تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب تحفظ حقوق تشیع میں قومی قیادت کا کردار
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

تحفظ حقوق تشیع میں قومی قیادت کا کردار (دوسرا حصه)

چهارشنبه 24 تیر 1394 09:01 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: تحفظ حقوق تشیع میں قومی قیادت کا کردار ،
حکومتی اداروں کی غیر مہذبانہ شرائط

عرصہ دراز سے جہاں سپاہ یزید سے مذاکرات کیلئے دباؤ ڈالے جارہے تھے وہاں اسی کے ساتھ دیگر مطالبات کو بھی منوانے کی کوشش کی جارہی تھی ظاہراً یہ مطالبات سپاہ یزید کررہی تھی مگر اندرونی طور پر یہ مطالبات بعض ادارے اپنے دام میں لئے ہوئے تھے۔

مطالبات :

١۔ اذان میں علی ولی اللہ سے آگے خلیفة بلافصل نہ پڑھا جائے جس سے دوسرے مکاتب فکر کی دل آزاری ہوتی ہے۔

٢۔عزاداری سید الشہداء کو محدود کیا جائے جس سے ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

٣۔ شیعوں کے قتل میں ملوث سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کو عام معافی دی جائے۔

٤۔مُلا کے مرتب کردہ شریعت بل کی حمایت کی جائے۔

٥۔ سپا ہ صحابہ سے مذاکرات

ان تمام مطالبات کو قائد ملت پہلے ہی رد کرچکے تھے اس پرکسی قسم کے سمجھوتے کیلئے تیار نہ تھے اسلئے حکومت نے اپنے ان مفادات کی آڑ میں ایک مبہم قتل کیس میں قائد ملت کو رات و رات گرفتار کرلیا اور اسلامی تحریک پاکستان پر پابندی عائد کردی۔

حکومتی اداروں نے گرفتاری کے بعد اس قتل کیس پر بات کرنے کے بجائے اپنے انہی مطالبات کو دہرانہ شروع کیا اور قائد ملت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے تاکہ وہ کسی نہ کسی ڈیل پر آمادہ ہوجائیں۔

مگر قائد ملت نے ان پر واضح کردیا کہ : میں مسند شہادت پر قدم رکھ سکتا ہوں ، اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرسکتا ہوں مگر مکتب آل محمد علیہماالسلام کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندی کو برداشت نہیں کرسکتا۔

قائد محترم نے اس موقف کے بعد ایک خط علامہ شیخ محسن علی نجفی صاحب قبلہ کے نام عربی میں تحریرکیا جس میں تمام حقائق ، حالات اور مطالبات کو درج کردیااور واضح کردیا کہ کس جرم کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے ، علامہ محسن نجفی اس خط کو پڑھ کر رونے لگے اور افسوس کا اظہار کرنے لگے کہ میں اپنی مذہبی و مدارس کی مصروفیات میں مشغول تھا ہمیں معلوم ہی نہ تھا آقائی ساجد نقوی یک و تنہاء خاموش جہاد کررہے تھے ۔

جب یہ تمام حقائق قائد ملت کے خط کے توسط سے عوام میں پہنچے تو حکومتی اداروں پر لرزہ طاری ہوگیا اور ان کے چہروں پر سے نقابیں اترگئیں ، اب جب یہ ادارے اندروں طور پر ناکام ہوگئے تو انہوں نے باہر کام کرنے والے علماء سے رابط کیا اور انہیں سے یہ مطالبات دہرانا شروع کیا اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کی کہ اگر یہ مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو قائد ملت کی گرفتاری طویل بھی ہوسکتی ہے ۔

