تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

ملک میں قوانین موجود، عملدرآمدکا فقدان ہے، ذمہ دار ان درستگی حالات پر غور کریں، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

سه شنبه 29 تیر 1395 07:37 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
11126929_434209856704086_548447915070397880_n

عارضی یا ایکسٹرا ایکٹ و پالیسیاں مسئلے کا حل نہیں، قوانین کے راستے سے رکاوٹیں ہٹائی جائیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان

اسلام آباد15 جولائی 2016ء (جعفریہ پریس )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ ملک میں قوانین موجود ہیں لیکن کہیں عملدرآمد کا فقدان ہے تو کہیں اس کے عملدرآمد میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں، تحفظ پاکستان جیسے قوانین کی بجائے اگر پہلے سے موجود قوانین پر من و عن عملدرآمد کیاجائے ، ان کے نفاذ میں رکاوٹوں کو دور کیا جائے، آئین و قانون کی صحیح معنوں میں عملداری قائم کی جائے تو پھر کبھی عارضی قوانین کی ضرورت نہیں پڑے گی ، سٹرٹیجک گہرائی پالیسی کی طرح اب قومی مفا د کا نام استعمال کرنے اور ظالمانہ توازن کی پالیسی کا بھی اختتام کیا جائے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک کی مجموعی سیاسی و امن وامان کی صورتحال پر تبصرہ اور تحفظ پاکستان ایکٹ کی مدت ختم ہونے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کی حمایت ملک سے دہشت گردی ، انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کی لعنت کا چھٹکارا پانے کیلئے کی لیکن افسوس اس پر عملدرآمد اس کی روح کے مطابق کیا ہی نہیں کیاگیا۔ اس وقت بھی ہم نے کہاتھا کہ پہلے سے موجود قوانین پر اگر عملدرآمد کرایا جائے تو پھر کسی صورت کسی نئے قانون کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی لیکن ہم نے ملک کے تحفظ ، امن و استحکام کی خاطر اس کی حمایت کی ۔

علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو مناسب ہوگا کہ ذمہ دار حضرات اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے درستگی حالات پر توجہ دیں اور اس کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ، انہیں چاہئیے کہ عارضی قوانین بنانے یا انہیں توسیع دینے کے بجائے حالات کو معمول پر لایا جائے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو سنجیدگی سے یقینی بنایا جائے، پہلے سے موجود قوانین پر صحیح معنوں میں عملدرآمد کرایا جائے ، ان قوانین کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دورکیا جائے اور ہر رکاوٹ کوقانون کی عملداری کیلئے راستے سے ہٹایا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل منتخب پارلیمان میں سٹرٹیجک (ڈیپتھ)گہرائی پالیسی کے خاتمے کا اعلان کیاگیا اور کہاگیا کہ ماضی میں غلط پالیسی اپنائی گئی ، اسی طرح ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قومی مفاد کا نام استعمال کرنے اور ظالمانہ توازن کی پالیسی کا بھی خاتمہ کیا جائے جس کے تحت نہ صرف ملک کے ہر شعبے وطبقے جن میں آئین و قانون، سسٹم، سیاست، معیشت، معاشرت ، ایڈمنسٹریشن اور کلچر کو ٹارگٹ کرکے تباہ کردیاگیا وہیں ملت تشیع کو بھی بے پناہ نقصان پہنچایاگیا ، اسی پالیسی کے تحت محب وطن قوتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ، امن و امان کے نام پر شہری آزادیاں تک سلب کرلی گئیں ، اب اس سلسلے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے زدور دیتے ہوئے کہاکہ اب ایسی حکمت عملی مرتب کی جائے تاکہ تمام طبقات کے تحفظات بھی دور ہوں ، ان کے مفادات کا پاس بھی رکھا جائے اور ملک کو سیکورٹی سٹیٹ کے بجائے فلاحی اسلامی جمہوری ریاست کی جانب لوٹایا جائے جس کے حصول کیلئے طویل جدوجہد اور لاکھوں قربانیاں دی گئیں ۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 29 تیر 1395 07:39 ب.ظ

قائد ملت جعفریہ پاکستان کا ڈیرہ غازی خان میں سالانہ اجتماع سے خطاب

سه شنبه 29 تیر 1395 07:35 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
405020_154620854667243_1513068990_n

