آپ نے کہا 
 قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیة اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی (مدظلہ العالی)  کے اقدامات ہمیشہ واضح اور روشن ہوتے ہیں انکے اقدامات میں ابھام نہیں ہے ماضی میں بھی انکی طرف سے واضح اور روشن اقدامات ہوئے۔ یہ جو اعلان قائد ملت جعفریہ نے کیا ہے کہ دفاعی پالیسی کے لئے اعلیٰ سطح کوئی اقدام اٹھایا جائے جس میں ان افراد سے مدد لینے کا پیغام ہے کہ جو افراد دفاعی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں جن کا تجربہ ہے جو دہشتگردوں کی چالوں کو اور سازشوں کو جانتے ہیں ۔ ایسے افراد سے جو تجربہ کار ہیں مدد لینا یہ اس کا ایک حصہ ہے اور اسکو بہت ہی خوش آئند قرار دیا جائے اس لئے کہ پاکستان کے ریاستی ادارے میں نہیں کہتا نا اہل ہیں بلکہ خوب اہل ہیں ، خوب اہلیت رکھتے ہیں مگر چاہتے نہیں ہیں ، انکی اہلیت ہی کا ثبوت ہے کہ وہ کسی اور کو خوش کرتے ہیں اور پاکستانی شہری کو غیر محفوظ کر دیتے ہیں۔ لہذا نا اہل تو نہیں بولتے انہیں ، بلکہ وہ کسی اور کے وفادار ہیں کوئی اور مقاصد رکہتے ہیں ۔ لہذا پاکستان کے اندر بدامنی کے تدارک کے لئے ، دہشتگردی کے تدارک کے لئے ، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لئے کوئی موقف اختیار کرے ، جیسا کہ یہ موقف اختیار کیا گیا ہے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

موجودہ الیکشن ، پیپلز پارٹی سے اتحاد ، جھنگ کے حلقہ کی صورتحال پر ، شعیہ علماء کونسل و اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ شبیر حسیں میثمی کا اظہار خیال

شنبه 14 اردیبهشت 1392 09:34 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

  اسلامی تحریک پاکستان نے موجودہ ملکی انتخابات میں مستقل طور پر اپنے تشخص کے ساتھ الیکش میں

 حصہ لینے کے بجائے پاکستان پیپلز پارٹی سے الحاق اور سیاسی الائنس اپنانے جیسے طریقہ کار کو کیوں

 اپنایا ہے؟


اس سوال کا جواب تین طریقوں سے دینا چاہوں گا اول تو یہ کہ ہم پابندی اور بین کا شکار تھے ،اور ملک بھر میں ہمارے لوگ فورشیڈول کے تحت ہیں ۔ لہٰذا اس حوالے سے ہمارے لوگوں کو مسلسل گوناگون مشکلات کا سامنا ہے ۔ علاوہ براین اگرچہ مملکت خدا داد پاکستان اسلامی نظریے پر حاصل کی گئی لیکن بد قسمتی سے دینی اسلامی نظریے پر قائم تنظیموں کے مابین اتحاد کے فقدان کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریے کے مخالف قوتوں کی طرف سے دینی تنظیموں کے خلاف جاری پروپیگنڈوں کے اثرات کے پیش نظر آج  پاکستان میں یہ تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ کیا دینی اسلامی نظریے پر قائم تنظیمیں آیا مستقل طور پرالیکشن لڑ سکتی ہیں؟2002 کے انتخابات سے قطع نظر سابقہ ملکی انتخابات پر نظر ڈالنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب بھی دینی اسلامی نظریے پر قائم تنظیموں نے مستقل طور پر الیکشن میں حصہ لیا ہے تو ایسی صورت میں کوئی اچھا نتیجہ سامنے نہیں آیا جبکہ 2002  کے انتخابات میں جب یہی تنظیمیں متحدہ مجلس جیسے مشترکہ پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں تو انتہائی اچھا نتیجہ سامنے آیا اسی بنا پر حال ہی میں 18 اپریل کو ڈان انگلش اخبار میں ایک تجزیہ چھپا کہ جب تک دینی تنظیمیں ایک ساتھ چلتی رہیں بہت اچھا نتیجہ دیتی رہیں ،ان انتخابات میں یہ لوگ الگ الگ ہوکر سمجھ رہے ہیں کہ ہم جیتں گے!
مذکورہ سوال کا جواب دوسرے طریقے سے یوں بھی دیا جا سکتا ہے کہ مختلف ملکی سیاسی جماعتوں سے مسلسل رابطوں کے پیش نظر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ہماری موجودہ صورتحال کچھ ایسی تھی کہ ہمیں کالعدم جماعت تصور کیا جا رہا تھا جس بنا پر ہمارے لوگ کھل کر کام نہیں کر سکتے تھے اور کھل کر تعاون کرنے میں کچھ گھبراہٹ سی محسوس کر رہے تھے ۔ تیسرا جواب یہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں ملت جعفریہ کی جغرافیائی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ چند ایک گنے چنے علاقوں سے قطع نظر شیعہ ملک بھر میں بکھرے ہوئے ہیں ، اور پھر ملک کے کشیدہ حالات اور ملک میں جاری انتخاباتی پیچیدہ راہ و روش بھی مدنظر تھی، لہٰذا انہی مذکورہ بالا مشکلات کے باعث اسلامی تحریک پاکستان نے موجودہ الیکشن میں مستقل طور پر اپنے تشخص کے ساتھ الیکشن لڑنے کے بجائے سیاسی الائنس کے طریقہ کار کو ترجیح دی ۔


 ملک میں دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے ہوتے ہوئے اسلامی تحریک پاکستان نے صرف پاکستان پیپلز پارٹی

 ہی سے کیوں سیاسی اتحاد کیا ہے؟


 ایم ایل این نے جس طرح پنجاب میں کام کئے ہیں اور سب کی زبان زد ہے کہ مسلم لیگ (ن) سپاہ صحابہ کی سپورٹ کر رہی ہے یہ نکتہ بھی ہمارے مد نظر تھا کہ مسلم لیگ(ن) نے اگرچہ الیکشن کے حوالے سے اسلامی تحریک پاکستان سے رابطہ کیا تھا لیکن اس کے مفادات بہرحال سپاہ صحابہ سے وابستہ ہیں، اور اسی طرح اگرچہ پی ٹی آئی سے بھی الیکشن کے حوالے سے ہماری گفتگو ہوتی رہی لیکن ان کا لب و لہجہ کچھ اس نوعیت کا تھا کہ ہمارے لئے وہ قابل قبول نہ تھا۔ علاوہ براین دوسری بات یہ کہ الیکشن کے حوالے سے پی ٹی آئی ایک نیا تجربہ اور ایک نئی جماعت ہے جبکہ اس کے مقابل ہماری تحریک جعفریہ پاکستان یا اس کی جایگزین اسلامی تحریک پاکستان پہلے سے ملکی سطح پر ایک تجربہ کار قومی جماعت اور قومی پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی ہے لہٰذا ہماری طرف سے اتنی جلدی سے ایک نا تجربہ کار جماعت کے ساتھ سیاسی اتحاد کے عنوان سے چلنا کوئی معقول بات دکھائی نہیں دیتی۔ ایم کیو ایم سے بھی کچھ گفتگو چلتی رہی لیکن اس کے نتائج بھی کوئی اتنے زیادہ قابل قبول نہیں تھے ۔ علاوہ بر این ایم کیو ایم صرف ایک علاقے اور صوبے تک محدود ہے ان کے ساتھ جانے کی صورت میں ملک کے  دیگر مختلف صوبوں کے پیش نظر الگ الگ الائنس کرنے پڑتے جبکہ ہماری تنظیمی پالیسی کے مطابق ایسی ملک گیر جماعت جو الیکشن کے حوالے سے ہماری شرائط پر اتری وہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی ہی تھی لہٰذا اس سے موجودہ سیاسی الائنس طے پایا ۔


 علامہ صاحب پاکستان پیپلزپارٹی کے پرانے تجربے تو اچھے نہیں رہے اور پی پی پی کے سابقہ دور حکومت

 میں شیعہ نسل کشی کا سلسلہ جاری رہا اس کے باوجود ان سے موجودہ سیاسی اتحا د کیا معنیٰ رکھتا ہے؟


 اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پرانے تجربے تو اچھے نہیں رہے ،اور پھر پی پی پی کے دورحکومت میں شیعہ نسل کشی کا سلسلہ بھی جاری رہا لیکن میں سمجھتا ہوں شیعہ نسل کشی کا مسئلہ کوئی تازہ مسئلہ نہیں بلکہ ایوب خان کے دور سے ہی شیعہ نسل کشی کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جس پر 1964 کو خیرپور کے نزدیک ٹھیڑی میں عاشور کے دن پاکستان کی تاریخ میں شیعہ نسل کشی کا بدترین سانحہ اس تاریخی تلخ حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پھر یہ شیعہ نسل کشی کا سلسلہ ہر دور حکومت میں جاری رہا ہے لہٰذا ایسا نہیں ہے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جو قتل عام ہوا ہے وہ اس نے ہی کروایا ہے ، اور پھر ایسا بھی نہیں کہ صرف ہمارا ہی قتل عام ہوا ہو ،بیشک ہمارا قتل عام زیادہ ہوا ،لیکن اس کے ساتھ پاکستان کے اندر ا ہلسنت کو بھی ٹارگٹ کیا گیا ، مختلف سیاسی اور مذہبی تنظیموں کو ٹاگٹ کیا گیاحتیٰ پولیس اور آرمی کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ اس میں در اصل ریاست کی کوتاہی اور غلطی ہے ریاست اگر آج ارادہ کر لے تو سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ اس وقت الیکشن کے زمانے میں اگر آپ ملاحظہ کریں تو پتہ چلے گا شیعہ قتل عام کم ہے اور سیاسی جماعتوں کا قتل عام زیادہ ہو رہا ہے اس وقت اگر کچھ نہ کچھ شیعوں کا جو قتل عام ہو رہا ہے اب تو پیپلز پارٹی کی حکومت ہی نہیں رہی پھر کیوں ہو رہا ہے اب تو بلکل نہیں ہونا چاہیے تھا ؟
پاکستان پیپلز پارٹی سے جب ہماری گفتگو ہو رہی تھی تو پی پی پی دورحکومت کے سابقہ وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نے قائد ملت جعفریہ سے کہا ہمارے لئے بہت بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ جیسے مہذب اور محب وطن لوگوں کے ساتھ ہمارا جماعتی اتحاد ہو رہا ہے۔ اس مقام پر میں ایک اور نکتے کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کا مقام معظم رہبری کی خدمت میں کس انداز سے جانا اور دیگر سربراہان کے پاس جانا کتنا فرق کرتا ہے۔ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں آصف علی زرداری کا گوادر کے متعلق چائنہ سے معاہدہ اور اسی طرح ایران پاکستان گیس پائپ لائن معاہدہ پر دستخط کرنا بڑی جرأت کا کام تھا ۔ واقعاً امریکہ کے منہ پر اتنا زور دار طماچہ مارکر گیس پائپ لائن کو اپنے ملک میں لانا بڑی جرأت کا کام تھا ۔ اگر ہماری تنظیم ساتھ چلے گی اور مشورے دے گی تو  انشاء اللہ حالات مزید بہترہوں گے۔


گلگت  بلتستان میں اسلامی تحریک پاکستان کے متعلق عام لوگوں کے جوش وجذبہ


 جناب وہاں سے واپس آئے مجھے کئی دن گزر گئے لیکن ابھی تک وہاں کے مؤمنین کے پیار و محبت ،الفت و دلدادگی کی شیرینی میرے دل میں باقی ہے، جب ہم گلگت  بلتستان پہنچے اور جناب دیدارعلی کی وزارت کے متعلق حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی تو وہاں ہر ایک کی زبان پر یہ جملہ تھا آپ نے ہماری قوم کو ایک بار پھر زندہ کردیا ہے ۔ وہاں کے مؤمنین ہمیں مختلف مقامات پر لے گئے اور پوری بریفنگ دیتے رہے کہ یہ پل اسلامی تحریک نے بنایا ،یہ اسکول بنایا ،یہ روڈ بنایا اور اس طرح کی کئی چیزیں دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ تحریک کی حکومت کے علاوہ کسی نے وہاں کوئی کام ہی نہیں کیا۔

انشاء اللہ 2014   کے انتخابات میں اسلامی تحریک گلگت  بلتستان میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی، اور وہاں کے مؤمنین کی مزید بے لوث خدمت کرے گی۔


 کیا وجہ ہے کہ ان دنوں پاکستان میں پی پی پی ، ایم کیو ایم اور این اے پی کے انتخاباتی جلسے اور جلوسوں ہی میں بم بلاسٹ ہو رہے ہیں اور مخصوصاً انہی تین سیاسی جماعتوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟


 میں سمجھتاہوں کہ پاکستان دشمن طاقتیں پوری کوشش میں ہیں کہ ملک میں یہ الیکشن نہ ہونے پائیں یا پھر اتنے کمزور ہوں کہ کوئی جماعت اکثریت سے نہ جیتنے پائے کیونکہ ظاہر سی بات ہے کہ ایسے خطرناک حالات میں کون ووٹ دینے جائے گا۔2014 میں جو امریکہ کا افغانستان سے جانے کا پروگرام ہے یہ بھی ہمارے موجودہ ملکی الیکشن پر بہت زیادہ اثر رکھتا ہے ۔ الیکشن کا ملتوی ہونا بھی ملک کے لئے نقصان دہ ہے اسی طرح الیکشن میں کم تعداد ووٹ کاسٹ ہونا بھی ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔البتہ مذکورہ سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کو ٹارگٹ کرنے کے پس پردہ کچھ ایسے عوامل ہیں جن کا موجودہ ملکی صورتحال میں بیان کرنا شاید مناسب نہ ہو۔


  جھنگ میں موجودہ الیکشن کے حوالے سے اسلامی تحریک پاکستان کی طرف سے شیخ محمد اکرم اور شیخ محمد یعقوب کی حمایت کے اعلان کا فیصلہ 

 جھنگ کا مسئلہ ہماری اسلامی تحریک کے پارلیمانی بورڈ کے لئے ایک اہم اور وقت گیر مسئلہ رہا۔ قائدمحترم مختلف ہیئتوں اور کمیٹیوں کو صورتحال کا جائزہ لینے اور راہ حل کے پیش نظر جھنگ بھیجتے رہے۔ جھنگ کی حساس سیٹوں پر نامزد امیدواروں سے چار چار گھنٹوں سے زیادہ انٹریوز کا سلسلہ جاری رہا میں خود بھی انٹریوز لینے والوں میں سے تھا ، وہاں کے مؤمنین سے مختلف ذرائع کے ذریعہ رپوٹس ملتی رہیں آخر کار ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر اس تکفیری مولوی کو دونوں سیٹوں پر ہرانا ہے تو اس کا واحد راستہ یہی ہے کہ مذکورہ دو نامز د امیدواروں کی حمایت کی جائے ۔ قائد محترم نے بھی پی پی پی سے اتنا بڑا سیاسی اتحاد کیا لیکن جھنگ کی ان حساس سیٹوں کو معاہدے سے علیحدہ رکھا اور فرمایا کہ جھنگ کے مسئلے میں ہم کسی چیز کو قبول نہیں کریں گے، اسلامی تحریک کے پارلیمانی بورڈ نے دیانت، فراست سے نہایت ہی معقول فیصلہ کیا البتہ فیصلہ کے بعد کچھ غیرسنجیدہ حضرات نے نازیبا حرکات کیں ۔ اس مقام پر میں یہ بات بھی بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اختر شیرازی نے فقط ایک سیٹ کے حوالے سے اپنے مفادات کی خاطر صرف علماء ہی کی توہین نہیں کی ،قیادت ہی کی توہین نہیں کی، مہمانوں ہی سے بدتمیزی نہیں کی بلکہ اس سے بڑھ کر ملت تشیع کے وقار کو مجروح کیا ہے میں نہیں سمجھتا کہ قوم انہیں کبھی معاف کرے گی۔ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو بتائی نہیں جا سکتیں ان کی طرف سے وعدہ بھی ہوا تھا کہ آپ جو فیصلہ کریں گے ہم آپ کے ساتھ ہیں اس کے باوجود صورتحال سب کے سامنے ہے۔


 موجودہ ملکی انتخابات کے حوالے سے ملت تشیع کو  پیغام دینا


  ملت تشیع  اپنی مدبرانہ قیادت، بزرگ علماء کرام اور تجربہ کار علماء سے رہنمائی لیتے ہوئے تشیع کے حقوق کا دفاع کریں ۔ تحریک جعفریہ پاکستان ، اسلامی تحریک پاکستان اور شیعہ علماء کونسل پاکستان ایک قومی پلیٹ فارم ہے کوئی جو بھی کام کرنا چاہے کرے لیکن قومی پلیٹ فارم پر کیچڑ اچھالنا یقینا برداشت سے باہر ہے ۔ الحمد للہ پاکستان میں ملت تشیع کا ووٹ ہمیشہ فیصلہ کن رہا ہے انشاء اللہ موجودہ الیکشن میں بھی فیصلہ کن ووٹ ثابت ہوگا۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

اگر تکفیری اسمبلی تک پہنچا تو اس گناہ میں یہ نادان دوست برابر کے شریک ہونگے - علامہ توقیر رمضان

شنبه 14 اردیبهشت 1392 09:33 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

علامہ شیخ محمد رمضان توقیر صاحب پورے ملک میں ایک ایسی جانی پہچانی شخصیت ہیں جو تعارف کی محتاج نہیں، موصوف نے قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کے دور سے لے کر اب تک تمام تر ملکی کٹھن حالات اور گوناگون مشکلات کے باوجود ہمیشہ اپنی سیاسی بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے مرکزی قومی پلیٹ فارم اور قیادت کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا، اور اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ہرمیدان میں قیادت اور ملت کے ساتھ رہے، اور اس پُرخطر راہ میں کتنے ہی نمایاں قومی کارنامے انجام دیئے ہیں ۔ رب العزت کی بارگاہ ایزدی میں ہم دعاگو ہیں کہ وہ اپنے حبیب جناب ختمی مرتبت (صلّیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)  اور آنحضرت کی پاکیزہ آل اطہار(علیہم السلام) کے صدقے میں ایسی ملکی وظیفہ شناس بزرگ شخصیات کا مبارک سایہ ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے۔


 پاکستان پیپلز پار ٹی کے ساتھ انتخاباتی الائنس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ایم ایم اے کے غیرفعال ہونے کے بعد حالیہ ملکی انتخابات کے حوالے سے مختلف سیاسی پارٹیوں کی طرف سے رابطے ہوئے ، ملاقاتیں ہوئیں اور مذاکرات ہوئے ۔ان مذاکرات میں ملکی ملی مفادات کے پیش نظر ہماری کچھ سنجیدہ ڈیمانڈ ز تھیں اور کچھ مطالبات تھے ، لہٰذا اس حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ زیادہ پیشرفت دیکھنے میں آئی جس کے نتیجے میں ہمارا اس بڑی ملک گیر سیاسی پارٹی سے موجودہ سیاسی اتحاد والائنس سامنے آیا۔

  پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ  معاہدہ اور اس پر عمل کی امید 


  میرے خیال میں الیکشن سے پہلے ہم نے موجودہ معاہدے کے ثمرات لینے شروع کر دیئے ہیں ،آپ کے علم میں ہے کہ صوبہ گلگت  بلتستان کی قانون ساز اسمبلی میں اسلامی تحریک پاکستان کے نما ئندے نے وزارت کا حلف اٹھا لیا ہے اور اس وقت جناب محترم دیدارعلی صاحب صوبہ گلگت  بلتستان کی قانون ساز اسمبلی میں ایک اہم وزیر ہیں ، آزاد کشمیر میں مشاورت کا وعدہ ہوچکا ہے ہماری طرف سے نام دینا باقی ہے اور جیسے ہی تنظیم نام پیش کرتی ہے تو ان کے لئے حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری ہوجائے گا۔ باقی مسائل بھی رفتہ رفتہ حل ہوجائیں گے ۔ انشاء اللہ انتخابات کے بعد بھی ہمیں امید ہے کہ جو ہماری دیمانڈز اس معاہدے میں موجود ہیں ان پر بھی عمل ہوگا۔

  

جھنگ میں  بعض افراد کی طرف سے نازیبا حرکتیں اور صورتحال


  ہمارے ان نادان دوستوں نے نہایت ہی بداخلاقی کا مظاہرہ کیا ہے یہ ایک انتہائی بچہ گانہ حرکت اور ناسنجیدہ عمل تھا جس کے یہ لوگ مرتکب ہوئے ہیں۔ ہم سب بلکہ پوری تنظیم کی کوشش یہ تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی سے معاہدہ کرنے سے پہلے جب مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تو ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی پر واضح کر دیاتھا کہ جھنگ کی اہم سیٹ کے علاوہ پورے پاکستان میں ہم آپ لوگوں سے اتحاد کریں گے، جیساکہ اس حوالے سے قائد محترم نے فرمایا تھا کہ جھنگ کی یہ سیٹ ہماری موت وحیات کا مسئلہ ہے جھنگ کے لئے ہم سب کچھ قربان کردیں گے لہٰذا اس بناپر ہم وہاں آزاد ہوں گے اور دیکھیں گے کہ اس تکفیری کا راستہ روکنے کے لئے کونسی راہیں ممکن ہو سکتی ہیں۔ الحمد للہ ہم نے جھنگ کی مقامی برجستہ شخصیات سے جو مشاورت کی ہے اور اس حوالے سے سیاسی بصیرت کے حامل لوگوں سے جو معلومات حاصل کی ہیں ان کے پیش نظر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ہمارا پورا ہم و غم تکفیریوں کا راستہ روکنا ہے ہمارے پورے پارلیمانی بورڈ نے وہاں جاکر ڈیرے لگائے، اس سے پہلے ہمارے مرکزی سیکریٹری جنرل جھنگ کا دورہ کر کے آئے ،ہمارے پنجاب کے صوبائی صدر جو وہاں انتھک محنتیں کرتے رہے ، باقی دوست بھی رابطے میں رہے اور اس حلقے میں کام کرتے رہے ان تمام تر فعالیت اور کاوشوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ شیخ اکرم اور شیخ یعقوب سے تعاون کرنے کی صورت میں اس منحوس تکفیری کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔ بہرحال ان تمام تر مسلسل رابطوں اور مقامی حضرات سے باہمی مشاورت کے بعد ہی ہم نے یہ ضروری قدم اٹھایا لہٰذا امید ہے کہ خداوند عالم ہمیں بہتر نتیجہ دے گا۔ بہرحال ہمارے ان نادان دوستوں نے جو جھنگ کے اندر حرکتیں کی ہیں وہ انتہائی پست اور قابل مذمت ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جھنگ کے ا س حلقہ میں اگر خدا نخواستہ تکفیری کو انتخابات میں کامیابی کے ذریعہ اسمبلی تک پہنچنے کی کوئی راہ میسر آتی ہے تو اس عظیم گناہ میں یہ ہمارے نادان دوست برابر کے شریک ہونگے ۔ ہم نے ان کے بالائی سطح کے ذمہ دار افراد کو بھی مطلع کر دیا ہے ۔ البتہ ہمیں امید ہے کہ جھنگ کی باشعور عوام ملکی مذہبی مفادات کے پیش نظر ہمارے سنجیدہ فیصلے کی پاسداری کرتے ہوئے ہمارے ساتھ ضرور تعاون کرے گی۔

 گذشتہ دنوں جھنگ کے اندر ان کی طرف سے جو پست حرکت سامنے آئی تو اس گھٹیا اخلاق نے ان کو بد اخلاقی کے عروج تک پہنچا دیا ہے ۔ جہاں تک ضابطہ اخلاق پر دستخط کی بات ہے تو جیسے ہی وہ ضابطہ اخلاق کا مسودہ ہم تک پہنچا ، تو ہمارے سیکریٹری جنرل جناب علامہ عارف حسین واحدی نے بھی اس پر دستخط کر دیئے ہیں ۔ بہرحال دستخط کرنا اور بات ہے اور اس پرعمل پیرا ہونا اور بات ہے ۔ ہمارے ان نادان دوستوں نے گذشتہ دنوں جھنگ میں جو گھٹیا حرکت کی ہے یہ کسی بھی زندہ ضمیر انسان کے لئے قابل برداشت نہیں اور اس قسم کی قبیح حرکتیں اسلامی تعلیمات کے منافی بھی ہیں ۔


موجودہ ملکی عام انتخابات کے حوالے سے  قوم کو  پیغام


میں اپنی غیور قوم سے یہی اپیل کرتاہوں کہ موجودہ ملکی اور عالمی تشویشناک حالات کے پیش نظر ملک و ملت کے وقار کی خاطر اپنی بیداری کا ثبوت دیں اور سمجھداری وسیاسی بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے قائد ملت جعفریہ کی آواز پر لبیک کہیں ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

