تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب استحکام پاکستان میں شیعوں کی قربانیاں
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

استحکام پاکستان میں شیعوں کی قربانیاں

سه شنبه 23 تیر 1394 11:36 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: استحکام پاکستان میں شیعوں کی قربانیاں ،
بلاشبہ 23 مارچ 1940کومینارپاکستان پرمنعقدہونے والاعظیم الشان جلسہ قیام پاکستان کی تحریک میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔اوریوں برصغیرکے مسلمانوں کوعلیحدہ مملکت کے حصول کی جدوجہدکرنے کاموثرپلیٹ فارم فراہم ہوا اورتحریک پاکستان کی لہرمیں ایک نئی تازگی پیداہوئی،بالآخرمسلم لیگ کے اکابرین اورعوام الناس کی مسلسل کوششوں اورقربانیوں کی بدولت اگست ۱۹۴۷کووطن عزیز پاکستان کاقیام عمل میں آگیا۔یہ دنیاکے نقشہ پرقائم ہونے والی پہلی اسلامی ریاست تھی جوکہ خالصتاًاسلام کے نام اورنظرے پرمعرض وجودمیں آئی۔لیکن افسوس سے کہناپڑتاہے کہ تشیع کے حوالے سے جن نامورشخصیات نے اس مملکت کے قیام میں گراں قدرخدمات سر انجام دی تھیں آج ان کی نسلوں کے لیے پاکستان کی سرزمین تنگ کردی گئی ہے۔ وطن عزیزپاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی بنیادپرشیعان حیدرکرارسے زندہ رہنے کاحق چھین لیاگیا ہے۔ جن شیعہ شخصیات نے تمام ترمذہبی تعصبات سے بالاترہوکر قیام پاکستان کی جدوجہدمیں موثراورجاندار کرداراداکیاتھاآج انہی کے بچوں کو شیعہ ہونے کے جرم میں زبردستی موت کی وادی میں دھکیلاجارہاہے۔ تاریخی حقائق سےثابت ہے کہ قیام پاکستان کی تحریک میں سب سے زیادہ اہم کرداراہل تشیع کاتھااوراکابرین اہل تشیع سے لے کرایک عام سے کارکن تک کسی نے بھی قیام پاکستان کی مخالفت نہیں کی۔ تاریخ کے ان سنہرے اوراق سے چند اقتباسات پیش کیے جاتےہیں۔

جسٹس سید امیرعلی
۱۸۸۴میں جسٹس سیدامیر علی کی کوششوں سے کراچی میں بھی ایک مدرسہ قائم کیا گیا جوعلی گڑھ کی طرزپرتھا اوراس کا نام ’’سندھ مدرسۃ الاسلام‘‘ رکھا گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح بھی اسی مدرسہ کے طالب علم رہے ہیں۔اسی طرح کاایک مدرسہ بنگال میں ہگلی کے مقام پر قائم ہوا۔ جس کا ایک حصہ امام باڑہ کے لئے مختص تھا۔


سرسیداحمد خان
مسلمانوں کی انتہائی کسمپرسی، ابتری اور زوال و انتشارکی حالت سے متاثر ہوکر سرسید احمد خان نے 1890 میں ’’کمیٹی خواستگارانِ ترقی تعلیم مسلمانانِ‘‘ قائم کی۔ اس کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے ایک کالج کھولا جائے۔ یہی وہ فیصلہ تھا کہ جس نے مسلمانانِ ہند کے سوچنے کے انداز بدل ڈالے۔ چنانچہ ’’محمڈن کالج فنڈ کمیٹی‘‘ قائم کی گئی۔ اس فنڈ میں سرمایہ کی فراہمی اورپھر یونیورسٹی کے قیام عمل میں جن شیعیانِ علیٴ نے نمایاں خدمات انجام دیں، ان میں سالارِ جنگ حیدرآباد خلیفہ محمد حسن، وزیرِ اعظم پیٹالہ نواب صاحب رام پور،سرفتح علی قزلباش، مہاراجہ سر محمد علی خان محمود آباد، مولوی سید حسین علی بلگرامی، بہادر حسین بخش، میر تراب علی آگرہ اورجسٹس سید امیرعلی شامل تھے۔



ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 23 تیر 1394 11:40 ق.ظ