تبلیغات
پیروان خط ولایت فقیه پاکستان - مطالب ولی فقیه امام خامنه ای
آقای سید ساجد علی نقوی شروع هی سے ایک متحرک ،محنتی ،زحمت کش، اور مومن مرد ہیں.امام خامنه ای

امریکہ اور بعض مغربی ممالک پر ہرگز اعتماد نہیں کیا جاسکتا، آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای

شنبه 21 فروردین 1395 10:22 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،
1



قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید نوروز کی مناسبت سے ملاقات کے لئے آنے والے کابینہ کے ارکان، پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کی صدارتی کمیٹی کے ارکان، عدلیہ کے عہدیداران اور بعض دیگر محکموں کے حکام سے خطاب کرتے ہوئے عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا اور مزاحمتی معیشت کے نفاذ کے لئے حکومت کی مربوط مساعی اور مشقتوں کی قدردانی کرتے ہوئے زور دیا کہ ان پالیسیوں کے نفاذ کے لئے ملک کے حکام کے درمیان یکجہتی اور ہمدلی و ہم زبانی بہت اہم ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ استقامتی معیشت کی مرکزی کمان کو چاہئے کہ مجریہ اور خود محترم نائب صدر کی قیادت میں تمام محکمہ جات کا تعاون اور مدد حاصل کرے، مختلف شعبوں کی کارکردگی اور پیش قدمی پر گہری نظر رکھے اور داخلی پیداوار کی سنجیدگی کے ساتھ پشت پناہی کرتے ہوئے مزاحمتی معیشت کے تحت 'اقدام و عمل' کو عملی جامہ پہنانے کے مقصد سے ہمہ جہتی اور ہمہ گیر اقدام کی زمین ہموار کرے۔

قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ مزاحمتی معیشت میں اقدام اور عمل اس انداز سے ہونا چاہئے کہ سال ختم ہونے پر مختلف شعبوں کی متعلقہ کارکردگی کی صحیح اور واضح رپورٹ پیش کرنا ممکن ہو۔ آپ نے فرمایا کہ اجرائی اداروں کا پورا نظام مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کے اجراء کی توانائی رکھتا ہے اور پارلیمنٹ کو بھی چاہئے کہ اس سلسلے میں حکومت کی مدد کرے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ہم حکومت سے بہت زیادہ توقعات نہیں وابستہ کر رہے ہیں اور ہمیں وسائل اور بجٹ کی کمی اور مشکلات کا بھی اندازہ ہے، لیکن بعض شعبوں میں کفایت شعاری کرکے بعض دیگر شعبوں کی کمیوں اور خلا کو دور کیا جا سکتا ہے۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ملک کے اعلی عہدیداران بڑے تجربہ کار، چنندہ اور فکر و عمل اور جوش و جذبے سے سرشار افراد ہیں، آپ نے فرمایا کہ مرکزی کمان جو فکر کا بھی مرکز ہے اور عمل کا بھی محور ہے ملک کے اندر موجود بہترین انتظامی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرے اور فیصلہ سازی اور اجرائی مراحل کے لئے مختلف محکموں کی توانائیوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ ملک کو چلانا جس کی ذمہ داری حکومت اور خود صدر محترم کی ہے بیحد دشوار کام ہے، آپ نے فرمایا کہ صدر محترم کی حد درجہ مصروفیات کے پیش نظر نائب صدر جو ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں مزاحمتی معیشت کی اعلی کمان کے تعلق سے خاص کردار ادا کر سکتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ میں جو بھی اقدام عوام کے مفادات کے لئے اور انکی مشکلات کے ازالے کی خاطر ہو اس کی بھرپور حمایت کروں گا، لیکن یہ نظر آنا چاہئے کہ جو کام انجام دیا جا رہا ہے وہ قومی مفادات کے حق میں اور ضروری ہے۔ قائد انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کے اجراء کے لئے داخلی توانائیوں اور صلاحیتوں پر تکیہ کیا جانا چاہئے۔



ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : شنبه 21 فروردین 1395 10:31 ق.ظ

اطاعت از دستورات نماینده ولی فقیه

دوشنبه 16 فروردین 1395 09:29 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

سوال: آیا اطاعت از دستورات نماینده ولی فقیه در مواردی که داخل در قلمرو نمایندگی اوست، واجب است؟

ج. اگر دستورات خود را بر اساس قلمرو صلاحیت و اختیاراتی که از طرف ولی فقیه به او واگذار شده است، صادر کرده باشد، مخالفت با آن‌ها جایز نیست.




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا یورپی جوانوں کے نام خط

دوشنبه 9 آذر 1394 04:00 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

 رہبر انقلاب اسلامی کے خط کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یورپی جوانوں کے نام

فرانس میں اندھی دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر مجھے آپ جوانوں سے مخاطب ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ میرے لئے یہ بہت ہی افسوس کی  بات ہے کہ اس طرح کے واقعات آپ جوانوں کے ساتھ گفتگو کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ دردناک واقعات باہمی مشاورت اور چارہ جوئی کا راستہ ہموار نہ کریں تو بہت زیادہ نقصان ہو جائے گا۔ دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے انسان کا غم  بجائے خود بنی نوع انسان کے لئے رنج و اندوہ کا باعث ہے۔

ایسے مناظر کہ جن میں بچہ اپنے اعزاء و اقرباء کے سامنے موت کو گلے لگا رہا ہو، ماں کہ جس کی وجہ سے اس کے اہل خانہ کی خوشیاں غم میں تبدیل ہوجائیں، شوہر جو اپنی بیوی کے بے جان جسم کو تیزی کے ساتھ کسی سمت لے جا رہا ہو، یا وہ تماشائی کہ جسے یہ نہیں معلوم وہ چند لمحوں کے بعد خود اپنی زندگی کا آخری سین دیکھنے والا ہے،  یہ وہ  مناظر نہیں ہیں کہ جو انسان کے جذبات و احساسات کو نہ ابھارتے ہوں۔ ہر وہ شخص کہ جس میں محبت اور انسانیت پائی جاتی ہو۔ ان مناظر کو دیکھ کر متاثر  اور رنج و الم کا شکار ہوجاتا ہے۔ چاہے اس طرح کے واقعات فرانس میں رونما ہوئے ہوں، فلسطین یا عراق، لبنان اور شام میں۔ یقینا ڈیڑھ ارب مسلمان اسی احساس کے حامل ہیں اور وہ اس طرح کے گھناؤنے واقعات میں ملوث افراد سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے بے زار ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر آج کے رنج و الم ایک اچھے اور زیادہ محفوظ مستقبل کی تعمیر کا سبب نہ بنیں تو وہ  صرف تلخ اور بے ثمر یادوں کی صورت میں باقی رہ جائیں گے ۔ میرا اس بات پر ایمان  ہے کہ صرف آپ جوان ہی ہیں جو آج کی مشکلات سے سبق حاصل کر کے اس بات پر قادر ہو جائیں کہ مستقبل کی تعمیر کے لئے نئی راہیں تلاش کر سکیں اور ان غلط راستوں پر رکاوٹ بن جائیں کہ جو یورپ کو موجودہ مقام تک پہنچانے کا باعث بنے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ آج دہشت گردی ہمارا اور آپ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ لیکن آپ لوگوں کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ جس بدامنی اور اضطراب کا حالیہ واقعات کے دوران آپ لوگوں کو سامنا کرنا  پڑا ہے ان مشکلات میں اور برسہا برس سے عراق، یمن، شام اور افغانستان کے لوگوں نے جو مشکلات برداشت کی ہیں ان میں دو اہم فرق پائے جاتے ہیں۔ پہلا فرق یہ ہے کہ اسلامی دنیا مختلف زاویوں سے نہایت ویسع اور بڑے پیمانے پر اور ایک بہت لمبے عرصے تک تشدد کی بھینٹ چڑھی ہے۔ دوسرے یہ کہ افسوس کہ اس تشدد کی ہمیشہ بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے  مختلف اور موثر انداز میں حمایت کی جاتی رہی ہے۔ آج شاید ہی کوئی ایسا فرد ہوگا جو القاعدہ، طالبان اور ان سے وابستہ منحوس گروہوں کو وجود میں لانے، ان کی تقویت اور ان کو مسلح کرنے کے سلسلے میں امریکہ کے کردار سے آگاہ نہ ہو۔ اس براہ راست حمایت کے علاوہ تکفیری دہشت گردی کے جانے پہچانے حامی پسماندہ ترین سیاسی نظام کے حامل ہونے کے باوجود ہمیشہ یورپ کے اتحادیوں کی صف میں کھڑے ہوتے ہیں اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب خطے میں آگے کی جانب گامزن جمہوریت سے جنم لینے والے ترقی یافتہ اور روشن ترین نظریات کو بڑی بے رحمی کے ساتھ کچلا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا میں بیداری کی تحریک  کے ساتھ یورپ کا دوہرا رویہ یورپی پالیسیوں میں  پائےجانے والے تضادات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 9 آذر 1394 04:03 ب.ظ