محترم جناب دیدار علی ، رہنما اسلامی تحریک پاکستان و صوبائی وزیر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا انٹرویو

دوشنبه 2 اردیبهشت 1392 03:56 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی مدظلہ العالی کا  بندہ حقیر پر اعتماد و بھروسہ میرے لیئے سرمایہ ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم جناب دیدار علی ،رہنما  اسلامی تحریک پاکستان  و  صوبائی وزیر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا
تعارف۔

محترم جناب دیدار علی صاحب ایک درویش صفت اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے انسان ہیں، ان کا تعلق گلگت سٹی سے ہے مگر اپنی سماجی،اخلاقی اور انسان دوست صفت کی وجہ سے گلگت کے علاوہ  چلاس، کوہستان اور مانسہرہ تک تعلقداری قائم رکھے ہوئے ہیں جن میں اکثریت اہلسنت برادری کی ہے۔ دیدار علی ہمیشہ اپنے مرکز،قیادت، سادات ، علمائے کرام اور شہید علامہ سید ضیا الدین کے نظریے کے ساتھ وفادار اور منسلک رہے ہیں اور یہی وجہ تھی کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے پی۔پی۔پی کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں دیدار علی کی وزارت کی شرط رکھ کر ان پر اپنے اور قوم کے اعتماد کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ دیدار علی نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے لیئے مشہور و معروف سیاسی رہنما وکیل جوہر علی ایڈوکیٹ کی عملی جدوجہد میں شمولیت کے ساتھ کیا۔ بعد میں 80کے عشرے میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی دفعہ الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی، دوسری مرتبہ سن 1999 میں شہید اسلام  و قران علامہ سید ضیا الدین رضوی  کی حمایت سے تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی ، قومی اور ملی پلیٹ فارم سے نمائندگی کرتے ہوئے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی،جبکہ 3تیسری مرتبہ سن 2009 میں ہونے والے انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی (چونکہ تحریک جعفریہ پے پابندی تھی جس کی وجہ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنا پڑا)

صوبائی وزیرگلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی و  رہنما اسلامی تحریک پاکستان جناب دیدار علی صاحب کا جعفریہ پریس کے نمائندے کو دیا گیا خصوصی انٹرویو۔

نمائندہ جعفریہ پریس۔ السلام علیکم جناب،سب سے پہلے تو جعفریہ پریس کی پوری ٹیم بالخصوص اور پوری قوم کی طرف سے بالعموم آپ کو  گلگلت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی وزارت ملنے پر مبارکباد پیش کرتی ہے۔


دیدار علی صاحب۔ وعلیکم السلام، سب سے پہلے تو میں جعفریہ پریس کا ممنون و مشکور ہوں کہ جس نے بندہ حقیر کے جذبات کی ترجمانی کرنے کا انتظام کیا  اور ساتھ ساتھ میں آپ کو اور پوری قوم کوآج کی اس کامیاب سیاسی حکمت عملی پر مبارک باد پیش کرنا چاہوںگا، بالخصوص شہید اسلام و قران و شہید اصلاح نصاب علامہ سید ضیاء الدین رضوی کو آج کے دن خراج عقیدت پیش کرنا چاہوں گاکہ جن کی عملی ،سیاسی،اخلاقی اور  قانونی  جدوجہد کے نتیجے میں اور با لآخر ان کے خون کے صدقے میں بندہ حقیر کو یہ ذمہ داری اور کامیابی نصیب ہوئی ہے،جبکہ دوسری طرف میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے اپنی وزارت سے بھی زیادہ  اس بات پر خوشی اور فخر ہے کے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی مدظلہ العالی اور علمائے کرام نے بندہ حقیر پر اعتماد کیا اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ ہونے والے اتحاد کی شرائط میں بندہ ناچیز کی وزارت کی شرط رکھی اور یہی اعتماد  اور بھروسہ میرے لیئے سرمایہ ہے۔ آج گلگت بلتستان کے اندر ہماری جماعت جیت گئی ہے ، میری تمام تر ذاتی کاوشیں ناکام اور بے سود ثابت ہوئیں جبکہ جماعت اور قیادت اور پاکستان بھر کے علمائے کرام کی کوشش اور حکمت عملی کامیاب ہوئی، اور میری آپ سب سے گزارش بھی یہی ہے کہ آپ میرے حق میں دعا کریں کہ میں اس ذمہ داری سے صحیح طور عہدہ براء ہوسکوں۔


نمائندہ جعفریہ پریس۔  دیدار علی صاحب آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اسلامی تحریک پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے سیاسی اتحاد سے ملکی سطح کی سیاست پر بالعموم اور گلگت بلتستان کی سطح پر بالخصوص کس قسم کے سیاسی اثرات مرتب ہونگے۔


دیدار علی صاحب۔ سب سے پہلے تو میں قائد محترم کی بابصیرت اور مدبرانہ قیادت اور کردار کو  خراج تحسین پیش کرنا چاہونگا کہ جن کا شروع سے ہی مملکت خداداد پاکستان کے اندرسیاسی حوالے سے بہت ہی مثبت اور واضح رول رہا ہے، چاہے ملکی تحفظ کی بات ہو یا اتحاد و  وحدت کی بات ہو ،  دینی جماعتوں کے اتحاد  ایم۔ایم۔اے  ہو یا ملی یکجھتی کونسل یا پھر  ایم۔آر۔ڈی، قائد محترم نے ہمیشہ آئین،قانون اور اخلاق کی بنیاد پے فیصلے کیئے ہیں،اور میں یہ بات واضح انداز میں کہنا چاہونگا کہ قائد محترم کی ذات پاکستان کی ایک ذمہ دار شخصیت ہے اور اسی کے تناظر میں میں کہنا چاہونگا کہ قائد محترم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ جو سیاسی اتحاد کیا اس سے پورے پاکستان ،بالخصوص کراچی،سندھ، پنجاب،خیبر پختونخواہ  اور بلوچستان میں ملت تشیع کے حقوق کے حوالے سے مثبت نتائیج حاصل ہونگے جبکہ گلگت بلتستان میں بھی اس اتحاد کے عملی اثرات اور نتائج آج کی اس وزارت کے حصول کی شکل میں قوم کے سامنے ہیں۔


نمائندہ جعفریہ پریس۔ محترم دیدار صاحب آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اسلامی تحریک پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ملکی سطح پر ہونے والا یہ اتحاد کیا گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں ہونے والے اگلے انتخابات میں گلگت بلتستان کی سطح پر بھی جاری رہے گا۔


دیدار علی صاحب۔ دیکھیں میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ہمارے تمام تر فیصلوں کا اختیار قائد محترم کے پاس ہے اور  گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی سیاسی حکمت عملی قائد محترم کی صوابدید پر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ موجودہ اتحاد ملکی سطح پر ہونے والے 2013کے پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے ہوا ہے جبکہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 2014میں ہونگے،چنانچہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ قائد محترم اور علمائے کرام کی مشاورت اور حکم سے ہوگا

نمائندہ جعفریہ پریس۔ دیدار صاحب ہماری اطلاع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں گلگت بلتستان کی سطح پے جہاں آپ کی وزارت کا مطالبہ تھا وہیں متنازعہ نصاب تعلیم کے حوالے سے ماضی میں طے پائے جانے والے معاہدات کی روشنی میں نوٹیفیکیشن کے اجراء کا مطالبہ بھی شامل ہے، اس پر عملدرآمد کے حوالے سے قوم کو کیا امید دلائی جاسکتی ہے۔

دیدار علی صاحب۔جی ہاں بالکل ، محترم عارف واحدی صاحب  اور دیگر ذمہ داران کی موجودگی میں جب پولیٹیکل سیل کا اجلاس ہو رہا تھا تو ہم نے اس حوالے سے بات کی تھی، مارچ 2009 میں متنازعہ نصاب تعلیم کے حوالے سے طے پانے والے معاہدے کا نوٹیفیکیشن اب تک جاری نہیں ہوا ہے، جس کا مطالبہ بھی سامنے رکھا گیا ہے،انشاء اللہ ہم پر امید ہیں کہ بہت جلد اس حوالے سے بھی مثبت نتائج سامنے آئینگے۔


نمائندہ جعفریہ پریس۔
اس وقت گلگت بلتستان کی سطح پے اس سیاسی اتحاد اور اس کے نتیجے میں  طے پانے والے معاہدات اور اثرات کے حوالے سے عوام الناس کے اندر کس قسم کے جذبات پائے جاتے ہیں۔


دیدار علی صاحب۔ دیکھیں ظاہر سی بات ہے کہ آج کی یہ کامیابی قوم کی کامیابی ہے، جماعت کی کامیابی ہے، علمائے پاکستان اور قائد محترم کی کامیابی ہے، قوم میں خوشی کا ہونا لازمی سی بات ہے، میں آپ کو واضح انداز میں کہونگا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شاید ایسا ہوا ہے کہ 2 دو سابق وزرائے اعظم نے ہماری تنظیم کے 2 ذمہ دار شخصیات کے ساتھ بیٹھ کر معاہدے پر دستخط کیا ہے جس سے ہماری قوت اور قومی تشخص اور وقار کا عملی مظاہرہ ہوا ہے جو کہ قائد محترم کی بصیرت کا نتیجہ ہے،جبکہ گلگت بلتستان قانون ساز کونسل کی عملی سیاست کے حوالے سے میں واحد بندہ تھا جو کہ قائد محترم کے ساتھ مربوط تھاجس کی وجہ سے قائد محترم نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے۔اب میں کوشش کرونگا کہ اس ذمہ داری کو صحیح طرح نبھا سکوں۔

نمائندہ جعفریہ پریس۔ آخر میں ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ہماری حوصلہ افزائی فرمائی۔

دیدار علی صاحب۔ میں جعفریہ پریس کی پوری ٹیم کا انتہائی مشکور ہوں کہ جنہوں نے  میری آواز کو قوم تک پہنچانے میں میری حوصلہ افزائی فرمائی، اور ساتھ ساتھ میں پوری قوم سے بھی گزارش کرونگا کہ وہ میری کامیابی اور ذمہ داری سے صحیح طور عہدہ براء ہونے کے لیئے دعاء فرمائے، اور ساتھ ساتھ میری دعاء ہے کہ پروردگار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی اور تمام علمائے کرام کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

جعفریہ یوتھ کے نوجوان انتخابات میں اسلامی تحریک کے حمایت یافتہ امیدواروں کی بھرپور حمایت کرینگے، اظہار بخاری

یکشنبه 11 فروردین 1392 11:45 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

جعفریہ یوتھ کے نوجوان انتخابات میں اسلامی تحریک کے حمایت یافتہ امیدواروں کی بھرپور حمایت کرینگے، اظہار بخاری

سید اظہار بخاری کا آبائی تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال سے ہے۔ انہوں نے تحریک جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے یونٹ سطح سے اپنے تنظیمی سفر کا آغاز کیا۔ اپنے نظریات میں پختہ اور نوجوانوں کو منظم کرنے کے جذبے سے سرشار اظہار بخاری زیادہ عرصہ تحریک جعفریہ پاکستان کے شعبہ پریس سے منسلک رہے ہیں۔ وہ اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ ساجد علی نقوی کے ترجمان بھی رہے، اور اب جعفریہ یوتھ پاکستان کے ناظم اعلٰی کے طور پر تنظیمی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔  ان سے خصوصی انٹریو کیا ہے۔ جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔  

 جعفریہ یوتھ پاکستان کب اور کیوں قائم ہوئی۔؟
سید اظہار بخاری: سب سے پہلے تو آپ کا شکریہ کہ آپ نے چند لمحات میرے لئے نکالے اور مجھے موقعہ دیا کہ میں جعفریہ یوتھ پاکستان کے حوالے سے تعارف کروا سکوں اور اپنے منشور کے کچھ نکات بیان کر سکوں۔ جعفریہ یوتھ پاکستان ملت تشیع کے نوجوانوں کا ایک پلٹ فارم ہے۔ جس کا احیاء تو تحریک جعفریہ پاکستان کے دور سے ہی 1995ء ہوچکا تھا، لیکن تحریک جعفریہ پر پابندی کی وجہ سے جعفریہ یوتھ کا فعالیت سے کام نہیں ہوسکا اور کافی عرصہ یہ معاملہ زیرالتوا رہا۔ اور پھر آگے ایک لمبا عرصہ پابندی کا دور بھی گزرا۔ جس میں ہم اس شعبے پر توجہ نہیں دے سکے۔ اب سیاسی،  دینی اور تنظیمی حوالے سے پاکستان میں صورت حال تبدیل ہوئی ہے۔ گھٹن کا ماحول کچھ کم ہوا ہے۔ 
ملت تشیع کے اکابرین اور قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے محسوس کیا کہ اس شعبے کا ازسر نو احیا کیا جائے۔ گذشتہ سال شیعہ علماء کونسل کی مرکزی کابینہ نے قائد ملت کی سرپرستی میں یہ فیصلہ کیا کہ جعفریہ یوتھ کو منظم کرکے اس کو فعال کیا جائے۔ نوجوانوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے تنظیم سازی کے لئے بزرگان کی طرف سے مجھے یہ ذامہ داری سونپی گئی ہے کہ میں اس شعبے کو ازسر نو منظم کروں۔ اس وقت مرکزی ناظم اعلٰی کی ذمہ داری میرے پاس ہے۔ گذشتہ تقریباً آٹھ ماہ سے ہم نے پورے ملک جا کر یوتھ کے سیٹ اپ کے لیے کوششیں کی ہیں۔
 
جعفریہ یوتھ پاکستان کے مقاصد کیا ہیں۔؟
سید اظہار بخاری: ہماری تنظیم کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک قومی جماعت شیعہ علماء کونسل اور سیاسی پلیٹ فارم اسلامی تحریک پاکستان ہے۔ ہم ایک باغیرت اور قابل فخر ملت جعفریہ ہیں۔ ہمارے پاس ایک زیرک اور مدبر قیادت علامہ ساجد علی نقوی کی صورت میں موجود ہے۔ ان کے شیدائی نوجوانوں کی تنظیمی اور فکری تربیت اور کردار کے لیے جعفریہ یوتھ پاکستان تشکیل دی گئی تھی۔ مزید یہ کہ نوجوانوں کی آگاہی اور سیاسی رہنمائی کے لیے، ان کی مذہبی، سماجی اور معاشرتی طور پر موثر کردار ادا کرنے کے لیے انہیں منظم کرنے اور منظم انسان بنانے کے لیے جعفریہ یوتھ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، کیونکہ اس سے پہلے نوجوانوں اور بزرگان کے درمیان کوئی رابطہ نہیں تھا۔ اس لئے کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد نوجوانوں کے پاس کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا کہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے۔ اس ضرورت کے پیش نظر ہم نے ایک درمیانی پلیٹ فارم بنایا ہے اور جعفریہ یوتھ ونگ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، تاکہ وہ اس پوزیشن میں آجائیں کہ علماء اور بزرگان کے ذریعے ان کی تربیت کی جائے، اس تربیت کے ذریعے وہ اس اہل ہوجائیں کہ وہ قوم کی راہنمائی کرسکیں یا شیعہ علماء کونسل میں ذامہ داریاں سنبھال سکیں۔ یہ ایک انداز ہے جو آپ جانتے ہیں جو سیاسی یا مذہبی جماعتوں میں ہے، جہاں نوجوانوں آتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ 

کیا جعفریہ یوتھ پاکستان علیحدہ سے جماعت ہے یا جے ایس او کی طرح ایک شعبہ ہے۔؟
سید اظہار بخاری: جی جعفریہ یوتھ پاکستان کوئی نیا سیٹ اپ نہیں ہے بلکہ شیعہ علماء کونسل کا ایک ذیلی ادرہ ہے۔ اسے آپ یوتھ ونگ کہہ لیں۔ یہ کوئی علیحدہ جماعت یا دھڑا نہیں ہے، یہ شیعہ علماء کونسل اور اسلامی تحریک پاکستان کے اغراض و مقاصد کو عملی طور پر نافذ کرنے اور قائد ملت جعفریہ کے جاں نثاروں کو اکٹھا کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔

اس وقت جعفریہ یوتھ پاکستان کا تنیظمی ڈھانچہ کتنے اضلاع میں موجود ہے اور کتنے نوجوان آپ سے وابستہ ہیں۔؟ 
سید اظہار بخاری: صوبہ پنجاب میں ہمارا 70 فیصد کام مکمل ہے۔ بلوچستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں ابھی ابتدائی کام جاری ہے، رابطے ہوچکے ہیں۔ جہاں جہاں پر شیعہ علماء کونسل کا سیٹ اپ موجود ہے۔ جعفریہ یوتھ کو اس سیٹ اپ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا کام جاری ہے، البتہ چونکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے معروضی حالات ہیں۔ اس لیے وہاں کام تھوڑا آہستہ آہستہ جاری ہے، لیکن امید ہے کہ اگلے ایک ماہ میں صورت حال بہتر ہو جائے گی۔

کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جعفریہ یوتھ، ماضی کی پاسبان اسلام کا متبادل پلیٹ فارم ہے۔؟
سید اظہار بخاری: پاسبان اسلام تو بہت مدت سے ختم ہوگئی تھی۔ ابھی تحریک جعفریہ پاکستان پر پاپندی بھی نہیں لگی تھی۔ اس سے پہلے ہی پاسبان اسلام کا معاملہ ختم ہوچکا تھا۔ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ازسر نو ہے۔ اس کا اپنا ایک وجود ہے اور اپنی ضروریات ہیں۔ اس کا اپنا پس منظر ہے اور اس کا اپنا ایک ضابطہ اخلاق ہے، اس کا اپنا دستور ہے۔ 

مئی میں ہونے والے انتخابات میں جعفریہ یوتھ کا کیا کردار ہوگا۔؟
سید اظہار بخاری: سیاست میں ہمارا اپنا کوئی جداگانہ کردار نہیں ہے کیونکہ ہم ایک قیادت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔ ایک جماعت کا ذیلی ونگ ہیں۔ لہٰذا شیعہ علماء کونسل کی پالیسی اور قیادت کی پالیسی کے مطابق ہی ہم اسلامی تحریک پاکستان کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ انشاءاللہ قائد ملت جعفریہ کے حمایت یافتہ امیدواروں کی پوری سپورٹ کریں گے۔ ہمارا الگ سے کوئی کردار نہیں ہے۔ 

آپ نے یوتھ کنونشنز کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، اس کا ایجنڈہ کیا ہے اور کس حد تک کارکنوں کی تربیت کی۔؟
سید اظہار بخاری: ابھی تو کنونش کا سلسلہ اس انداز میں شروع نہیں کیا کہ جسے آپ کنونشن کہہ سکیں۔ یہ ابھی ابتدائی اجلاس ہو رہے ہیں۔ ہماری تنظیم سازی ملک گیر سطح پر منظم ہو جائے گی۔ تو اس کے بعد پھر ہم کنونشنز کی طرف جائیں گے اور اس کا آغاز باقاعدہ کریں گے۔ پہلے ہم ضلعی سطح پر اور پھر ڈویژن کی سطح پر اس کے بعد صوبے اور آخر میں مرکزی سطح پر بڑے یوتھ کنونشن کا انعقاد کریں گے۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

انقلاب کیلئے قیادت پر اعتماد کرنا ہوگا- علامہ عارف حسین واحدی

دوشنبه 5 تیر 1391 12:19 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

علامہ عارف حسین واحدی کا شمار پاکستان کے اہم شیعہ علماء میں ہوتا ہے، آپ نے حال ہی میں انتخاب کے بعد شیعہ علماء کونسل پاکستات کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالا ہے، اور آج کل تنظیم کی فعالیت اور اسٹریکچر کی بحالی کی کیلئے پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کر رہے ہیں، علامہ صاحب ہمیشہ ملت کے حقوق کیلئے سرگرم عمل رہے ہیں، اور شیعہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل منتخب ہونے کے بعد آپ کے کندھوں پر اہم ذمہ داریاں آگئی ہیں۔  علامہ عارف حسین واحدی کے ساتھ ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔

سوال: جیسا کہ آپ حال ہی میں شیعہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، یہ بتائیے کہ تنظیم کے اسٹرکچر کو دوبارہ فعال اور منظم کرنے میں کس قسم کے چیلنجز آپ کو درپیش آسکتے ہیں۔ اور کب ایس یو سی ایک مضبوط جماعت کے طور پر دیکھنے کو ملے گی۔؟


علامہ عارف حسین واحدی: بسم اللہ الرحمان الرحیم، ہماری تنظیم کافی عرصہ سے فیلڈ میں موجود ہے اور کام ہو رہا ہے، گزشتہ دور میں پابندیوں اور کچھ دیگر مسائل کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں، آپ کے علم میں ہوگا کہ گزشتہ دس، بارہ سال میں سیکرٹری جنرل کا عہدہ انتخابی نہیں تھا بلکہ نامزد ہوتا تھا، اس مرتبہ مرکزی کابینہ اور جنرل کونسل نے فیصلہ کیا کہ سیکرٹری جنرل منتخب ہو اور اس کے پاس اختیارات بھی ہوں، اب الحمد اللہ تنظیم کے حوالے سے کام شروع ہوچکا ہے اور انشاء اللہ گراس روٹ لیول تک تنظیم کے شعبوں اور یونٹس کو متحرک کیا جا رہا ہے، ساتھیوں میں ایک نیا ولولہ اور جذبہ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ چند سالوں میں تنظیم اس طرح فعال نہیں تھی، تاہم قائد ملت جعفریہ اپنی بھرپور توانائیوں کے ساتھ ملت کے ساتھ رابطوں میں مصروف رہے وہ ہمارے لئے بہت مفید رہا، میں اس وقت پورے پاکستان کا دورہ کر رہا ہوں اور جہاں جاتا ہوں لوگ متحرک اور بیدار نظر آتے ہیں، یہ قائد محترم کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔

 

 

سوال: ماضی میں شیعہ تنظیموں کیخلاف دہشتگرد تنظیموں کے مقابلہ میں بیلنس کی پالیسی اختیار کی گئی، حکومت کی جانب سے تحریک جعفریہ کو دہشتگرد گروہ کے مقابلہ میں لاکر پابندی عائد کرنا کس حد تک ناانصافی ہے۔؟


علامہ عارف حسین واحدی: میں سمجھتا ہوں یہ بہت بڑی ناانصافی ہے، ہماری قیادت، ہمارا پلیٹ فارم سید محمد دہلوی سے لیکر مفتی جعفر حسین، پھر قائد شہید علامہ عارف حسین کے دور میں اور اب قائد ملت علامہ ساجد علی نقوی کے دور میں، ہمیشہ اتحاد و وحدت کا علمبردار رہا ہے، ہم نے فرقہ واریت کے حوالے سے کبھی کہیں اشتعال نہیں پھیلایا، دیوبندی حضرات کے علماء کرام اور بزرگان، بریلویوں کے علماء کرام، اہلحدیث کے بزرگان سب کے ساتھ ہماری قیادت ملکر بیٹھی ہے۔ فرقہ واریت کی طرف ہم کبھی گئے ہی نہیں، حکومت نے بیلنس کی ظالمانہ پالیسی اپناتے ہوئے ان گروپوں کے مقابلے میں ہم پر پابندی لگائی، میں سمجھتا ہون کہ ان کی اپنی مجبوری تھی، ہمارا دامن اس حوالے سے بالکل صاف ہے اور ہم اب بھی میدان میں ہیں، ہم نے اس حوالے سے عدالت میں بھی کیس کیا ہوا ہے، تاہم بار بار کوششوں کے باوجود ابھی تک اس کا جواب نہیں آیا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے ساتھ سراسر ظلم و ناانصافی ہے۔ اس ملک کا امن و امان قائم رکھنے، اس ملک کے استحکام، تحفظ اور ترقی میں ہمارا بھرپور کردار رہا ہے۔

 

سوال: حال ہی میں ملی یکجہتی کونسل کا احیاء ہوا، آپ کے خیال میں یہ اقدام ملک میں اتحاد بین المسلمین کی کوششوں میں کس حد تک کارگر ثابت ہو سکتا ہے اور کیا دوبارہ وہ مسائل تو درپیش نہیں آجائیں گے، جس کی وجہ سے یہ اتحاد غیر فعال ہوا تھا۔؟


علامہ عارف حسین واحدی: ملی یکجہتی کونسل کا دوبارہ احیاء امت مسلمہ کیلئے تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے، اس دہشتگردی کے دور میں امن و امان کا جو مسئلہ درپیش ہے اور وطن عزیز میں جو مشکلات ہیں، اس تناظر میں یہ اتحاد اسلامی بہت بڑا قدم ہے، انشاءاللہ وہ مشکلات اب پیش نہیں آئیں گی، ہماری پالیسی بالکل واضح ہے، ہمارے قائد بزرگوار نے وہاں ابتداء سے ہی واضح کر دیا کہ ہم تکفیری گروپوں کے ساتھ ہرگز نہیں بیٹھیں گے، اور جب وہ نہیں ہونگے تو الحمد اللہ تمام جماعتیں اس میں شامل ہیں اور یہ اتحاد بہت بہتر طریقہ سے آگے چلے گا۔