تشیع میں دو گروہ دو فرقے بن جائیں میں پاکستان میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا یہ فرقہ بندی میری زندگی میں نہیں ہوگی۔موجود ہیں میں کوشش کروں گا سمجاوٗں گا بجھاوٗں گا میرے پاس اور طریقے بھی ہیں میرے پاس ولایت فقیہ کی جانب سے بھی اختیارات ہیں ان کو بھی میں استعمال کرسکتا ہوں مجھے قومی اختیار بھی حاصل ہے کہ میں قومی مفادات و نظریات و عقائد کی حفاظت کروں اور میں کروں گا ایک بار پھر ہم ایسے مرحلے مین پہنچے ہیں جہاں ہمیں بحرانوں کا سامنا ہے مگر جس طرح پہلے ہم بفضلِ خدا بحرانوں سے نکلے اور ہم نے تشیع کی عظمت و کامیابی کا منظر دیکھا اسی طرح اس بار بھی ہم ان بحرانوں سے مشکلات سے سرخ روح نکلیں گے اور تشیع ایک بار پھر توانا دکھائی دی گی کچھ داخلی بحران ہیں کچھ خارجی بحران ہیں بہت آسانی سے ہم نے ان بحرانوں کا مقابلہ کیا قوم کو کسی مشکل مین ڈالے بغیر ہم نے کامیابی کی منازل طے کی ہیں تشیع کا ایک رعب ہے ایک دبدبہ ہے دشمن کا کوئی مکر کامیاب نہیں ہوا اور تشیع کامیابی کی معراج پر موجود ہے زینب علیا کا وہ خطبہ یاد آتا ہے چالیں چل لو اپنا پورا زور لگالو تم نہ تو ہماری وحی مٹا سکتے ہو نہ ہی ہمارے ذکر کو ختم کرسکتے ہو ان کے کردار سے الہام لیتے ہوئے ہم نے اپنا رخ متعین کیا ہے اور جو رخ ہم اختیار کریں گے وہ قوم کے مفاد میں ہوگا جو رخ ہم اختیار کریں گے وہ ہی قوم کی کامیابی کے لئے ہوگا تشیع کے معیار کو خراب کیا جارہا ہے تشیع کے عقائد پر حملہ کیا جارہا ہے تشیع کا معیار ہے کہ امامت کی طرف رجوع کرے امامت کی جانب جو راستہ دکھایا گیا اس کی جانب رجوع کرے اگر امامت نہیں تو امامت نے جو راستہ دیا اس کی طرف رجوع کرو جو کچھ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا وہ بدترین مظاہرہ ہے بداخلاقی کا تشیع ایک ملت ہے ایک نظام ہے دنیا مانتی ہے اس بات کو کہ اسلامی تۃذیب اک منبع و سرچشمہ آل محمدؑ کا گھرانہ ہے یہ جو اختلافات ہیں انجمنوں میں محلوں میں خاندانوں مین یہ اخلاقایات کی کمی کی وجہ سے ہے ہم نے نسل کی تربیت کا اہتمام نہیں کیا سب سے مضبوط سسٹم تشیع کے پاس موجود ہے مگر پاکستان میں سب سے کمزور حیثیت اگر ہے تو وہ تشیع کی ہے اس سسٹم کے ماننےوالوں کے عادات و اطوار اور چال چلن اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کمزور عادات رکھنے والے قوم کت افراد قو کی سرفرازی کے لئے کردار ادا نہیں کرسکتے.کوئٹہ کے راستے زیارات پر جانے کا راستہ نہیں چھوڑسکتے حکومت سن لےقوم کو ایسا راستہ دکھانا چاہئے جس سے قوم کے کردار میں بھی مضبوطی آئے تشیع کی عظمت و سربلندی بھی موجود ہو اور قوم آمادہ وتیار اور ہوشیار بھی بھی رہے میں اپکو آمادہ و ہوشیار کرتا ہوں کوئٹہ کے راستے سینکڑوں قافلے مین گزروا چکا ہوں میں جانتا ہوں میرے مزدور ساتھی جو پائی پائی جمع کرکے سال بھر میں پیسے جمع کرتے ہیں اور اس راستے سے جاتے ہیں اس امام / کے پاس جو ہماری سرحد سے سب سے نزدیک ہے امام رضا غریب الغرباءؑ میں حکومت کو کہ کر آیا ہوں کہ ہوائی جہاز چلاوٗ بحری جہاز چلاوٗ یہ راستہ ہم نہیں چھوڑ سکتے صدیوں سے ہم اس راستے سے زیارات پر جارہے ہیں تذلیل ہورہی ہے تشیع کی وہاں آج ایک زائر نے اپنے گلے پر چھری چلائی میں روزانہ ان کے لئے کر رہا ہوں ہمارا ایک انداز ہے میں نے کہا ہے کہ یہ ایف آئی آرز واپس لے لو کہین ایسا نہ ہو کہ یہ تمہارے گلے کا پھندا بن جائیں زائرین کے لئے یہ مسائل ختم کرو قوم کے اندر تشویش ہے ورنہ پھر ہم قربانی دنے والے لوگ ہیں ہماری پالیسی قربانی ہے تصادم کے قائل نہیں




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : سه شنبه 29 تیر 1395 07:36 ب.ظ

دیدار حجت الاسلام سید ساجد نقوی رهبر شیعیان پاكستان

دوشنبه 16 فروردین 1395 08:24 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
۲۱ /خرداد/ ۱۳۶۹
حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد نقوی رهبر شیعیان پاكستان صبح امروز بحضور حضرت آیت الله خامنه ای رهبر انقلاب اسلامی و ولی امر مسلمین جهان رسید و با ایشان دیدار و گفتگو كرد.

