تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب مدبرانہ قیادت کے 27 سال۔۔۔ مثبت انداز فکر کی جدوجہد۔۔۔چیلنجز اور ثمرات
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

مدبرانہ قیادت کے 27 سال۔۔۔ مثبت انداز فکر کی جدوجہد۔۔۔چیلنجز اور ثمرات (ایک دیرینہ و حساس کارکن کے قلم سے)

سه شنبه 14 مهر 1394 04:14 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: مدبرانہ قیادت کے 27 سال۔۔۔ مثبت انداز فکر کی جدوجہد۔۔۔چیلنجز اور ثمرات ،
429529_396880190392342_1307662634_n
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واحب بھی نہیں تھے

4 ستمبر 1988 ء میں بزرگ علمائے کرام اکابرین اور ‘ عمائدین قوم کی مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد قومی و ملی پلیٹ فارم کے دستور و آئین کی روشنی میں جب میرکارواں کی ذمہ داری علامہ سید ساجد علی نقوی نے سنبھالی تو وہ ایسا وقت تھا جب علامہ سید محمد دہلوی مرحوم کے لگائے ہوئے پودے اور علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی پیرانہ سالی کی جدوجہد سے وجود میں آنے والے پلیٹ فارم نے علامہ عارف حسین الحسینی جیسی قیادت کی شہادت کا تازہ تازہ زخم سہا تھا۔ ایک طرف قوم سکتے کے علم میں تھی اور دوسری جانب ملک کی صورت حال بھی اس وقت کی گیارہ سالہ دور آمریت کی پالیسیوں کے سبب اپنے جائز آئینی‘ قانونی اور مذہبی حقوق کی جدوجہد اور شہری آزادیوں کی فکر میں مبتلا تھی۔

ایسے حالات میں قوم و ملت کی نومنتخب قیادت کو بے شمار چیلنجز درپیش تھے۔جن میں (الف) قائد شہید کی المناک شہادت کے بعد قوم و ملت کا مورال بلند کرنا اور انہیں آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرنا (ب) قوم کی وحدت اور اتحاد کے شیرازہ کو بکھرنے سے بچانا اور بزرگ علماء اور اکابرین ملت سمیت عوام کے مابین مربوط اور ثر روابط کو فروغ دینا (ج) اتحاد بین المسلمین جیسے عظیم فریضے کی ادائیگی کو ہر حال میں ممکن بنانا (د) قوم و ملت کے اندر سیاسی شعو ر بیدار کرکے شہید قائد کے ملکی سیاست بارے ویژن پر عمل درآمد کو یقینی بنانا(ہ) قوم و ملت کے آئینی‘ قانونی‘ مذہبی حقوق اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدام کرنا چنانچہ قیادت کی اہم ترین ذمہ داری سنبھالتے ہی موجودہ قیادت نے ان خطوط پر کام کا آغاز کیا اور سب سے اولین مسئلہ ڈیرہ اسماعیل خان میں عاشورا کے رکے ہوئے جلوس عزا کی برآمدگی کا درپیش ہوا جس پر قومی قیادت نے واضح اور دوٹو ک الفاظ میں اعلان کیا کہ عزاداری سید الشہداء ؑ نہ صرف ہمارا آئینی و قانونی حق ہے بلکہ یہ ہماری شہری آزادیوں کا مسئلہ ہے جس پر کوئی قدغن برداشت نہیں کی جائے گی۔

دور حاضر میں یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ ماضی میں قوم و ملت کی رہبری و رہنمائی کرنے والی شخصیات کو ان چیلنجز کا سامنا نہ تھا اور نہ ہی ان کے راستے میں اس قسم کے مصائب و مشکلات حائل رہے جن کا سامنا موجودہ قیادت کو کرنا پڑا۔ ان پر سب سے اولین اور سرفہرست دہشت گردی کا ہے جس کا نشانہ وطن عزیز پاکستان کے عوام بالعموم اور ملت جعفریہ پاکستان بالخصوص سب سے پہلے بنے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ تسلسل کے ساتھ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 14 مهر 1394 04:29 ب.ظ