 

سوال: علامہ ساجد علی نقوی کی اتحاد بین المسلمین کیلئے کوششوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، تاہم شیعہ علماء کونسل کی طرف سے اب تک اتحاد بین المومنین کیلئے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور مستقبل میں اس حوالے سے کس قسم کی پیشرفت کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔؟


علامہ عارف حسین واحدی: شیعہ علماء کونسل ایک قومی پلیٹ فارم اور تشیع کی واحد نمائندہ جماعت ہے، شیعہ علماء کونسل سید محمد دہلوی کے پلیٹ فارم کی وارث ہے، شیعہ علماء کونسل مفتی جعفر حسین کی وارث ہے، شیعہ علماء کونسل علامہ شہید عارف حسینی کی وارث ہے، اور ہمیشہ شیعہ کی وحدت کیلئے سرگرم رہی، آپ یقین جانیں قائد بزرگوار ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو کہتے ہیں کہ جہاں کوئی شیعہ مشکل میں پڑ جائے، علی ولی اللہ پڑھتا ہو، آپ نے یہ نہیں دیکھنا کہ وہ کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے، اس کے مسائل ایک شیعہ سمجھ کر حل کرنے ہیں اور ہم شیعہ وحدت کیلئے انشاءاللہ اپنا کام جاری رکھیں گے۔

 

سوال: ملک میں تشیع کی قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے، آپ کی جماعت کی جانب سے اس سلسلے مین حکومت پر کس حد تک دبائو ڈالا گیا اور مستقبل میں اس سلسلے کو روکنے کیلئے کیا اقدامات کئے جائیں گے۔؟


علامہ عارف حسین واحدی: اسی اتحاد و وحدت کی فضاء اور قومی پلیٹ فارم کے ذریعے حالات بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، آپ وہ وقت یاد کریں، مفتی جعفر حسین کے دور میں جب ایک ڈکٹیٹر نے شیعہ حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی تھی تو اس کے مقابلے میں بند باندھا تھا تو اسی پلیٹ فارم نے باندھا تھا، جس قسم کی دہشتگردی کی گئی اس حوالے سے ہمارے پلیٹ فارم نے صبر و استقامت کے ساتھ قانون کو ہاتھ میں نہ لیتے ہوئے کام کیا ہے۔ اس وطن عزیز کی بقاء اور استحکام کیلئے ہم جس طرح آگے بڑھے ہیں، انشاءاللہ اسی سلسلے کو جاری رکھیں گے اور آگے بڑھیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم مثبت کردار ادا کرتے ہوئے وطن عزیز کی سلامتی اور تشیع کی اسی طاقت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا جو مشن ہے اس کو آگے بڑھاتے رہیں تو منفی قوتیں خود بخود پیچھے ہٹ جائیں گی۔ اب دیکھیں ملی یکجہتی کونسل میں سب مثبت دینی قوتیں شامل ہیں، یہ ہمارے پلیٹ فارم اور قیادت کی پالیسی کی وجہ سے ممکن ہوا، اور منفی قوتیں اس اتحاد میں شامل نہیں ہیں، اور انشاءاللہ یہی پالیسی جاری رہی تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

 

سوال: آئندہ الیکشن میں ایس یو سی کا شیعہ جماعتوں کے ساتھ اتحاد متوقع ہے یا پھر دیگر جماعتوں کے ساتھ کوئی ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کیا متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا جائے گا۔؟


علامہ عارف حسین واحدی: مجلس عمل کے حوالے سے بھی کوششیں جاری ہیں، 2002ء میں جو الیکشن ہوا تھا اس میں مجلس عمل بھرپور دینی قوت کے طور پر ابھری تھی، صرف مذہبی لوگ نہیں بلکہ غیر دینی قوتیں بھی تسلیم کرتی ہیں کہ اگر یہ سب مذہبی قوتیں اکٹھی ہو جائیں تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے، میں اکثر یہ جملہ کہتا ہوں کہ پاکستان ایک ایٹمی پاور ہے، لیکن اگر تمام دینی سیاسی قوتیں اکٹھی ہو جائیں اور اتحاد کیساتھ الیکشن میں آئیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان میں ایٹمی پاور سے بھی بڑی قوت بن جائے گی۔ ہم سیاست میں بھرپور طریقہ سے ایکٹیو ہو رہے رہیں اور انشاءاللہ اس مرتبہ سیاست میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

 

سوال: مختلف ممالک میں جنم لینے والی اسلامی بیداری کی لہر کیا پاکستان میں بھی آسکتی ہے، اور اس انقلابی لہر کے اب تک یہاں نہ آنے میں کیا مشکلات حائل ہیں۔؟


علامہ عارف حسین واحدی: بالکل آ سکتی ہے، بیداری کی لہر عوام میں تو ہے لیکن قیادت پر لوگوں کو اعتماد کرنا ہوگا، جس طرح رہبر انقلاب امام خمینی رہ نے قوم کی قیادت کی، پورا عالم اسلام ان کی جرات اور شجاعت کو آج بھی سلام پیش کرتا ہے، اور جس طرح آج رہبر معظم آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای اتحاد و وحدت کیساتھ قوم کو لیکر چل رہے ہیں، انہوں نے قیادت کا لوہا واقعتاً منوایا ہے، وہ جس جرات کے ساتھ سامراجی قوتوں، شیطانی طاقتوں کے سامنے کھڑے ہیں اگر اسی طرح پاکستان میں بھی ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے عوام بھی آگے بڑھیں گے۔ میں ناامید نہیں ہوں، اور سمجھتا ہوں کہ وہ وقت بہت جلد پاکستان میں آنے والا ہے۔

 

سوال: آپ کے خیال میں شیطان بزرگ امریکہ کی پاکستان میں مداخلت بڑھتی جارہی ہے یا پھر حالیہ چند واقعات کے بعد یہ سمجھا جائے کہ وطن عزیز سے امریکی مداخلت ختم ہونے کے قریب ہے۔؟


علامہ عارف حسین واحدی: صورتحال کچھ ایسی نظر آرہی ہے لیکن ہم بہت زیادہ پر امید نہیں ہیں چونکہ یہ سب لوگ آزمائے ہوئے ہیں، ملت پاکستان ان پر زیادہ اعتبار نہیں کر رہی، تھوڑی سی بہتری محسوس ہوئی ہے، تاہم ہم حکمرانوں سے چاہیں گے کہ وہ اس عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آتے ہیں جو امریکہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں اور امریکہ سے سخت نفرت کا اظہار کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ جس طرح ایران میں قیادت موجود ہے جو امریکہ کے ساتھ مخالف اور دشمن ہے اور عوام ان کے ساتھ سینہ سپر ہو کر چل رہی ہے اور مشکلات برداشت کر رہی ہے، اگر ہمارے پاکستانی حکمران بھی اسی طرح امریکہ اور ابلیسی طاقتوں کے مقابلہ میں سٹینڈ لیں تو پوری ملت پاکستان ان کے ساتھ ہوگی۔ یہ تھوڑی سی جرات کریں لوگ تو الحمد اللہ انقلابی سوچ رکھتے ہیں اور امریکہ کے مقابلے میں کھڑے ہونے کیلئے تیار ہیں۔

 

سوال: آپ سے آخری سوال کہ شیعہ علماء کونسل مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے یکم جولائی کو ہونے والی قرآن و سنت کی حمایت کرتی ہے یا مخالفت۔؟


علامہ عارف حسین واحدی: دیکھیں،میں نے عرض کیا ہے کہ شیعہ علماء کونسل پوری ملت کا ایک قومی پلیٹ فارم ہے، یہ تسلسل ہے مفتی جعفر حسین اور قائد شہید کے پلیٹ فارم کا۔ باقی چھوٹے چھوٹے گروپ بنتے رہتے ہیں اور اجتماعات کرتے رہتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ پروگرام ہوتے رہتے ہیں، ہمیں اس سے مسئلہ نہیں ہے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

قوم کو چاہیے کہ وہ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے ہاتھ مضبوط کریں

شنبه 3 تیر 1391 12:56 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

حضرت علامہ سید افتخار حسین نقوی کا شمار پاکستان کی معروف مذہبی اورسماجی شخصیات میں ہوتا ہے، اپنے دور میں ہونیوالی مکتب تشیع کی تمام سرگرمیوں میں ہراول دستے کے طور پر شامل رہے اور ایک مدت تک تحریک جعفریہ پنجاب کے صدر رہے، اسکے بعد آپکو تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری کے طور پر چن لیا گیا۔١٩٩٨ سے سیاسی میدان سے کنارہ کش ہوکر تعلیمی اورقوم کے فلاح وبہبود کے امورمیں مصروف ہوگئے اسی مقصدکے لئے ضلع میانوالی میں ادارہ امام خمینی رہ ٹرسٹ قائم کیا ۔ آج کل اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبربھی ہیں اور اس کونسل میں ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلہ جات کوعملی جامہ پہنانے کے لئے ملی یکجہتی کونسل کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی میں قائدملت جعفریہ حضرت آیة اللہ علامہ سید ساجدعلی نقوی کے نمائندہ بھی ہیں ،اسی کے پیش نظر جعفریہ پریس کے نمائندہ نے علامہ صاحب سے اسلامی نظریاتی کونسل سمیت قومیات پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جس کی تیسری اور آخری قسط قارئین کے پیش خدمت ہے۔

جعفریہ پریس۔علامہ صاحب جیساکہ آپ نے اپنی گفتگو میں بھی اشارہ فرمایاکہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی کال پر حالیہ منعقدہ کامیاب( شیعہ علماء کانفرنس)اور قائد محترم کے مسلسل عوامی رابطے سے توواضح ہوتاہے کہ عوام اور خواص قائد ملت جعفریہ پاکستان کی قیادت پرمتفق ہے اس کے باوجود ہرطرف سے اٹھنے والی اتحاداتحاد کی صدائیں کیامعنیٰ رکھتی ہیں؟ اورآپ کی نظر میں مطلوبہ قومی اتحا د کے لئے نقطۂ اشتراک کیاہے؟


علامہ افتخارنقوی: دیکھیں اس میں تو کوئی شک نہیں کہ علماء کی اکثریت قائد ملت جعفریہ کے ساتھ ہے لیکن یہ کہیں کہ ساری شیعہ قوم علامہ ساجد نقوی کو اپنا قائد مانتی ہے یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں ۔قائد ملت جعفریہ علامہ صاحب ہیں یہ اپنے مقام پر ٹھیک، لیکن  یہ کہا جائے کہ سارے شیعہ گروپ علامہ صاحب کو اپنا قائد مانتے ہیں یہ کہنا درست نہیں۔یا تو یہ کہا جائے کہ شیعہ گروپ وجود ہی نہیں رکھتے جبکہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا اس لئے کہ شیعہ گروپ موجود ہیں، شیعہ جماعتیں موجود ہیں، کوئی چھوٹی جماعت ہے کوئی ذرا بڑی جماعت ہے اور پھر علامہ حامد موسوی کی جماعت کی بھی نفی نہیں کر سکتے وہ بھی پاکستان میں موجود ہیں اس کے بھی کافی تعداد میں حامی لوگ موجود ہیں اور پھر کل تک جو کچھ لوگ اسی پلیٹ فارم پر علامہ ساجد نقوی کے ساتھ تھے اب انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کے عنوان سے اپنی الگ جماعت بنالی ہے۔ یہ جو بات کی جاتی ہے قومی اتحاد کی تو ظاہر ہے کہ تمام شیعہ گروپوں کی نسبت آغا صاحب کی مثال ایک باپ کی ہے اور سب سے بالا دست ہیں لیکن بالا دست کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے سے چھوٹوں کو اپنے ساتھ نہ ملائیں اس لئے وحدت کی ہمیشہ ضرورت ہے اور آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے ،اور یہ قائد ملت جعفریہ کی ہی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پاکستان میں تمام شیعہ گروپوں کو اپنے ساتھ ملائیں جیسا کہ ان کا ہمیشہ رویہ رہا ہے کہ انہوں کبھی کسی گروپ کے خلاف کوئی بات نہیں کی اگر کسی نے کسی گروپ کی توہین کی ہے یا اس کے خلاف کوئی بات کی ہے تو انہوں نے اپنی جماعت کے عہدیداروں اور اپنے ساتھیوں کو سختی سے منع کیا ہے اور انہوں ہمیشہ کہا ہے کہ کسی گروپ کا وجود  میرے لئے کوئی پرابلم نہیں ہے ہر ایک اپنا سلیقہ رکھتا ہے اور اپنی سوچ رکھتا ہے نہ تو کسی کی سوچ پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ تم صرف ہماری بات مانو اپنی بات ہی نہ کرو- میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت جب اتحاد کی بات کی جاتی ہے تو زیادہ وحدت مسلمین والے ہی ذہن میں آتے ہیں جبکہ وحدت مسلمین والے بھی علماء میں سے ہی ہیں اور جوان علماء میں سے ہیں اور انہوں نے بھی قم میں تعلیم حاصل کی ہے اس سے پہلے یہ آئی ایس او میں تھے۔ اگرچہ میرے اس جملے سے بعض ناراض بھی ہوئے ہیں لیکن میں پھر اپنے اس جملے کو دہراتا ہوں کہ آئی ایس او ہمارے طلبہ کی ایک با وقار تنظیم ہے انہوں نے طلبہ کے اندر بہت سی خدمات انجام دی ہیں جب سے وہ یونیورسٹیوں میں قائم ہوئی شیعہ طلبہ کا اپنا ایک تشخص بنا کیونکہ اس سے پہلے شیعہ طلبہ مختلف غیر دینی جماعتوں میں جاتے تھے البتہ اب بھی ہیں ایسا نہیں کہ شیعہ اب کسی غیر دینی جماعت میں نہیں ہیں، شیعہ ہر سیاسی جماعت میں موجود ہیں کوئی ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا کہ شیعہ کسی سیاسی جماعت میں نہیں ہیں شیعہ سب سے زیادہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر موجود ہیں جبکہ ہماری قومی جماعت تحریک جعفریہ یا اسلامی تحریک بھی مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی ہے لیکن بہت سے شیعہ طلبہ علامہ ساجد نقوی کو اپنا مذہبی قائد تومان لیں گے لیکن سیاست میں انہیں اپنا سیاسی قائد ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کیونکہ سیاسی میدان میں تو وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں یا مسلم لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں ہم انہیں یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ سیاسی میدان میں بھی انہیں ضرور اپنا قائد مانیں جبکہ اس وقت ہماری جماعت (شیعہ علماء کونسل) بھی ظاہراً سیاست میں ہے ۔ اسی طرح  جو شیعہ طلبہ کالجوں یا یونیورسٹیوں سے فارغ ہوکر ملازمت میں جا رہے تھے تو اس وقت علماء اور بزرگان کے مشورے سے ان کے لئے آئی او کے عنوان سے ایک تنظیم بنائی گئی ۔پہلے تو کالج والے طالبعلم بنتے ہی نہیں تھے طالبعلم صرف مڈل یامیٹرک کی سطح کے طلبہ طالبعلم بنتے تھے جب وہ اس سے آگے کالج یا یونیورسٹی تک پہنچ گئے تو وہ دینی تعلیم کی طرف آتے ہی نہیں تھے یہ انقلاب اسلامی ایران کا ثمر تھا کہ اس طرف رجحان ہوا اور کثیر تعداد میں لوگ اپنی انجنیئری اور ڈاکٹری کی پوسٹ چھوڑ کر یا اپنی دیگر تعلیمی پوسٹیں چھوڑ کر قم میں  دینی تعلیم حاصل کی اور تعلیم حاصل کرنے بعد واپس آئے اور واپس آکر کسی نے اپنا مدرسہ بنایا تو کسی نے کوئی آزاد کام شروع کیا بہت ساروں نے کوئی تبلیغی سیٹپ بنایا اگر چہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں لیکن یہ کوئی تقریباً چھوٹے چھوٹے دس بارہ گروپ بنتے ہیں جنہوں اپنا تبلیغی یا تعلیمی حوالے سے اپنا کام شروع کر رکھا ہے وہ سب مل بیٹھے ہیں جن میں آئی ایس او،آئی او،اصغریہ اور اس قسم کے کوئی بیس اکیس گروپ بنتے ہیں انہوں نے مل کر ایک مشترکہ کونسل بنائی ہے اور اس کونسل کے تحت مجلس وحدت مسلمین کے عنوان سے ایک جماعت بنائی ہے۔ ظاہر ہے کہ شیعہ جماعت تحریک جعفریہ پاکستان اسی طرح اس کے بعد اسلامی تحریک پر تو ریاستی اداروں کی طرف سے پابندی ہے پھر ہر ایک کا اپنا اختلاف نظر بھی ہے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اختلاف نظر نہیں ہے اور پھر علامہ ساجد نقوی سے بھی ان کی کوئی ہماہنگی نہیں ہو رہی تھی اس بنا پرانہوں نے مجلس وحدت مسلمین کے عنوان سے اپنی الگ جماعت بنالی ہے ظاہر ہے یہ سارے ہمارے عزیز ہیں میرے لئے تو یہ سب عزیز ہیں اس لئے کہ اپنے اسٹوڈنٹی لائف میں سب میرے پاس آتے رہے ہیں اور میرے تربیتی دروس میں شرکت کرتے رہے ہیں میرے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ بہت سارے جو اس قسم کے بعد میں طالبعلم بنے یہ وہی اللہ نے جو ہمیں توفیق دی اور جو ہم نے تربیتی دروس دئے اس کے نتیجے میں بہت سارے جاکر قم میں طالبعلم بنے اور انہوں نے ہی اب مجلس وحدت مسلمین نامی جماعت بنائی ہے اور یہ وہی ہیں جو کل آئی ایس او میں تھے اور بعد میں قم میں دینی تعلیم حاصل کی اور علماء بنے، جس طرح پہلے کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہوکر ملازمتوں میں جانے والے طلبہ کے لئے آئی او نامی تنظیم بنی اور یہ علماء ملازمین میں تو نہیں تھے لہٰذا آئی او میں نہیں جا سکتے تھے اس لئے انہوں نے مجلس وحدت مسلمین کے نام سے  اپنی تنظیم بنالی ہے جس کے انہوں نے اہداف اور مقاصد بھی بیان کئے ہیں۔ ہماری ان سے یہ خواہش ہے، آرزو ہے اور درخواست ہے کہ وہ کام کریں، کام کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے پاکستان ایک وسیع میدان ہے لیکن دوسرے کسی کی توہین نہ کریں قائد ملت جعفریہ کا ایک اپنا مقام ہے جس کے بارے میں ان کے ذمہ دار افراد بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ قائد ملت جعفریہ کی توہین نہیں کرتے اور ہماری پالیسی میں بھی نہیں ہے ،ہم ایسا کرنے والے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو ہم اس پر راضی نہیں ہیں۔ہماری پھر ان سے یہی درخواست ہے کہ اس سلسلے کو نیچے تک لے جائیں جس طرح ان کے بالاسطح کے افراد یا قیادت اسے جائز نہیں سمجھتی اسے نچلی سطح پر بھی لے جائیں۔ ظاہر ہے کہ قا ئد ملت جعفریہ کا ایک مقام ہے وہ ایک بزرگ عالم دین ہیں ان کے ہزاروں کی تعداد میں شاگرد ہیں ،کتنے ہی مدارس کی سرپرستی ان کے پاس ہے اور پھر وہ اتنے سالوں سے مسلسل کام کر رہے ہیں وہ کوئی معصوم تو نہیں ہیں لیکن بہرحال قابل احترام ہیں جیسا کہ تمام بزرگان قابل احترام ہیں ،سب ہمارے سروں کے تاج ہیں،سب کی بڑی خدمات ہیں۔جیسا کہ میں پہلے اپنی گفتگو میں اشارہ کرچکا ہوں کہ پاکستان کے شیعوں کا مستقبل رووشن ہے اس لئے کہ پاکستان کے ہر شیعہ عالم دین نے انتہائی مظلومیت کے عالم میں تشیع کی تبلیغ کی ہے اور مسلسل کر رہا ہے اس کے پاس اگر وسائل نہیں ہیں تو پھر بھی وہ اپنی ذمہ داری انجام دینے میں لگا ہوا ہے۔ یہ پاکستان کے شیعہ عالم دین ہی ہیں جو پاکستانی شیعوں کو ترقی کی طرف لے جا رہے ہیں جبکہ سٹیج پر انہیں گالیان پڑتی ہیں لعن و طعن کا سامنا کرنا پڑتا ہے مسجد سے انہیں نکال دیا جاتا ہے  ایسی ایسی توہین برداشت کرنی پڑتی ہے جسے انسان لفظوں بیان بھی نہیں کرسکتا لیکن اس کے با وجود پھر بھی وہ دن رات اپنی ذمہ داری کی انجام دہی میں مصروف ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اس بناپر علامہ ساجد علی نقوی صاحب کا بھی اپنا ایک مقام ہے ، ایک حیثیت ہے جس طرح مجلس وحدت مسلمین کے ذمہ دارا فراد اپنی نجی محفلوں اور عمومی اجتماعات میں واضح طور پرکہہ چکے ہیں کہ وہ نہ قائد بننا چاہتے ہیں اور نہ قائد بننے کا کوئی ارداہ ہے اسی لئے انہوں نے اپنی جماعت میں سب سے بڑا عہدہ بھی سیکریٹری جنرل کا رکھا ہوا ہے ،اگر وہ ملت کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ وہ کام کریں، لیکن کسی کی توہین نہ کریں، نہ فقط علامہ ساجد نقوی کی نہ فقط شیعہ علماء کونسل کی بلکہ اور جو تنظیمیں ہیں تنظیمیں ہیں ،کسی گروپ کی توہین کر کے آپ آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ظاہر ہے کہ میں جب نجف اشرف سے واپس آیا تھا تو میری اس وقت چوبیس سال عمر تھی اب میں ساٹھ سے اوپرکا ہو رہا ہوں تو ظاہر ہے کہ مستقبل میں ہماری جگہ انہی جوان علماء نے  لینی ہے تو خدارا یہ ایسا انداز نہ اپنائیں کہ آگے نہ بڑھ سکیں اورجگہ جگہ اپنے لئے رکاوٹیں کھڑی کریں ۔ ہر ایک کا اپنا مقام ہے اپنی عزت ہے ۔ہاں اختلاف نظر کا حق حاصل ہے اختلاف نظر رکھیں نقطہ اختلاف کو احترام کے الفاظ میں بیان کریں، آئیں بحث کریں کوئی رکاوٹ بھی نہیں علامہ ساجد نقوی صاحب تو کھلے دل کے آدمی ہیں ان کے دروازے تو سب کے لئے کھلے ہیں جو انہیں گالی دیتا ہے وہ اسے بھی اپنے سینے سے لگاتے ہیں۔جب وہ قاضی حسین احمد ،فضل الرحمٰن اور سمیع الحق کے ساتھ بیٹھے ہیں تو دوسروں کے ساتھ بھی بیٹھ سکتے ہیں۔ پھر دیکھیں کوئٹہ سمیت کئی مقامات پر مجلس وحدت مسلمین کے افراد اور علامہ ساجد نقوی نے اکٹھے خطاب کیا ہے کہیں کوئی ٹکراؤ بھی نہیں ہے۔ ابھی حال ہی میں قائد ملت جعفریہ کی کال پر منعقدہ شیعہ علماء کانفرنس میں ان کے ڈپٹی سیکریٹری مولانا امین شہیدی صاحب آئے ہیں یہ آنے جانے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے ،ملاقاتیں ہونے چاہئیں، جب ملاقاتیں کریں گے اور علامہ صاحب کے ساتھ آکر بیٹھیں گے اور اپنے خیالات بتائیں گے، تو کہیں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کام کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے رکاوٹ فقط وہاں ہوتی ہے جہاں آپ دوسرے کی توہین کرتے ہیں بس۔علامہ صاحب نے تو ہمیشہ اپنے کارکنوں اور اپنے ساتھ بیٹھنے والوں کو سختی سے منع کیا ہے یہاں تک کہ جب بہت زیادہ مسائل تھے اس وقت بھی انہوں نے کسی کو اجازت نہیں دی کہ ان کے عنوان کو لے کسی کی توہین کی جائے یا کسی کے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے۔

جعفریہ پریس ۔علامہ صاحب اس وقت پاکستانی معاشرے میں موجودتمام تنظیموں کے رہنماء مدعی ہیں کہ ہم ہی ولی فقیہ کے پرچم کے علمبردار ہیں، قوم ہمارے پرچم تلے جمع ہوآپ اس سلسلے میں قوم کوکیاپیغام دیں گے ؟