قائد انقلاب اسلامی : آئندہ پچیس سال کے عرصہ میں صہیونی اسرائیل حکومت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی

دوشنبه 23 شهریور 1394 09:51 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،


 قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بعض جگہوں سے دراندازی کی امریکا کی فریب کارانہ کوششوں کے سلسلے میں خبردار کرتے ہوئے مستحکم اور مزاحتمی معیشت، علم و سائنس کے روز افزوں فروغ اور عوام اور بالخصوص نوجوانوں میں انقلابی جوش و جذبے کی تقویت و حفاظت کو شیطان بزرگ کی دشمنی کے مقتدرانہ مقابلے کے تین اہم عناصر سے تعبیر کیا۔

مختلف عوامی طبقات سے ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے آئندہ پارلیمانی انتخابات کے بارے میں بعض نکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عوام کے ہر ووٹ کی طرح انتخابات کا نتیجہ بھی حق الناس ہے اور عوام کے اس حق کا تمام توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دفاع کیا جائے گا۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ماہ ذی القعدہ کے بابرکت ایام اور ان گراں قدر مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہجری شمسی کیلنڈر کے چھٹے مہینے شہریور کو بھی بڑے اہم واقعات اور یادوں کا حامل مہینہ قرار دیا۔ آپ نے فرمایا: "اس مہینے میں 17 شہریور 1357 ( مطابق 8 ستمبر 1978) کو پہلوی حکومت کے ہاتھوں بے گناہ عوام کے قتل عام، 8 شہریور 1360 ہجری شمسی ( مطابق 30 اگست 1981) کو ملک کے صدر اور وزیر اعظم کی شہادت، اسی مہینے میں شہید آیت اللہ قدوسی اور شہید آیت اللہ مدنی کی ٹارگٹ کلنگ اور 31 شہریور 1359 ہجری شمسی مطابق ( 22 ستمبر 1980) کو ایران پر صدام کے حملے سمیت تمام واقعات میں امریکا کا براہ راست یا بالواسطہ کردار صاف نظر آتا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے ملک میں عوام اور خاص طور پر نوجوانوں کی سطح پر ان قابل غور واقعات کے تدریجی طور پر فراموش کر دئے جانے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس سلسلے میں ذمہ دار اداروں کی ناقص کارکردگی پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس طرح کے عبرت آموز واقعات قوم کی تاریخی یادداشت میں ہرگز کم رنگ نہ ہونے پائیں، کیونکہ اگر نوجوان نسل اس قسم کے تاریخی و ملی واقعات کی شناخت اور ان کے اسباب و علل کی شناخت سے قاصر رہی تو راہ حل اور ملک کے مستقبل کی شناخت میں بھی اس سے غلطیاں ہوں گی۔

قائد انقلاب اسلامی نے پہلوی حکومت کے دور میں امریکیوں کے مطلق تسلط کی بعض علامتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ طاغوتی حکومت کے تمام کلیدی عہدیداران منجملہ خود شاہ امریکا کے تابع فرمان ہوتے تھے اور امریکی حکام اپنے گماشتہ افراد کی مدد سے ایرانی قوم پر فرعون کی طرح حکومت کرتے تھے، لیکن امام خمینی نے زمانے کے موسی کا کردار ادا کرتے ہوئے قوم کی مدد سے اس قدیمی سرزمین سے اس بساط کو سمیٹ دیا۔



ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 23 شهریور 1394 09:53 ق.ظ

اتحاد بین المسلمین اسلامی دنیا کے لئے نسخۂ کیمیا ہے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

دوشنبه 29 تیر 1394 11:09 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ہفتے کے دن نماز عید فطر کے خطبوں میں خطے کے بحران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ رمضان المبارک کے دوران اور اس سے پہلے علاقائی حالات کی وجہ سے ناخوشگوار واقعات پیش آئے اور دشمنوں کے کالے کرتوتوں کی بنا پر مسلمانوں اور مومنین کو کٹھن دن گزارنا پڑے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ایٹمی مذاکرات کے بارے میں ایرانی ایٹمی مذاکرات کاروں کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ ایٹمی معاہدے کا مجوزہ متن چاہے منظور کیا جائے یا نہ کیا جائے دونوں صورتوں میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران کبھی بھی دشمن کی توسیع پسندی کو قبول نہیں کرے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ کسی کو بھی اسلامی نظام کے بنیادی اصولوں میں خلل اور رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دفاعی صلاحیتوں اور ملک کی سیکورٹی حدود کا تحفظ کیا جائے گا ہر چند دشنوں نے اس سلسلے میں بہت سی سازشیں تیار کر رکھی ہیں۔

آپ نے مزید فرمایا کہ ایٹمی معاہدے کا متن چاہے منظور کیا جائے یا نہ کیا جائے ایران خطے میں اپنے دوستوں کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو گا اور ہم ہمیشہ فلسطین، بحرین ، عراق، شام اور لبنان کی اقوام کی حمایت کرتے رہیں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ ایٹمی مذاکرات کے مجوزہ متن کی تدوین کی وجہ سے امریکا کی سامراجی حکومت سے متعلق ایران کی پالیسی تبدیل نہیں ہو گی اور جیسا کہ بارہا کہا گیا ہے ایران بین الاقوامی مسائل کے سلسلے میں امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا اور ایٹمی معاملے کے بارے میں اس نے مصلحت کی بنیاد پر مذاکرات انجام دیئے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے خطے سے متعلق ایران اور امریکا کی پالیسیوں کے درمیان پائے جانے والے بہت سے اختلافات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکا لبنان کی استقامت کو دہشت گردی قرار دیتا ہے لیکن بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کی حمایت کرتا ہے اور ایسی پالیسی کے ہوتے ہوئے کس طرح مذاکرات کئے جا سکتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے حالیہ ایٹمی مذاکرات کے بعد امریکی حکام کی رجز خوانی کے بارے میں فرمایا کہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ امریکی حکام اپنی قوم کو سچ نہیں بتا رہے ہیں۔ اگر وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے تو وہ اپنی یہ آرزو خواب میں ہی پوری ہوتی دیکھ سکتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لے کر اب تک پانچ امریکی صدر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی آرزو اپنے دل میں لئے مر گئے- رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ دنیا کی چھ بڑی اقتصادی طاقتوں نے بارہ برس تک اسلامی جمہوریہ ایران کو ایٹمی صنعت سے محروم رکھنے کی پوری کوشش کی لیکن آج یہی طاقتیں ایران کی کئی ہزار سینٹری فیوج مشینوں اور ایران کی ایٹمی ترقی کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایرانی قوم ایک طاقتور قوم بن چکی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایرانی فوج کو تباہ کر دینے پر مبنی امریکی صدر کے حالیہ بیانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران کوئی بھی جنگ شروع نہیں کرے گا لیکن اگر امریکی حکام ٹھیک طرح سے سمجھنا چاہتے اور اپنے تجربات سے صحیح فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ان کو جان لینا چاہئے کہ ظالم امریکا کو ہی جنگ میں ذلت آمیز شکست اٹھانی پڑے گی۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : دوشنبه 29 تیر 1394 11:17 ق.ظ