علمائے امامیہ اداروں کی پالیسی سے آگاہ تھے اسلئے انہوں نے دام میں پھنسے کی بجائے اسی روش کو اختیار کیا جس کی طرف قائد ملت نے اپنے خط میں تذکرہ کیا تھاکہ میری گرفتاری سے زیادہ ملت جعفریہ کے عقائد، نظریات اور عزاداری کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی قانون سازی کو قبول نہ کریں بلکہ اس کی شدید مزاحمت کریں ،بالاخر ادارے گرفتاری کے ذریعے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے اسے حاصل نہ کرسکے پابند سلاسل ہونے کے باوجود قائد ملت نے ان کے ہر مطالبے کو رد کیا اور علماء و قوم نے قائد کی پیر وی میں کسی دباؤ کو خاطر میں لانے کی بجائے مسترد کردیا۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : چهارشنبه 24 تیر 1394 09:08 ق.ظ

تحفظ حقوق تشیع میں قومی قیادت کا کردار (پهلا حصه)

چهارشنبه 24 تیر 1394 09:01 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: تحفظ حقوق تشیع میں قومی قیادت کا کردار ،
عزاداری سید الشہداء

آئمہ معصومین علیہم السلام نے اسلام کی بقاء ، نشرواشاعت اور احیاء کیلئے عزاداری سید الشہداء علیہم السلام کی بنیاد رکھی تاکہ اسلام دشمن قوتوں کی اسلام کے خلاف یلغار کو روکا جاسکے اور ایک ایسا مستقل، منفرد اور محکم نظام قائم کردیا جائے جو ازل تا ابد اسلامی عقائد، نظریات اور معارف کا تحفظ کرسکے اسی لئے عزاداری سید الشہداء ملت تشیع کیلئے جہاں ایک عبادی پہلو کی حیثیت رکھتا ہے وہاں اس کے اجتماعی اور سیاسی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اسی لئے ہر معصوم نے اپنے دور میں عزاداری سید الشہداء کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا ۔اسکے علاوہ آئمہ معصومین علیہم السلام نے نہ صرف اس کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا بلکہ اس سلسلے میں ایسے آثار چھوڑے جس سے عزاداری سید الشہداء کو بہت زیادہ تقویت حاصل ہوتی ہے۔

اسی لئے عزاداری سید الشہداء ایک ایسا سرمایہ ہے جو مظلوم کو طاقتور اور ظالم کو سرنگوں کرتا ہے مظلوم کو باعزت اور ظالم کے چہروں سے نقابیں اتارتا ہے یعنی کہ مظلوم کیلئے کامیابی کی نوید اور ظالم کیلئے ہلاکت ، نابودی اور شکست کا سبب۔

اسی لئے رہبر کبیرانقلاب حضرت امام خمینی قدس سرہ نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کا راز، عزاداری سید الشہداء کو قرار دیا بلکہ واضح کیا کہ اگرعزاداری سید الشہداء کا عنصر شامل حال نہ ہوتا تو انقلاب اسلامی کا برپا ہونا محال تھا اسی لئے اسلامی انقلاب کی بنیادوں میں عزاداری سیدالشہداء کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور جب عزاداری سید الشہداء برپا ہوتی رہے گی انقلاب اسلامی کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکے گا۔

اسی لئے دنیاکے مختلف خطوں کی طرح مملکت خداداد پاکستان میں بھی استعماری قوتوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے عزاداری سید الشہداء کے اثرات کو کم کرنے اور آئمہ اطہار علیہم السلام کے نظریات ، افکار او ر معارف سے عوام کو روشناس ہونے سے روکنے کیلئے عزاداری پر مختلف عنوانات ، حوالوں اور مناسبتوں سے پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جاتی رہی تھی امن و امان ، کبھی فرقہ واریت کے ظاہری روک تھام اور کبھی دہشت گردی کا بہانہ بناکر اس پر قدغن لگانے کی کوشش کی جاتی رہی۔

جب کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عزاداری سید الشہداء کے انعقاد سے نہ امن و امان میں خلل ہوتا ہے نہ فرقہ واریت جنم لیتی ہے اور نہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے بلکہ مراسم عزاداری میں دیگر مکاتب فکر و مسالک کے افراد بھی شرکت کرتے ہیں ۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : چهارشنبه 24 تیر 1394 09:09 ق.ظ