علامہ افتخارنقوی: دیکھیں ہرایک کو حق حاصل ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں ولایت فقیہ کا پیرو ہوں ،اور میں کام کر رہا ہوں میرا ساتھ دو یہ حق آپ کسی سے چھین نہیں سکتے۔ اور کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں زیادہ پیروکار ہوں اور دوسرا کم ہے یہ ہر ایک کا عمل بتائے گا۔ ولایت فقیہ کا نظریہ بڑا واضح ہے یعنی امام زمانہ (عج) کی غیبت کبریٰ کے زمانے میں ایک عادل، بابصیرت ،شجاع اور سیاستمدار فقیہ کی رہبری میں اسلامی نظام کا نفاذ ہے اور وہ اس وقت چونکہ عملی طور پر صرف ایران ہی میں ہے کسی اور جگہ نہیں ہے اس لئے ولی فقیہ صرف آیة اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (دامت برکاتہ) ہی ہیں،ہمارے معاشرے کے لئے تو خود مرجعیت کا تصور بھی ہماری وحدت کے لئے مددگار ہے ولایت فقیہ کا نظریہ تو اس بڑھ کر مددگار اور معاون ہے اس لئے قوم کو چاہیے کہ وہ علماء کاساتھ دیں قوم کو چاہیے وہ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے ہاتھ مضبوط کریں اور چھوٹھے چھوٹے جو مسائل ہیں ان میں منفی باتوں سے پرہیز کریں اور کام دیکھ کر کسی کا ساتھ دیں،لیکن کسی کی توہین نہ کریں کسی پر کیچڑ نہ اچھالیں،کسی کو گھٹیا دکھانے کے لئے جملے نہ کسیں ، عمل کریں عمل کی بہت ضرورت ہے اس وقت پاکستان میں دوسر ے گروپ کس طرح آگے بڑھ رہیں اسی طرح ہمیں بھی آگے بڑھنا چاہیے ،اور جس جگہ ہم کھڑے ہیں اس سے بہتر حالت کی طرف ہمیں جانا چاہیے ۔ اس وقت جو ہمارے سٹیج کی صورتحال ہے ہم اپنے خطباء اور ذاکرین سے بھی یہی درخواست کریں گے وہ سٹیج پر کسی کی توہین نہ کریں اگر وہ اپنی بات کر نا چاہتے ہیں تو فقط اپنی بات کریں اور پھر فضائل اہلبیت بیان کریں بجائے اس کے کہ دوسروں کے نقائص بیان کریں دوسروں کے نقائص کا سب کو پتہ ہے کہ کس کے کیا نقائص ہیں آپ اپنی بات کریں اپنے آئمہ کی خدمات بیان کریں اور اپنے آئمہ کے بارے میں بتائیں کہ انہوں نے انسانیت کے لئے کیا کیا ہے؟ اور ان کی جو سیرت ہے ان کا جو اعلیٰ اخلاق ہے اسے بیان کریں ۔اگر ایسا کریں گے تو ظاہر ہے اس وقت جو افراتفری کا دور ہے فتنے کا دور ہے پاکستان اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے، اس وقت پاکستان کے اصل وجود کو خطرہ ہے،اور اس وقت پاکستان کی حفاظت بھی ہم شیعوں نے ہی کرنی ہے شیعوں نے دوسرے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو بنایا تھا اس وقت پاکستان انتہائی خطرے میں ہے اس لئے اس کی حفاطت میں ہمیں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، اور وہ اسی طرح ممکن ہے کہ ہم حالات کا صحیح تجزیہ کریں اور اپنے آپ کو حالات سے آگاہ رکھیں اور علماء کا احترام کریں چھوٹا عالم ہو یا بڑا ہو قائد ملت جعفریہ پاکستان سب کے لئے محترم اور مکرم ہیں ان کی جوحیثیت ہے ان کا جو عنوان ہے اس کا لحاظ رکھیں ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

٩٠ فیصد پاکستان کے بزرگ علماء قائد ملت علامہ ساجد نقوی کے ساتھ ہیں

یکشنبه 28 خرداد 1391 03:58 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

حضرت علامہ سید افتخار حسین نقوی کا شمار پاکستان کی معروف مذہبی اورسماجی شخصیات میں ہوتا ہے، اپنے دور میں ہونیوالی مکتب تشیع کی تمام سرگرمیوں میں ہراول دستے کے طور پر شامل رہے اور ایک مدت تک تحریک جعفریہ پنجاب کے صدر رہے، اسکے بعد آپکو تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری کے طور پر چن لیا گیا۔١٩٩٨ سے سیاسی میدان سے کنارہ کش ہوکر تعلیمی اورقوم کے فلاح وبہبود کے امورمیں مصروف ہوگئے اسی مقصدکے لئے ضلع میانوالی میں ادارہ امام خمینی رہ ٹرسٹ قائم کیا ۔ آج کل اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبربھی ہیں اور اس کونسل میں ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلہ جات کوعملی جامہ پہنانے کے لئے ملی یکجہتی کونسل کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی میں قائدملت جعفریہ حضرت آیة اللہ علامہ سید ساجدعلی نقوی کے نمائندہ بھی ہیں ،اسی کے پیش نظر جعفریہ پریس کے نمائندہ نے علامہ صاحب سے اسلامی نظریاتی کونسل سمیت قومیات پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جس کی دوسری قسط قارئین کے پیش خدمت ہے۔


جعفریہ پریس۔ علامہ صاحب قائدشہیدکے زمانے سے آپ کاشمارقومی رہنماؤں میں ہوتاہے،حالیہ حالات کے تناظرمیں شیعت کے مستقبل کو کس نظرسے دیکھتے ہیں؟


علامہ افتخارحسین نقوی۔شیعت کا مستقبل الحمدللہ تابناک ہے ،اچھاہے اور پاکستان میں بھی اگرسابقہ دور کو دیکھیں، شیعوں کے ہاں مسجدیں کم تھیں اب مسجدوں کی تعداد بڑھ گئی ہے ،پہلے شیعہ حج پر کم جاتے تھے اب شیعہ حج پر زیادہ جاتے ہیں، پہلے شیعوں کے ہاں عمرہ کا تصور نہیں تھا اب شیعہ زائرین جب پاکستان سے چلتے ہیں تو پہلے عمرہ کرتے ہیں پھر شام جاتے ہیں پھرکربلا جاتے ہیں پھر ایران جاتے ہیں، اگر نمازیوں کی تعداد دیکھنا چاہیں تو پہلے سے زیادہ نمازی ہیں،اگر دینی مدارس کی تعداد دیکھنا چاہیں تو پہلے سے دینی مدارس کی زیادہ ہیں، اگر اردو میں کتب کاجائزہ لیں تو پہلے اردو میں کوئی تفسیر کی کتاب نہیں تھی،کوئی حدیث کی کتاب نہیں تھی،کوئی تاریخ کی ڈھنگ کی کتاب نہیں تھی،ہمارا سارا سرمایہ عربی زبان میں تھا اب ماشاء اللہ اتنے بڑے کتب خانے بھرے پڑے ہیں،پہلے بالکل کتاب خوانی کا شوق نہیں تھا اب کتاب خوانی کا شوق  پہلے سے بہت زیادہ ہے، پہلے ضلعی سطح پر تنظیمیں ہوتی تھیں اب ملکی سطح پر تنظیمیں ہیں،یعنی میں تو یہ کہتا ہوں کہ آپ اگر جائزہ لیں تو ہرسال بہتری کی طرف ہے ، بدتری کی طرف نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے جائزہ لینا ہے کہ بہتری کسے کہتے ہیں، آخر سب سے اہم بات ہوتی ہے کہ اس مسلک کے لوگ اپنے نظریہ پر کتنا کار بند ہیں، اس تناسب کو دیکھیں تو اب پہلے سے زیادہ ہے

،پہلے سٹیج پر نثری علماء کرام نہیں تھے اب ماشاء اللہ نثر پڑھنے والے علماء کرام کثرت میں ہیں اور پہلے سے بہت زیادہ تعداد ہے پہلے اگر دو تھے تو اب پچاس ہیں یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور لوگ ان کو سنتے ہیں، پہلے سوائے ذاکر کے جب مولوی صاحب سٹیج پر آتا تھا تو اس کے آگے چار، پانچ یا دس بندے بیٹھے ہوتے تھے اب ایسا ہے کہ نہیں جب مجالس میں نثر پڑھنے والا عالم بیٹھتا ہے جو فضائل بھی پڑھتا ہے اور مصائب بھی پڑھتا ہے تو لوگ اسے پسند کرتے ہیں،پہلے خواتین کے مدرسے نہیں تھے اب ماشاء اللہ ١٩٩٣ میں پہلامدرسہ جامعہ سیدہ خدیجةالکبریٰ بنا اور اس کے ساتھ جامعة الزہرا (س) اسلام آباد میں بنا یہ دو مدرسے پہلے بنے اب الحمدللہ ٦٠۔٧٠ مدرسے ہیں،پہلے تصور ہی نہیں تھا کہ خواتین مجلس پڑھیں عورتوں کے لئے ،عورتیں وہی مردوں اور ذاکروں کی مجالس سنتی تھیں اب الحمدللہ خواتین کے بڑے بڑے عشرے ہوتے ہیں اور دو مہینے مسلسل ہوتے ہیں، مختلف ایام کے حوالے سے مجالس ہوتی ہیں، اس وقت کثیر تعداد میں طالبات دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہوئی ہیں اور طلبہ کی بنسبت اس وقت خواتین میں دینی تعلیم کا رجحان زیادہ ہے اور خواتین دینی تعلیم کی طرف زیادہ آرہی ہیں اور ہر والد کی خواہش ہے کہ ان کی بچی دینی تعلیم پڑھے،میرا تو ذاتی تجربہ ہے کہ جامعہ سیدہ خدیجةالکبریٰ میں چونکہ تین مہینے کا کورس ہوتا ہے ،ایک سال کا کورس ہوتا ہے پھر دو سال کا کورس ہوتا ۔یہ تین مہینے کا کورس معارف اسلامی کا کورس ہوتا ہے،اب جبکہ ٧٠۔٨٠ مدرسے قائم ہو چکے ہیں اس کے باوجود جامعہ سیدہ خدیجة الکبریٰ پکی شاہ مردان میں تین مہینے والے کورس میں اتنے زیادہ تعداد میں لوگ اپنی بچیاں لے آتے ہیں جس میں بڑے بڑے زمیندار ہیں،جس میں کالجوں کے پرنسپل ہیں، جس میں ذاکرین کی بیٹیاں ہیں،جس میں علماء کی بچیاں ہیں یعنی ہرطبقہ کے لوگ آتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ دینداری کا رجحان بڑھا ہے نہ کہ کم ہوا ہے۔بعض لوگوں کا یہ جو تاثر ہے کہ پاکستان کے شیعہ برباد ہو گئے ،لوگ تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔آپ تباہی کس لحاظ سے کہہ رہے ہیں؟آپ ذرا پچھلا دور دیکھیں ، موجودہ دور ارتقائی منازل کی طرف جا رہا ہے،پہلے لوگوں کو دنیا بھر کے حالات سے آگاہی بھی نہیں ہوتی تھی اب دور دراز کے ہر شیعہ دیہات میں چلے جائیں تو اسے بھی بحرین کے مسئلے سے آگاہی ہے ،لبنان کے مسئلے سے آگاہی ہے،فلسطین کے بارے میں وہ بات کرتا ہے ،پہلے جو ہمارے پرچے تھے کوئی ڈھنگ کا پرچہ بھی نہیں تھا اس وقت الحمدللہ ایوان صداقت ہے، بیان صداقت ہے ،پہلے دوچار ماہنامے ہوتے تھے اس وقت تیس سے زیادہ ماہنامے ہیں پیام زینب ہر مہینے ٣٢ ہزار کی تعداد میں چھپ رہا ہے پھر بھی کم پڑ جاتا ہے پڑھنے والے ہیں تبھی توکم پڑتاہے نا؟پہلے تو شوق ہی نہیں تھا تو میں تو پاکستان کے شیعوں کا مستقبل روشن دیکھ رہا ہوں، رو بہ ترقی ہے۔ پہلے امام زمان عج کے بارے میں کہیں کہیں ذکر ہوتا تھاکہ ہمارے بارہویں امام بھی ہیں اب ماشاء اللہ جگہ جگہ ذکر ہوتا ہے ، پہلے امام زمان عج کے متعلق ایک کتاب ملتی تھی اب امام کے متعلق دسیوں کتابیں ملتی ہیں اور دسیوں مقالے لکھے گئے ہیں،اب کوئی ایسی محافل نہیں کہ جہاں امام زمان عج للہ تعالی فرجہ الشریف کا تذکرہ نہ ہوتا ہو ان کی آمد کی جو علامات ہیں لوگوں کے ذہنوں میں ہے کہ امام زمان عج کے ناصر بننے کے لئے اس کا باعمل ہونا ضروری ہے اور اس طرف رجحان ہے عوامی سطح پربھی اور پڑھے لکھے طبقے میں بھی۔  


جعفریہ پریس ۔علامہ صاحب ہمارے معاشرے میں آئے دن نئی تنظیم جنم لے رہی ہے،اسے کس تناظر میں دیکھتے ہیں کیا یہ قومی دہارے کو توڑنے کی سازش ہے؟


علامہ افتخارحسین نقوی۔ دیکھیں تنظیم کسی بھی قوم کے لئے خیر و برکت کا ذریعہ ہوتی ہے،امیرالمومنین علیہ الصلوة والسلام نے اپنی وصیت میں فرمایا تھاکہ اپنے معاملات کو منظم کرو، آپ اگر طلبہ  ہیں،طلبہ کی اگر تنظیم ہوگی تو طلبہ کے امور منظم ہوںگے ۔پاکستان اتنا بڑا ملک ہے جس میں چار ساڑھے چار کروڑ شیعہ ہیں تو ان کے لئے ظاہر ہے ایک تنظیم سے تو ظاہر ہے وہ ہو نہیں سکتا۔ اگر تنظیم بنتی ہے ایک مثبت ہدف کے لئے، ایک اجتماعی انداز میں کام کرنے کے لئے تو تنظیم بذاتہ کسی معاشرے کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتی اور کہیں بھی ایسا نہیں ہے کہ ایک تنظیم ہو آپ لبنان کی مثال لے لیں ویسے تو بالادستی حزب اللہ کی ہے لیکن امل بھی ہے، اس کے علاوہ اگر نچلی سطح پر چلے جائیں تو لبنان چھوٹا سا ملک ہے اس کی ساری آبادی ہمارے میانوالی۔ملتان میں زیادہ ہوگی تو وہاں دسیوں تنظیمیں ہیں شیعوں کی ،خودشیعہ علماء کی کتنی تنظیمیں ہیں اورخاص کر آپ دیکھیں کچھ تنظیمیں ہیں اورکچھ بغیر تنظیموں ان کا عنوان ہے جیسے حضرت آیة اللہ سید محمدحسین فضل اللہ اپنے لئے ایک عنوان رکھتے تھے ان کی ذات ایک تنظیم بن گئی تھی،یہ تنظیم کبھی نقصان دہ نہیں ہوتی اور نہ ہی قومی دہارے کے لئے خطرناک ہے، بلکہ با شعور ہونے کی علامت ہے کہ لوگ منظم انداز میں کام کرنا چاہتے ہیں ہمارے ملک میں جہاں بھی کوئی امام باڑہ ہے وہاں ایک انجمن ہے اس امام باڑہ کے امور کو چلانے کے لئے ،عزاداری کے امور کو منظم کرنے کی تنظیمیں ہیں، حفاظت کے لئے رضاکار گروپ ہیں، کراچی اتنا بڑا شہر ہے وہاں علماء امامیہ کا الگ پلیٹ فارم ہے،تحریک نفاذفقہ جعفریہ ، پھر تحریک جعفریہ پھر اسلامی تحریک اور اب شیعہ علماء کونسل اس کا اپنا ایک پلیٹ فارم ہے ،اس طرح اور مختلف گروپ ہیں جن کے پلیٹ فارم ہیں ان پلیٹ فارم کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قومی مرکزیت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ایسا نہیں ہے۔


جعفریہ پریس ۔ علامہ صاحب آپ نے فرمایاکہ تنظیمیں قوم کے نظم اورفلاح و بہبودکے لئے ضروری ہیں اوران سے قومی دہارے کوکوئی خطرہ نہیں مگر یہ سب کچھ اس صورت میں ہوسکتاہے جب تنظیمیں اپنی حدودمیں احترام متقابل کے ساتھ کام کریں جبکہ پاکستان میں توایک دوسرے کے احترام کو پامال کیاجاتاہے اس کے لئے علماء کمیٹیاں بھی بنائی گئیں وہ کیوں کامیاب نہ ہوسکیں؟۔


علامہ افتخارحسین نقوی۔ دیکھیں پاکستان میں ،میں پھرکہوں گا کہ تنظیم نقصان دہ نہیں ہے جب تک کہ مثبت انداز سے کام کرے اس میں تعلیمی ہے،تربیتی ہے،فلاحی ہے اپناایک اور موقف ہے سیاسی وہ بھی اسی میں آپ بیان کر سکتے ہیں،علماء کبھی ناکام نہیں ہوئے بزرگ علماء ہمیشہ مل بیٹھے،سب اکھٹے ہوگئے ابھی مثلا علماء کانفرنس ہوئی سب اس میں آگئے اور قائدملت جعفریہ کا ایک اپنا عنوان ہے وہ ایک ایسا عنوان ہے جوکسی اور کے لئے نہیں ہے لیکن اس کایہ مطلب نہیں ہے کہ کسی اورکے وجودکی نفی کردی جائے یہ عنوان ان کے لئے ہے اور یہ عنوان یا اس مقام تک پہنچنے کے لئے لمبا وقت صرف ہوا ہے۔میں تھوڑا سا آپ کو پیچھے لے جاؤں جب قائد ملت جعفریہ شہید عارف حسین الحسینی قائد ملت بنے ١٠ فروری ١٩٨٤ بکھر کے اجتماع میں اس سے پہلے راولپنڈی میں علامہ حامدعلی موسوی کو کچھ افراد نے مل کر قائد ملت کے حوالے سے کہا۔(اس وقت تو قائدملت کا عنوان کم تھا تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا صدر کہتے تھے) ١٠ فروری کو انہوں نے بھی دینہ ضلع جہلم میں کنونشن رکھا اس میں اچھی خاصی بھاری تعدادجمع ہوئی جبکہ مفتی جعفر حسین رحمة اللہ علیہ ایک دستور دے گئے تھے اس دستور کی روشنی میں شہید عارف حسینی قائد بنے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے ،جب آپ تحریک نفاذفقہ جعفریہ کے قائد بنتے ہیں تو اس میں طلبہ کی معروف تنظیم آئی ایس او موجود تھی ،آئی ایس او کے طلبہ جب سٹوڈنس لائف سے فارغ ہوئے تو انہوں نے آئی او بنائی تھی،آئی او بنانے کاہدف یہ تھا کہ جتنے پڑھے لکھے افراد ہیں وہ ایک پلیٹ فارم پر کام کریں مل کر اور پھر انہوں نے آگے مختلف اپنے شعبے بنائے ہوئے تھے اور وہ قومی معاملات میں اپنی رائے بھی دیتے تھے،اس کے علاوہ سندھ شیعہ آرگنائزیشن ایک بڑی تنظیم تھی،کراچی میں علیحدہ تنظیم تھی ،مختلف اضلاع میں تنظیمیں تھیں،بلوچستان میں شیعہ بلوچستان تنظیم موجودتھی،وفاق علماء شیعہ پاکستان پورے ملک کے علماء کی ایک تنظیم موجود تھی ان ساری تنظیمون کی موجودگی میں قائد و تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا سربراہ سید عارف حسین الحسینی کو بنایا گیا،اب شہید عارف الحسینی نے اپنی قیادت سنبھالتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ راولپنڈی میں علامہ حامدعلی موسوی صاحب جنہیں تحریک نفاذفقہ جعفریہ کا قائد بنایا گیا ہے وہ تحریک اوریہ تحریک دو حصے اور دو گروپ ہوگئے تھے ،چونکہ مفتی جعفرحسین کے زمانے میں ایک ہی تحریک نفاذفقہ جعفریہ تھی ،تو انہوں نے اپنی بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح وحدت ہو جائے، وحدت کے لئے بھی کوشش کرتے رہے، کام بھی کرتے رہے اور کبھی علامہ حامد موسوی کی توہین بھی نہیں کی اگر حامد موسوی صاحب کے بعض اراکین کی طرف سے گھٹیا جملے نکلے تب بھی اس کا انہوں نے کوئی منفی ردعمل نہیں کیا اور اس کے خلاف کوئی بات بھی نہیں کی ،یہی وجہ تھی کہ علامہ عارف حسینی جب شہید ہوتے ہیں تو انہوں نے اظہار افسوس کیا۔علامہ سید عارف حسین نے جب کام شروع کیا تو اس کام کے نتیجے میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان کے شیعوں کی دل کی دھڑکن بن گئے اور ان کی بات پورے شیعہ کی بات بنتی گئی حالانکہ اس وقت جناب حامد موسوی صاحب بھی موجود تھے اور ان کے ساتھ بھی بہت بڑی تعداد تھی لیکن عمل کرنے کے ساتھ ساتھ علامہ عارف حسینی کا قد اتنا بلند ہوگیا کہ ان کی بات کو وزن دیا جاتا تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وفاق ختم ہوگئی ہو یا اور شیعہ تنظیمیں ختم ہوگئی ہوں یا وہ اپنی رائے نہ رکھتی ہوں یا وہ قومی معاملات میں اپنی رائے نہ دیتی ہوں وہ قومی معاملات میں بھی اپنی رائے دیتی تھیں اور پھر بعد میں وفاق علمائے شیعہ پاکستان اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ میں ایک معاہدہ بھی ہوگیا کہ سیاسی کام تحریک کے حوالے ہوں گے اور قومی مسائل میں یہ رائے دیں گے اور تبلیغی، تربیتی اور تعلیمی کام وفاق علمائے شیعہ کے پاس ہوں گے، لیکن کبھی یہ نہیں آیا کہ باقی کوئی تنظیم نہ رہے یہ کبھی نہیں آیا مثلا آئی ایس او نے نظریہ ولایت کے تحت شہید عارف الحسینی کو بعنوان نمائندہ ولی فقیہ اپنے لئے ایک اتھارٹی مان لیا اور اپنے دستور میں شامل کر لیا لیکن آئی او نے ایسا نہیں کیا اور شہید عارف حسین کے حوالے سے دستور میں اس بات کو نہیں لے آئے اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ قائد شہید مخالف ہیں ،تنظیموں کا ہونا کبھی نقصان دہ نہیں ہوتا بلکہ نقصان دہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک تنظیم کسی دوسری تنظیم کی کردار کشی کرے،جب اس کے بارے میں منفی پروپگنڈہ کرے یاان کی خامیوں اور کمزوریوں کو اچھالے اس وقت یہ نقصان دہ ہوتی ہے ۔