در این دیدار حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد نقوی گزارشی از وضعیت مسلمانان پاكستان را به استحضار مقام معظم رهبری رساند و اولین سالگرد ارتحال حضرت امام خمینی رضوان الله تعالی علیه را به ایشان تسلیت گفت. همچنین حضرت آیت الله خامنه ای ضمن ارائه رهنمودهایی، اهمیت وحدت مسلمانان جهان در این مقطع زمانی را مورد تأكید قرار دادند.

www.leader.ir/fa/content/304/دیدار-حجت-الاسلام-سید-ساجد-نقوی-رهبر-شیعیان-پاکستان



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 16 فروردین 1395 08:25 ق.ظ

قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کے لیے سیاسی قوت کا ہوناضروری ہے۔ قائد ملت جعفریہ آیت اللہ سید ساجد نقوی

شنبه 14 فروردین 1395 09:12 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
5bfbf07b-1095-42e8-8393-b8f894591740

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے زیر اہتمام جامعۃ الکوثر اسلام آباد کے المصطفیٰ آڈیٹوریم میں علمائے اسلام کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے شرکت کی جس میں علامہ شیخ محسن علی نجفی، پیر اعجاز احمد ہاشمی صدر جمعیت علماء پاکستان، پروفیسر محمد ابراہیم صدر ملی یکجہتی کونسل کے پی کے، آصف لقمان قاضی مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل، خالد محمود عباسی مرکزی رہنما تنظیم اسلامی، علامہ شیخ صالح کربلائی از کربلائے معلی عراق، علامہ عارف حسین واحدی مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان،سید ثاقب اکبر، حافظ رفیق طاہر رہنما جماعت اہلحدیث، فرحت حسین شاہ نائب ناظم تحریک منہاج القرآن، ڈاکٹر عبد الحفیظ فاروقی چرمین نظریہ پاکستان مومنٹ سمیت تمام مکاتب فکر کے دیگر علمائے کرام کی کثیرتعداد میں شرکت کی

اس موقع پر علمائے کرام نے پاکستان میں اسلامی معاشرے کی خدو حال کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم مسلمانوں کو ان سازشوں سے بچائیں جو ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہی ہیں۔ اس موقع پر علمائے کرام نے اتحاد و وحدت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر کو ایک دوسرے کے قریب آ کر اور ایک دوسرے کو پہچان کر ہی فروعی اختلافات کو ختم کرنے میں سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

علمائے اسلام کانفرنس سے صدارتی خطاب فرماتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی فرقہ واریت نہیں اور نہ ہی کوئی شیعہ سنی مسئلہ ہے۔ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید بزرگ علمائے کرام عملی طور پر متحدہ مجلس عمل اور ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پرمتحد ہیں۔

علامہ سید ساجد نقوی نے مزید کہاکہمیں سمجھتا ہوں کہ سیاسی قوت کے بغیر ہم اپنے اہداف و مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتے، دینی قوت کو ایٹمی قوت سے بڑھ کر قوت سمجھتا ہوں۔ تمام مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے ملک میں ایسا انقلاب آ سکتا ہے جیسے پڑوسی ملک میں ہےآخر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں مذہبی لحاظ سے اپنے آپ کو مضبوط کرنا چاہیے ہمیں ہر چیز کو اپنی جگہ پراکھٹا کرنا چاہیے۔ بعض افراد کہہ رہے ہیں کہ کچھ گروہ کے بارے میں ، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملی یکجہتی کونسل تو بنی ہی فرقہ واریت کی نفی کے لیے جو لوگ فرقہ واریت کی نفی کرتے ہیں وہ اس میں شریک ہو سکتے ہیں فرقہ واریت سے بڑھ کر ہے تکفیری ہونا وہ کیسے اس میں آ سکتے ہیں وہ خود سوچی لیں کہ ان کو کیا کرنا چاہیےکہ وہ ملی یکجہتی کے اندر شامل ہو سکیں۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 14 فروردین 1395 09:18 ق.ظ

حضرت سیدہ فاطمہ زہراؑعالم نسواں کے لئے قیامت تک نمونہ عمل ہیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی

شنبه 14 فروردین 1395 09:08 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_3132
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر ملک بھر میں یوم ام ابیھا مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا اس موقع پرعلامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو اسلام سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں ان کی ہدایت اور رہنمائی کا منبع قرآن کریم اور سنت رسول اکرم ہے اور یہ مسلمانوں کا مسلمہ و متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآنی احکام کے مطابق پیغمبر گرامی کی ذات مبارک عالم اسلام کے لئے نمونہ عمل ہے جبکہ پیغمبر اکرم کی اپنی ہدایت اور رہنمائی کے مطابق خواتین عالم کے لئے بہترین نمونہ عمل اور آئیڈیل شخصیت جناب سیدہ فاطمہ زہرا ؑ کی ذات ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیدہ ؑکے بارے میں فرامین پیغمبر ایسی حقیقت ہیں کہ جسے تمام مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔ جناب سیدہؑ کا دختر رسول ہونے کے حوالے سے احترام اور عقیدت اپنی جگہ ہے لیکن ان کا یہ پہلو سب سے منفرد اور نمایاں ہے کہ وہ عالم نسواں کے لئے قیامت تک نمونہ عمل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے عمل اور اخلاق کے میدان میں اپنی زندگی کے جو اصول اور نقوش چھوڑے ہیں وہ دائمی اور ابدی ہیں کسی زمانے ‘ معاشرے یا علاقے تک مخصوص اور مختص نہیں ہیں۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ سیدہ فاطمہ زہرا ؑ کی زندگی کے اصولوں کو اجاگر کرنے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ان اصولوں پر عمل کرکے ہی مسلم خواتین فلاح حاصل کرسکتی ہیں جبکہ ان اصولوں کی آفاقیت اور افادیت اس قدر وسیع ہے کہ دنیائے بشریت کی تمام خواتین بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب و علاقہ ان اصولوں سے استفادہ کرکے کامیاب زندگی گزار سکتی ہیں اور اخروی نجات کا سامان پیدا کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزادی نسواںکے عالمی نعروں کو اگر حضرت سیدہ فاطمہ زہراؑ کے کردار کی روشنی میں دیکھیں تو موجودہ نعرے فریب اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں البتہ سیرت زہرا کی روشنی میں آزادی نسواں کے تصور اور نظریے پر عمل کرنے سے عورت حقیقی معنوں میں ترقی کرسکتی ہے ۔ معاشروں کی تعمیر کرسکتی ہے نئی نسلوں کی کردار سازی کرسکتی ہے ۔ سوسائٹی کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے اپنے ذاتی‘ اجتماعی اور معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرسکتی ہے۔



