تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب علامہ محمد حسن ترابی
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

علامہ محمد حسن ترابی

سه شنبه 23 تیر 1394 11:07 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: علامہ محمد حسن ترابی ،
1004463_346347215497379_2028818960_n
کسی شہر میں جب کوئی بڑا آدمی اس دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو شہر کے اکثر پڑھے لکھے احباب کہتے ہیں کہ مرحوم اپنی ذات میں خود ایک انجمن تھا ، مگر ایک شخصیت اس پاکستان میں ایسی بھی گزری ہے کہ جو بظاہر تو ایک خاص الخاص کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی ، مگر ملک کے کونے کونے میں اس کی گونج تھی ، وہ تھا ہی ایسا متحرک و بےباک کہ رہتا تو و ملک کے ایک کونے میں تھا مگر اس نے کمندیں ملک کے آخری کونہ تک ڈالی ہوئی تھیں، اپنی ذات میں انجمن ہونا جیسے الفاظ و جملے تو حسن ترابی شہید کے ہاتھ کی صرف انگشت شہادت تک ہی رہ جاتے ہیں اس سے آگے ان کے ان کی قوت پرواز ختم ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اپنی ذات میں پوری ایک کمیونٹی کو سموے ہوے تھا ، جی ہاں وہ جہاں جاتا ، پوری قوم اس کے ساتھ چلتی وہ جہاں ہوتا ، پوری قوم اس کے ساتھ موجود ہوتی وہ جہاں بیٹھتا ، پوری قوم وہاں ٹانگیں پسار کر بیھٹ جاتی وہ جہاں بولتا ، پوری قوم کی آواز ہوتا وہ سندھ میں ہر شہید کے لاشہ پر اس کے عزیزوں سے پہلے موجود ہوتا تھا وہ اتنا متحرک تھا کہ کوئی بھی قومی ذمداری اس سے ہٹ کر گزر ہی نہیں پاتی تھی ، وہ شہر کراچی کا جنرل سیکریٹری تھا ، جب پورے صوبہ کا سیکریٹری تھا تب پورے صوبہ سندھ کا صدر تھا تب ، متحدہ مجلس عمل کا عہدہدار تھا جب وہ ہر عہدہ و ذمداری کو چار چاند لگا دیتا تھا ، ذمداریاں اس کے تعاقب میں رہتی تھیں ،وہ ان سے آگے آگے چلتا تھا ، وہ امام علی کا سچا پیروکار و اسلام محمدی کا حقیقی فرزند تھا.

آج کوئی لکھاری و مؤرخ اس کے متحرک ہونے کی منظر کشی نہیں کرسکتا آج کوئی عام ذھن یا قلم اس کی فعالیت کا اندازہ نہیں کرسکتا ہے آج واقعا حسن ترابی شہید پر لکھنے والا ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے سکتا ہے آج ملت کے قاید و نمائندہ ولی امر المسلمین کے علاوہ بلا مبالغہ پورے ملک میں حسن ترابی جیسا متحرک و جانباز ملت کا محافظ ڈھونڈے سے نہیں ملے گا آج شہادتوں کا سفر اتنا تیز تر ہوچکا ہے کہ حسن ترابی جیسے شہید سالار کی یاد راہ حق کے ہر مسافر کو بے چین کیے دے رہی ہے کراچی کی ایک بستی ( نیو کراچی ) کی مسجد سکینہ سے1982 میں اٹھنے والی ملی سیاست و مصائب کی لہر آج پاکستان میں شعیہ شہادتوں کے ساتوں سمندروں کا سب سے قدیم پانی بن چکی ہے مسجد سکینہ کا واقیہ ، پھر بنر روڈ کا تین روزہ دھرنا ، مرکزی امام بارگاہ لیاقت آباد کا سانحہ و ، لیاقت آباد میں شعیوں کے گھروں کا جلایا جانا اور وہاں سے شعیہ آبادی کی ہجرت اور پھر کراچی ہی میں ایک جلوس عاشورہ کا امام بارگاہ علی رضا پر دن بھر رکا رہنا ، یہ سب واقیات حسن ترابی جیسے لیڈر کی متحرک زندگی کا نقطہء آغاز تھے ، مگر آج شہید حسن ترابی کی 10 برسی کے موقع پر راقم الحروف یہ سوچ رہا ہے کہ وہ حسن ترابی شہید کی کس کس فعالیت کا ذکر کرے

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 23 تیر 1394 11:09 ق.ظ