موجودہ ہمارے قائد جو ہیں ظاہر شہید قائد کی شہادت کے بعد سے لے کر اب تک ایک ارتقائی منازل طے کئے ہیں اور بڑے بڑے کام اس پلیٹ فارم سے ہوئے ہیں،یہی پلیٹ فارم تھا جو سیاست میں آیا،اسی سیاست کی وجہ سے سینٹ میں پہنچے علماء ، عمامے والے، اسی وجہ سے سنی علماء کے ساتھ ،دینی جماعتوں کے ساتھ ایک وحدت قائم ہوئی، اسی پلیٹ فارم سے جو شیعہ کے خلاف ایک غلیظ مہم تھی اس مہم کے سامنے رکاوٹ کھڑی کی گئی، اسی پلیٹ فارم سے سپریم کورٹ میں مضبوط طریقے سے شیعوں کا موقف پیش کیا گیا اور شیعوں کی بالادستی قائم ہوئی جبکہ جو دہشت گرد تنظیم تھی وہ اپنا موقف بیان کرنے میں کمزور رہی ،اسمبلی میں جو ایک چھوٹا گروپ تھا وہ چاہ رہا تھا کہ شیعوں کی تکفیر کے لئے کوئی بل لایا جائے تو صحابہ بل کے نام سے ایک بہت بڑی سازش کی گئی حالانکہ شیعہ سارے اصحاب کا احترام کرتے ہیں کوئی بھی شیعہ نہیں ہے کہ جو اصحاب کا احترام نہ کرے اور ہمیشہ ہمارا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ ہم تو غیر مسلموں کے جو محترم ہیں ان کا بھی احترام کرتے ہیں چہ جائے کہ اصحاب پیغمبر ہیں، ازواج پیغمبر ہیں کس طرح ہو سکتا ہے کہ شیعہ ان کا احترام نہ کریں لیکن ہمارے خلاف غلیظ پروپگنڈہ کیا گیا اسمبلی میں بل لانا چاہتے تھے اس بل کو اسی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پلیٹ فارم سے، سیاسی عمل سے نہ لانے دیا گیا پھر ایک شریعت ایکٹ بل لایا گیا ، اس میں شیعوں کے حقوق کا تحفظ اسمبلی میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے ذریعے ہی ہوا، اور پھر بڑے بڑے کیس شیعہ بچوں پر بنے ناجائز طور پر اس پر کروڑوں روپیہ خرچ کر کے ان کو ان سے چھڑایا گیا البتہ بعض کیسوں میں ناکام بھی رہے نہ چھڑا سکے لیکن سیکڑوں افراد کو آزاد کرایا اور وہ دور ایسا تھا جب قتل وغارت گری تھی جگہ جگہ تکفیر کی مہم تھی اس سے گزرے یعنی ایک خونی سمندر سے گزر رہے تھے تو ان تمام مراحل کو بڑی قوت، طاقت اور ہمت کے ساتھ اور اس پر علماء کا بھی ساتھ تھا ،علامہ سیدساجد نقوی ہی اس کو آگے لے کر بڑھے اورظاہر ہے ہر زمانہ ایک جیسا نہیں رہتا پھر تحریک کے لئے کچھ مسائل کھڑے ہوئے ، پرابلم ہوئی اس پرابلم کی وجہ سے کچھ کمزوریاں بھی آئیں کیونکہ جو چیز حقائق ہیں اس حقائق سے آنکھیں بندکرنا یا اس کا اظہار نہ کرنا یہ بھی خیانت ہوتی ہے، وہ کمزوری جو ہے صرف علامہ ساجدنقوی کی نہیں ہوئی سب کی ہوئی علماء کی غیرعلماء کی جو بھی فعال تھے تنظیم میں- اور اس کمزوری کے اثرات اب تک بھگت رہے ہیں ،لیکن علامہ ساجدنقوی مضبوط اعصاب کے مالک ہیں انہوں نے تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اس سلسلے کو بہرحال جاری وساری رکھا کیونکہ

انہیں رہبرمعظم حضرت آیة اللہ العظمیٰ سیدعلی خامنہ ای کی نمائندگی کاشرف بھی حاصل ہے

یہ نمائندگی کا ہونا ان کی تقویت بنی بعض حالات جب بہت زیادہ پرابلم کھڑے ہو گئے ۔پھر اس وقت بعض احباب کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ تحریک نے کچھ نہیں کیا شیعوں کے لئے کچھ نہیں ہوا،اب جو نئی نسل ہے ان کو سابقہ ادوار کا تو پتہ ہے نہیں اور نہ ہی یہ کہ کیا کیا کام ہوئے ہیں،اورکس طرح تشیع کے وقار کو ملکی سطح پر بین الاقوامی سطح پر بلند رکھا ہے، دیکھیں جب مشرف کا دور آتاہے اس وقت تحریک جعفریہ پر پابندی لگ جاتی ہے ۔یہ بھی ایک جملہ آپ ذہن میں رکھیں کہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو تحریک جعفریہ بنانا یہ بھی ایک بہت بڑا کارنامہ تھا یہ آسان کام نہیں تھا،لوگ کہتے تھے کہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ہی رہے گی،پھر مشرف کا دور آیا انہوں نے غلط طور پر ہمیں دہشت گردوں کے ساتھ ملا کر تحریک جعفریہ پر پابندی لگا دی تحریک جعفریہ کے جتنے بھی عہدیدار تھے ان کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں جبکہ اسی وقت سپریم کورٹ،ہائی کورٹ میں رٹ بھی کی گئی اوراس وقت متحدہ مجلس عمل بن چکی تھی اور مشرف کے ساتھ ایک ملاقات میں قاضی حسین احمد حتیٰ مولاناسمیع الحق تک نے کہا کہ یہ تحریک جعفریہ والے تو دہشت گرد نہیں ہیں ان پر کیوں پابندی لگی ہے لیکن شائد باہر کا دباؤ تھا یا کیا تھا بہرحال وہ تو نہ ہوا- تو اسلامی تحریک بنائی گئی،اسلامی تحریک بنانے کے بعد کچھ عرصہ اسلامی تحریک کے پلٹ فارم سے کام ہوتا رہا پھر اس پر پابندی لگا دی گئی ،اب آپ بتائیں جو جماعت ملکی سطح کی ہے جس کے یونٹ ہیں، ان کے ضلعی صدور ہیں ان پر پابندی لگتی ہے،تحریک جعفریہ پر پابندی لگتی ہے پھر اسلامی تحریک پر پابندی لگتی ہے،خالی پابندی نہیں لگتی جو بھی عہدیدار ہوتا ہے اس کو فورشیڈول کے تحت لے آتے ہیں ،ان کو پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیتے ہیں کونسا ضلع ہے جس کے صدر کو جیل میں نہیں ڈالا گیا اور کتنے شرفاء ہیں کہ ان کو فور شیڈول میں ڈال کر کہا کہ تھانے کے حدود سے باہر نہیں جا سکتے اور اب تک ہیں ایسے حالات میں یہ بالکل ناانصافی ہوگی کہ کہا جائے کہ جی کچھ کام نہیں ہوا ، جس شخص کی تنظیم بالکل ختم کردی گئی ہو جس کے عہدیدار فورشیڈول کے تحت آگئے ہوں،جن کے لئے یہ کہنا کہ میں تحریک کا عہدیدار ہوں مترادف تھا کہ وہ جیل میں چلا جائے اور جیلوں میں گئے ۔اس کے باوجود علامہ ساجد نقوی کا اپنے وجود کو قائم رکھنا اور شیعت کے مفاد میں کام کرنا اور ان حالات میں متحدہ مجلس عمل میں موجود رہنا اور اپنے وجود کا احساس دلانا میں سمجھتا ہوں یہ ان کی بصیرت ک منہ بولتا ثبوت ہے کوئی اس کو بے شک تسلیم کرے یانہ کرے کیونکہ سورج موجود ہو اور کہیں کہ نہیں ہے،یہ تو پھراس کا اپنا قصور ہے ۔انہوں نے البتہ مختلف عناوین کے تحت اس سلسلے کو باقی رکھا،قائدملت جعفریہ کا انہوں نے عنوان استعمال کیا اور کہا کہ یہ ٹائٹل تو مجھ سے کوئی نہیں لے سکتا اور اس ٹائٹل پر پابندی بھی نہیں لگائی جا سکتی اسی اثناء میں آپ کو پتہ ہے کہ ان کو جیل بھی جانا پڑا،اور جیل بھی اسی تشیع کے لئے گئے اس کا کوئی جرم ت نہیں تھا ( وہ جو سابقہ سلسلہ چلا آرہا تھا) وہ بھی ناجائز طور پر گئے،پوری ملت نے ساتھ دیا علماء نے ساتھ دیا اور باعزت طور پر وہ باہر آئے ۔اور پھر انہوں نے اپنے عہدیداروں سے کہا کہ آپ بالکل نہ کہیں کہ ہم تحریک جعفریہ کے عہدیدار ہیں ،آپ اپنے آپ کو بچائیں، انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ اپنے آپ کو بچائیں میں خود اپنے سر لیتا ہوں اور انہوں ایسا کیا۔مسلسل انہوں نے دورہ جات جاری رکھے خود تنھا سب کچھ کرتے رہے کیونکہ عہدیدار تو کسی کو بنا نہیں سکتے اور قائدملت جعفریہ کے عنوان سے یہ سارا عمل جاری رہا مشرف کا دورختم ہوا نئی سیاسی حکومت آئی لیکن ان کا سیاسی عمل بھی متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے جاری رہا .

متحدہ مجلس عمل کے حوالے سے بعض لوگوں کا خیال ہے اس کا کیا فائدہ ہوا؟ میں چونکہ دیہاتوں میں رہتاہوں میرا کام زیادہ دیہاتوں میں ہے ١٩٩٨سے میں نے ظاہر سے سیاسی عمل چھوڑ دیا ہے ، تنظیمی عہدے چھوڑ دئے اور میرا زیادہ تر کام تعلیمی ہے خدمات عامہ کا کام ہے حالانکہ میں بہت ہی کمزور انسان ہوں خدا نے توفیق دی ہے کام ہو رہے ہیں،تو ایک زمانہ یہ تھا کہ کوئی شیعہ ،سنی کی مسجد میں ڈر کر نہیں جاتا تھا کوئی سنی،شیعہ کی مسجد میں نہیں آتا تھا کیونکہ زیادہ اثر نچلی سطح پر ہوتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہوئے گھبراتے تھے اتنا پروپگنڈہ تھا جب متحدہ مجلس عمل بنی اور پہلا الیکشن ہوا کہ جس میں علامہ ساجدنقوی کی تصویر،قاضی حسین کی،مولاناسمیع الحق کی ،فضل الرحمن کی ساجدمیر کی یعنی جس میں سارے گروپ بیٹھے تھے اور اس میں اس دہشت گرد کو شامل نہ کیا گیا اور ان کی نفی کی گئی اور یہی تشیع کی بہت بڑی بالادستی تھی کہ جو ایک گروپ کہتا تھا کہ یہ مسلمان ہی نہیں ہیں اس گروپ کے جو بڑے تھے وہ علامہ ساجدنقوی کے اکھٹے بیٹھے تھے اور ایک ہی تصویر چھپی تو نچلی سطح والوں نے کہاب ھائی ہم ایسے ہی لڑ رہے ہیں وہ کہتے ہیں یہ مسلمان نہیں ہیں وہ دیکھو اکھٹے بیٹھے ہیں،دیہاتوں میں عام چھوٹا مولوی فتویٰ دیتا ہے کہ فلاں کے پیچھے نماز پڑھو گے تو تمہارا نکاح ٹوٹ جائے گا ،فلاں کی مجلس میں جاؤ گے تو تمہارا نکاح ٹوٹ جائے گا،انہوں نے دیکھا جی علامہ ساجد نقوی کے پیچھے محمد خان شیرانی صاحب ،قاضی حسین احمد تمام علماء ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں کوئٹہ میں بھی ان کے پیچھے نماز پڑھی یہ ایک دفعہ نہیں ہوا کئی دفعہ ہوا ہے متحدہ مجلس عمل سے پہلے بھی ہوا ہے تو یہ جب لوگوں نے دیکھا تو کہا یہ دیکھو ہم ایسے ہی لڑرہے ہیں وہ ایک خوف کی فضا تھی شیعوں اور ان کی دلوں سے ختم ہوئی اور یہ ہی سب سے بڑا فائدہ ہوا متحدہ مجلس عمل میں جانے کا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ غیبی مدد بھی تھی اور علامہ ساجد نقوی کی بصیرت بھی تھی جبکہ بہت ساروں نے اعتراض کیا کہ یہ ہمارے قاتلوں کے ساتھ جاکر بیٹھ گئے یہ سمیع الحق کے ساتھ بیٹھ گئے یہ فضل الرحمن کے ساتھ بیٹھ گئے یہ تو ہمارے قاتل ہیں لیکن یہ جملے کسنے والوں کو یہ سمجھ نہ آئی کہ علامہ ساجدنقوی جب ان کے ساتھ بیٹھے ہیں تو وہ جو دہشت گرد گروپ ہے جو تمہیں کافر کہہ رہا تھا وہ تو باہر نکل گئے ہیں یہ ساتھ بیٹھ گئے ہیں اور ایسا بھی ہوا ہے کہ ٥٠۔٥٠ ہزار کے مجمع میں جب جاکر خطاب کیا تو خود علامہ صاحب بھی بتاتے ہیں کہ پٹھانوں کے علاقے میں کوئی بھی شیعہ موجود نہیں لیکن جماعت اسلامی والے اور دوسرے یہ نعرہ لگا رہے تھے کہ قائدکے فرمان پرجان بھی قربان ہے حالانکہ کوئی بھی شیعہ موجود نہیں تھا تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوئی تو اس کا فائدہ سب نے اٹھایا یعنی جو اعتراض کرتے ہیں انہوں نے بھی متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم کا فائدہ اٹھایا کیونکہ انسان محسوس نہیں کرتا کہ اس کے فوائد کیا ہیں جب وہ چیز نہ ہو تو پھر، جب تحریک جعفریہ اپنے عروج پرتھی اوراس کے سارے فوائد اٹھائے جارہے تھے اس وقت اعتراضات بھی تھے لیکن جب وہ آن بان نہ رہی اورتنظیم پر پابندی لگ گئی پھر لوگوں کو احساس ہو،اہاں اس پلیٹ فارم کا کتنا فائدہ تھا پھر اسی طرح متحدہ مجلس عمل ۔

الحمدللہ علامہ صاحب انتھک ہیں وہ ایک تو اپنے مخالفین کی طرف سے ان پر جو اعتراضات ہوئے ہیں انہوں نے کبھی پرواہ نہیں کی وہ جو صحیح سمجھتے ہیں اسی کے مطابق عمل جاری رکھتے ہیں ،بزرگ علماء پاکستان جتنے ہیں وہ سب ان کے ساتھ ہیں اور ویسے بھی علماء کی اکثریت جو ہے ایک بڑی اکثریت یعنی آپ ٩٠ فیصد کہہ لیں وہ علامہ صاحب کے ساتھ ہے اور یہ بھی میں سمجھتا ہوں ان کا ایک تدبر ہے کہ انہوں نے اب نئے انداز سے شیعہ علماء کونسل متحرک کیا،اس لفظ اور اس عنوان کو بڑے عرصہ سے استعمال کرتے چلے آرہے ہیں ابھی اس کو باقاعدہ تنظیمی شکل دے دی ہے ۔ اور یہ نہیں ہے کہ علامہ صاحب نے اپنی جماعت پر جو ناجائز پابندی لگی اس کے لئے قانونی چارہ جوئی نہ کی ہو اب بھی عدالت میں کیس پڑا ہے لیکن حکومتوں سے جو چاہئے انصاف نہیں ملتا بلکہ ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی کہ ہماری ایک ہی دینی جماعت تھی کیونکہ یہ جو تحریک جعفریہ یا اسلامی تحریک تھی یہ جماعت اسلامی کے مقابلے کی ہے نا کہ سپاہ صحابہ یا کسی مسلح گروپ کی یہ تو مسلح کبھی رہا ہی نہیں اور کبھی مسلح گروپ کی تائید بھی نہیں کی ،ان کو ان کے ساتھ شامل کرنا یہ سراسر زیادتی تھی مشرف دور میں ہوئی اور وہ سلسلہ اب بھی باقی ہے اور یہ بین الاقوامی جو سلسلہ ہے اس کا یہ شاخصانہ ہے ۔ابھی حال ہی میں شیعہ علماء کونسل کا باقاعدہ تنظیمی پلیٹ فارم بنا ہے اس کے اچھے اثرات مرتب ہونگے انشاء اللہ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

ہم ہر مومن، عزاداراورخصوصاً اہل بیت ع کی در پر جبین جھکانے والوں کو قومی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو نے کی دعوت دیتے ہیں:علامہ علوی

سه شنبه 2 خرداد 1391 02:35 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،
علامہ مظہر عباس علوی ضلع اٹک کے گاوں چمہٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے ہونہار شاگردوں میں سے ہیں۔ مدرسہ آیت اللہ الحکیم سے قضاوت کا کورس مکمل کر چکے ہیں۔ حوزہ علمیہ قم میں سالہا سال تحصیل علم کے بعد 1993ء سے فیصل آباد میں ایک مسجد کے امام جمعہ ہونے کے علاوہ مختلف تنظیمی عہدوں جیسے سٹی صدر ،ضلعی صدر، ڈویژنل صدر اور صوبائی نائب صدر کے طور پرخدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اسلام آباد میں 18 سے 20 مئی کو ہونیوالے شیعہ علماء کونسل کی جنرل کونسل کے اجلاس میں انہیں ایس یو سی پنجاب کے صدر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔

ایس یو سی پنجاب کے نو منتخب صدر علامہ مظہر عباس علوی کا مبارکبادی وفود کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہنا تها کہ تنظیمی ساتهیوں کے حسن اعتماد کے نتیجے میں پاکستان کی 60 فیصد آبادی والے بڑے صوبے پنجاب کی ذمہ داری یقینا ایک بڑی ذمہ داری ہے، آئنده کے لائحہ عمل کے حوالے سے میرے پاس تنظیمی تجربہ ہے، تنظیمی سیٹ اپ اور نظم کے ساتھ تنظیم کی ازسرنو بحالی کے بنیادی اصول پرکام کیا جائے گا اس سلسلے میں میرا پورے صوبے کا ایک ہنگامی دورہ کرنے کا پروگرام ہے، یونٹ کی سطح تک ممبر سازی کی جائے گی، جب یونٹ کی سطح تک ممبر سازی ہوگی اور یونٹ بحال ہوں گے تو خود بخود تنظیم فعال ہو جائے گی۔
علامہ مظہر عباس علوی نے مزید کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی جماعت کے ذیلی شعبے جن میں اسٹوڈنٹس کا ونگ ہے، جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن یا اسلامک ایمپلائز ہے، اس کے علاوہ میں کچھ آگے بڑھنا چاہتا ہوں کہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا بھی ایک باقاعدہ ونگ ہو نا چاہئے مثلاً وکلاء اسلامک لائرز ،ا اسلامک ٹیچرز، اسلامک ڈاکٹرز اسی طرح قائد ملت جعفریہ کی خصوصی رہنمائی اور ہدایت کی روشنی میں خواتین کے شعبہ کو فعال کرنا چاہتا ہوں، جب تک ہماری خواتین قومی دھارے میں اپنا کردار ادا نہیں کریں گی، اس وقت تک قومیات میں ہمارا نظام ادھورا رہے گا۔
حکومت پنجاب اور دہشتگرد گروپوں کے تعلقات کےحوالے سے شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر کا کہنا تها کہ ایسی صورت نہیں ہے کہ پنجاب حکومت سے ہماری کوئی مخاصمت چل رہی ہے، میری نظر میں یہ ایک تاثر ہے جو پیدا کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت پاکستان میں اگر کسی جماعت کو شیعہ قوم کا ترجمان سمجھتی ہے تو وہ شیعہ علماء کونسل ہی ہے، اگر وہ کسی شخصیت کو شیعوں کا لیڈر مانتے ہیں تو وہ قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی صاحب کو ہی تسلیم کرتے ہیں۔ باقی رہا چھوٹی موٹی باتیں، مخاصمت وغیرہ تو ہم اس کو ہر فورم پر پوائنٹ آؤٹ کریں گے۔ چونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے تو ہم اس سلسلے میں اپنے قائد محبوب کی رہنمائی میں معاملات کو آگے چلائیں گے۔
ملت جعفریہ اور نواز لیگ اتحاد کے سوال کے جواب میں کہنا تها کہ پاکستانی سیاسی کلچر میں کوئی بھی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی، موقعہ کی مناسبت سے جو فیصلے مناسب سمجھے جاتے ہیں وہی کئے جاتے ہیں قائد محترم کے اعلان کے مطابق ہم سیاسی عمل میں شامل ہوں گے، اب رہی بات کہ کس طرح شامل ہوں، اس سلسلے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ سیاسی عمل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے کئی تجاویز آئی ہیں، اس سلسلے میں ان تجاویز اور قائد محترم کی ہدایات کی روشنی میں ہم فیصلہ کریں گے۔
شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ مظہر عباس علوی کا اتحاد بین المومنین کی مخدوش صورتحال پرکہنا تها کہ ہمارے قائد محبوب کاہمیشہ سے بحیثیت ایک شفیق اور مہربان باپ پوری قوم پر دست شفقت رہا ہے، قائد محترم نے یا ان کے ورکرز نے کسی کو دور نہیں کیا، ہم ہر مومن، عزادار، کلمہ پڑھنے والے خصوصاً اہل بیت ع کی در پر جبین کو جھکانے والوں کو دعوت دیتے ہیں اور ان کے ساتھ پیش پیش ہوتے ہیں۔ ہم نے کبھی کسی کو دور نہیں کیا۔البتہ کچھ لوگ خود ہی قومی دہارے سے دور  ہوگئے ہیں، باقی پوری قوم عوام خواص قائد ملت کی قیادت پر متحدو متفق ہیں۔
آل پاکستان شیعہ علماء کانفرنس اس بات کی دلیل ہے کہ قائد ملت جعفریہ نے تمام طبقات کو دعوت دی ہے اور یہی بہترین طریقہ ہے کہ پوری قوم اپنے قومی پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو جائے، اس قومی پلیٹ فارم کو مضبوط کیا جائے، اسی میں تشیع کی قوت اور اسی میں تشیع کی عزت ہے۔
علامہ مظہر عباس علوی کا مزید کہنا تها کہ چونکہ ہمارے پاس ایک قومی جماعت اور قومی قیادت موجود ہے، یہ کوئی عقلمندی نہیں ہے کہ اتنا مضبوط پلیٹ فارم، اتنی محترم اور بابصیرت قیادت جو پورے عالم اسلام میں تشیع کے وقار کی دلیل اور علامت ہے، کو چھوڑ دیا جائے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

علامہ ساجد نقوی اگر علامہ ساجد نقوی بنے ہیں تو اسکے پیچھے کئی سالوں کی جدوجہدہے

جمعه 29 اردیبهشت 1391 12:53 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

علامہ سید افتخار حسین نقوی کا شمار پاکستان کی معروف مذہبی شخصیات میں ہوتا ہے، اپنے دور میں ہونیوالی مکتب تشیع کی تمام سرگرمیوں میں ہراول دستے کے طور پر شامل رہے۔ ایک مدت تک تحریک جعفریہ پنجاب کے صدر رہے، اسکے بعد آپکو تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری کے طور پر چن لیا گیا۔ ضلع میانوالی میں قائم مدرسہ امام خمینی رہ کے انچارج ہیں۔ آج کل اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر ہیں اور اس کونسل میں ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔  علامہ صاحب سے قومیات پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جس کا احوال پیش خدمت ہے۔

س: ملت تشیع کا شیرازہ بکھیرنے میں مختلف گروپوں کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟


علامہ سید افتخار حسین نقوی: کسی بھی مسلک کے پیروکاروں میں مختلف گروپوں کا وجود نقصان دہ نہیں ہے جب تک کہ وہ آپس میں دست گریبان نہ ہوں اور ایک دوسرے کی کمزوریوں کو اچھالیں۔ ہم ایک مرجع تقلید رکھتے ہیں جو ہمیں ان اختلافات سے بچا سکتا ہے، اور اس سے بالا تر ولایت فقیہ کا نظریہ جس کے مطابق ہم ولایت فقیہ کو امامت کا تسلسل سمجھتے ہیں اور اس وقت ولایت فقیہ کی مسند پر حضرت آیت اللہ العظمٰی آقای سید علی خامنہ ای فائز ہیں۔ ان کی رائے کے سامنے سارے جھک جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے افراد جن کا تعلق مرجعیت سے ہے اور وہ ولایت فقیہہ کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں ان کا مسلک آسان ہے۔ میں گروپ بنانے کو کمزوری نہیں سمجھتا، ظاہر ہے ہر کسی کے کام کرنے کا انداز اور سوچ مختلف ہے، لیکن ایک اصولی بات یہ ہے کہ ہمارے کسی اقدام سے من حیث القوم شیعہ مسلک یا پاکستان کو نقصان نہ پہنچے۔ پاکستان کی سالمیت اور بقا کے لئے ہمیں بہت کچھ برداشت کرنا پڑے گا۔

س: شیعہ نسل کشی کے خلاف غیر موثر نوعیت کے الگ الگ احتجاج منعقد ہو رہے ہیں، ان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟


علامہ سید افتخار حسین نقوی: الگ الگ احتجاج میں کوئی حرج نہیں ہے، اپنے تنظیمی تشخص کو برقرار رکھیں، لیکن ایک دوسرے کے خلاف منفی پروپیگنڈا نہ کیا جائے۔ اگر میں کسی عالم کے خلاف کوئی بات کر رہا ہوں تو گویا میں اپنے متعلق بھی وہی بات کر رہا ہوں۔ ایک جوان، ایک تنظیم ایک گروپ اگر دوسری تنظیم کے نقائص بیان کرتا ہے تو گویا وہ اپنے نقائص بیان کر رہا ہے، کیونکہ کوئی بھی نقائص سے پاک نہیں ہے، اتنا بڑا ملک ہے تین کروڑ سے پانچ کروڑ شیعہ ہو گئے ہیں تو فقط ایک جماعت کہے کہ کسی اور کو حق حاصل نہیں ہے تو یہ غلط ہو گا۔
 
س: کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود ملت تشیع کی شنوائی نہیں ہے، مولی گاجر کی طرح کاٹا جا رہا ہے، کیا وجوہات ہیں۔؟