صدر مملکت اور ایٹمی مذاکرات کار وفد کی کوششوں کی قدردانی / گروپ پانچ جمع ایک میں شامل بعض ممالک ناقابل اعتماد ہیں

یکشنبه 28 تیر 1394 12:40 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

 رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایٹمی مذاکرات سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے خط کے جواب میں صدر مملکت کی زحمات کا شکریہ ادا کیا اور ایٹمی مذاکرات کار وفد کی کوششوں کی قدردانی کی نیز ان مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کو اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی و پیشرفت میں اہم قدم قرار دیا ۔


رہبر انقلاب اسلامی نے ایٹمی مذاکرات میں گروپ پانچ جمع ایک میں شامل بعض ملکوں کی حکومتوں کے ناقابل اعتماد ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : سمجھوتے کے تیار شدہ متن کا مکمل گہرائی کے ساتھ قانونی طریقوں سے جائزہ لئے جانے کی ضرورت ہے اور پھر اس کی منظوری کی صورت میں مقابل فریق کی جانب سے ممکنہ خلاف ورزی پر توجہ رکھے جانے اور اس خلاف ورزی کا راستہ بند کئے جانے کی بھی ضرورت ہے ۔


واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے رہبر انقلاب اسلامی کے نام اپنے خط میں تحریر کیا تھا کہ ایران کی عظیم قوم کی استقامت اور رہبر انقلاب اسلامی کی ہدایت و رہنمائی کی بدولت گذشتہ کئی مہینوں سے جاری کوششیں رنگ لے آئیں اور ایران اپنے ایٹمی حقوق کو مستحکم کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوگیا اور ساتھ ہی ترقی و پیشرفت کی راہ میں ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے اور معاشی استقامت کی تمام پالیسیوں پر عملدر آمد کے لئے حالات سازگار ہو گئے ۔


ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : یکشنبه 28 تیر 1394 12:42 ب.ظ

حضرت ابوالفضل العباس (ع) کا مقتل رہبر معظم حضرت خامنہ ای کے زبانی

جمعه 24 آبان 1392 06:09 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،
rahbare-moazam

جس طرح کے تمام شواہد و قرائن سے ظاہر ہوتا ہے، جنگجو مردوں میں سے ـ طفل شش ماہہ اور گیارہ سالہ بچے کے سوا ـ اباالفضل العباس سب سے آخری فرد ہیں جو امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے قبل جام شہادت نوش کرگئے ہیں اور یہ شہادت بھی ایک عظیم عمل ـ یعنی خیام اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے لب تشنہ باسیوں کی خاطر پانی لانے ـ کی راہ میں واقع ہوئی ہے۔

ائمہ اطہار علیہم السلام سے حضرت ابوالفضل علیہ السلام کی شان میں وارد ہونے والی زیارات اور کلمات میں دو جملوں پر زیادہ تاکید ہوئی ہے: ایک یہ کہ ابوالفضل العباس کی بصیرت کہاں ہے؟ سیدالشہداء کے سارے انصار و اعوان بابصیرت تھے؛ تاہم ابوالفضل (ع) نے بصیرت کا زیادہ مظاہرہ کیا۔ آج ہی کی مانند تاسوعا کی شام کو ایک موقع میسر آیا کہ آپ ان مصائب و آلام سے نجات پائیں یعنی دشمن کی طرف سے لوگ آئے اور آپ کے لئے ایک امان نامہ ساتھ لائے اور کہا: ہم آپ کو امان دیتے ہیں؛ تو آپ نے ایسا جوانمردانہ طرز عمل اپنایا کہ دشمن اپنی تجویز پر نادم ہوکر چلا گیا۔ کہا: میں حسین (علیہ السلام) سے جدا ہوجاؤں؟ وا‏ئے ہو تم پر (خرابی ہو تم پر)، اُف ہو تم پر اور تمہارے امان نامے پر۔

ادامه مطلب

نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : جمعه 24 آبان 1392 06:11 ب.ظ

رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی جانب سے 7 محرم سے خمسہ مجالس عزا کا آغاز

جمعه 17 آبان 1392 04:57 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

رہبر معظم انقلاب اسلامی کی موجودگی میں 7 محرم سےمجالس عزا کا آغاز

حسینیہ امام خمینی(رہ) میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی جانب سے پیر 7 محرم سے سے پانچ دن مجالس عزا کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔یہ مجالس نماز مغرب و عشا کے بعد منعقد ہونگی

گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی 7 محرم الحرام سے 12 محرم الحرام تک حسینیہ امام خمینی(رہ) میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگی میں نماز مغرب و عشا کے ہمراہ، سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس عزا کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔ جس میں عوام کے مختلف طبقات شرکت کریں گے اورذاکرین اہلبیت، مجالس عزا میں فضائل اور مصائب اہلبیت (ع) بیان کریں گے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : جمعه 17 آبان 1392 04:58 ب.ظ

امریکہ شام میں بہت بڑی خطا کا مرتکب ہونے جارہا ہے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای