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 14 فروردین 1395 09:09 ق.ظ

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 23مارچ 2016کے موقع پر خصوصی پیغام

جمعه 6 فروردین 1395 04:23 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_6280

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 23مارچ 2016کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میںکہا کہ کہ قرارداد پاکستان جہاں عوام کو وطن دوستی اور حب الوطنی کی طرف متوجہ کرتی ہے وہاں حکمرانوں کو جمہوریت ‘ انصاف اور سا لمیت و خودمختاری کی حفاظت جیسی ذمہ داریوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ بانی پاکستان حضرت قائد اعظمؒ اور مصور پاکستان علامہ محمد اقبال ؒنے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا آج ہمیں دور دور تک وہ پاکستان نظر نہیں آتا۔ بلکہ پاکستان کے حالات قراردادپاکستان کے بالکل مخالف اور متضاد سمت میں نظر آتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہی رہا ہے کہ ہمارے حکمران طبقے قراردادپاکستان پر عمل کرنے کی بجائے اقتدار اور مفادات کا کھیل کھیلتے رہے ہیں جبکہ عوام کو مسائل کا شکار کرکے حکمرانوں کے احتساب کا راستہ بند کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے خرابیوں اور آلائشوں میں مزید اضافہ ہوتا گیا اور ملک ہر قسم کی آئینی‘ نظریاتی اور معاشرتی بیماریوں کا شکار ہوکر مریض بن گیا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستان میں آنے والے تمام حکمرانوں کی تاریخ اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو انتہائی افسوس کے ساتھ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ قراردادپاکستان میں شامل مقاصد اور اہداف کے ساتھ کتنی ناانصافیاں اور زیادتیاں ہوئی ہیں اور قراردادپاکستان کی روح کو مسخ کرکے بانیان پاکستان کی ارواح کو تڑپایا جارہا ہے۔ ہمارے ملکی آئین اور قانون کی بنیاد بھی قرارداد پاکستان تھی لیکن جس طرح مختلف ادوار میں آئین کو معطل یا منسوخ کرکے ملک کا حلیہ بگاڑا جاتا رہا اس سے قرارداد پاکستان کی توہین ہوئی ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستان کو لاحق تمام خطرات اور امراض کا شافی علاج یہی ہے کہ سب سے پہلے عوام بیدار‘ متحد اور منظم ہوں۔ قرارداد پاکستان کی روح کو زندہ کرتے ہوئے تحریک پاکستان والے جذبے کو بیدار کریں‘ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لئے جدوجہد کریں اور جمہوریت‘ انصاف اور اسلامی اقدار کے قیام اور آمریت کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں۔ پاکستانی معاشرے کو ناانصافی‘ ظلم‘ بے عدلی ‘ کرپشن‘ دہشت گردی‘ رشوت ستانی‘ فحاشی‘ عریانی‘ لاقانونیت اور دیگر معاشرتی برائیوں سے پاک کرکے ایک اسلامی‘ فلاحی‘ جمہوری اور نظریاتی مملکت بنانے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کریں اور اس راستے میں بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کریں۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : جمعه 6 فروردین 1395 04:23 ب.ظ

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی موجودگی میں مجمع اہلبیت پاکستان کی مجلس اعلیٰ کا اجلاس منعقد ہوا

جمعه 6 فروردین 1395 04:20 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
12030456_550034808454923_6801236687636048876_o
جامعة المنتظر لاہور میں نمائندہ ولی فقیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی موجودگی میں مجمع  اہلبیت پاکستان کی مجلس اعلیٰ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں حضرت آیت الله حافظ ریاض حسین نجفی ,حضرت آیت الله شیخ محسن نجفی سمیت دیگر معزز اراکین بھی موجود تھے