علامہ سید افتخار حسین نقوی: کراچی میں جو لوگ مولی گاجر کی طرح کٹ رہے ہیں ان میں سارے شیعہ نہیں ہیں، ان میں تمام پاکستانی شامل ہیں، سرحد میں روزانہ لاشیں گرتی ہیں، جو ہمارے ملک کی بدبختی ہے اور قانون کی بالادستی نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔

س: پارلیمان میں شیعہ آوازکا نہ ہونا، پس پردہ کیا محرکات ہیں۔؟


علامہ سید افتخار حسین نقوی: الیکشن میں سیاسی جماعتیں کامیاب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچتی ہیں اور یہ سیاسی جماعتیں مذہب کی بنیاد پر نہیں بنتیں، مذہب کی بنیاد پر وہ لوگ الیکشن لڑ سکتے ہیں جن کی حلقوں میں اتنی تعداد ہو کہ وہ جیت سکیں، جیسے جمعیت علماء اسلام، وہ بھی دیوبندی کے نام پر ووٹ نہیں لیتے بلکہ اسلام کے نام ووٹ حاصل کرتے ہیں، ہمارے ہاں بھی شیعہ پولیٹیکل پارٹی بنائی گئی اور اسی نظرئیے سے بنائی گئی کہ ہم بھی ایک سیاسی پارٹی ہوں گے، رجسٹریشن بھی کروائی گئی، ان کے بعد شہید قائد رہ کی قیادت میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے بھی سیاست میں حصہ لیا۔ مختلف پارٹیوں کے ساتھ الحاق بھی کیا گیا، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ شامل ہیں۔

اسی کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں شیعہ مخالف بل پاس نہ ہونے دیا گیا، اس موقع پر لیاقت بلوچ نے کھڑے ہو کر شیعہ نمائندگی کی اور شریعت ایکٹ میں شیعہ تحفظات بیان کئے۔ سینیٹ میں ہم گئے یا گلگت بلتستان میں ہم اکثریت سے جیتے۔ ہماری جماعت اگر سیاسی میدان میں تنہا اترے تو ہمارے پاس ایک حلقہ بھی نہیں ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر الیکشن لڑا جائے اور مذہب کی بنیاد پر الیکشن پاکستان کے حق میں نہیں ہے۔ پھر سیاسی جماعتوں میں ہم موجود ہیں، شیعہ ووٹر کو چاہیے کہ جس نمائندے کو ووٹ دیں اس سے بات کریں کہ ہم ذبح ہو رہے ہوں جب ہمارا قتل ہو رہا ہو تو ہمارے لئے بات کرنا۔ دراصل شیعہ ووٹر کو بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے، آپ اس کھاتے میں کہاں لگے ہیں کہ ہم سیاسی پارٹی بن جائیں اس سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی الٹا نقصان ہو گا۔

س: کیا شیعہ ووٹ بینک کو یکجا کرنے کے لئے مشترکہ پلیٹ فارم کا قیام ممکن ہے۔؟


علامہ سید افتخار حسین نقوی: پاکستان کے موجودہ سیاسی ڈھانچے میں یہ ممکن نہیں ہے، چونکہ میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے الیکشن لڑ چکا ہوں اور اب رفاعی کام سرانجام دے رہا ہوں۔ پاکستان میں مذہب کے نام پر الیکشن لڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ یہ ہر کسی کی خواہش ہے، قائد ملت جعفریہ دیوبندیوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو وہ ایک شیعہ گروپ کے ساتھ کیوں نہیں ملیں گے یا وحدت مسلمین کے نام سے ایک جماعت اپنا تشخص بنا رہی ہے، مسلمین کی وحدت کا نعرہ لگا رہی ہے، خالی نعروں سے تو کچھ نہیں ہو گا، اور وہ کیوں نہیں چاہیں گے۔ اس کا عملی مظاہر ہ علماء کانفرنس میں ہوا ہے، جس میں مختلف الخیال شیعہ علماء جمع تھے۔

اس وحدت کو بزرگ علماء اور نوجوان خون مل کر عملی جامہ پہنائیں اور اس معاملے میں نوجوان علماء شہید قائد سے درس لیں اور پہل کریں، شہید قائد نے ہمیشہ وحدت تشیع کے لئے پہل کی اور بغیر کسی شرط و شروط کے اپنے مدمقابل کے ساتھ وحدت کی کوشش میں لگے رہے۔ کیا ہم نے اتحاد میں رکاوٹ بننے والی چیزوں کو ختم کیا ہے؟ اصل طاقت آئی ایس او ہے جس کے سر پر ہمارے نوجوان علماء ایک جماعت کھڑی کر رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ گروہ ایک محدود گروپ ہے، پورے ملک کا نمائندہ نہیں ہے، اگر آپ یہ سمجھیں کہ سارے شیعہ آپ کے پیچھے چلے گئے ہیں اور سارے علماء بھی آپ کے ساتھ ہیں تو یہ خام خیالی ہو گی۔ اس کے لئے ایک بڑا قد کاٹھ اور شہید کا حوصلہ اور سوچ درکار، ہماری دعا ہے، اس میں مجلس وحدت مسلمین کامیاب ہو۔

س: کیا گلگت اور چلاس کے واقعات کسی عالمی سازش کا حصہ ہیں۔؟


علامہ: گلگت اور چلاس کے واقعات کو سطحی انداز سے نہیں دیکھنا چاہیے، پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والے دوسرے واقعات سے جدا بھی نہیں کرنا چاہیے، یہ شیعہ کشی کے واقعات اس کا حصہ ہیں، ہمیں ادراک ہونا چاہیے کہ اس وقت پاکستان کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی ہو، قتل چاہے ہزارہ قبیلے کا ہو، آئی ایس آئی والوں کا ہو یا سوات میں بے گناہ افراد کا ہو، ان تمام کے پیچھے ایک ہی دشمن کارفرما ہے، جو پاکستان کو ختم کرنا چاہتا ہے۔


س: رہبر معظم سید علی خامنہ ای کس وحدت کی بات کرتے ہیں۔؟ کیا وہ ہمارے پیش نظر ہے۔؟


علامہ سید افتخار حسین نقوی: وہ تو پوری امت کی وحدت کی بات کرتے ہیں، افتراق سے بچنا چاہیے، پاکستان میں بھی وہ چاہتے ہیں کہ سارے مسلمان متحد ہوں اور فروعی اختلاف سے اجتناب برتیں، اہل سنت کے تمام مقدسات کا احترام واجب ہے، ازواج پیعمبر کی توہین حرام ہے، ہر وہ عمل جس سے مسلمانوں کے درمیان افتراق پھیلے شرعاً حرام ہے۔ ہم ویسے تو کہتے ہیں کہ ولی فقیہہ کو مانتے ہیں اور ان کی اطاعت میں ہیں، لیکن سیاسی عمل میں جب علامہ ساجد نقوی حفط اللہ کے پاس رہبر معظم کی نمائندگی ہے تو ہم اس کی تحویلیں کرتے ہیں۔
 
اس کی توجیہات کرتے ہیں ایسی توجیہات کہ جس کا خود رہبر کو بھی پتہ نہیں ہے، اس طرح ہم رہبر کی دیانت پر حملہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی کہے کہ رہبر کسی کے دباؤ میں ہے، یا رہبر کو حقائق کا پتہ نہیں ہے، یا رہبر کو علامہ ساجد نقوی کی کمزوریوں کا پتہ نہیں ہے۔ یہ تو آقای خامنہ ای کی دیانت و بصیرت پر حملہ ہے۔ یہ سوچنا چاہیے ہمارے بعض عزیزوں کو کہ ایسا مت کہیں، جوان کام کریں، انہی جوانوں نے کام کرنا ہے، لیکن جوان اپنے حال پر رحم اور قوم کے حال پر رحم کریں، کام کریں زبان سے نہیں عملاً، یہاں زبان سے بہت کچھ ہو رہا ہے اور منفی باتوں کو زیر خاک کریں ان کو مت اچھالیں۔

س: ایم ڈبلیو ایم ایک قومی اجتماع منعقد کروا رہی ہے، کیا آپ شرکت کریں گے۔؟


علامہ سید افتخار حسین نقوی: اس وقت دیکھیں گے کہ علماء کی کیا رائے ہے، کیونکہ جو اس کو بلا رہے ہیں کس مقصد کے لئے بلا رہے ہیں، وہ اہداف کیا ہیں، آیا اس کے وقت کا تعین ٹھیک ہے، اگر مجلس وحدت مسلمین علماء کے پاس دعوت لائے گی تو علماء شرکت کریں گے۔ اگر صرف جماعتی کنونشن ہے تو وہ آئی ایس اور آئی او ہر سال کرتی رہتی ہیں تو یہ بھی انہی کا ایک کنونش ہو گا۔ میں مجلس وحدت مسلمین کو آئی ایس او کا ایک دوسرا نام سمجھتا ہوں، ہمارے وہ بچے جو کالجوں میں نہیں ہیں یا ملازمتیں کر رہے ہیں یا مولانا بن گئے ہیں وہ اس میں ہیں۔ ماشاءاللہ وہ سارے اکٹھے ہوں تو پچاس ہزار اکٹھے ہو جائیں گے، لیکن انہیں سمجھنا چاہیے کہ ساری قوم وہ نہیں ہیں، یہ پانچ کروڑ شیعوں کی بات ہے، شیعہ سیاسی جماعتوں میں ہیں اور رہیں گے، تنظیمیں بھی اسی طرح ہیں اور رہیں گی۔ لہذا اپنے اہداف مشخص کریں، لیکن ایک دوسرے کی نفی نہ کریں۔

س: علامہ ساجد نقوی کی گرتی ہوئی ساکھ کے پیش نظر کیا کوئی اور شخصیت اس منصب کیلئے قابل غور ہے۔؟


علامہ سید افتخار حسین نقوی: دیکھیں، علامہ صاحب کی جماعت پر پابندی ہے، نہ تو جماعتی کنونش ہو سکتا ہے نہ کارکنان کی تربیت ہو سکتی ہے، نہ کوئی عہدیدار بن سکتا ہے، کیونکہ اگلے دن فورتھ شیڈول میں گرفتار ہو جاتا ہے، یہ تو علامہ صاحب کی عقلمندی اور بصیرت تھی کہ انہوں نے شیعہ علماء کونسل کا نام دے کر تھوڑا بہت کام شروع کر رکھا ہے۔ اب یہ مسئلہ کہ وہ ہٹ جائیں اور کوئی دوسرا آجائے تو یہ عنوان اور یہ سلسلے ایک دو دنوں میں نہیں بنتے۔ علامہ ساجد نقوی اگر علامہ ساجد نقوی بنے ہیں تو اس کے پیچھے کئی سالوں کی جدوجہد ہے، ایسا نہیں ہے کہ علامہ ساجد نقوی کی جگہ کسی کو بٹھا دیں تو وہ قوم کے لئے وہ کچھ کر سکے گا جو قوم کے لئے وہ کر رہے ہیں۔
 
علامہ ساجد نقوی کو اگر ہٹانا ہے تو انہی بزرگ علماء نے ہٹانا ہے اور بزرگ علماء تو انہیں مضبوط کر رہے ہیں اور دوسروں کو بھی مان لینا چاہیے۔ چھوٹے علماء کو چاہیے کہ اگر دل نہیں مان رہا تو تعبداً ہی اس بات کو مان لیں، کیونکہ یہ حکم رہبر معظم ہے۔ ہم مایوس نہیں ہیں، آپ میرے ساتھ سندھ چلیں، ایک دفعہ میں کسی دیہات میں فاتحہ خوانی کے لئے بیٹھا تھا، وہاں ایک صاحب بولے کراچی میں ماشاءاللہ قائد صاحب نے بہت بڑا کام کر دیا ہے۔ میں نے کہا وہ کیا؟ بولے ناصر صاحب کو کراچی بھیجا، جنہوں نے بہت بڑا جلسہ کیا ہے۔ میں سن کے خاموش ہو گیا۔ لیکن عام آدمی ہمیں یکجا دیکھتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے گروپ ایک دوسرے کی طاقت بن جائیں۔
 
بڑے قومی کنونشن کی اس وقت ضرورت نہیں ہے، وہ ہمارے خلاف جائے گا۔ دنیا کی طاقتور ایجنسیاں موساد، راء اور سی آئی اے پاکستان کو ختم کرنے کے درپے ہیں، لیکن ہمیں خون دے کر بھی پاکستان کو بچانا ہے، اس موقع پر ہمیں عراق کی مثال کو اپنے سامنے رکھنا ہو گا کہ کس طرح عراق میں سنی شیعہ فسادات سے اجتناب برتا گیا اور وحدت کے لئے مرجعیت کا کردار اہم ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ جماعت اسلامی ان لوگوں کے ساتھ جا بیٹھی ہے جو آئے روز خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

یہ پاکستان کے قانون کی کمزوری ہے۔ اس کونسل کے بیانات اقوام متحدہ کی فورسز کو پاکستان میں بلانے کا ایک پلان ہے۔ چین اور ایران پاکستان کے دو دوست ہیں، انہی دو ممالک کے سرحدی علاقوں میں فسادات کئے گئے، تاکہ ان ممالک کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا جا سکے۔ گلگت اور بلتستان کے علماء نے حالیہ فسادات کے دوران انتہائی عقل و دانش کا ثبوت دیا اور عوام نے بھی انہی کے تابع رہ کر معاملات کو سلجھایا۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

ہم اس قائدِ کے پیروکار ہیں جو پاکستان میں عملی اتحاد و وحدت کا بانی ہے

پنجشنبه 21 اردیبهشت 1391 11:20 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

جے ایس او کے مرکزی صدر برادر حسنین جاوید کے انٹرویو کی دوسری اور آخری قسط قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔

س : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ملت جعفریہ میں نفاق بھی ہماری تباہی کا ذمہ دار ہے۔؟کیا شیعہ تنظیموں کو متحد ہونا چاہیے اور اس کا فارمولا کیا ہو سکتا۔؟


حسنین جاوید: میں سمجھتا ہوں کہ شیعہ قوم میں کوئی نفاق نہیں ہے۔ البتہ ڈیڑھ انچ کی بنائی ہوئی الگ مساجد اور انانیت کے سبب نفاق کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اگر قوم میں نفاق ہوتا تو 18 اپریل 2012ء کو ہونے والی علماء کانفرنس کامیاب نہ ہوتی۔ علماء کا اتنا بڑا اجتماع، نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کے تمام بزرگ علماء کا قائدِ ملتِ جعفریہ حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی کی مختصر کال پر جمع ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ گویا کہ یہ پاکستان کی مجلسِ خبرگان تھی۔ اس اجتماع کا واضح پیغام تھا کہ آج بھی قوم کی رہنمائی کرنے والے علماء ایک ہی قیادت کے زیرِ سایہ جمع ہو کر گویا اعلان کر رہے ہیں کہ ہم قیادت کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔

س : کیا اس مرحلے پر جے ایس او، آئی ایس او میں ضم ہو سکتی ہے یا دونوں تنظیموں کا اتحاد کم از کم مشترکہ ایجنڈے پر ممکن  ہے۔؟


حسنین جاوید: جے ایس او ایک حقیقت ہے۔ لہٰذا اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ جے ایس او کی بنیادوں میں شہداء کا مقدس لہو شامل ہے۔ الٰہی نظریے اور وحدت کی سوچ لے کر یہ تنظیم اپنی حیثیت کے مطابق پاکستان میں شیعہ طلبہ کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔ کسی بھی تنظیم کا کسی تنظیم میں ضم ہونا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہوتا۔ ہر تنظیم کے اپنے اہداف ہوتے ہیں، اپنے نظریات ہوتے ہیں، جس کے تحت وہ معرضِ وجود میں آتی ہیں۔ طلبہ کے شیرازے کو بکھرنے سے بچانے کے لیے ہم نے بہت کوششیں کیں، مگر افسوس ڈاکٹر محمد علی نقوی کی شہادت کے بعد شیعہ طلبہ تقسیم ہوئے۔



جہاں تک اتحاد کی بات ہے تو ہم اس قائدِ کے پیروکار ہیں جو کہ پاکستان میں عملی اتحاد و وحدت کا بانی ہے۔ ہماری تنظیم متحدہ طلبا محاذ کا بھی حصہ ہے۔ ہم جب دوسری تنظیموں سے اتحاد کر سکتے ہیں تو شیعہ طلبا تنظیموں سے کیوں نہیں۔؟ بڑی معذرت کے ساتھ میں کہوں گا ہماری طرف سے اتحاد کی کوششیں بھی ہوئیں، مگر ایسا ہونے نہیں دیا گیا اور اس بات کے گواہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے فرزند دانش علی بھی ہیں۔

س : کیا تعلیمی اداروں میں یونینز کے انتخابات ہونے چاہیں۔؟


حسنین جاوید: اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ تعلیمی اداروں میں یونینز کے انتخابات ہونے چاہیں۔ میرے خیال میں تعلیمی اداروں میں یونینز کے انتخابات کے لیے موجودہ حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ محض ایک اعلان تھا اور لگتا یوں ہی ہے کہ وزیرِاعظم صاحب کا یہ اعلان، شاید اعلان ہی رہے گا۔


س : حکومت نے آتے ہی طلبا یونینز پر پابندی اٹھانے کا اعلان تو کیا مگر انتخابات نہیں کروائے گئے؟ طلبا تنظیموں کی طرف سے کوئی ردعمل کیوں نہیں آیا۔؟


حسنین جاوید: تعلیمی اداروں میں یونینز کے انتخابات کے حوالے سے طلباء تنظیموں نے آواز اٹھائی مگر موثر انداز میں اسے تحریک کی شکل نہیں دی جا سکی۔ اس سلسلے میں، میں یہ ضرور کہوں گا کہ خود طلباء تنظیموں کو بھی اپنے رویہ میں تبدیلی لانا ہو گی۔

س : طلبا تنظیموں کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانا ہو گی سے کیا مراد ہے؟


حسنین جاوید: ہماری تنظیم نے متحدہ طلبا محاذ کے فورم پر متعدد بار اس بات کو اٹھایا ہے کہ ہم اجلاسوں میں ایک دوسرے سے بہت اچھے انداز سے ملتے ہیں، بہت پیاری پیاری اور بڑی بڑی باتیں بھی کرتے ہیں مگر تعلیمی اداروں میں ہم ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے۔ بعض تنظیموں نے تو تعلیمی اداروں کو دوسری تنظیموں کے لیے نو گو ایریا بنا دیا ہے۔ معمولی باتوں پر ایک دوسر ے کو قتل تک کر دیتے ہیں۔ اس رویے کو بدلنا ہو گا۔ کسی بھی طلبا تنظیم کو کسی بھی ادارے میں آنے سے نہیں روکنا چاہیے، مگر بدقسمتی سے ہم بھی اسی کا شکار ہیں۔ ہم نے اسی وجہ سے خود کو بعض تعلیمی اداروں میں آنے سے روکا ہوا ہے اور ہم تصادم سے بچنے کے لیے بہت سے تعلیمی اداروں میں باضابطہ تنظیم سازی نہیں کر رہے۔

س : سنا ہے کہ جے ایس او کے سابقین امامیہ آرگنائزیشن کی طرز پر جعفریہ آرگنائزیشن بنانے کی تیاریاں کر رہے ہیں؟ اس کے مقاصد کیا ہیں۔؟


حسنین جاوید: جعفریہ آرگنائیزیشن کے قیام کے حوالے سے سینئرز ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پائے۔ کچھ کا خیال ہے کہ اس تنظیم کا قیام عمل میں آنا چاہیے اور بعض سینئرز کا خیال ہے کہ جے ایس او سے فارغ ہونے کے بعد قومی جماعت (تحریک جعفریہ پاکستان) کا حصہ بنا جائے۔ اس سلسلے میں بانیانِ جے ایس او کا ایک مشاورتی اجلاس ہو چکا ہے۔ جلد ہی ایک اور اجلاس بلانے کی تجویز ہے تاکہ حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔

س : ملک میں رائج طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے لئے کیا اقدامات ضروری ہیں۔؟


حسنین جاوید: نظامِ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ قومیں اپنی تعلیم اور تربیت کے حوالے سے بےحد سنجیدہ رہتی ہیں اور یقیناً ان کی ترقی کا راز بھی یہی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں رائج تعلیمی نظام فرسودا اور طبقات میں بٹا ہوا ہے۔ یہاں پر تعلیمی اداروں کی عمارت کے حوالے سے قوانین تو موجود ہیں مگر اس پر عمل نہیں ہوتا۔ ایک طرف تو امیروں کے لیے کیمبرج سسٹم ہے تو غریبوں کے لیے پیلا اسکول سسٹم، تو دوسری طرف سیلف فنانس اسکیم اور پرائیوٹ اعلٰی تعلیمی ادارے میرٹ کا منہ چڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اب حد تو یہ ہے کہ آغا خان بورڈ بھی ملک میں نافذ ہو چکا ہے۔ اللہ جانے مزید کتنے بورڈ آئیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ سنجیدگی کے ساتھ ماہرینِ تعلیم کا بورڈ تشکیل دے کر ازسر ِ نو ملک گیر جدید نظامِ تعلیم رائج کریں۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

مسائل حل نہ ہوئے تو پورے پاکستان کو جام کر سکتے ہیں، مولانا ناظر عباس تقوی

پنجشنبه 14 اردیبهشت 1391 12:27 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

علامہ ناظر عباس تقوی کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر کراچی سے ہے۔ آپ نے جب سے روحانی لباس زیب تن کیا، تب سے ہی اپنے کندھوں پر زیادہ ذمہ داری محسوس کرنے لگے۔ یہی وجہ تھی کہ شیعہ علماءکونسل میں شمولیت کے بعد کچھ ہی عرصے میں بزرگ علمائے کرام کے ہوتے ہوئے پہلے کراچی کے صدر منتخب ہوئے پھر صوبہ سندھ کے جنرل سیکریٹری بنے اور تاحال اس عہدے پر قائم ہیں۔ ریلی ہو یا دھرنا یا ملت کو درپیش کوئی اور مشکل، منفرد اور با اثر لب و لہجہ رکھنے والے علامہ ناظر عباس تقوی جتنی دیر بولتے ہیں، ان کے جملوں میں خلوص ہی خلوص ہی نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرلیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو للکارنا ہو یا شیعہ و مسلمان دشمن جماعتوں کو، اس معاملے میں علامہ صاحب اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ خیرپور میں ہونے والی حالیہ لبیک یا حسین ع کانفرنس منعقد کرانے میں بھی آپ کا کافی فعال کردار رہا ہے۔ اسی تناظر میں آپ سے ایک خصوصی انٹرویو کیا گیا ہے جو قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔


س:لبیک یا حسین ع کانفرنس کے انعقاد کا مقصد کیا تھا اور آپ نے اس سے کیا مطلوبہ نتائج حاصل کئے ہیں؟