شنبه 16 شهریور 1392 05:25 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

 www.leader.ir

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح (بروز جمعرات ) خبرگان کونسل کے سربراہ اور ارکان کے ساتھ ملاقات میں اپنے اہم خطاب میں ملک کے اہم مسائل ، علاقائی اور عالمی امور کے بارے میں جامع اور بلند مدت نگاہ کے سلسلے میں اسلامی نظام کے مختلف عہدوں پر کام کرنے والے اور منصوبہ بنانے والے تمام حکام کو بصیرت اور فراست کے ساتھ مؤقف اختیار کرنے اور انفعال سے دور رہنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: تمام حکام کو چاہیے کہ وہ اہداف ، کلی اور عمومی اسٹراٹیجک اور حقائق کے تین عناصر کے پیش نظر فیصلہ اور درست اور ٹھوس مؤقف اختیار کریں ،اور امید افزا مستقبل کے بارے میں عقلمندی اور خردمندی کے ہمراہ نظام کی اندرونی ساخت کو مضبوط بنانے، مشکلات حل کرنے اور اہداف کی سمت استقامت کے ساتھ آگے بڑھیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسائل اور حوادث کے بارے میں ہمہ گیر، جامع اور بلند مدت نگاہ پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ان حوادث و واقعات میں ایک واقعہ اسلامی جمہوری نظام  کی  تشکیل کا واقعہ ہے، جو اسلام کے سہارے اس مادی دنیا میں  تند و تیز طوفانوں کے باوجود رونما ہوا اور یہ عظیم واقعہ زیادہ تر معجزہ سے شباہت رکھتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے لیکر آج تک  اسلامی نظام کے ساتھ عداوتوں اور دشمنیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ان تمام عداوتوں کی اصلی وجہ بھی اسلام ہی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی نظام کے مقابلے میں موجود دھڑے بندیوں، علاقائی اور عالمی مسائل کے بارے میں صحیح تجزیہ و تحلیل کو بھی ہمہ گیر، بلند مدت اور حقائق پر مبنی نگاہ پر مشتمل قراردیتے ہوئے فرمایا: مغربی ایشیا کا علاقہ کئی برسوں سے استکبار کے حملوں کی زد میں رہا ہے لیکن ایسے شرائط کے باوجود اسلامی بیداری رونما ہوگئی جو ان کی مرضی اور منشاء کےبالکل خلاف ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی بیداری کے ختم ہونے کا تصور بالکل غلط تصور ہے کیونکہ اسلامی بیداری صرف کوئی سیاسی واقعہ نہیں تھا کہ جو بعض افراد کے آنے یا ان کے جانے سے ختم ہوجائے گا بلکہ اسلامی بیداری ، ہوشیاری ، تنبہ ، خود اعتمادی اور اسلام پر تکیہ  واعتماد پر مشتمل ہےجسے اسلامی معاشرے میں کافی فروغ مل چکا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جو کچھ آج ہم علاقہ میں مشاہدہ کررہے ہیں یہ در حقیقت اسلامی بیدار کے خلاف استکبار،  امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا رد عمل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے استکبار کی جانب سے اپنے مفادات کی بنا پر علاقہ کے مسائل کو حل کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: علاقہ میں استکبار کی موجودگی جارحانہ ، تسلط پسندانہ ، منہ زوری اور اپنی موجودگی کے مقابلے میں ہر قسم کی استقامت کو ختم کرنے پر مشتمل ہے لیکن استکباری محاذ اس استقامت کو ختم نہین کرسکا ہے اور اس کے بعد بھی اسے ختم نہیں کرپائے گا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صہیونی حکومت کے محور پر اس علاقہ پر تسلط کو استکبار کا اصلی ہدف قراردیتے ہوئے فرمایا: شام کے حالیہ واقعات میں کیمیائی ہتھیاروں کو بہانہ بنانے کا مقصد بھی یہی ہے لیکن امریکی حکام لفاظی اور بیان بازی کے ذریعہ اپنے جارحانہ عزائم کو ایک انسانی مقصد کے لئےقراردے رہے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جو چیز امریکی سیاستدانوں کی نظر میں اہمیت نہیں رکھتی وہ انسانی مسائل ہی ہیں اور امریکیوں کا انسانی حمایت کا دعوی بالکل جھوٹا اور بے بنیاد ہے کیونکہ گوانتانامو، ابوغریب جیسی خوفناک جیلیں، صدام کی طرف سے حلبچہ اور ایرانی شہروں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر امریکہ کی خاموشی، افغانستان، پاکستان اور عراق میں بےگناہ عوام کے قتل عام کے ہولناک واقعات  امریکی حکام کی سیاہ فائل میں موجود ہیں۔

رہبر معظم نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کو انسان اور انسانیت سے نہ کوئی دلچسپی تھی ، نہ ہے اور نہ ہی وہ اس کے پیچھے ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ہمارا اس بات پر یقین ہے کہ امریکہ شام میں بہت بڑی خطا کا مرتکب ہونے جارہا ہے اور اسی لئے وہ کاری ضرب کا احساس کررہا ہے اور وہ یقینی طور پر نقصان اٹھائے گا ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےتاکید کرتے ہوئے فرمایا: گذشتہ تیس سال کے عرصہ میں اسلامی نظام عداوتوں ، سازشوں اور دشمنیوں کے باوجود نہ صرف کمزور نہیں ہوا بلکہ اس کی قدرت، اقتدار اور استحکام میں نمایاں پیشرفت حاصل ہوئی ہے اور علاقائی اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےعلاقائی اور عالمی سطح پر تمام دھڑے بندیوں اور عداوتوں کے باوجود  اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل اور اس کے روز افزوں اقتدار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تمام حکام کو چاہیے کہ وہ اپنے فیصلے اور مؤقف بیان کرنے میں تین عناصر پر اپنی خاص توجہ مبذول کریں ۔1) اہداف و اصول،2) کلی و عمومی اسٹراٹیجک ، 3) حقائق و واقعیات۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ان اہداف تک پہنچنے کے لئے اسٹراٹیجک بھی واضح اور مشخص ہیں جن میں اسلامیت پر تکیہ، گوناگوں باہمی روابط میں نہ ظالم ہونا نہ مظلوم واقع ہونا، عوام کی آراء پر اعتماد کی اسٹراٹیجک ، عام تلاش و کام کی اسٹراٹیجک، قومی اتحاد کی اسٹراٹیجک شامل ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تیسرے عنصر کے عنوان سے حقائق اور واقعیات پر دقیق اور درست نگاہ کو بہت ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: اصول و اہداف کے ہمراہ حقائق پر نگاہ بھی ضروری ہے اور حقائق پر نگاہ بھی صحیح، دقیق اور ہمہ گیر ہونی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے معاشرے میں اچھے و برے اور شیریں و تلخ حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملک کے مسائل پر نگاہ کرتے وقت صرف تلخ حقائق کو مد نظر نہیں رکھنا چاہیے بلکہ معاشرے میں موجود ممتاز افکار، فعال اور خلاق جوانوں ، دین کی جانب عوام بالخصوص جوانوں کی رغبت ، اسلامی اور دینی نعروں کی بقا اور علاقائی اور عالمی سطح پر اسلامی نظام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے اور ان اچھے اور شیریں حقائق کی بنیاد پر معاشرے میں موجود تلخ حقائق کو کم کرنے یا ختم کرنے کی تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ان افراد اور ان ممالک کی حالت زار ہمارے سامنے ہے جو سامراجی طاقتوں کا دل جیتنے کے لئے اپنے اصول و اہداف سے منحرف ہوگئے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر مصر میں اسرائیل کے ساتھ مقابلہ کا نعرہ موجود ہوتا اور امریکی وعدوں کے مقابلے میں مصری پیچھے نہ ہٹتے یقینی طور پر مصر کی صورتحال ایسی نہ ہوتی کہ مصری عوام کو ذلیل کرنے والا ڈکٹیٹر جیل سے آزاد اور مصری عوام کا منتخب صدر جیل میں چلا جائے اور اس پر مقدمہ چلایا جائے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر مصر میں اصول پر استقامت دکھائی جاتی تو وہ مظاہرین جو قوم کے منتخبین کے مقابلے میں صف آرا تھے وہ بھی انھیں کے ساتھ آجاتے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اس حصہ میں ایک اہم نکتہ کی یاد دلاتے ہوئے فرمایا: دشمن علاقہ میں مذہبی اور گروہی  اختلاف پیدا کرکے اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش میں ہے اور اختلاف ڈالنا دشمن کی اصلی اسٹراٹیجک ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دشمن تفرقہ کی اسٹراٹیجک پر عمل کرنے اور فتنہ کی آگ کو شعلہ ور کرنے کے لئے دو قسم کے مزدوروں اور غلاموں سے استفادہ کرتا ہے ایک تکفیری غلام اور مزدور ہیں جو اہلسنت کے پرچم کے سائے میں سرگرم عمل ہیں اور دوسرے شیعہ مزدور اور غلام ہیں جو شیعہ پرچم کے سائے میں کام کرتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دشمن کی اس عظیم سازش میں آنے والے افراد اور حکومت یقینی طور پر اسلام کو چوٹ پپہنچاتے ہیں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا:  شیعہ اور سنی بزرگ علماء کو ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ اسلامی گروہوں کے درمیان محاذ دشمن کی پالیسی کا حصہ ہے اور دشمن اس طرح اساسی مسئلہ سے توجہ منحرف کرنا چاہتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے معاشرے کے حقائق اور مسائل پر جامع اور بلند مدت نگاہ  اور ملک میں موجود بعض مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:  ملک کی مشکلات کو حل کرنے کا اصلی راستہ ، عقلمندی و خرد مندی کی بنیاد پر نظام کی اندرونی ساخت کو مضبوط بنانا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اقتصادی شعبہ میں درست مدیریت اور علمی و سائنسی پیشرفت کے ذریعہ ملک کی اندرونی ساخت کو مضبوط بنانا ممکن ہے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