اس اجلاس میں ملکی مسائل اور مشکلات کا جائزہ لیا گیا ور مرحومین بالخصوص علامہ سید حسن جعفر نقوی ابن علامہ رضی جعفر نقوی کی کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی صدر اور ناظم اعلیٰ کے استعفیٰ قبول ہونے کے بعد متفقہ طور پر حجت الاسلام والمسلمین علامہ سید تقی نقوی صدر اور حجت لاسلام والمسلمین علامہ شیخ شبیر حسن میثمی ناظم اعلیٰ منتخب ہوۓ اور حجت السلام علامہ والمسلمین سید شہنشاہ حسین نقوی بدستور نائب صدر اپنی خدمات انجام دیتے رہینگ



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : جمعه 6 فروردین 1395 04:21 ب.ظ

ملی یکجہتی کونونسل کے اجلاس میں نمائندہ ولی فقیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی خصوصی شرکت

جمعه 6 فروردین 1395 04:16 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
n00528474-r-b-016

 لاہور ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کی زیر صدارت جامعۃ المنتظر میں منعقد ہوا جس میں خصوصی شرکت نمائندہ ولی فقیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کی .

اجلاس میں  مرکزی سیکریٹری جنرل شیعہ علما کونسل  علامه عارف حسین واحدی آیه الله حافظ ریاض حسین نجفی،صاحبزاده ابوالخیر زبیر،لیاقت بلوچ،حافظ عاکف سعید تنظیم اسلامی،آصف لقمان قاضی،علامه قاضی نیاز حسین نقوی،پروفیسر محمد ابراهیم،جناب ثاقب اکبر،عبد المتین آخوندزاده،ڈاکٹر وسیم اختر،علامه افضل حیدری اور مختلف جماعتوں کے اهم راهنما شریک هوئے،

فیصله هوا که حقوق نسواں بل بنیادی اسلامی خاندانی نظام کو تباه کرنے کی سازش هے،اس کی مذمت کرتے هیں،اس پر تحقیقی علمی کام کے لئے ایک کمیٹی قائم هوئی جو علمی دینی حوالے سے تحقیق کر کے شق وار تحقیق کریں گے که اس میں کونی شقیں قرآن و سنت کے خلاف هیں،علامه عارف واحدی بهی اس کمیٹی کے ممبر هونگے،،،27 مارچ کو ممتاز قادری کے چهلم میں ملی یکجهتی کا ایک وفد جائیگا،ملی یکجهتی کونسل کی ڈویژن سطح تک تنظیم نو شروع کی جائے گی




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : جمعه 6 فروردین 1395 04:17 ب.ظ

سابق صدر پرویز مشرف کا نام ای سی ایل لسٹ سے نکالا جاسکتا ہے تو تحریک جعفریہ کو بدنام زمانہ جماعتوں کی لسٹ سے خارج کیوں نہیں کیا جاسکتا قائد ملت جعفریہ پاکستان

جمعه 6 فروردین 1395 04:13 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_1428
 قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ سابق صدر پرویزمشرف کے خلا ف غداری ،آئین شکنی ،قتل اور ایسے بے پناہ الزامات  مقدمات قائم کئے گئے اور بلند و بانگ د عوے کئے گئے لیکن اس کے باوجود اُ ن کا نام زائد المعیاد ہونے کے باعث ای سی ایل لسٹ سے خارج کیا گیا جس کے نتیجہ میں وہ ملک سے باہر گئے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر سابق صدر پرویزمشرف کواگر چند گھنٹوں میں ای سی ایل لسٹ سے نکالا جا سکتا ہے تو پھرحکومت کی جانب سے دائر ریفرنس 18نومبر 2014ء کو سپریم کورٹ سے زائد المعیاد ہو نے کی وجہ سے خارج ہونے کے ایک سال 4ماہ گذر جانے کے باوجود تحریک جعفریہ جیسی پُرامن ،محب وطن جماعت کو بد نام زما نہ لسٹ سے خارج کیوں نہیں کیا گیا ؟حکومتی ریفرنس کے اخراج کے بعدوزارت داخلہ پاکستان کو دو مرتبہ تحریری خط لکھا گیا کہ تحریک جعفریہ کا نام بدنام زمانہ لسٹ سے خارج کیا جائے اور وفاقی وزیر داخلہ کو یہاں تک بھی پیغام پہنچایا کہ آپ اپنی وزارت کے کاریڈورمیں چلتے ہوئے ہی بتا دیں کہ آپ ڈی نوٹی فائی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔ بد نام زمانہ لسٹ سے خارج نہ کرنے میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں؟وزیر اعظم اس ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں لیکن نظر یہ آرہا ہے کہ وہ بھی بے بس ہیں ۔آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ملک میں قانون کی بالادستی قائم نہیں کرسکتی تو حکومت کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : جمعه 6 فروردین 1395 04:14 ب.ظ

عظیم الشان علماء و ذاکرین کنونشن سے نمائندہ ولی فقیہ قائد ملت جعفریہ آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا خطاب