علامہ ناظر عباس تقوی:ہم گذشتہ کچھ عرصے سے سندھ کے دورے پر تھے اور اس دوران ہم خیرپور پہنچے اور وہاں پر لوگوں سے ملاقات کی، علماء، زعماء اور دانشور حضرات سے ملے تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہاں شیعوں کو بہت سے مسائل درپیش ہیں، ہمیں یہاں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ لہٰذا یہاں شیعوں کا ایک بہت بڑا اجتماع ہونا چاہئیے اور پتہ چلنا چاہئیے کہ یہ شیعہ اکثریتی علاقہ ہے اور لوگوں کے دلوں میں جو ایک خوف ہے وہ نکلنا چاہئیے۔ بنیادی مقصد ہمارا یہ تھا کہ یہاں شیعت جو دبی ہوئی ہے، اس کو دوبارہ روح دینا اور ان کو گھروں سے باہر نکالناہے ۔ ہمارے یہاں کچھ مسائل تھے جن کے لئے ہمیں معلوم تھا کہ ہم پروگرام کریں گے تو وہ مسائل حل ہوں گے اور وہ ہوئے، جن کا میں ابھی تذکرہ کروں گا۔
جب ہم نے یہاں ڈیڑھ مہینہ پہلے لبیک یا حسین ع کانفرنس کا اعلان کیا تو اس دن سے یہاں مسائل پیدا ہونا شروع ہوئے اور آہستہ آہستہ معاملات کو بگاڑا گیا۔ دشمن یہ نہیں چاہتا تھا کہ یہاں کوئی اجتماع نظر آئے اور شیعہ کچھ اس طرح کا پروگرام کریں اور یہ نہ لگے کہ کوئی شیعہ ریاست ہے اور یہاں پروپیگنڈے کئے گئے اور لوگوں پر جھوٹے مقدمات قائم کئے۔ میں خود خیرپور میں ایک ہفتے سے موجود تھا، جب پروگرام نزدیک آنے لگا تو بے گناہ شیعہ افراد کی دکانیں جلائی گئیں اور جب وہ احتجاج کے لئے روڈ پر آئے، جہاں میں خود بھی موجود تھا، مجھ پر اسٹریٹ فائر ( Straight Fire ) کئے گئے جس کے نتیجے میں میرے ساتھ وہاں موجود گیارہ افراد زخمی ہوئے۔  یہاں جان بوجھ کر حالات خراب کئے گئے اور پھر ہم سے کہا گیا کہ ہم آپ کو سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے، اطلاعات صحیح نہیں ہیں، ان سارے معاملات میں انتظامیہ ملوث تھی۔ ہمیں امید تھی کہ ہم یہاں ایک لاکھ افراد اکٹھے کرلیں گے اور جو صورتحال یہاں بن چکی تھی اس کے مطابق ہم اتنے افراد جمع کرلیتے۔ کراچی سے لے کر کشمور اور سندھ کے ہر علاقے سے لوگ آنے کے لئے تیار تھے، لیکن انتظامیہ کو یہ بات پسند نہیں آئی، جو لوگ کانفرنس کے لئے شامیانہ لگا رہے تھے ان پر فائرنگ کی گئی، شامیانوں کو جلانے کی کوشش کی، وہ بھی ایک مومن کا تھا، پھر میدان میں پانی چھوڑ دیا گیا۔ یہاں کرفیو نافذ کردیا گیا، خوف کا ماحول پیدا کیا گیا اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا گیا کہ لوگ یہاں نہ آ سکیں۔
حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے اس پروگرام کو صرف خیرپور ضلع تک محدود کردیا کیونکہ ہم تو یہاں امن قائم کرنے اور لوگوں کو خوف کے عالم سے نکالنے کے لئے آئے تھے، ہمارا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ ہم نے لوگوں کو یہاں آنے سے منع کردیا لیکن لوگوں کا پھر بھی اصرار تھا کہ ہم آئیں گے، پھر ہم نے کہا جو لوگ خود سے آنا چاہتے ہیں وہ آئیں۔ ہم نے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنا پروگرام کرنل شاہ گراﺅنڈ سے امام بارگاہ حیدری میں منتقل کر دیا۔ انہوں نے اتنا شدید اقدام کیا کہ خیر پور میں دفعہ 144 نافذ کر دی اور ڈی آئی جی نے ہمارے لوگوں کو کہا کہ جو گھروں سے باہر نکلے گا میں اس کو گولی ماروں گا، رینجرز طلب کرلی گئی، امام بارگاہ کے چاروں اطراف باڑ لگا دی گئی، امام بارگاہ کے برابر اور اطراف والوں کو کہہ دیا کہ اگر باہر نکلو گے تو گولی مار دیں گے۔
ان سارے اقدامات کے باوجود جب ہم پنڈال میں پہنچے تو اس وقت کل دو علما اور چھ آدمی تھے، ہم نے طے کیا تھا کہ اپنے مقررہ وقت پر لبیک یا حسین ع کا نعرہ لگائیں گے اور پروگرام شروع کریں گے، اس کے بعد گرفتاریاں ہوتی ہیں، لاٹھی چارج ہوتا ہے ہم سب چیزوں کے لئے تیار ہیں۔ الحمد للہ ہم نے نماز ظہر کے بعد لبیک یا حسین ع کا نعرہ لگایا اور پروگرام کا آغاز کردیا، گلی کوچوں میں جو لوگ تھے ان سب نے وہیں سے لبیک یا حسین ع کا جواب دیا، اس کے بعد لوگوں میں تحرک پیدا ہونا شروع ہوا اور لوگ کانفرنس کی طرف بڑھنا شروع ہوئے تو لاٹھی چارج ہوا، کسی کے ہاتھ ٹوٹے، کس کا سر پھٹا، اس کے باوجود لوگ رکاوٹین عبور کرکے آہستہ آہستہ جمع ہونا شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ خواتین بھی باہر نکل آئیں اور انہوں نے رینجرز اور پولیس سے مزاحمت کی، آخر کار پولیس اور رینجرز ان کے آگے بے بس ہوگئی اور انہوں نے گھٹنے ٹیک دئیے۔ اتنی مزاحمت کے باوجود کانفرنس میں پندرہ ہزار کے قریب افراد موجود تھے، جس کے گواہ خود وہاں کے مقامی افراد ہیں۔ جتنے افراد بھی گرفتار ہوئے تھے ان سب کو چھوڑ دیا گیا ہے، سوائے ان کے جن کا کورٹ میں چالان پیش کردیا گیا ہے، ان کی ضمانت کے کاغذات بھی ہم نے تیار کرا لئے ہیں اور ان کی ضمانت بھی انشاءللہ ایک دو روز میں ہو جائے گی۔ پانچ سو افراد کے خلاف جو مقدمات قائم کئے گئے تھے ان میں سے کچھ کے نام نکال دئیے گئے ہیں اور کچھ کے آہستہ آہستہ نکال دئیے جائیں گے، کیونکہ ان کی بھی مجبوریاں ہیں، ان کے پیچھے بھی دوسرا گروہ کھڑا ہے اور وہ بھی ان کے سامنے آتا ہے۔
الحمد للہ ہم نے نتائج حاصل کئے ہیں۔ وہاں ہر شخص خوش ہے، تشیع وہاں مضبوط ہوئی ہے اور ہر شخص ہم سے وہاں تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔ ہم نے وہاں اعلان بھی کیا ہے کہ ابھی تو ہم نے ضلع تک کے لوگوں کو بلایا ہے، لیکن انشاءللہ بہت جلد ہم ایک لبیک یا حسین ع کنونشن بھی منعقد کرائیں گے اور اس میں پورے سندھ سے لوگ شرکت کریں گے۔

 


س:کیا اس لبیک یا حسین ع کنونشن کا انعقاد بھی خیرپور میں ہوگا؟


علامہ ناظر عباس تقوی:ابھی ہم صوبائی کابینہ کا مشاورتی اجلاس بلائیں گے، اس میں فیصلہ کریں گے کہ کہاں ہونا چاہئیے، ویسے انتظامیہ نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے اور امید بھی ہے کہ وہ ہم سے بھرپور تعاون کرے گی۔ اگر خیرپور انتظامیہ نے تعاون نہ کیا تو جہاں معاملات طے پا جائیں گے وہاں اس کنونشن کو منعقد کریں گے۔


س:آپ لوگوں کو گھروں سے باہر نکالنے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن یہ فرمائیے گا کہ کیا انتظامیہ سے فرقہ وارانہ دہشت گرد تنظیم کو لگام دینے کے حوالے سے کوئی بات ہوئی ہے؟


علامہ ناظر عباس تقوی:جی اس حوالے سے بات ہوئی ہے اور یہاں کے افراد نے ہمیں بتایا کہ پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ اس تنظیم کے مقامی رہنماﺅں کو گرفتار کرکے ان کو جیل میں ڈالا گیا ہے۔ ورنہ اس سے پہلے ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے والا نہیں تھا، اس وقت ان کے بارہ افراد کو گرفتار کرکے ان کا چالان پیش کردیا گیا ہے، ان کا مقامی صوبہ سندھ کا جو لیڈر تھا وہ یہاں سے فرار ہوگیا ہے اور ان کی کچھ مساجد جہاں سے تکفیر کے نعرے بلند ہوتے تھے ان کو بھی کچھ عرصے کے لئے سیل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بھی اس دن لبیک یا اللہ کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ان کو نہیں کرنے دی گئی، ان کے مقامی لوگ یہاں نہیں ہیں۔ ہمیں اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انشاءاللہ جھنڈے اتار لئے جائیں گے اور چاکنگ مٹا دی جائے گی۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے، اگر وہ عملی اقدامات کرتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میدان کھلا ہے، ہم پھر یہاں آئیں گے اور احتجاج کریں گے۔


س:کانفرنس میں اتحاد کا بھی عملی نمونہ نظر آیا اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنماﺅں نے بھی شرکت کی۔ آپ اس عمل کو کس طرح دیکھتے ہیں؟


علامہ ناظر عباس تقوی:میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ نہ کسی جماعت کا تھا اور نہ کسی فرد کا تھا، یہ تو قومی نوعیت کا معاملہ تھا، اس قومی مسئلے پر تمام لوگ ہمارے ساتھ متحد تھے، ایم ڈبلیو ایم والے ہمارے ساتھ تھے، مقامی شیعہ رابطہ کونسل ہمارے ساتھ تھی اور دیگر جو ماتمی انجمنیں سب نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا اور ہماری تائید کی۔ ان ہی لوگوں کی کاوشیں تھیں جن کی وجہ سے اللہ نے ہمیں کامیاب کیا اور دشمن خائف اور رسوا ہوا۔


س:پاکستان میں حالیہ فسادات فرقہ وارانہ ہیں یا اس کے پیچھے کوئی اور سازش کار فرما ہے؟


علامہ ناظر عباس تقوی:میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہیں، کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح یہاں اس طرح کے حالات پیدا کئے جائیں۔ میں آپ کو بتاﺅں کہ جب یہاں ہمارے لوگوں کی دکانیں جلیں اور پھر احتجاج اور مجھ پر فائرنگ کی گئی تو یہاں کے مقامی مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں نے مجھ سے رابطے کئے کہ مولانا ہم یہاں موجود ہیں، میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ میدان عمل میں نکلیں، ہم یہاں کسی گروہ کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ڈی آئی جی نے مجھے فون کیا کہ ہم آپ کو مذاکرات کے لئے بلا رہے ہیں، میں نے کہا کیا وہ دہشت گرد گروہ بھی مذاکرات میں موجود ہوگا؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ لوگ بھی موجود ہیں تو میں نے کہا کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہیں، وہ لوگ غیر مہذب لوگ ہیں، یہ لوگ کسی فرقے کی نمائندگی نہیں کرتے، مجھ سے تمام مسالک کے افراد نے رابطے کئے ہیں، ان لوگوں کو بلائیے ہم ان کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہیں۔ باقی اس گروہ کے ساتھ ہم کسی بھی قسم کی ٹیبل ٹاک کے لئے تیار نہیں ہیں۔ جس پر ڈی آئی جی کافی خفا بھی ہوا، وہ چاہتا تھا کہ ہم ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہو جائیں لیکن ہم نے دو ٹوک الفاظ میں واضح جواب دے دیا۔ ہم نے کہا کہ ہم پر امن شہری اور مذہبی لوگ ہیں، مذہبی افراد کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، کسی ایسے ٹولے کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے کہ جو مذہب کے نام پر دہشت گردی کر رہا ہے۔


س:پاکستان میں جو سازشیں ہو رہی ہیں ان کے لئے آپ کے پاس کیا راہ حل ہے اور آپ نے اب تک اس حوالے سے کیا عملی اقدامات کئے ہیں؟


علامہ ناظر عباس تقوی:میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سب سے بڑا حل یہ ہے کہ انسان مذاکرات کے راستے کو کھولے اور ہر سطح پر مذاکرات کرے اور ہر جگہ اپنے پیغام کو پہنچائے۔ انسان بعض دفعہ اقدامات بہت کر رہا ہوتا ہے لیکن صحیح جگہ پر اس کا پیغام نہیں پہنچ پا رہا ہوتا ہے۔ ہماری قیادت کی صدر مملکت سے بات ہوئی ہے، ہم نے اپنے مسائل ان کے سامنے رکھ دئیے ہیں۔ ابھی ہم نے اسلام آباد میں کانفرنس بلائی تھی، جس میں ایک ہفتے کے نوٹس پر ہزاروں علماء موجود تھے جنہوں نے پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ بھی کیا، کسی بڑے معرکے کی طرف جانے اور کوئی بڑا میدان سجانے کے لئے یہ ابتدائی مراحل ہوتے ہیں۔
اب ہم نے 17 , 18, 19 مئی کو اسلام آباد میں ایک اور جنرل کونسل کا اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں پورے پاکستان سے نمائندے شرکت کریں گے۔ وہاں پر ہمیں کچھ اہم اقدامات کرنے ہیں اور کچھ پالیسیاں مرتب کرنی ہیں، اس کے بعد ہم اپنی قوم کو لائحہ عمل دیں گے۔ لائحہ عمل کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم کسی تصادم کی طرف جائیں گے یا لوگوں کو مروانے یا کٹوانے کی طرف لے کر جائیں گے بلکہ ہم پر امن لائحہ عمل دیں گے۔ اس سے پہلے ہی ہم سے رابطے ہونا شروع ہوگئے ہیں کہ آپ نظر ثانی کریں ہم آپ سے تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ معاملات حل نہ ہوئے تو الحمد للہ ہم اتنی قوت رکھتے ہیں کہ پاکستان کو جام کر سکتے ہیں۔


س:آپ مذاکرات کس سے کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں انہی تنظیموں کے ساتھ جن کے ساتھ آپ نے بیٹھنے سے انکار کیا یا حکومت سے؟


علامہ ناظر عباس تقوی:مذاکرات ان گھٹیا لوگوں سے تو نہیں ہو سکتے، ہماری پالیسی ہے کہ اس دہشت گرد ٹولے کے ساتھ نہ بیٹھا جائے۔ مذاکرات تو حکومت سے ہوتے ہیں جن کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان قائم کیا جائے اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی جائے۔


س:دفاع پاکستان کونسل کے حوالے سے آپ کا کیا مؤقف ہے؟


علامہ ناظر عباس تقوی:دفاع پاکستان کونسل ایک اتحاد بنایا گیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں ہر ایک کو الائنس بنانے کا حق ہے لیکن میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ لوگ آزاد نہیں ہیں۔ ان کو کسی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا اور اب آپ دیکھ لیں کہ آہستہ آہستہ یہ سب تتر بتر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔


س:آپ دفاع پاکستان کونسل میں کالعدم تنظیموں کی شرکت کو کس طرح دیکھتے ہیں؟


علامہ ناظر عباس تقوی:دیکھئے یہ تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کالعدم جماعتوں کو روکے کیونکہ ایک طرف تو وہ خود ان کو دہشت گرد کہتی ہے اور ان کے لوگ بھی پکڑے جاتے ہیں، سانحہ عاشور سے لے کر ہر دھماکے میں ان کا ہاتھ ہوتا ہے، وزیر داخلہ بھی متعدد بار اس کی نشاندہی کرچکے ہیں۔ یہ تو حکومت کی نااہلی اور ناکامی ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کو اتنی کھلی چھوٹ دے دے۔


س:آئندہ انتخابات میں شیعہ علما کونسل کس طرح حصہ لے گی؟ آیا کسی اتحاد کا حصہ ہو گی یا اکیلے انتخابات میں حصہ لے گی؟


علامہ ناظر عباس تقوی:اس کے حوالے سے مرکزی کونسل فیصلہ کرے گی۔ ویسے ہم نے انتخابات میں پہلے بھی حصہ لیا تھا، پچھلے الیکشن میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا تھا، اگر ایم ایم اے بحال ہوتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہمارے پاس بہت سے آپشنز کھلے ہیں۔ پہلے ہمارے ساتھ کچھ مسائل تھے لیکن اس دفعہ ہمیں کام کرنے کا موقع ملا ہے، لہٰذا ہم ملک بھر سے پورے شد و مد کے ساتھ الیکشن لڑیں گے۔


س:ایم ایم اے کی بحالی کی کوئی امید ہے اور اس کے حوالے سے کوئی کوششیں کی جا رہی ہیں؟


علامہ ناظر عباس تقوی:بہت ساری جماعتیں چاہتی ہیں کہ ایم ایم اے بحال ہو اور چاہتے ہم بھی یہی ہیں کہ ایم ایم اے بحال ہو تاکہ اس سے لوگوں پر ایک اچھا اثر جائے۔ لیکن اگر بحال نہیں ہوتی تو تب بھی ہم الیکشن لڑیں گے۔ کیونکہ اس کے بغیر بھی ہم زندہ تھے، زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

ہم شہدائے کربلا کے پیرو ہیں، جو مشکل حالات میں چراغ گل ہونے کے باوجود حسین ابن علی (ع) کو نہیں چھوڑتے۔

سه شنبه 12 اردیبهشت 1391 12:49 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی صدر حسنین جاوید کراچی یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ 2000ء سے جے ایس او سے وابستہ رہنما مطالعہ کے شوقین، اچھے مقرر اور تنظیمی امور میں مہارت رکھتے ہیں۔ قومی مسائل کا حل اتحاد کو سمجھتے اور مایوسی کی بجائے جہد مسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ یکساں نظام تعلیم کو قومی ترقی کا راز گردانتے اور طلبہ یونینز کے انتخابات کو نئی سیاسی قیادت کی نرسری سمجھتے ہیں۔ پرامن تعلیمی ماحول کے خواہشمند، جے ایس او کے مرکزی صدر سے موجودہ حالات پر پہلا انٹرویو کیا ہے۔ جس کی پہلی قسط قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔

س: جے ایس او کی بنیاد کب اور کیوں رکھی گئی۔؟

حسنین جاوید: جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی باقاعدہ بنیاد 29 جون 1997ء کو خیرپور میرس سندھ میں رکھی گئی۔ اس تنظیم کے بنانے کا بنیادی مقصد طلبہ کو ایک ایسا الٰہی پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا جو علماء اور بالخصوص نمائندہ ولی فقیہ کی سربراہی اور سرپرستی میں کام کر رہا ہو۔ ان دنوں طلبہ کے لیے ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی گئی جو حقیقی معنوں میں نظامِ ولایتِ فقیہ کے تحت کام کر رہا ہو۔ طلبہ اکتوبر 1996ء کے لاہور کنونشن میں ہونے والی بدمزدگی کے بعد مایوسی کا شکار ہو چکے تھے۔ بچی کھچی کسر ایک طلبہ تنظیم کے ماہانہ میگزین نے پوری کر دی اور جلتی پر تیل کا کام کیا۔ جس کے نتیجے میں اچھے خاصے دین دار طلباء بھی قوم پرست تنظیموں میں شامل ہونا شروع ہو گئے۔ سندھ کے شیعہ طلبہ پہلے ہی ایک شیعہ طلبہ تنظیم سے بدظن ہو چکے تھے۔ ہمارے سینئرز نے ہر ممکن کوشش کی کہ بدظن شیعہ طلبہ کو مطمئن کیا جائے، مگر اس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ سابق تنظیم کے دستور میں حذف کی جانے والی شق کو بحال کیا جائے کہ جس میں تحریر تھا کہ یہ تنظیم براہِ راست ولی فقیہہ اور پاکستان میں ان کے نمائندہ کی سربراہی اور نگرانی میں کام کریگی۔ تو اس طرح جے ایس او تشکیل پائی۔

س: آپ کا تعلیمی ادارہ اور شعبہ کیا ہے اور جے ایس او میں کب سے ہیں۔؟

حسنین جاوید: میں نے شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور سے شعبہ ریاضیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے، جبکہ اس وقت جامعہ کراچی سے ادبیاتِ اردو میں ایم اے کر رہا ہوں۔ جے ایس او پاکستان میں 2000ء میں بطور ممبر شامل ہوا، جس کے بعد یونٹ جنرل سیکریٹری، یونٹ صدر، ڈویژنل جنرل سیکرٹری، مرکزی جنرل سیکرٹری، مرکزی سینئر نائب صدر اور پھر اس وقت لطفِ خدا سے مرکزی صدر کی ذمہ داریاں نبھا رہا ہوں۔

س: جے ایس او بنانے کے مقاصد کیا تھے۔؟ کس حد تک ان مقاصد کو حاصل کیا جا سکا۔؟

حسنین جاوید: جے ایس او بنانے کا مقصد کسی تنظیم، کسی ادارے یا کسی شخصیت کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد طلبہ کو سیرتِ محمد و آلِ محمد سے روشناس کراتے ہوئے علماء کی قیادت، رہبری اور رہنمائی میں خطِ امام پر گامزن رکھنا ہے۔ طلبہ کے حقوق کے لیے موثر آواز اٹھائی جائے، تاکہ طلبہ حقوق کی پاسداری ہو سکے۔ جہاں تک اپنے مقاصد کے حصول میں کامیابی کی بات ہے تو یہ ایک مسلسل عمل ہے، ہم اپنے اس عمل میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

س: تاثر ہے جے ایس او، آئی ایس او کے باغیوں نے بنائی؟ کیا کہتے ہیں؟

حسنین جاوید: (مسکراتے ہوئے) کون سی بغاوت؟ کس کے باغی؟ ہم نے تو کسی سے بغاوت نہیں کی۔ باغی تو وہ ہوتا ہے جو متعین الٰہی راستے، اہداف اور قیادت سے دور ہو جائے۔ ہمارا راستہ خطِ امام ہے، اہداف بھی وہی ہیں جو کہ بہت واضح اور روشن ہیں۔ قیادت بھی وہی ہے جس کا تسلسل قائدِ مرحوم علامہ سید محمد دہلوی، مفتی جعفر حسین اور قائدِ شہید علامہ عارف حسین الحسینی سے ہے، جس کے ہم پیرو ہیں۔ ہم شہدائے کربلا کے پیرو ہیں، جو مشکل حالات میں چراغ گل ہونے کے باوجود حسین ابن علی (ع) کو نہیں چھوڑتے۔

س: تنظیمیں بڑے مقاصد کے تحت بنائی جاتی ہیں۔ جے ایس او ایک شخصیت کی قیادت کو بچانے کے لئے بنائی گئی، کیا کہتے ہیں۔؟

حسنین جاوید: جے ایس او کے بنانے کے مقاصد میں بیان کر چکا ہوں۔ جس میں کہیں بھی قیادت کو بچانے کی بات نہیں کی گئی۔ ایک بات بالکل واضح اور روشن ہونی چاہیے کہ قیادت کو ہماری نہیں، بلکہ ہمیں ایک قائد اور رہنما کی ضرورت ہے کیونکہ قومیں قیادت کی رہنمائی اور رہبری میں ہی آگے بڑھتی ہیں۔ نہ کہ اپنے رہبر کی رہنمائی کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ صرف وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جنہیں رہبریت میسر ہو کیونکہ مولائے کائنات امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا وہ عظیم فرمان ہماری رہنمائی کرتا ہے جس میں آقا و موالا نے فرمایا تھا کہ ”مجھے گمان ہے کہ یہ لوگ تم سے طاقت و اختیار چھین لیں گے، کیونکہ وہ باطل پر متحد ہیں اور تم اپنے حق پر بکھرے ہوئے ہو، وہ باطل کی راہ میں اپنے رہبر کی اطاعت کرتے ہیں اور تم حق کی راہ میں اپنے رہبر کا حکم نہیں بجا لاتے۔“

جے ایس او کے قیام کے چھ ماہ بعد جب قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان و نمائندہ ولی فقیہ حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی سے ہمارے بانیان کی پہلی ملاقات دسمبر 1997ء کو ملتان میں ہوئی تو جے ایس او کے بانیان نے قائدِ محترم سے سرپرستی اور رہنمائی کی اپیل کی۔ جے ایس او کو بنانے میں اور اس کو چلانے میں قائدِ محترم کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ ہم ضرورت مند ہیں قیادت کے، نہ کہ قیادت ہماری ضرورت مند ہے۔

موجودہ قائد خود سے کسی عہدے پر فائز نہیں ہوئے بلکہ قیادتوں کا ایک تسلسل ہے جو کہ قائدِ مرحوم سید محمد دہلوی سے شروع ہوتا ہے اور موجودہ قیادت تک پہنچتا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ ولی فقیہ امامِ راحل امام خمینی رہ اور آپ کی رحلت کے بعد موجودہ ولی امرالمسلمین امام حضرت سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی کی جانب سے آپ ہی کو میرے ملک کے لیے اپنا نمائندہ مقرر فرمایا گیا۔ یہ بات کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم طلباء کا کام قیادتیں بنانا اور ہٹانا نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی حدود میں رہنا ہو گا۔

س: آپ جے ایس او کے مرکزی صدر ہیں۔ اس تنظیم کا دوسری طلبا تنظیموں سے تقابل کیا جائے تو اس کی rating کس نمبر پر دیکھتے ہیں۔؟

حسنین جاوید: ہر تنظیم کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں، جے ایس او کی اپنی ترجیحات ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری طلباء تنظیمیں مالی و دیگر وسائل کی دستیابی کی وجہ سے بہت آگے ہیں۔ ان کے پاس دفاتر، ملازمین، سالانہ بجٹ، گاڑیاں اور دیگر مادی وسائل موجود ہیں۔ ان کے برعکس ہمیں وسائل کی عدم دستیابی و دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر ان تمام زمینی حقائق کو مدِنظر رکھا جائے تو پھر ہماری تنظیم کی rating سب سے اوپر ہو گی۔