دین، عقل سلیم اور آئمہ معصومین (علیھم السلام ) کی احادیث قرآنی معیار ہیں اسلامی معاشرے میں ان کی پیروی اور ان پر عمل کرنا چاہیے۔ رہبر معظم کا رمضان المبارک کے پہلے دن محفل انس با قرآن کے شرکاء سے خطاب

جمعه 21 تیر 1392 06:13 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

ر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی موجودگی میں (بروز بدھ) سہ پہر کورمضان المبارک اور ماہ نزول قرآن کے پہلے دن  ساڑھے تین گھنٹے تک محفل انس با قرآن کریم منعقد ہوئی۔

یہ نورانی محفل،  قرآن کریم کی معنوی اورعطر آگین  خوشبو سے معطر اورمملو تھی ،  اس نورانی محفل میں قرآن کریم کے اساتذہ ، قاریوں اور حفاظ نے قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کا شرف حاصل کیا اور رمضان المبارک کی فضیلت اور مدح و ثنا میں اجتماعی طور پر شاندار ترانے پیش کئے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس تقریب سے خطاب میں قرآن مجید کی تلاوت، تجوید اور حفظ کو مطلوب قرآنی معاشرے تک پہنچنے کا مقدمہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی معاشرے میں اسلامی زندگی اور قرآنی ہدایت حکمفرما ہونی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قرآن مجید کی قرائت اور حفظ کو قرآن مجید کو سمجھنے اور قرآنی اخلاق سے آراستہ ہونے کا ذریعہ قراردیتے ہوئے فرمایا:  اسلامی معاشرے کی ثقافت اور تمدن کو قرآنی اخلاق اور آئمہ معصومین (علیھم السلام ) کے دستورات کے مطابق ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مغربی ثقافت سے معاشرے ،سماج اور زندگی کی روش و طریقہ کار  کو متاثر کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر دنیا کے اکثر لوگ مغربی ممالک کی پیروی کرتے اور مغربی ثقافت سے متاثر ہوتے ہیں  تو یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اسلامی معاشرے کو بھی مغربی ثقافت سے متاثر کیا جائے، اسلامی معاشرے کو مغربی ثقافت پر نہیں بلکہ قرآنی ثقافت پر اتوار ہونا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی معاشرے میں قرآنی معیاروں کی پیروی اور قرآنی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دین، عقل سلیم اور آئمہ معصومین (علیھم السلام ) کی احادیث قرآنی معیار ہیں اور اسلامی معاشرے میں ان کی پیروی اور ان پر عمل کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قرآن مجید کی تلاوت اور حفظ پر جوانوں کی زیادہ سے زیادہ توجہ پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: معاشرے کے ہر فرد کو قرآن مجید کے ساتھ رابطہ پیدا کرنا چاہیے کیونکہ قرآن مجید کی قرائت اور فہم،  قرآن مجید میں تدبر اور غور و فکر کرنے کا مقدمہ ہے۔

www.leader.ir

www.leader.ir

www.leader.ir

www.leader.ir

www.leader.ir

 




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

مسلمانوں کے درمیان تفرقہ و اختلاف ڈالنا اور اختلاف کو شعلہ ور کرنا دشمن کا اہم منصوبہ ہے

سه شنبه 21 خرداد 1392 07:07 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

مسلمان سیاستدانوں ،دانشوروں ، روشن فکروں اورامت مسلمہ کے تمام افراد کو دشمن کے نقشہ راہ کو پہچاننا چاہیے

آج پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت اور عید مبعث کے موقع پر رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کا خطاب

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت اور عید مبعث کی مناسبت سے اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام، نمائندوں ، اسلامی ممالک کے سفیروں اور شہداء کے بعض معزز و محترم اہلخانہ نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کے ساتھ ملاقات کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں عید سعید بعثت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی اور اپنے منصوبہ اور دشمن کے منصوبہ کی شناخت اور ہوشیاری کو موجودہ شرائط میں امت مسلمہ کی سب سے اہم ذمہ داری قراردیتے ہوئے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان تفرقہ و اختلاف ڈالنا اور اختلاف کو شعلہ ور کرنا دشمن کا اہم منصوبہ ہے لہذا ایسے شرائط میں عالم اسلام کی سب سے اہم ذمہ داری باہمی اتحاد، ہمدلی، تعاون اور اتفاق پر مبنی ہونی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیغمبروں (ع) کی دعوت اور حق کے پیغام کو پہنچانے کے مقابلے میں مخالفت ،مشکلات اور سختیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: پیغمبر اسلام (ص)کے مقابلے میں یہ مخالفتیں بہت زیادہ سنگین اور ہمہ گیر و ہمہ جہت تھیں اور ان مشکلات کا سلسلہ مختلف شکلوں میں پیغمبر اسلام (ص) کی عمر شریف کے آخری لمحات تک جاری رہا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے آج بھی اسلام کی آواز اور حق کی صدا کے خلاف پائی جانے والی دشمنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جب مارکسزم اور لیبرالزم جیسے غیر الہی مکاتب بشریت کے لئے سعادت اور خوشبختی کے اسباب فراہم نہیں کرسکے تو اس وقت تمام دل اور تمام نگاہیں اسلام پر لگی ہوئی ہیں اوراسلام چونکہ انسان کی عزت، کرامت اور انصاف پسندی کا مرکز بن گیا ہے لہذا اس کے ساتھ دشمنی بھی اتنی ہی زیادہ اور سنگین ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیغمبر اسلام (ص) کی توہین کو اسلام کے ساتھ دشمنی کا ایک آشکار نمونہ قراردیتے ہوئے فرمایا: عالمی سطح پراسلام کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں یقینی طور پر مغربی ممالک کے خفیہ اداروں کا منصوبہ اور ان کا مالی تعاون شامل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلام کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں بعض تحجر اور جمود پسند مسلمانوں کے اعمال اور رفتار کو تسلط پسند طاقتوں کے لئے بہانے کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کی طرف شجاعت، صراحت، صداقت اور عدالت کے ساتھ دعوت دیں اور اس طریقہ سے دلوں کو اسلام کی جانب مبذول اور متوجہ کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مسلمانوں کو اسلام کے ساتھ ہونے والی عداوتوں اور دشمنیوں کا اسی طرح ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے جس طرح تاریخ میں پیغمبر اسلام (ص) اور مؤمنین نے اسلام کا استقامت اور پائداری کے ساتھ دفاع کیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے امت مسلمہ کی بصیرت،مسلمانوں کے نقشہ راہ اور دشمن کے نقشہ راہ کی شناخت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: دشمن کا اصلی نقشہ مسلمانوں کے مختلف مذاہب کے درمیان تعصب، تفرقہ اور اختلاف پھیلانا اور مختلف اسلامی مذاہب کو ایکدوسرے کے خلاف اکسانا اورتحریک کرنا ہے اور اس طرح وہ دشمنی کے اصلی مرکز یعنی غاصب صہیونیوں اور فاسد سرمایہ داری نظام سے امت اسلامی کی توجہ کو منحرف کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: مسلمان سیاستدانوں ،دانشوروں ، روشن فکروں اورامت مسلمہ کے تمام افراد کو دشمن کے نقشہ راہ کو پہچاننا چاہیے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تدبیر اور حکمت سے کام لینا چاہیے اور کسی اشتباہ اور غلطی کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: تسلط پسند طاقتیں مسلمانوں کو باہمی اختلافات میں مشغول رکھ کر ان کو اصلی مسائل سے غافل رکھنا چاہتی ہیں اور اسی طرح انھیں پیشرفت اور ترقی سے بھی روکنا چاہتی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ماضی میں مغربی استعماری طاقتیں اس ہدف کے پیچھے رہی ہیں اور اب وہ مسلمانوں کی صفوں میں اختلاف ڈال کر اس ہدف کا پیچھا کررہی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مغربی اور استعماری ممالک انسانی حقوق کے جھوٹےدعوؤں اور جمہوریت کے کھوکھلےنعروں کے باوجود اپنے دامن سے استعمار کے بدنما داغ کو پاک نہیں کرسکتے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کو سمیٹتے ہوئے فرمایا: دشمن کے نقشہ راہ پر توجہ رکھتے ہوئے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دشمن اور اس کے نقشہ کو بصیرت اور ہوشیاری کے ساتھ پہچانیں اور اپنے نقشہ راہ یعنی باہمی تعاون ، اتحاد، اتفاق اور ہمدلی کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

