تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب ملی پلیٹ فارم کا سیاسی عمل
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

ملی پلیٹ فارم کا سیاسی عمل

سه شنبه 23 تیر 1394 11:38 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ملی پلیٹ فارم کا سیاسی عمل ،
لامہ مفتی جعفر حسین کے دور میں سیاسی عمل کا آغاز۔

مکتب تشیع کے قومی و ملی پلیٹ فارم تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی تشکیل و تاسیس کو اگر مذہبی کے ساتھ سیاسی بھی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ جن معاملات کی وجہ سے ملی پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی گئی ان میں اکثریت کا تعلق سیاسی اور حکومتی اقدامات یا فیصلہ جات کے ساتھ بالواسطہ یا بلا واسطہ ضرور ہے۔ البتہ اگر تحریک کے باقاعدہ سیاسی سفر کا جائزہ لیا جائے تو یہ ۱۹۸۳ء میں اُس وقت شروع ہوا جب قائد مرحوم مرد مجاہد علامہ مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ نے ایک اپنے وقت میں موجود تنظیمی و قومی اداروں اور معاونین کی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ اُس دورِ آمریت کے خلاف چلنے والی ’’تحریک بحالی جمہوریت ‘‘ایم آر ڈی کی حمایت کی جائے گی۔ اس فیصلہ کا اعلان جناب مفتی صاحب نے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس میں فرمایا ۔ یہ فقط پریس کانفرنس نہ تھی بلکہ قومی و سیاسی معاملات میں پہلا پالیسی بیان تھا۔مفتی صاحب کے دور میں اسی سیاسی پالیسی کے تحت سیاسی میدان میں تشیع کا وجود ظاہر رہا اور ایم آر ڈی کے توسط سے پاکستان کی سیاسی و دینی جماعتوں میں تحریک کی شناخت ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے بھی ہوئی۔

علامہ سید عارف حسین الحسینی کے دور میں سیاسی پیش رفت۔

اسی تسلسل میں قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی نے اپنے دورکے حالات و واقعات اور تشیع کو سیاسی میدان میں مزید متعارف اور مستحکم کرنے کے لیے ۱۹۸۶ء میں قرآن و سنت کانفرنس لاہور میں انتخابی سیاست میں آنے کا اعلان کیا اور تمام سیاسی معاملات کو منظم کرنے ‘سیاسی جماعتوں سے مسلسل رابطے کرنے ‘ قوم اور جماعت کو اپنی سیاسی حیثیت و ذمہ داری سے آگاہ کرنے اورسیاسی کام کو باقاعدہ آگے بڑھانے کے لیے مرکزی سیاسی سیل تشکیل دیا گیا جس کی سربراہی شہید قائد کی سیاسی بالغ نظری نے موجودہ قائد اور شہید کے مرکزی سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی کے سپرد کی جنہوں نے ۱۹۸۶ء سے لے کر شہید کی شہادت تک اپنی ذمہ داری کو بخوبی انجام دیا اور ۱۹۸۸ء میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو ملک کی ایسی جماعت بنادیا گیا جس سے اتحاد کرنے کے لیے اس وقت کی بڑی سیاسی و دینی قوتیں آمادہ ہوئیں۔اس عرصہ میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے ایم آر ڈی کے اجلاسوں کے علاوہ ملک میں ہونے والے تمام بڑے سیاسی اجتماعات اور کانفرنسوں میں تشیع اور قومی پلیٹ فارم کی نمائندگی کی۔جس سے مستقبل میں تحریک کے سیاسی وزن اور حیثیت میں بے حد اضافہ ہوا اور تحریک کا مقام ملک کی سیاسی قوتوں کے درمیان نمایاں انداز سے سامنے آیا۔

علامہ سید ساجد علی نقوی کے دور میں سیاسی کامیابیاں۔

۱۹۸۸ء کے انتخابات۔
شہید قائد کی شہادت کے بعد شہید کی دی ہوئی لائن اور قومی و تنظیمی اداروں کی پالیسی و فیصلہ جات کے مطابق موجودہ قائد ملت جعفریہ اور ملکی و عالمی سیاسی منظر نامے پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت علامہ سید ساجد علی نقوی نے سیاسی سفر جاری رکھا۔ جب ملک میں جمہوریت کی بحالی اور جماعتی انتخابات کا اعلان کیا گیا تحریک کی سیاسی فعالیت کو دیکھ کر پاکستان مسلم لیگ (سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے سربراہی میں) ‘ جمعیت علمائے پاکستان (علامہ شاہ احمد نورانی کی سربراہی میں) نے تحریک سے سیاسی و انتخابی اتحادکیا اور تحریک نے انتخابات میں عملی طورپر حصہ لینے کا اعلان کیا۔ بد قسمتی سے بالکل آخری مراحل میں یہ اتحاد مشکلات کا شکار ہوگیا بعض جماعتوں کی سیاسی پوزیشن کمزور پڑ گئی اور اتحاد مزید آگے نہ بڑھ سکا۔ ایسے مرحلے پر جب اتحاد ختم ہوا تو وقت کی کمی کے باعث مجبوراً اپنے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینا پڑا۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 23 تیر 1394 11:39 ق.ظ