س: جے ایس او سندھ اور جنوبی پنجاب سے باہر فعال کیوں نہیں ہو سکی۔؟

حسنین جاوید: یہ تاثر بے بنیاد اور غلط ہے کہ جے ایس او سندھ اور جنوبی پنجاب تک محدود ہے۔ ہماری تنظیم ملک گیر تنظیم ہے۔ اس کے یونٹس کراچی سے گلگت و بلتستان تک پھیلے ہوئے ہیں۔ میرے تنظیمی دورانیہ کی آخری مرکزی تربیتی ورکشاپ لاہور میں ہوئی، آخری مرکزی عاملہ کا اجلاس گجرات میں ہوا۔ گلگت کی حالیہ کشیدہ صورتحال میں ہمارے ایک نوجوان نوید رضا نے گلگت میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اس سال جے ایس او پاکستان کا مرکزی کنونشن بھی اَپر پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں طے پایا ہے۔ جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جے ایس او پاکستان صرف سندھ اور جنوبی پنجاب تک ہی محدود نہیں ہے۔

س: آپ نے جے ایس او کے کارکنان کی شہادت کی بات کی، ابتک تنظیم سے وابستہ کتنے نوجوان شہادت کے درجے پر فائز ہو چکے ہیں۔؟

حسنین جاوید: قائدِ شہید علامہ عارف حسین الحسینی نے فرمایا تھا کہ شہادت ہماری میراث ہے جو ہماری ماوں نے ہمیں دودھ میں پلائی ہے۔ جی ہاں اب تک تنظیم سے وابستہ 6 نوجوانوں نے راہِ حسین (ع) پر چلتے ہوئے شہادت کو گلے سے لگایا۔ اس سلسلے میں 28 اپریل 1999ء کو لاڑکانہ ڈویژن کے علاقے شہداد کوٹ میں 10 محرم الحرام کے دن تین نوجوانوں حیدر عباس سیلرو، ذوالفقار علی اور عمران علی لانگاہ دورانِ جلوس عزا فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہوئے۔ 2010ء میں یوم القدس کو کوئٹہ میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں جے ایس او صوبہ بلوچستان کے جنرل سیکرٹری برادر منور علی کولاچی درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ گلگت کے حالیہ خونی واقعات میں ہمارے ایک نوجوان نوید رضا نے گلگت میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اسی طرح جے ایس او کراچی ڈویژن کے سابق صدر برادر گلزار علی بھٹو کچھ دن پہلے 19 اپریل کو لاہور میں گولیوں کا نشانہ بنے۔

س: ملکی حالات میں تشیع کے ساتھ روا رکھی جانے والی بدسلوکی کا ذمہ دار کس کو سمجھتے ہیں۔؟

حسنین جاوید: اس بدسلوکی کے اصل ذمہ دار ہم خود ہیں، قومیں اپنے زورِ بازو پر زندہ رہتی ہیں۔ زندگی بھیک میں نہیں ملا کرتی۔ دوسروں کے سہارے یا دوسروں کے رحم و کرم پر جینا بھی کوئی جینا نہیں ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ایک قیادت کے زیرِ سایہ، ان کے حکم پر ووٹ کی طاقت کو اجتماعی طور پر استعمال کرنا ہو گا۔ ملی مفادات پر اپنا تن، من دھن قربان کرنا ہو گا۔ صرف باتوں سے نہیں، عملی میدان میں اس بات کو ثابت کرنا ہو گا۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

علماء کانفرنس ملی وحدت کا اظہار تھا، ڈویژنل اجتماعات کے بعد مرکزی اجتماع کی تیاریاں کرینگے، افضل حیدری

یکشنبه 3 اردیبهشت 1391 06:35 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،
علماء کانفرنس ملی وحدت کا اظہار تھا، ڈویژنل اجتماعات کے بعد مرکزی اجتماع کی تیاریاں کرینگے، افضل حیدری
 وفاق المدارس شیعہ کے جنرل سیکرٹری کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ڈویژنل کانفرنسیں 1980ء اور 6 جولائی 1987 جیسے اجتماعات کی تمہید ہوں گی۔
 
علامہ محمد افضل حیدری شیعہ وفاق المدارس پاکستان کے جنرل سیکرٹری، معروف مقرر اور مبلغ ہیں۔ وہ جامعتہ المنتظر لاہور کے وائس پرنسپل بھی ہیں۔ اپنی شعلہ بیانی اور تدریسی مجالس کی وجہ سے عوام میں مقبول ہیں۔ ملی حوالے سے شیعہ علماء کونسل کے سرگرم رہنما ہیں۔ حال ہی میں ہونے والی علماء کانفرنس کے انعقاد میں خاصے متحرک رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے اثرات کے حوالے سے  ان سے خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ 

 اسلام آباد میں شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام ہونے والی کانفرنس کیسی رہی۔؟
علامہ محمد افضل حیدری: کانفرنس دراصل پاکستان میں شیعیان حیدر کرار کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف بھرپور احتجاج تھا، جس کا برملا اظہار کیا گیا۔ اس حوالے سے قائد ملت نے علماء کو اکٹھا کیا اور حکومت کو متوجہ کیا ہے کہ ہم پر مظالم ہو رہے ہیں، ملک میں جاری قتل و غارت کو روکا جائے۔ یہ ابتدائی احتجاج تھا، جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔ ملک بھر سے علمائے کرام آئے اور اس میں اس حد تک کامیابی ہوئی ہے کہ اہل تشیع کی طرف سے ایک موثر آواز بلند کی گئی ہے۔ کم از کم 10،000 عمامہ پوش علماء کی کانفرنس اور احتجاجی ریلی میں شرکت کر کے ہم نے شریفانہ احتجاج کیا ہے۔ یہ آواز تھی جو دہشتگردوں کے ظلم اور حکومتی بے حسی کے خلاف بلند کی گئی تھی۔

علماء کانفرنس کا پیغام کیا تھا۔؟
علامہ محمد افضل حیدری: کانفرنس کا پیغام وحدت اور یکجہتی کا ہے۔ ملت جعفریہ کا کوئی ایسا طبقہ اور انجمن نہ تھی کہ جس کی نمائندگی نہ ہو۔ حتٰی کہ کچھ نئی بننے والی انجمنیں بھی شریک تھیں۔ نوجوان اور بزرگ ترین علماء سب کے سب اس کانفرنس میں شریک تھے۔ جنہوں نے ملکی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور سب نے قائد صاحب کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور جو انجمنیں بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بھی اس عنوان سے کہ سب کے سب متحد ہیں کہ شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کیا جائے اور اس سلسلے کو رکنا چاہئے۔ 

نئی انجمنوں سے آپ کی کیا مراد ہے۔؟ 
علامہ محمد افضل حیدری: انجمنوں سے مراد یہ جو نئی تنظیمیں بنی ہیں، جیسے کہ مجلس وحدت مسلمین اور دیگر تنظیمیں ہیں۔ علامہ امین شہیدی کانفرنس میں خود موجود تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں اتحاد و اتفاق پر زور دیا ہے۔ اس سے ملی وحدت و یکجہتی کا اظہار ہوا ہے۔ 

کیا لگتا ہے کہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔؟
علامہ محمد افضل حیدری: آئندہ کے لئے پالیسی یہ طے کی گئی ہے کہ اب اس سلسلے کو رکنا نہیں چاہیے۔ اسی طرح کی کانفرنسز اب ڈویژنل سطح پر منعقد ہوں گی۔ جن کا سلسلہ آنے والے دنوں میں جاری رہے گا۔ ان کانفرنسوں میں علماء کرام، ذاکرین، بانیان مجالس و جلوس ہائے عزا اور عزادار انجمنوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی اور یہ ڈویژنل کانفرنسیں منعقد کریں گے اور ان کو مرکزی قومی کنونشن کے لئے مقدمہ بنائیں گے ۔جیسے 1980ء میں ہاکی گراونڈ اسلام آباد بڑا اجتماع شیعہ مطالبات کے لئے مفتی جعفر حسین مرحوم کی قیادت میں کیا گیا۔ یا اس کے بعد مینار پاکستان کے سائے تلے لاہور میں شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی قیادت میں 6 جولائی 1987ء کو قرآن و سنت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تو یہ ڈویژنل کانفرنسیں اس بڑے پروگرام کی تمہید قرار دیں گے۔

تو کیا اس بڑے پروگرام کا فیصلہ کانفرنس میں ہوا ہے۔؟ 
علامہ محمد افضل حیدری: اس کا باقاعدہ اعلان قائد محترم کی طرف سے تو نہیں کیا گیا، مگر علما کے اجلاس میں اس کا فیصلہ ہو چکا ہے کہ حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم اس سے بڑا احتجاجی پروگرام منعقد کریں گے۔ اور حکومت پر دباو بڑھانے کے لئے کوئی بڑا اجتماع کیا جائے گا، جو پارلیمنٹ کے گھیراﺅ جیسے کسی احتجاج کا باعث بن سکتا ہے۔ 

کیا سنی اتحاد کونسل جیسا شیعہ تنظیموں کا کوئی فورم تشکیل دینے کی کوئی تجویز ہے؟ کہ یہ تنظیمیں اپنا وجود برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوں۔
علامہ محمد افضل حیدری: نہیں اس موضوع پر اجتماع کے اندر یا علماء کے مشاورتی اجلاس میں تو ایسی کوئی تجویز سامنے نہیں آئی۔ اس اجلاس کا ایجنڈا صرف علماء کانفرنس کی کامیابی اور اس کے مطالبات اور صورتحال پر مشاورت تھی۔ مشترکہ پلیٹ فارم کی تجویز فی الحال زیر غور نہیں آئی۔ آئندہ پروگرام قائد محترم نے اپنے پلیٹ فارم سے بتائے کہ کیا ہونا چاہیے۔ اتحاد کے حوالے سے قائد ملت جعفریه پاکستان علامہ ساجد علی نقوی نے اعلان کیا کہ ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ جو بھی تعاون کرنا چاہے ہم حاضر ہیں۔ لیکن کسی مشترکہ پلیٹ فارم کی بات نہیں کی گئی۔ پہلے بھی ایک پلیٹ فارم بنا چکے ہیں، لیکن نئے پلیٹ فارم پر کوئی مشورہ نہیں ہوا۔ 

یہ پہلے سے موجود کونسا فورم ہے۔؟
علامہ محمد افضل حیدری: ہم نے تقریباً 4سال پہلے علامہ قاضی نیاز حسین کی سربراہی میں شیعہ رابطہ کونسل بنائی تھی۔ جس میں تمام پارٹیوں کو اکٹھا کیا تھا۔ علما نے ذمہ داری لگائی تھی کہ اتحاد کے لئے کام کریں، لیکن کچھ مسائل آئے کہ اسے آگے نہ چلایا جا سکا۔ 

وہ وجوہات کیا تھیں۔؟
علامہ محمد افضل حیدری: معذرت چاہتا ہوں کہ ان مسائل کی تفصیلات میں نہیں جانا مفید نہیں ہو گا۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 3 اردیبهشت 1391 06:41 ب.ظ

امام خمینی رہ کی وصیت سمجھتے ہوئے اتحاد امت کیلئے جدوجہد جاری رکھوں گا

یکشنبه 23 بهمن 1390 03:29 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انٹرویوز ،

ہفتہ وحدت کے مبارک ایام کے دوران اسلام ٹائمز نے اتحاد بین المسلمین جیسےاہمیت کے حامل موضوع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی سے درج ذیل انٹرویو کیا جو بعینہ قارئین محترم کے پیش خدمت ہے

علامہ ساجد علی نقوی پاکستانی سیاست میں صلح پسند رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اتحاد و وحدت کے لئے اپنی ذات کی پرواہ کئے بغیر جدوجہد کی ہے۔ وہ جمہوریت پسند ہیں اور اپنی رائے کسی پر ٹھونسنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ ہر آنے والے کو خوش آمدید کہتے اور جانے والے سے واپسی کا تذکرہ تک نہیں کرتے۔ سماجی تعلقات کو توڑے بغیر اپنے موقف پر ڈٹے رہنے والے قائد ملت جعفریہ مدبرانہ گفتگو میں مختصر لفظوں کا چناو خوب جانتے ہیں۔ ان سے ہفتہ وحدت کے حوالے سے کیا گیا انٹرویو قارئین کے مطالعے کے لئے پیش خدمت ہے۔

اسلام ٹائمز: بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے 12 تا 17 ربیع الاول کو ہفتہ وحدت قرار دیا ہے، اس کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: وحدت تو حکم قرآن ہے، یہ وحی الٰہی کا حکم ہے۔ پیغمر اکرم (ص) کا فرمان اور اہل بیت علیہم السلام کے فرامین کا تقاضا بھی ہے۔ وحدت ایک فریضہ الٰہی ہے جس کو امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے انجام دیا۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہے۔ دوسرا یہ کہ امام کی دور بین نگاہوں اور بصیرت نے اس بات کو درک کر لیا تھا کہ انقلاب اسلامی کا جو مشن وہ لے کر چلے ہیں، اس کو اگر کوئی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے تو وہ انتشار، تفرقہ اور فرقہ واریت ہی ہے۔ انہیں علم تھا کہ انقلاب اسلامی کے خلاف کتنی سازشیں ہوئیں اور حتٰی کہ اسلامی ملکوں کے اندر بہت سی کوششیں ہوئیں، میں کس کس کا نام لوں۔ 

انقلاب کو کمزور کرنے کے لئے منظم کوششیں ہوئیں اور باقاعدہ طے ہوا کہ شیعہ سنی مسئلے کو اٹھا کر انقلاب اسلامی کو بدنام کیا جائے۔ تاکہ ایران سے باہر یہ ٹرانسفر نہ ہو۔ تو اس سازش کو بھانپتے ہوئے اتحاد و وحدت کو فروغ دینے کے لئے امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے اقدامات کئے۔ شاید ہی کوئی تقریر امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی ایسی ہو گی کہ جس میں اتحاد و وحدت کی طرف توجہ نہ دلائی گئی ہو۔ ہر وہ اقدام جو اتحاد و وحدت کے لئے ہو سکتا تھا امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے کیا اور یہ جو ہفتہ وحدت ہے یہ ایک بہت بڑی علامت ہے۔ امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی اتحاد و وحدت کی کوششوں کے لئے۔

اسلام ٹائمز: کیا ہفتہ وحدت کے واقعی مسلمانوں میں اتحاد پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: بڑے اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں، امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی اتحاد و وحدت کی کوششوں پر فرقہ پرست اور ان کے سرپرست طلملا اٹھے ہیں۔ امام رضوان اللہ علیہ کی رہنمائی اور رہبری کی وجہ سے دشمنوں کے تمام منصوبے ناکام ہوئے اور اس کے اثرات مسلمانوں کے اندر بہت زیادہ ہوئے، ورنہ شاید یہ ہفتہ وحدت اور دیگر اقدامات نہ ہوتے اور تفرقہ پھیلانے والے اور ان کے سرپرست دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے بطور قائد تحریک جعفریہ، تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہر القادری کے ساتھ اعلامیہ وحدت پر دستخط کئے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کے مثبت نتائج بر آمد ہوئے۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: ہم نے وحدت و اتحاد کا درس امام خمینی رضوان اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ میں پاکستان میں امام خمینی رضوان اللہ علیہ کا نمائندہ بھی تھا۔ ہم جب بھی ان سے ملتے، وہ ہمیں وحدت کا درس دیتے اور اس طرف توجہ دلاتے۔ حتٰی کہ امام کی وفات کے چند روز پہلے میں اور مرحوم آیت اللہ سید فضل اللہ رضوان اللہ علیہ امام سے ملے اور بیماری کی حالت میں بھی امام نے ہمیں وحدت و اتحاد کا درس دیا۔ اس لئے میں تو اسے امام رضوان اللہ علیہ کی وصیت سمجھتا ہوں۔ 

پھر چند دنوں بعد امام رضوان اللہ علیہ کی وفات ہوئی تو اس وقت کے صدر پاکستان کے ساتھ امام رضوان اللہ علیہ کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے گیا۔ امام خمینی رہ سے درس لیتے ہوئے ہم نے یہاں پاکستان میں اتحاد و وحدت کو آگے بڑھایا۔ اعلامیہ وحدت برصغیر میں اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ تھا کہ جس پر دو مسالک کے سربراہوں نے دستخط کئے۔ پھر یہ اعلامیہ وحدت، بعد میں آنے والے اتحاد بین المسلمین کے لئے تشکیل پانے والے فورموں اور ضابطوں کے لئے بنیاد بنا۔ اس کے بڑے اچھے اثرات مرتب ہوئے، فرقہ وارانہ فضا بہت بہتر ہوئی۔ کچھ لوگوں کے اندر موجود کشیدگی میں کمی واقع ہوئی۔

اسلام ٹائمز: لیکن کیا زمینی حقائق مختلف نہیں کہ اب بھی سنی شیعہ اختلافات میں بریلوی سنی بھی دیوبندی اور اہل حدیث سے پیچھے نظر نہیں آتے۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: میں سمجھتا ہوں کہ یہ نیا phenominon ہے۔ سب دیوبندیوں کو تو میں الزام نہیں دیتا کیونکہ ہمارے ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، البتہ دیوبندیوں کا ایک فرقہ پرست اور دہشتگرد گروہ کہ جسے استعمار نے اس کام کے لئے تیار کیا تھا چونکہ وہ بدنام ہو چکا ہے۔ اب استعمار نے بریلویوں میں سے کچھ لوگوں کو اس طرف آگے بڑھایا ہے، تاکہ فرقہ واریت کو نیا رخ دیا جا سکے۔ اس لئے یہ ایک بڑی سازش ہے۔

اسلام ٹائمز: فرقہ وارانہ اختلافات کی اصل جڑ کیا ہے؟ اور اسے کیسے اکھاڑ پھینکا جا سکتا ہے۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: میں سمجھتا ہوں کہ فقہی یا جزوی نوعیت کے اختلافات کو ابھارا اور اچھالا جائے اور دین کے جو مشترکات ہیں انکی بجائے اختلافات کو ترجیح دی جائے اور انہیں اس طرح سے اچھالا جائے کہ جس سے نفرتیں بڑھیں اور دوسرے کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ جس سے امن و امان کی صورتحال کو خراب کیا جائے۔ تو یہ رویہ فرقہ واریت ہے۔ جو معاشرے کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ورنہ علمی انداز میں ہر فرقہ اپنا اپنا موقف بیان کرے تو کوئی مشکل نہیں ہے۔ یہ فقہی اور اجتہادی اختلافات ہیں اور ان کا علمی انداز میں بیان ہو تو حرج نہیں ہے۔ دینی مشترکات پر لوگوں کو اکٹھا کر کے فرقہ واریت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ جو اختلافی باتیں ہیں ان میں حدت و شدت کو کم کرنے کی کوشش کی جائے اور تہذیب کے دائرے میں علمی اختلاف کیا جائے۔ تو اس سے فرقہ واریت کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔

اسلام ٹائمز: ایک طبقے کا خیال ہے کہ پاکستان کے فرقہ وارانہ حالات کا ایران اور سعودی عرب کے آپس میں تعلقات کے اتار چڑھاو سے گہرا تعلق ہے اور دونوں ممالک پاکستان میں اس مقصد کے لئے سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں، آپ کیا کہتے ہیں۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: میں سمجھتا ہوں کہ جن ملکوں نے ایران کے اسلامی انقلاب کے خلاف سازشیں کی ہیں، ان ملکوں کا ایران کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ رہا ہے۔ انہوں نے یہاں پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ حالات کو خراب کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ میں ذاتی طور پر اس بارے میں جانتا ہوں لیکن میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا۔ کئی ممالک ہیں کہ جنہوں نے ایران کے خلاف کام کیا اور اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی، تاکہ امریکی کے عزائم کو کامیاب بنایا جا سکے اور اسی تسلسل میں انہوں نے پاکستان میں فرقہ پرستوں کی سرپرستی بھی کی۔

اسلام ٹائمز: شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی 5 اگست 1988ء کو شہادت کے بعد سے قیادت کی ذمہ داریاں آپ پر ہیں، آپ نے وحدت ملت اسلامیہ کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: ہم نے وحدت امت کے لئے بڑے اقدامات کئے ہیں، گذشتہ سوال میں آپ نے خود اعلامیہ وحدت کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے شریعت بل کے حوالے سے دینی جماعتوں کا فورم بنایا۔ برصغیر کے مخصوص حالات کی وجہ سے پاکستان کے شیعہ شریعت بل کے نام سے خائف و ترساں تھے اور خدشہ تھا کہ یہاں شریعت کے نام پر کوئی خاص قسم کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ یقیناً وہ حساس اور اہم دور تھا۔ پاکستان میں شریعت بل کی تحریک کو تبلیغات، پروپیگنڈے اور نشر و اشاعت کے حوالے سے لوگ اسے تحریک پاکستان کی سطح تک لے گئے تھے تو شریعت بل پر دینی جماعتوں کے فورم کا ہم ہراول دستہ رہے اور شریعت بل کے مسئلے کو ہم نے ہاتھ میں لیا اور اسے اچھے انداز میں سلجھایا اور نبھایا۔ 

اس کے بعد ملی یکجہتی کونسل بنانے میں بھی ہم نے کلیدی کردار ادا کیا، ہم اس کے بانیوں میں سے ہیں۔ ہم متحدہ مجلس عمل کے بانیوں میں سے ہیں۔ اس میں اعلامیہ اسلام آباد آیا۔ مشترکات پر ہم اکٹھے ہوئے اور قانون سازی کا ایک فارمولا دیا۔ اس سے فضاوں میں بہتری آئی۔ لوگ نزدیک ہوئے اور ایک دوسرے سے تعاون کیا اور اب بھی کر رہے ہیں۔ فساد پھیلانے والے تو شرپسند عناصر ہیں، جن کا کام ہی یہی ہے۔ یہ کسی کے آلہ کار ہیں جو حالات خراب کرنے کے لئے تیار کئے گئے ہیں اور وہ اس میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں، لیکن عوام میں اب تک وہ نہیں پہنچ سکے اور نہ پہنچ سکیں گے۔

اسلام ٹائمز: قوم کو سیاست نے کمزور کیا یا مذہب نے۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: یہ ایسا سوال ہے کہ جس پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، مذہب کو صحیح انداز میں پیش نہ کیا جائے تو یہ قوم کو کمزور کر سکتا ہے۔ مذہب کی صحیح تشریح و تعبیر نہ کی جائے، مذہب کی صحیح شکل پیش نہ کی جائے۔ مذہب کو مسخ کیا جائے اور لوگوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھا دیا جائے، مذہب کے نام پر اختلافات کو ترجیح دی جائے تو مذہب بھی قوم کو کمزور کرتا ہے۔ 
جبکہ مذہب کی حقیقی شکل، مفہوم اور اس کی روح انسان کو کمال کی طرف لے جاتی ہے۔
البتہ ہمارے ملک میں جو مروجہ سیاست ہے اس سے قوم میں کمزوری آتی ہے۔ صاف ستھری سیاست آلائشوں سے پاک ہو تو وہ بھی معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام اتحاد بین المسلمین کی کوششوں کا حصہ رہے ہیں۔ حتٰی کہ ضابطہ اخلاق بھی تشکیل دیا گیا۔ مگر اب اس کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ یہ شیعہ عقائد کے خلاف ہے، کیا آپ خود کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: ہم سے بڑھ کر شیعہ عقائد کو جاننے والا کون ہے، جو کہتا ہے کہ ملی یکجہتی کونسل کا ضابطہ اخلاق شیعہ عقائد کے خلاف ہے، انہیں ادراک ہی نہیں، انہیں کیا اعتراض ہے۔؟

اسلام ٹائمز: اعتراض یہ ہے کہ خلافت راشدہ کی بات ضابطہ اخلاق میں موجود ہے جس پر آپ نے دستخط کئے۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: ضابطہ وہاں بنتا ہے جہاں اختلاف ہو اور تحفظات ہوں، جن لوگوں کے ساتھ ہم نے ضابطہ اخلاق پر دستخط کئے تو وہ اگر خلافت راشدہ کو مانتے ہیں تو کیا ہم ان کی توہین کریں، یہ کیا بات ہوئی۔؟

اسلام ٹائمز: تو کیا یہ اعتراض بلا جواز ہے۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: یہ اعتراض بے کار ہے، اعتراض کرنے والوں کو پتہ ہی نہیں اور نہ ہی ان کو اس بات کی سمجھ ہے کہ ضابطہ اخلاق کیا ہوتا ہے۔

اسلام ٹائمز: رویت ہلال کمیٹی کتنے عرصے سے پاکستان میں ایک عید پر بھی قوم کو متفق نہیں کرا سکی، اس کا تدارک کیسے ممکن ہے۔؟
علامہ ساجد علی نقوی: دیکھیں جی کہ رویت ہلال میں تمام مسالک کی نمائندگی موجود ہے، ماہر اور معتبر لوگ موجود ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ معتبر شہادتوں پر رویت کا اعلان کرتے ہیں، تو اگر کسی کو اختلاف ہے تو ان سے بیٹھ کر بات چیت کر سکتا ہے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -



کی تعداد صفحات: 2 1 2