دوشنبه 17 اسفند 1394 10:57 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
10367191_804687769663319_8119894715463759073_n
 قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سینکڑوں ‘ علماء و ذاکرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے واقعات کا تسلسل اور دہشتگردانہ کارروائیاں ملک کو انارکی کی طرف لے جانے اور ملک کی جڑوں کو کھوکھلاکرنے کی سازش ہے لہذا اس مائنڈ سیٹ کو جڑوں سے اکھاڑ نے کی ضرورت ہے ۔ شدت پسندوں اور انکے سرپرستوں و سہولت کاروں کے خاتمے کے بغیر ملک میں امن ممکن نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ یہ اُمت، اُمت واحدہ ہے۔ اتحاد امت قرآنی و نبوی فریضہ ہے جسے ہم مسلسل انجام دے رہے ہیں اور تمام تر مشکلات و مسائل کے باوجود اس فریضے کی ادائیگی سے قطعاً غافل نہیں۔ ہمار ا یہ امتیاز ہے کہ ہم ملک میں اتحاد کے داعی نہیں بلکہ بانی ہیں۔ا س وقت بھی ملک کی دینی جماعتوں کے فورم ملی یکجہتی کونسل میں بیٹھے ہیں،ایم ایم اے کے حوالے سے ملک کی مختلف اہم اور سرکردہ دینی جماعتوں کے ساتھ روابط میں ہیں ۔ ہم نے ہمیشہ داخلی وحدت کے لئے ایسا طرز عمل اختیار کیا جس سے متعدد سازشیں ناکام ہوئیں۔ہمارا کسی تنطیم‘ گروہ‘ انجمن‘ جماعت‘ شخصیت سے کوئی مسئلہ نہیں۔قومی پلیٹ فارم کے تحت خدمات کا تسلسل جاری ہے۔ اس دھارے سے وابستگی آپ کی اپنی تقویت کا سبب ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ مختلف ادوار کی مشکلات اور سختیوں کے باوجود یہ ملّی کارواں رواں دواں ہے ۔عوام کے بنیادی ‘ مذہبی اور شہری حقوق کے تحفظ کی جدوجہد جاری ہے۔قید و بند کی صعوبتیں تو برداشت کی جاسکتی ہیں کہ لیکن قومی مفادات اور حقوق سے دستبردار نہیں ہوا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم شب و روز عوام کے ساتھ رابطے میں ہیں اورمسلسل سفر میں ہیں ضرب عضب کے ساتھ ساتھ نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات پر عمل اسکی روح کے مطابق کرنا ہو گا ۔

 انہوں نے کہا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ عزاداری مذہبی‘ آئینی‘ قانونی حقوق کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ ہماری شہری آزادیوں کا مسئلہ ہے بلکہ یہی نہیں یہ استحکام پاکستان کے لئے بھی لازم و ناگزیر ہے لہذا اس پر کوئی قدغن ،اس میں کوئی رکاوٹ،رخنہ اندازی،قابل قبول نہیں۔ افسوسناک امر ہے یہ کہ نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں عزاداری اور مجالس میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔اسی محرم و صفر میں بانیان مجالس‘ لائسنسداران‘ معزز و قانون پسند افراد کو ہراساں اور گرفتار کیا گیا‘ علماء و ذاکرین اور خطباء کی زبان بندیاں‘ ضلع بندی جیسے غیر قانونی اقدامات‘ چاردیواری کے اندر مجالس کی بندش جیسے غیر انسانی و غیر اخلاقی ہتھکنڈے استعمال کئے گئے، بلاجواز ایف آئی آرز کیوں درج کی گئیں؟؟؟۔ہم زور دیتے آرہے ہیں کہ ایف آئی آر آرز واپس لی جائیں اور بنیادی انسانی آزادیوں سے تعرض نہ کیا جائے۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 17 اسفند 1394 11:00 ق.ظ

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی ۳ روزہ دورے پر کراچی پہنچے جہاں سے اندرون سندھ روانہ ہوۓ

شنبه 24 بهمن 1394 09:08 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
1909886_798046560327440_1373236999473765514_n

جعفریہ پریس سندھ نمائندہ ولی فقہی پاکستان قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی اپنے ۳ روزہ دورے پر کراچی پہنچے جہاں سے اندرون سندھ روانہ ہوۓ

11فروی2016
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی ۳ روزہ دورے پر سندھ پہنچ گئے سکرنڈ بائی پاس پر رات گئے عوام کا استقبال٧
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی سے سیاسی شخصیت جام فیروز انڑ کی قاضی احمد میں ملاقات کی مختلف سیاسی امور پر گفتگو
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی سے جعفریہ یوتھ صوبائی معاون ممتاز سیال،ڈویژن ناظممشتاق احمد ضلعی آرگنائزرمشاہد رضا کی ملاقات مختلف تنظیمی امور میں رہنمائی لی

12فروری2016
نمائندہ ولی فقیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی قاضی احمد میں مجلس ترحیم سے خطاب علامہ باقر نجفی و دیگر علاقائی عمائدین ہمراہ

12فروری2016
نمائندہ ولی فقیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی شہید الطاف حسین الحسینی کی پانچویں برسی میں شرکت کے لئے کوٹری آمد اہل علاقہ کا شاندار استقبال شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ ناظر عباس تقوی جے ایس او کے مرکزی صدر وفا عباس جنرل سیکریٹری علی عظمت بھی ہمراہ