رہبر معظم انقلاب حضرت آیت الله خامنائی سے صدر پاکستان کی ملاقات

پنجشنبه 10 اسفند 1391 09:11 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

پاکستان میں مذہبی قتل و غارت  افسوس ناک ہے دشمنوں کو اجازت نہیں دینا چاہیے کہ وہ پاکستان کی قومی یکجہتی کو پامال کریں۔

ایران اور پاکستان کےکے تعلقات کو خراب کرنےوالے بین الاقوامی کھلاڑیوں کا کھیل شکست کھا چکا ہے ۔جناب عالی کی دعاوں کے طفیل انشاء اللہ ہم ہر سازش کو ناکام بنادیں گیں - صدر آصف علی زرداری  

دیدار رئیس جمهور پاکستان و هیأت همراه

رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی سیّد علی خامنہ ای نے مسلمانوں میں اختلاف و تفرقہ پیدا کئے جانے کو عالمی استکبار اور صیہونیزم کے سوچے سمجھے منصوبے سے تعبیر فرمایا ہے ۔ آج بدھ ۲۷ فروری کو پاکستان کے صدر جمہوریہ آصف علی زرداری نے تہران میں رہبر معظم انقلاب سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رہبر معظم نے امت مسلمہ کی تمام مشکلات کو دشمنان اسلام کی جانب سے قرار دیتے ہوئے فرمایا:دنیائے اسلام کی جغرافیائی، زمینی اور  انسانی صلاحیتوں اور استعدادوں کو نکھارنا ان مشکلات سے بچنے کا حل ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی ممالک میں روابط کی تقویت کو مسلمان قوموں کے درمیان موجود مشکلات کے حل کا دوسرا عامل قرار دیتے ہوئے کہا: امت اسلامیہ کے درمیان اختلاف اور تفرقہ پیدا کرنا صہیونی اور عالمی استکبار کے اہم اہداف میں سے ایک ہے۔
انہوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان روابط کو مزید عمیق کرنے کے حوالے سے فرمایا: ہم یہ محکم عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان دو ممالک کے درمیان معیشتی، سیاسی، سماجی اور امنیتی روابط میں مزید تقویت ان کی پیشرفت کا ذریعہ ہے۔
رہبر انقلاب نے ایران پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن کو تہران ۔ اسلام آباد کے درمیان ہمکاری کا ایک اہم نمونہ قرار دیا اور اس سلسلے میں دشمنوں کی مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمیں چاہیے کہ ان مخالفتوں کو پشت پا ڈال کر آگے بڑھیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ایک قابل اطمینان اور دائمی انرجی منبع کو پاکستان جیسے ملک کے لیے اول درجہ اہمیت کا حامل سمجھتے ہوئے فرمایا: اس علاقہ میں صرف اسلامی جمہوریہ ایران ایک قابل اعتماد انرجی منبع ہے اور ہم تیار ہیں اس حوالہ سے پاکستان کی ضرورت پورا کریں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے پاکستان میں مذہبی کشت و کشتار کو ایک خطرناک بیرونی جراثیم قرار دیتے ہوئے کہا: پاکستان میں مذہبی قتل و غارت یقینا افسوس ناک ہے اور قطعی طور پر دشمنوں کو اجازت نہیں دینا چاہیے کہ وہ پاکستان کی قومی یکجہتی کو پامال کریں۔
رہبر انقلاب نے اس مشکل کے حل کے لیے پاکستانی حکومت کو امید دلاتے ہوئے کہا: ہمیں امید ہے کہ آپ کی حکومت مذہبی اور قومی وحدت کو مضبوط بنا کر ملک کی ترقی کی راہ میں قدم اٹھائی گی۔
جناب آصف علی زرداری نے بھی اس ملاقات سے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور تاکید کی کہ ہم دونوں ممالک کے عمیق روابط پر یقین رکھتے ہیں۔
پاکستان کے صدر جمہوریہ نے کہا: ایران اور پاکستان کے روابط کو مخدوش کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی کھلاڑیوں کا کھیل شکست کھا چکا ہے اس لیے کہ قوموں نے یہ سیکھ لیا کہ کس طرح سے دشمنان اسلام کا مقابلہ کیا جائے۔
آصف علی زرداری نے داخلی جنگ کو دشمنان پاکستان کی سازش قرار دیا اور کہا: جناب عالی کی دعاوں کے طفیل انشاء اللہ ہم اس سازش کو نقش بر آب کریں گے۔
 

دیدار رئیس جمهور پاکستان و هیأت همراه

دیدار رئیس جمهور پاکستان و هیأت همراه

دیدار رئیس جمهور پاکستان و هیأت همراه

 




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

عالمی وحدت کانفرنس سے رہبر معظم انقلاب اسلامی

چهارشنبه 11 بهمن 1391 12:42 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

اسلامی بیداری کا مقابلہ کرنےکے لئے سامراجی طاقتوں کی اصلی پالیسی اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا اور انھیں ایکدوسرے کے خلاف اکسانا ہے

