تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب انقلاب اسلامی ایران۔۔۔۔۔۱۹۷۹ء سے ۲۰۱۶ء تک (۱۱فروری انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے) سید اظہار مہدی بخاری
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

انقلاب اسلامی ایران۔۔۔۔۔۱۹۷۹ء سے ۲۰۱۶ء تک (۱۱فروری انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے) سید اظہار مہدی بخاری

شنبه 24 بهمن 1394 10:09 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: انقلاب اسلامی ایران۔۔۔۔۔۱۹۷۹ء سے ۲۰۱۶ء تک (۱۱فروری انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے) سید اظہار مہدی بخاری ،
dcc9f306-2a90-4977-817c-065b38440a22


ایران کے اسلامی انقلاب کو اگر ایک ملک میں تبدیل ہونے والے نظام کی حد تک دیکھا جائے تو شاید اس میں معمولی خاصیتیں نظر آئیں یا صرف خطے اور ملک کے حوالے سے تبدیلیاں نظر آئیں لیکن انقلاب اسلامی ایران کو اس کی فکر، اس کی قیادت، اس کے نظریے، اس کے انداز اور اس کے استقلال و استحکام کے حوالے سے دیکھا جائے تو ہمیں یہ انقلاب ایک خطے اور ملک کا انقلاب نہیں بلکہ پوری دنیا پر محیط انقلاب نظر آتا ہے جس کا تعلق کسی ایک ملک کے باشندوں سے نہیں بلکہ دنیا میں رہنے والے تمام انسانوں کے قلوب کی تبدیلی سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی ایران سے دنیا بھر کے انسان متاثر ہوئے اور اس انقلاب کے عالم اسلام میں بالخصوص اور دیگر اقوام و مذاہب میں بالعموم مثبت اور حریت پر مبنی اثرات مرتب ہوئے اور ہمارے موجودہ ادوار میں موجود انقلابیوں، حریت پسندوں اور خودداروں کو اس انقلاب سے بہت رہنمائی اور حوصلہ ملا۔

انقلاب اسلامی ایران کے قیام کے آغازکے دنوں میں بعض قوتوں نے کہا کہ یہ جذباتی انقلاب ہے جو چاردنوں کے بعد ختم ہوجائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ ایک فرقے اور مسلک کا انقلاب ہے جو صرف اس مسلک کے پیروکاروں تک محدود ہوکر رہ جائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ انقلاب فقط ایک خطے کے ساتھ متعلق ہے لہذا جلد ختم ہوجائے گا۔ بعض قوتوں نے کہاکہ یہ انقلاب فقط امریکی مخالفت پر مبنی ہے لہذا اس کو پائندگی حاصل نہیں ہوسکے گی۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ انقلاب چند مولویوں کا برپا کیا ہوا ہے جو چند دنوں بعد باہم دست وگریباں ہوجائیں گے۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ انقلاب فقط ’’ امام خمینی شو‘‘ ہے جو ان کی وفات کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ ایک نسل تک محدود ہے نئی آنے والی نسل کے ساتھ ہی یہ انقلاب اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ جبری اور ڈنڈے کے زور پر آنے والا انقلاب ہے جسے جلد ہی عوام مسترد کردیں گے۔ بعض قوتوں نے کہا کہ یہ بادشاہت کے خلاف نفرت کی بنیاد پر آنے والا انقلاب ہے جس کو عوام جلد ہی خود ختم کردیں گے۔ بعض قوتوں نے کہا کہ ملک چلانا اور عالمی سطح پر شناخت قائم رکھنا مذہبی طبقے کے بس کا روگ نہیں ہے لہذا عوام جلد ہی مذہبی طبقے سے تنگ آکر انہیں اقتدار سے علیحدہ کردیں گے۔ بعض قوتوں نے انقلاب کے ختم ہونے کی تاریخیں بھی طے کردیں اور پیشین گوئیا ں بھی کردی گئیں۔ لیکن وقت اور تاریخ نے ثابت کردیا کہ ۳۷ سال گذرجانے کے باوجود انقلاب اسلامی ایران نہ صرف پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے بلکہ پہلے سے زیادہ طاقتور اور وسیع ہوتا جارہا ہے ۔ فقط ایران نہیں بلکہ دنیا کے کونے کونے سے اس انقلاب کی حمایت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ استعمار اور استکبار کے مظالم خودبخود انقلاب کو مضبوط کرتے چلے جارہے ہیں اور ماضی میں انقلاب اسلامی کی شدید مخالفت کرنے والے مسلمان و غیر اسلامی ممالک اور طبقات آج انقلاب اسلامی ایران کے شانہ بشانہ ہیں۔ وقت نے ثابت کردیا ہے کہ یہ انقلاب جذباتی نہیں بلکہ شعوری اور فکری انقلاب ہے۔ یہ ایک فرقے یا مسلک کا انقلاب نہیں بلکہ عالم اسلام اور انسانیت کا ترجمان انقلاب ہے۔ کسی ایک خطے یا ملک کا انقلاب نہیں بلکہ دنیا کے ہرخطے میں رہنے والے مظلوموں اور محروموں کا انقلاب ہے۔ یہ انقلاب کسی ایک ملک یا طاقت کے خلاف نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر ہر اس ظالم اور جابر و غاصب قوت کے خلاف ہے جو دنیا پر ناجائز قبضے کرنے اور دہشت گردی کے ذریعے دوسری اقوام کو دبانے کے لیے اقدام کررہی ہے۔ یہ انقلاب چند مولویوں اور شدت پسندوں وفرقہ پرستوں کا انقلاب نہیں بلکہ روشن فکر، وسیع النظر، اعلی سیاسی شعور کے حامل اور دین و دنیا کے تمام معاملات پر گہری نظر رکھنے والے جید علماء ، مجتہدین اور اسلامی اسکالرز کا انقلاب ہے۔یہ انقلاب کسی ایک شخصیت کی نمائش کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیا کو ایک صحیح، سچی، مخلص، دیانت دار، علمی، عملی، پاکیزہ ، معتدل اور اتحاد واخوت کی داعی شخصیت (امام خمینیؒ ) کی شکل میں قیادت فراہم کرنے والا انقلاب ہے۔ یہ کسی ایک نسل کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے برپا ہونے والا انقلاب ہے۔ یہ جبری اور ظالمانہ انقلاب نہیں بلکہ عوامی خواہشات اور انسانی ضروریات کے تحت آنے والا عوامی اور جمہوری انقلاب ہے جو انسانوں کو ایک مستقل اور اعلی نظام حیات فراہم کرتا ہے۔ یہ انقلاب بادشاہت کی آڑ میں خاندان پرستی اور عوام کو غلام بنانے کے نظام اور اپنے وطن کو غاصب طاقتوں کے رحم وکرم پر چھوڑنے کے خلاف ہے۔ اس انقلاب نے ثابت کردیا کہ اگر مذہبی طبقے میں اتحاد، جذبہ، ہم آہنگی، خلوص اور لگن ہوتو صرف ایک ملک پرنہیں بلکہ پوری دنیاپر مذہبی طبقہ حکومت کرسکتا ہے۔ اس انقلاب کے استحکام اور استقلال نے ان پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کردیا جو انقلاب کے ختم ہونے کے حوالے سے کی گئیں تھیں۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 24 بهمن 1394 10:10 ق.ظ