جامشورو
12فروری2016
المصطفی آرگنائزیشن کے چیئرمین مہران یونیورسٹی کے پروفیسر سید فرمان علی رضوی کی قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی سے ملاقات موقع پر یونیورسٹی کے دیگر پروفیسرز اور دیگر فیکلٹیز سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز بھی موجود تھے
جامشورو کراچی موری ملاح گوٹھ

12فروری2016
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی23 برس بعد کراچی موری ملاح گوٹھ آمد مومنین کا پرتپاک استقبال

جامشورو کراچی موری ملاح گوٹھ

12فروری2016
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کی23 برس بعد کراچی موری ملاح گوٹھ آمد مومنین سے خطاب
دورہ جاری




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 24 بهمن 1394 09:10 ق.ظ

انقلاب اسلامی ایران کی سیتیسویں سالگرہ میں قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی اور علامہ عارف حسین واحدی کی شرکت و ملاقاتیں

شنبه 24 بهمن 1394 09:07 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
12729290_990678247671304_4261000540529308201_n

قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی اور علامہ عارف حسین واحدی نے سرینا ھوٹل اسلام آباد میں انقلاب اسلامی ایران کی سیتیسویں سالگرہ کے جشن میں شرکت کی،سفیر محترم جمھوری اسلامی ایران جناب مہدی ھنر دوست اور سفارت کی ٹیم نے قائد محترم کا استقبال کیا،مختلف سیاسی مذھبی شخصیات نے قائد محترم اور علامہ عارف واحدی سے ملاقاتیں کیں،پروگرام میں قائد محترم سب کی توجہ کا مرکز رھے۔ملاقات کرنے والوں میں سفیر محترم کے علاوہ علامہ شیخ محسن نجفی،علامہ سید افتخار نقوی،وزیر اطلاعات پرویز رشید،صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب،امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق ،محمود خان اچکزئی،رحمان ملک،پیر نقیب الرحمان،پیر چراغ الدین،سابقہ وفاقی وزیر واجد بخاری،مسلم لیگ کے مرکزی سیکٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا،ڈائریکٹر خانہ فرھنگ و ڈائیریکٹر رائزنی جمھوری اسلامی،اسپیکر صوبائی اسمبلی حاجی فدا ناشاد اورسینیئر وزیر گلگت بلتستان حاجی اکبرتابان و دیگر شامل تھے




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 24 بهمن 1394 09:08 ق.ظ

انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کے موقع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجدعلی نقوی کا خصوصی پیغام

شنبه 24 بهمن 1394 09:03 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_3132

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ انقلاب اسلامی جن اہداف کے لئے برپا کیا گیا وہ ایسے ہیں کہ جو پوری امت مسلمہ کو متحد و متفق کرتے ہیںانقلاب کے لئے جو طریقہ کار اختیارکیا گیا اس سے استفادہ کرکے دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی اسی قسم کی کوششیں کی جا سکتی ہیں کیونکہ انقلاب کے لئے جو بنیادی شرط مدنظر رکھی گئی وہ اتحاد امت اور وحدت ملی ہے امت مسلمہ کے اندر ملی یکجہتی کو مضبوط بنانے جیسے مقصد کو سامنے رکھ کر جس ملک میں بھی کوشش کی جائے اور عوام کو اس مقصد سے آگاہ کیا جائے تو عوام کی طرف سے مثبت تعاون سامنے آئے گا۔ انقلاب اسلامی ایران کا بھی سب سے بڑا درس یہی ہے کہ قرآن کی تعلیمات کا نفاذ ہو، شریعت کی بالا دستی ہو، تفرقے اور انتشار کا خاتمہ ہو، اتحاد کی فضا ءقائم ہولہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد قائم کریں، تفرقہ بازی اور انتشار اور اس کے اسباب و عوامل کے خاتمے کی کوشش کریں۔

برادر ہمسایہ ملک ایران میں انقلاب اسلامی کی 37 ویں سالگرہ کی مناسبت سے اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کے قائد اور رہبر حضرت امام خمینی ؒ نے انقلاب برپا کرتے وقت اسلام کے زریں اصولوں اور پیغمبر اکرم کی سیرت و سنت کے درخشاں پہلوﺅںسے ہر مرحلے پر رہنمائی حاصل کی۔ جس طرح رحمت اللعالمین کے انقلاب کا سرچشمہ صرف غریب عوام تھے اسی طرح امام خمینی ؒ کے انقلاب کا سرچشمہ بھی عوام ہی تھے۔یہی وجہ ہے کہ تمام سازشوں ، مظالم، زیادتیوں، محاصروں، پابندیوں اور دیگر ہتھکنڈوں کے باوجود انقلاب اسلامی ایران کرئہ ارض پر ایک طاقتور انقلاب کے طور پر جرات واستقامت کی بنیادیں فراہم کررہا ہے۔



ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 24 بهمن 1394 09:03 ق.ظ

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

یکشنبه 18 بهمن 1394 10:30 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
DSC00287
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے موقف کی ترجمانی پاکستانی قوم کا فریضہ اور عدل و انصاف کا تقاضا ہے لہذا اس فریضے کی ادائیگی کے لئے ہم 5 فروری کو اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے ’’ یوم یکجہتی کشمیر‘‘ منارہے ہیں۔مظلوم کشمیری مسلمان نصف صدی سے زائد بھارتی ظلم و بربریت کا شکار ہیں ۔ ان حالات میں عالمی امن کے دعویدار اداروں‘ انسانی حقوق کی تنظیموں‘ اقوام متحدہ اور اسلامی سربراہی کانفرنس تنظیم کو بھی چاہیے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے ر امت مسلمہ سمیت عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کے حقائق اور حل کی طرف متوجہ کریں گے۔

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لئے ماضی میں بھی مختلف حل سامنے لائے جاتے رہے ہیں کبھی پاک بھارت مذاکرات، کبھی بیک ڈور ڈپلومیسی، کبھی بیرونی اور عالمی طاقتوں کی مداخلت یا ثالثی، کبھی تقسیم کشمیر ، کبھی چار نکاتی فارمولے ، کبھی عوامی، ثقافتی اور سپورٹس دوستی اور دیگر انداز میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے راستے تلاش کئے جاتے رہے لیکن اس وقت تک کوئی حل قابل قبول اور قابل نفاذنہیں ہوگا جب تک پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے تیسرے فریق یعنی کشمیری عوام کو اس عمل میں شامل کرکے کلیدی کردار نہیں دیا جاتا کیونکہ کشمیری عوام کی رائے ہی اہمیت کی حامل ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ بھارت کو یک طرفہ اور جانبدارانہ پالیسیاں اور جارحانہ طرز عمل اختیار کرنے سے گریز کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور مذاکرات سے پہلے کشمیر میں امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنا کر مذاکرات کے لئے ماحول کو سازگار بنانا چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں اپنی افواج میں کمی کرنی چاہیے، تشدد کا راستہ ترک کرنا چاہیے تاکہ دینا پر واضح ہوجائے کہ بھارت مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہے۔ اس ماحول کے بعد مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور کوئی قابل عمل حل نکل سکے گا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستانی عوام کے موقف اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دیں، قومی موقف سے روگردانی اور یو ٹرن پالیسیوں سے کشمیری عوام کی قربانیوں کو رائیگاں نہ ہونے دیں، کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام سے کرائیں اور مذاکرات کے عمل میں تمام کشمیری جماعتوں اور طبقات کو نمائندگی دیں، کسی ایک گروہ یا طبقے کی حمایت کرکے کشمیر کی تحریک آزادی کو منتشر اور کمزور نہ کریں اور عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ پیش کرکے عالمی اداروں کو قائل کریں کہ وہ بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کریں۔
com



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 18 بهمن 1394 10:32 ق.ظ

عالم اسلام اس اسلام دشمن ،انسان دشمن اور ظالمانہ سوچ کو روکنے کیلئے متحد و متفق ہو کر اقدامات کرےقائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی

یکشنبه 18 بهمن 1394 10:22 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: نماینده ولی فقیه علامه ساجد نقوی ،
IMG_2844
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے گذشتہ روز شام کے دارالحکومت دمشق میں روضہ مبارکہ نواسی رسول اکرم ؐ حضرت سیدہ زینب ؑ ؑ بنت حضرت امام علی علیہ السلام پر خود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے خاندانوں سے اظہار تعزیت و تسلیت کی اور شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اس دلخراش سانحہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ روضہ مقدسہ نواسی رسول اکرمؐحضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیھا پر حملہ شکست خوردہ، تنگ نظر، ڈرپوک اور تمام اخلاقیات و سماجیات سے عاری دشمن کی کارستانی ہے۔ اس سے قبل بھی شام اور عراق میں انبیاء کرام ؑ ، اصحاب عظامؓ اور دیگر مقدس ہستیوں کے مزار ات پر حملہ آور ہو کر دشمن اپنے مذموم عزائم اور اسلام دشمنی کا اظہار کرچکا ہے۔جس سے اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ لہذا عالم اسلام اس اسلام دشمن ،انسان دشمن اور ظالمانہ سوچ کو روکنے کیلئے متحد و متفق ہو کر اقدامات کرے۔

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ آستان نواسی پیغمبر اکرمؐ حضرت سیدہ زینب ؑ تمام مسلمانوں کی مشترکہ میراث، آمریت و ملوکیت اور ظلم و جبروت کے خلاف ایک چمکتا ہوا مینارہے جو دنیا کو اپنی روشنی سے ہمیشہ منور کرتا رہے گا ۔دشمن کی یہ مذموم کارروائی کسی بھی مکتب یا مسلک کی طرف سے نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش ہے لہذامسلمان آپس میں باہمی رواداری، اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کو فروغ دیکر اسلام دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیں۔ اور حکومت پاکستان مقدس مقامات کے تحفظ کیلئے اپنا اخلاقی اور سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پاکستان بھرکے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرے تاکہ عوام میں پھیلی ہوئی تشویش کا ازالہ ہوسکے



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 18 بهمن 1394 10:24 ق.ظ



کی تعداد صفحات: 27 1 2 3 4 5 6 7 ...