 

www.leader.ir

نور مجسم ،پیکر رحمت حضرت محمد مصطفی (ص) اور ان کے عزیز فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے بعض اعلی حکام، 26ویں اسلامی وحدت کانفرنس  کے مہمانوں ، اسلامی ممالک کے سفراء اور عوام کے مختلف طبقات نے آج صبح (بروز منگل ) رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے ساتھ ملاقات کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں سترہ ربیع الاول پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) اور ان کے فرزند حضرت امام جعفر صادق (ع) کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور اسلامی اتحاد و یکجہتی کو ایک مقدس نعرہ اور امت اسلامی کے درمیان باہمی اتحاد و اخوت کو پیغمبر اسلام کی رسالت کا اہم پیغام قراردیا اور عالم اسلام بالخصوص شمال افریقہ میں اسلامی بیدار کی تحریک کی طرف اشارہ کیا اور اسے اللہ تعالی کے وعدے کے محقق ہونے کا ایک حصہ قراردیتے ہوئے فرمایا: آج اسلامی بیداری کے مقابلہ کے لئے سامراجی طاقتوں کی اصلی پالیسی اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا اور انھیں ایکدوسرے کے خلاف اکسانا ہے لہذا عالم اسلام کے دانشوروں، سیاسی ، دینی اور سماجی شخصیات کے دوش پر اسلامی اتحاد و یکجہتی کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سنگین اور عظیم ذمہ داری عائد ہے اور انھیں دشمن کے تفرقہ انگیز منصوبوں سے امت اسلامی کو آگاہ کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیغمبر اسلام (ص) اور امام جعفر صادق(ع) کی ولادت باسعادت کی بدولت ماہ ربیع الاول کو زندگی اور حیات کی بہار قراردیتے ہوئے فرمایا: عید میلادالنبی (ص) کے عظیم موقع پر صرف جشن و سرور ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس عظیم موقع پر مسلمانوں کو نبی مکرم (ص) کے ساتھ معنوی، قلبی اور عاطفی رابطے کو بھی زیادہ سے زیادہ مضبوط اور قوی بنانا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امت اسلامی کے لئے سترہ ربیع الاول کے دن، پیغمبر اسلام (ص) کے دستورات کی اطاعت اور پیروی پر زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنےکوضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: مسلمانوں کو اپنی زندگی میں نبی مکرم (ص) کےدستورات پر عمل کرنا چاہیے اور معاشرے میں اپنی انفرادی، اجتماعی اور سیاسی رفتار میں آنحضور کے دستورات کی روشنی میں عمل کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کی وجہ سے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی (ص) کے دستورات کی عملی پیروی کی راہ اور شرائط کو ہموار قراردیتے ہوئے فرمایا: عالم اسلام پر مغربی ممالک کے دسیوں سال کے تسط و دباؤ کے بعد اب مسلمان یہ احساس کررہے ہیں کہ اسلام ،ان کی عزت، سربلندی اور استقلال کا سرچشمہ ہے۔اور امت اسلامی کی تمام تمنائیں اسلام کی برکت سے پوری ہوسکتی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مسلمانوں کےدرمیان  مغربی سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں استقامت و قیام کے احساس اور مغربی ممالک کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کو اسلامی برکات شمار کرتے ہوئے فرمایا: ایران میں 34 سال قبل جس اسلامی بیداری کا آغاز ہوا وہ اب عالم اسلام میں فروغ پارہی ہے۔جو اللہ تعالی کے وعدوں کے محقق ہونے اور کامیابی کی جانب حرکت کا شاندار مظہر ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: سامراجی طاقتوں نے اسلامی بیداری کی راہ میں ابتدا ہی سے رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں شروع کیں لیکن اگر مسلمان اللہ تعالی پر توکل رکھیں اور آگے کی سمت سنجیدگی کے ساتھ  حرکت جاری رکھیں تو قطعی ویقینی طور پر وہ دشمن کی تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیں گے اور وہ قدم بقدم کامیابیوں سے نزدیک تر ہوتے جائیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کا مقابلہ کرنے کے لئے اختلاف پیدا کرنےاورمسلمانوں کو آپس میں لڑانے کو دشمن کی اصلی کوشش قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ابتداء ہی سے اختلاف ڈالنے کی پالیسی کا آغاز ہوا لیکن اسلامی جمہوریہ ایران نے دشمن کی اس سازش کا سنجیدگی کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا اوراتحاد و یکجہتی کے پرچم کو سربلند کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) نےاپنی زندگی میں بارہا تاکید کی کہ ہم اسلامی اخوت و برادری پر یقین اور اعتقاد رکھتے ہیں اور ان کے بعد آج تک اس راہ پر پیشرفت کا سلسلہ جاری ہے۔

رہبر معظم نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی ممالک کے اندر  مسلمانوں کے مختلف گروہوں ، مذاہب اور احزاب کے درمیان اتحاد کے احساس کے ذریعہ ہی ہم دشمن کی تفرقہ انگیز پالیسیوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلمانوں کے درمیان اختلاف کو مسئلہ فلسطین کے سائیڈ پرہوجانے کا باعث قرار دیا اور امریکہ کی تسلط پسندانہ پالیسی اور منہ زوری کے مد مقابل استقامت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: مسلمانوں کے باہمی اختلافات کے نتیجے میں مغربی ممالک نے افریقی قوموں پر مسلط ہونے کے لئے ایک نئی حرکت اور پالیسی کا آغاز کردیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پاکستان کے دردناک واقعات، شام میں جنگ و خونریزی، بحرینی عوام کی آواز کا بائیکاٹ اور مصر میں عوام کا ایکدوسرے کے آمنے سامنے آجانے کو مسلمانوں کے درمیان اختلافات کے نتائج کے بعض نمونے شمارکرتے ہوئے فرمایا: اسلامی ممالک میں مسلمان قوموں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی ہر کوشش یقینی طور پر دشمن کے منصوبے کے مطابق اس کی زمین میں بازی کرنا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی ممالک کے حوزات علمیہ ، یونیورسٹیوں کےدانشوروں، سیاسی ، سماجی اور مذہبی شخصیات کو  اتحاد و یکجہتی کے موضوع پر سنجیدگی کے ساتھ عمل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: امت اسلامی کے دانشوروں کو اختلاف پیدا کرنے کے سلسلے میں دشمن کے خطرناک منصوبوں کی تشریح کے ساتھ خود بھی ہر قسم کے اختلافات سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اختلافات کی آگ کو شعلہ ور کرنے سے قوموں کی تقدیر سیاہ ہوجاتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی اتحاد کے نعرے کو ایک مقدس نعرہ قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر آج پیغمبر اسلام (ص) ہمارے درمیان ہوتے تو ہم سب کو اتحاد و یکجہتی اور اختلاف سے پرہیز کرنے کی دعوت دیتے ۔

اس ملاقات کے آغاز میں صدر احمدی نژاد نے اپنے خطاب میں پیغمبر اسلام (ص) اور حضرت امام حعفر صادق (ع) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور پیغمبر اسلام (ص) کو بشریت کی سعادت کے لئے انبیاء (ع) کی راہ کو پایہ تکمیل تک پہنجانے کا اہم وسیلہ قراردیتے ہوئے کہا : امت اسلامی کی نجات کا راستہ پیغمبر اسلام(ص)  کی اطاعت اور پیروی میں ہے۔

صدر احمدی نژاد نے توحید کی طرف تمام انبیاء بالخصوص پیغمبر اسلام (ص)  کی دعوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عالمی سامراجی طاقتیں اور صہیونی عناصر  اختلافات ڈالکر دنیا پر مسلط ہونے کی کوشش کررہے ہیں لہذا اتحاد عالم اسلام بلکہ دنیا کا سب سے اہم موضوع ہے



نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

امریکی حکومت اور صہیونزم پیغمبر اسلام (ص) کےصف اول کے دشمن ہیں

شنبه 25 شهریور 1391 08:32 ب.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

  اسلام دشمن عناصر کی طرف سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں توہین اور گستاخی پر مبنی فلم کی اشاعت کے بعد رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایرانی قوم اور عظیم امت مسلمہ کے نام اپنے پیغام میں اس توہین آمیز اور شرارت انگیز حرکت کے پس پردہ  امریکہ، صہیونزم اور دیگر عالمی سامراجی طاقتوں کی معاندانہ پالیسیوں کو قراردیا اوراسلام و قرآن مجید کے بارے میں صہیونیوں کے بغض و عداوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر امریکی سیاستمدار اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انھیں اس سنگین جرم میں ملوث افراد اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے جنھوں نے  امت مسلمہ کے جذبات اوردلوں کو مجروح کیا ہے۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن حسب ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحیم
قال الله العزیز الحكیم: یُریدونَ لِیُطفِئوا نورَاللهِبِاَفواهِهِم واللهُ مُتِمُّ نورِه وَلوكَرِهَ الكافِرون

ایران کی عزیز قوم، عظیم ملت اسلامیہ

دشمنان اسلام کے پلید ہاتھ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ  علیہ و آلہ وسلم کی توہین کرکے اپنے بغض اورکینہ کوآنحضور (ص) کی نسبت ایک بار پھر آشکار اور نمایاں کردیا ہے اوراپنے جنون آمیز اور نفرت انگیز اقدام کے ذریعہ موجودہ دنیا میں  قرآن اور اسلام کے بڑھتے ہوئے نور کے متعلق صہیونیوں کے غیظ وغضب کو ظاہرکیاہے۔



اس جرم و جنایت کا ارتکاب کرنے والے عوامل کا سب سے بڑااور عظیم گناہ بس یہی ہے کہ انھوں نے کائنات کی سب سے عظیم اور مقدس ہستی  کو اپنی پست اور معاندانہ پالیسی کا نشانہ بنایا ہے۔اس شیطانی اور شرارت انگیز حرکت کے پیچھے  صہیونزم، امریکہ اور دوسری عالمی سامراجی طاقتوں کا ہاتھ ہے جو اپنے باطل و خام خیال میں عالم اسلام میں جوان نسل کی نگاہوں میں  اسلامی مقدسات کو اپنے بلند مقام سے گرانا اور ان کے دینی جذبات کو محو کرنا چاہتی ہیں ۔

اگر وہ اس پلید سلسلے کے گذشتہ حلقوں یعنی سلمان رشدی، ڈنمارک کے کارٹونسٹ اورقرآن مجید کو آگ لگانے والے امریکی پادریوں  کی حمایت نہ کرتے اور صہیونی سرمایہ داروں سے وابستہ  اداروں میں  اسلام کے خلاف دسیوں فلمیں بنانے کی سفارش نہ دیتے تو آج معاملہ اس عظیم اورناقابل بخشش گناہ تک نہ پہنچتا۔اس عظیم گناہ و جنایت میں  سب پہلے امریکی اور صہیونزم  مجرم ہیں۔اگر امریکی سیاستمدار اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انھیں اس سنگین جرم میں ملوث افراد اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے جنھوں نے  امت مسلمہ کے جذبات اوردلوں کو مجروح کیا ہے۔

پوری دنیا میں مسلمان بھائی اور بہنیں بھی جان لیں کہ اسلامی بیداری کے مقابلے میں دشمن کی یہ بزدلانہ اور ذلیلانہ حرکت  در حقیقت اسلامی بیداری کی عظمت،اہمیت اور اس کی روز افزون رشد و ترقی کامظہر ہے۔ واللہ غالب علی امرہ .




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -

بین الاقوامی غلط محاسبہ سے قوموں کاپیمانہ صبر لبریز ہوگیا ہے

یکشنبه 12 شهریور 1391 11:15 ق.ظ

لکھا گیا ھے : پیروان ولایت
بیجها گیا: ولی فقیه امام خامنه ای ،

  رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پانچ براعظموں کے 120 ممالک کے سربراہان اور اعلی حکام  کے ساتھ خطاب میں دنیا کے موجودہ حساس شرائط ، دنیا کا ایک بہت ہی اہم تاریخی مرحلے سے عبور، تسلط پسند یک طرفہ نظام کے مقابلے میں کئی نظاموں کے ظہور کی علامتیں ، مستقل ممالک کے پاس نوید بخش مواقع کی تشریح، ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے بنیادی اصول اور اسی طرح عالمی نظام کے غیر جمہوری طرز عمل ،غلط محاسبہ، غیر منصفانہ و منسوخ  اور معیوب روش سے عالمی سطح پر عوام بالخصوص عرب قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ناوابستہ تحریک کو نئے عالمی نظام کی تشکیل میں اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے اور تحریک کے رکن ممالک اپنے وسیع وسائل اور ظرفیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے دنیاکو تسلط پسندی ، جنگ اور بحران سے نجات دلانے کے لئے تاریخی اور یادگار نقش ایفا کرسکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ناوابستہ تحریک کی تشکیل اور اسکےبانیوں میں سے ایک کے بیان ، جس میں ناوابستہ تحریک کی تشکیل کوجغرافیائی، نسلی اور مذہبی بنیادوں قرار نہ دینے بلکہ اس کی تشکیل کواتحاد اور نیاز پر قراردیتے ہوئے فرمایا: آج  بھی تسلط پسند وسائل کی پیشرفت اور فروغ کے باوجود یہ نیاز اور ضرورت اپنی جگہ پر اسی طرح باقی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی تعلیمات کا انسانوں کی فطرت کو نسلی اور زبانی ناہمواری کےباوجود یکساں قراردینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس تابناک حقیقت میں اتنی ظرفیت موجودہے جو ایسے آزاد، سرافراز اور مستقل نظام کو تشکیل دے سکتا ہے جو پیشرفت اور انصاف پر استوار ہو اوریہ ادارہ مختلف قوموں کے درمیان برادرانہ تعاون کا شاندار ادارہ ہے۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے ایسے ادارے کی بنیاد پر حکومتوں کے درمیان مشترکہ ، سالم اور انسانی مفادات کو فروغ دینےپر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: یہ اصولی ادارہ، تسلط پسند نظام کے مد مقابل ہے جو حالیہ صدیوں میں مغربی تسلط پسند طاقتوں اور آج امریکہ کی تسلط پسند اور منہ زور طاقت تسلط پسند نظام کی مبلغ اور مروج اور اس کے ہر اول دستے میں شامل ہے۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے چھ دہائیاں گزرنے کے بعد ناوابستہ تحریک کے مقاصد زندہ اورقائم رہنے و ان مقاصد تک پہنچنے کو امید افزا اور مسرت بخش قراردیتے ہوئے فرمایا: دنیا آج سرد جنگ کی پالیسیوں کی شکست کے تاریخی تجربہ سے عبرت حاصل کرنے اور اس کے بعد یکجانبہ رجحان کی پالیسی سے عبور کرنے کے ساتھ قوموں کے مساوی حقوق اورہمہ گیر شراکت کی بنیاد پر نئے بین الاقوامی نظام کی تشکیل کی جانب بڑھ رہی ہے اورایسے شرائط میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور یکجہتی بہت ہی لازمی اور ضروری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےمشترکہ مقاصد کے دائرے میں ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کےدرمیان باہمی یکجہتی کو بہت بڑی کامیابی قراردیتے ہوئے فرمایا: اس بات پر بہت خوشی ہے کہ عالمی سطح پر مشترکہ نظام نوید بخش اور حوصلہ افزا ہے۔




نظرات : نظرات
آخری اپڈیٹ : - -



کی تعداد صفحات: 2 1 2